بجلی بل میں ریلیف، مریم نواز یا اسحاق ڈار کی چالاکی
قوم کے واحد مسیحا مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کو عوام کا درد اتنا رہتا ہے کہ جب بھی بجلی یا پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ان کا دل روتا ہے حالانکہ وہ خود تین بار ملک کے وزیراعظم رہ چکے ہیں اس وقت وہ ہر پندرہ دنوں بعد پٹرول اور تقریباً ہر ماہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت بھی بڑھا دیتے تھے، اب انہوں نے جذبہ خیر سگالی کے تحت چوتھی بار وزیراعظم بننے کے بجائے اپنے بھائی شہباز شریف اور بیٹی مریم نواز کو حکومت کرنے کا موقع دیا ہے تاکہ وہ یہ نتیجہ اخذ کرسکیں کہ حکومت سے باہر بیٹھ کر جب یوٹیلٹیز کی قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں تو کیسی فیلنگ آتی ہے۔
حکومت کو بنے چند ماہ ہی ہوئے ہیں اور مہنگائی قابو میں نہیں آ رہی، پی ڈی ایم کی حکومت جب مسلم لیگ نون کے ہی سربراہ (اس وقت کے ) شہباز شریف وزیراعظم ہی تھے تو مہنگائی کو پر لگ گئے تھے تو اس کا ملبہ بہت آسانی سے عمران خان کی نالائق، نا اہل اور جاہل حکومت پر ڈال کر جان چھڑوا لی تھی ویسے بھی پی ڈی ایم کی سولہ ماہ کی حکومت تو سیاسی جماعتوں کا شغل میلہ تھا اس کا اصل مقصد سولہ ماہ کی حکومت میں یہ پلان کرنا تھا کہ اگلی حکومت کیسے لی جائے، پھر وہ جیسے لی گئی وہ پوری قوم نے دیکھ لیا ہے۔
اب جب مسلم لیگ کے قائد نواز شریف حکومت سے باہر ہیں تو ہر بار قیمتیں بڑھنے پر ان کا کلیجہ منہ کو آتا ہے، دل میں درد ہوتا ہے اور پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگتے ہیں، شکر ہے کہ پلیٹلٹس نہیں گرتے ورنہ ان کو لندن بھاگنا پڑتا، اب لندن جانے کا آپشن بھی نہیں رہا کیونکہ بھائی وزیراعظم، بیٹی ملک کے سب سے بڑے صوبے کی وزیراعلیٰ اور سمدھی نائب وزیراعظم ہو اور پلیٹلٹس گر جائیں تو لوگ کیا کہیں گے کہ پاکستان میں علاج بھی نہیں کرا سکتے لندن کیوں گئے ہیں اس لئے پلیٹلٹس چین کی نیند سو رہے ہیں۔
بجلی کی قیمت میں بے تحاشا اضافے پر پیارے قائد کو برداشت نہیں ہو سکا اور بیٹی سے کہہ دیا کہ اس کا کوئی فوری حل نکالیں، بیٹی پہلے ہی نعرہ لگا چکی ہے کہ جب آپ بجلی کا بل جمع کرانے بینک جائیں گے تو مہر لگے گی کہ آپ کا بل تو پنجاب حکومت نے ادا کر دیا ہے، عوام اس نعرے کو سنجیدہ نہ لیں کیونکہ یہ ایک انتخابی نعرہ تھا جیسے یہ نعرہ لگایا تھا ”جدوں میاں آوے گا لگ پتہ جاوے گا“ اور پھر عوام کو بہت اچھی طرح پتہ لگ گیا کہ وہ اب دو وقت کی روٹی بھی نہیں کھا سکتے کیونکہ بل ادا کرنے کے بعد عوام کے پاس کھانے کے لئے کچھ بچتا ہی نہیں۔
باپ کی ہدایت پر مریم نواز کی پنجاب حکومت نے بجلی کے فی یونٹ پر 14 روپے کے ریلیف کا اعلان کیا ہے جو کہ وزیراعلیٰ پنجاب پنجابی عوام کو دیں گی یعنی بھتیجی پنجاب کے خزانے سے 45 ارب روپے نکال کر وزیراعظم چچا کو قومی خزانے میں دے گی اس طرح گھر کی بات گھر میں ہی رہے گی، ایسی چالاکیاں ڈار صاحب کے علاوہ کوئی کر سکتا ہے؟ عوام بھی خوش اور آئی ایم ایف بھی خوش، یہ چالاکی مریم نواز تو کرنے سے رہیں کیونکہ یوم آزادی پر مزار اقبالؒ پر حاضری کے موقع پر مہمانوں کی کتاب میں مریم نواز نے جس طرح ایک لائن لکھی تھی اس سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب بہت بھولی بھالی ہیں اس لئے یہ چالاکی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ہی سکھائی ہوگی کیونکہ ڈار صاحب ماضی میں ڈالر کو باندھ کر رکھنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے چاہے معیشت تباہ ہو جائے، اسی لئے آئی ایم ایف نے اس بار اسحاق ڈار کو قومی خزانے کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا۔
ہونا تو چاہیے تھا کہ مریم اعلان کرتیں کہ میرے کزنز، نواز شریف کے بھتیجوں اور وزیر اعظم شہباز شریف کے بیٹوں حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کی پنجاب میں دو آئی پی پیز ہیں، انہوں نے آئی پی پیز کے ذریعے عوام کا بہت خون چوس لیا ہے اب ان دونوں آئی پی پیز کی بجلی پنجاب کے عوام کو مفت دی جائے گی کیونکہ عوام بجلی کی بلوں کی وجہ سے پریشان ہیں اور عوام کا سب سے زیادہ درد صرف میاں نواز شریف کو ہے، وزیراعظم شہباز شریف تو اپنے کپڑے تک بیچنے کو تیار ہیں اس لئے شریف خاندان نے عوام کو ریلیف دینے کے لئے دونوں آئی پی پیز کی بجلی پنجابی عوام کے لئے فری کردی ہے مگر کیا کیا جائے کہ کمبخت کاروباری لوگوں کے اپنے ہی اصول ہوتے ہیں ان کو منافع سے غرض ہوتی ہے، ملکی اور عوامی مفاد ان کے سامنے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
چالاکی کسی نے بھی دکھائی ہو پنجاب کے عوام کو مریم نواز اور نواز شریف کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ اپنے تمام مقدمات ختم کرانے کے باوجود بھی ان کے دل میں عوام کا درد ابھی تھوڑا بہت باقی ہے، یہ ان کی عوام سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے، تاریخ میں پہلی بار ایسا ریلیف کسی نے نہیں دیا، یعنی اپنی جیب سے کچھ خرچ نہیں ہوا اور رنگ بھی چوکھا آیا ہے، ادھر کا پیسہ ادھر کر کے واہ واہ کروا لی اس پر بھی سندھ کی حکومت کو اعتراض ہے جس پر مریم نواز نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال کے اعتراض پر جواب دیا مصطفیٰ بھائی سندھ حکومت سے بات کریں کہ وہ بھی سندھ کے عوام کو ریلیف دے۔
مریم نواز بہت کائیاں سیاستدان ثابت ہوئی ہیں، پنجاب کے عوام کو بھی خوش کر دیا اور سندھ حکومت کو بھی مشکل میں ڈال دیا کیونکہ پیپلز پارٹی پچھلے بیس برسوں سے سندھ پر حکومت کر رہی ہے، سندھ حکومت کی کرپشن کے قصے آئے روز منظر عام پر آتے رہتے ہیں اب پیپلز پارٹی کے رہنما کرپشن کر کے مال بنائیں یا عوام کو ریلیف دیں، اس کا ایک حل ہے سندھ میں صدر آصف زرداری اور ان کے فرنٹ مینوں کی کئی آئی پی پیز ہیں، مریم نواز نے تو اپنے کزنز کی آئی پی پیز کی بجلی مفت نہیں دی مگر آصف زرداری کے پاس یہ بہترین موقع ہے کہ اپنی اور اپنے ”دوستوں“ کی آئی پی پیز کی بجلی سندھ کے عوام کو مفت دیدیں مگر زرداری، نواز شریف اور شہباز شریف کبھی بھی ایسا نہیں کریں گے کیونکہ وہ کبھی بھی عوام کے ووٹوں سے جیت کر نہیں آتے، وہ سب اقتدار کا ”صراط مستقیم“ جانتے ہیں، الیکشن میں جیت ان کا مسئلہ ہی نہیں ہے، بس الیکشن ہونے چاہئیں پھر حافظ جانے اور الیکشن جانے، جس کو جتوانا ہوتا ہے اس کو ملک دشمن اور غدار قرار دینے کا ایشو سیاستدانوں کا نہیں ہے، یہ جن کا کام ہے وہ ہر الیکشن سے پہلے ایک فیضو ڈھونڈ لیتے ہیں جیسے نواز شریف اب تک پوچھ رہے ہیں ”مجھے کیوں نکالا“ ۔


