18: وادی بریر کی کہانیاں
پر جونہی جیپ نے آیون کے لیے عمودی اُترائی کا رخ کیا میرے ذہن نے قلابازی کھائی۔ بمبوریت کی بجائے بریر جایا جائے۔ اس خیال نے گاڑی کی رفتار پکڑنے کے ساتھ ساتھ زور پکڑا یوں کہ میں نے اپنا ہاتھ مسز زہرہ ممتاز کے بھاری بھرکم شانے پر رکھتے ہوئے انہیں بریر وادی کے دلفریب نظاروں کی ایسی دلکش تصویر دکھائی کہ وہ بے اختیار بول اُٹھیں کہ بھئی مجھے تو سیر سے غرض ہے۔ ڈرائیور نے ذرا سی پس و پیش کی تو میں نے وہاں کے نسوانی حسن کے یوں قصیدے پڑھے کہ بیچارے کو یقیناً دل پر ہی ہاتھ رکھنا پڑا ہو گا۔ فیصلہ ہوا کہ آیون سے ہی بریر جایا جائے۔ میری باچھیں دور دریا کو کسی کشادہ دل رئیس کی طرح سُبک خرامی سے بہتے دیکھ کر کھلی جاتی تھیں۔
سڑک گو کسی کنجوس کے دل کی طرح تنگ اور کسی غریب کی طرح بے مایہ سی تھی مگر بُری نہیں لگ رہی تھی کہ بریر کو جاتی تھی۔ پہاڑوں کی اونچائی کسی اعلیٰ ظرف کی طرح بلند تھی۔ سڑک کے کچا ہونے کی وجہ سے ہچکولے جھولے جھلاتے تھے۔ راستے نے ایک جگہ آ کر ایسی دل دہلانے والی صورت بنا رکھی تھی کہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی زہرہ ممتاز اس کی خوفناکی سے لرز کر چیخ اُٹھیں۔ ڈرائیور محتاط تھا اور حوصلے والا بھی۔ فوراً بول اُٹھا تھا۔ مت گھبرائیے۔ ابھی گاڑی یہاں سے نکل آئے گی۔
گہریت پر بریر وادی سے آتا ہوا نالہ دریائے چترال میں گر رہا تھا۔ گہریت پشاور روڈ پر وہ جگہ ہے جہاں سے بریر کو راستہ جاتا ہے۔ اسے بریر موڑ بھی کہتے ہیں ڈرائیور ہمیں پہلے گہریت موڑ پر لے آیا تھا اُسے گاڑی کو چیک کرنا تھا۔ ہم آبادی کے لوگوں سے پوڑ کے بارے میں پوچھنے لگے۔ جب پھل پک کر گرے گا تب قاضی گنڈولک سرکردہ لوگوں کے صلاح مشورے سے تاریخ کا اعلان کرتا ہے۔ بالعموم ستمبر کا آخری ہفتہ ہوتا ہے۔ مایوسی تو پہلے ہی تھی یہ سب سُن کر آہ بھری اور گاڑی میں بیٹھے، پُل کراس کیا اور سفر پھر دریا اور پہاڑوں کے ساتھ ساتھ شروع ہو گیا۔ بریر کا راستہ بہت خطرناک تھا دریا اور سڑک کے دونوں جانب پہاڑوں کی تنگی، نظر کو عجیب سی کوفت کا احساس دیتی تھی۔ چشموں سے جگہ جگہ راستے کا کٹاؤ ہوتا تھا۔
یہ بیزار کن صورت عین راحت میں بدلی جب بریر کا آغاز ہوا۔ یوں لگا جیسے بہشت بریں میں داخل ہو گئے ہوں۔ ہر سو سبزہ تھا۔ پکے ہوئے سیاہی مائل عنابی کالے سفید اور سرخی مائل انگوروں کے لٹکتے گچھے مکئی کے سر سبز کھیت پھلدار درخت اور جنت کی حوروں جیسے چہروں والی لڑکیاں اور عورتیں کہیں کھیتوں میں کہیں بھیڑ بکریوں کے پیچھے بھاگتی نظر آئیں۔
بریر نسار بڑا بھرا پُرا سا گاؤں تھا۔ ریسٹ ہاؤس سے کچھ فاصلے پر سڑک کے کنارے قبرستان تھا۔ کس قدر عبرتناک نظارہ تھا۔ تابوت کھلے پڑے تھے بکھری ہوئی ہڈیاں چیخ چیخ کر متکبر بندے کو اپنی اوقات کا پتہ بتا رہی تھیں۔ اس وقت دو بج رہے تھے اور بھوک سے برا حال تھا۔ چنانچہ ایک سڑک کے کنارے ٹپری واسی ہوٹل سے روٹی کھائی۔
اب گھروں پر پھیلی بیلوں پر منوں کے حساب سے لٹکتے انگور کے خوشوں کو دیکھ کر آنکھوں میں تحیر شوق اور انہیں توڑ کر کھانے کی ترغیب جاگی۔ پر جونہی ایک بھری پُری بیل کو ہاتھ لگایا وہ ہا ہا کار مچی کہ یوں محسوس ہوا جیسے غلطی سے ہاتھ کسی بھڑوں کے چھتے میں پڑ گیا ہے۔ میرے ارد گرد لوگ کھڑے تھے جو میرے ہاتھوں کو دیکھتے تھے کہ ان میں کوئی انگور کا خوشہ تو نہیں۔ کوثر اور زہرہ ممتاز دور کھڑی پریشانی سے دیکھتی تھیں کہ ہوا کیا ہے۔
14 اگست سے 20 ستمبر تک پھلوں پر DANEکا قانون لاگو ہے پھل کو کوئی توڑ نہیں سکتا ہے۔ اگر کوئی قانون شکنی کرتا ہے اسے جرمانہ ہو گا۔ ایک جوشیلے لڑکے نے باآواز بلند گویا اس قانون کی منادی کی۔
کوثر قریب آ چکی تھی اور یہ سب سن کر اونچی اور غصیلی آواز میں بولی تھی۔
"کچھ خدا کا خوف کرو۔ تمہارا پوڑ دیکھنے کے لیے ہم اتنی دور سے پینڈے مارتے آئے ہیں۔ ذرا ہماری آنکھوں میں تو جھانکو جو تمہاری اس زمین پر پھلوں پھولوں اور فطرت کے حُسن کو دیکھ کر قدرت کی تم پر فیاضیوں پر رشک و حسد کے جذبات اُگل رہی ہیں۔ ہم مہمان ہیں تمہارے۔ کیا تمہیں مہمانداری کا ذرا بھی احساس نہیں۔ تمہارے کنویں سے کوئی پیاسا پانی نہ پیئے۔ یہ کیسے ممکن ہے”۔ کوثر کی جذباتی باتوں کا اُن پر خفیف سا اثر بھی دیکھنے کو نہ ملا۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ وہ ہمیں اخروٹ کے درخت تلے لے آئے اور اُس نوجوان لڑکے نے جس نے سیاہ لباس پہنا ہوا تھا اور جس کا نام شاہ حسین تھا ہمیں بتانا شروع کیا۔
دراصل پندرہ اگست کی صبح سب کالاشی مرد اپنی چراگاہوں اور وادی سے دُور مویشی خانوں سے پنیر کیلاڑ اور دودھ لے کر آتے ہیں۔ خواتین خانہ کی پکائی ہوئی روٹیوں کے ساتھ عصر کے وقت مالوش (قربانی کا دیوتا) پر جا کر وہاں اپنے ساتھ لایا ہوا کھانا کھانے کے بعد مالوش کے سامنے با ادب کھڑے ہو کر اپنی سلامتی اولاد کی درازی عمر پھلوں کی ارضی و سماوی آفات سے بچاؤ اور قربانی کی قبولیت کی دعا مانگتے ہوئے پھلوں کی ایک ماہ کے لیے حفاظت کا عہد کرتے ہیں۔ ڈین ہمارا مذہبی وعدہ ہے جسے توڑنا ہمارے لیے ناممکن ہے۔ چلیے آپ کو ہم اپنے مرکزی گاؤں گورو لے کر چلتے ہیں ہمارے مذہبی رہنما شیر بیگ سے آپ کو بہت سی باتوں کا پتہ چلے گا۔ شاہ حسین نے پیشکش کی۔ یہ امر بھی باعث صد اطمینان تھا کہ زہرہ ممتاز اس سیر سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔ "ضرور، دیکھیں تو سہی وہ کیا سُناتے ہیں۔“
سچی بات ہے ہماری آنکھیں تھک گئی تھیں پر رسیلے انگوروں سے لدی بیلوں کا سلسلہ لامتناہی تھا۔ اخروٹ کے بلند و بالا درختوں اور حُسن و جوانی سے بھرپور لڑکیوں کے نظاروں نے وادی کی تنگی کا احساس نہیں ہونے دیا۔ گورو مرکزی وادی ہے۔ شاہ حسین نے ایک جگہ گاڑی رکوائی اُترا، اوپر گیا اور تھوڑی دیر بعد ایک ہنستے مسکراتے آدمی کے ساتھ ظاہر ہوا جس نے ہمیں بریر میں خوش آمدید کہتے ہوئے اندر چلنے کی دعوت دی۔ گھر تو ایک ہی جیسے نمونے کے تھے۔ شیر بیگ بڑی میٹھی طبیعت کا بندہ تھا۔ محبت پور پور سے ٹپک رہی تھی۔ ہمارا پوڑ دیکھنے کے لیے آنا اس کے لیے باعث مسرت تھا پر غلطی سے قبل از وقت آمد پر متاسف بھی تھا۔ ”آپ کے اس ڈین نے تو ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ دیے ہیں۔“ کوثر بے صبروں کی طرح بولی۔


