مون سون اور نو آبادیاتی سیاہ کاریاں

تاریخ پاکستان بتلاتی ہے کہ عدم مساوات اور غربت قدرتی نہیں ہیں دونوں نو آبادیاتی ورثہ ہیں جو عصری انتظامات کے تحت قائم ہیں۔ پاکستان میں قدرتی آفات سے ہونے والی بیشتر تباہ کاریاں بھی قدرتی نہیں ہیں بلکہ یہ نو آبادیاتی عہد میں تعمیر کیے گئے ہائیڈرولوجیکل انفراسٹرکچر کی وجہ سے ہیں۔ برطانوی منتظمین نے نو آبادیاتی عزائم کو بروئے کار لا کر یہاں کے دریاؤں کو مصنوعی طور سے کنٹرول کر کے اپنے تسلط اور مالی مفادات کو تحفظ مہیا کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ ہائیڈرولوجی، یعنی پانی کا سائنسی مطالعہ اور انتظام برطانوی نو آباد کاروں کے لیے انسداد بغاوت کی حکمت عملی پر مشتمل تھا جسے تقسیم ہند کے بعد بھی نو آبادیاتی گماشتہ سیاست دانوں اور بیوروکریسی نے اپنایا۔ نو آبادیاتی طور پر وراثت میں ملنے والے ہائیڈرولوجیکل انفراسٹرکچر سے انڈس بیسن کے قریب آباد کاری کے باعث سینکڑوں خاندان سیلاب اور موسمیاتی تبدیلیوں کی زدّ میں ہیں۔ بلاول زرداری سمیت مرکزی دھارے کے سیاست دان پاکستان میں تباہ کن سیلاب کے لیے عالمی شمال کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، یوں دانستہ طور پر نو آبادیاتی عہد کی سیاہ کاریوں کو چھپایا جاتا ہے۔
کم و بیش 300 سال تک، ہندوستان برطانوی نو آبادیات رہا، نو آبادیاتی منتظمین نے اپنی پالیسیوں کے تحت اس خطے میں آباد کاری کے منصوبوں کو رائج کیا۔ ان منصوبوں کے تحت یہاں زرعی اشرافیہ کا گروہ تشکیل دے کر وفاداری کے نئے ضابطے متعین کیے اور ہندستان کو فوجی ریاست میں تبدیل کر کے نو آبادیاتی آمدن کو بڑھایا گیا۔ قبل از نو آبادیات دریاؤں کے کنارے آباد کاری نہیں ہوتی تھی تاہم دریاؤں کے قریب لوگوں کے بنائے ہوئے گھروں اور دیہات کو الگ الگ اور جلدی سے دوبارہ جوڑنے کے لیے ڈیزائن کیا جاتا جب سیلاب کا پانی آنے کا خدشہ ہوتا تو مقامی آبادی یا تو پہاڑوں پر ہجرت کر جاتی تھی یا پھر دریا سے چار میل دور تک دیہی آبادی کو عارضی طور پر منتقل کر دیا جاتا۔ برطانوی استعمار کے لیے، مقامی آبادی کی موسمی ہجرت برطانوی مفادات اور منافع کمانے کے عزائم کے لیے مستقل خطرہ تھی۔ برطانوی استعماروں نے مقامی اشرافیہ کے ساتھ مل کر بارہ ماسی آب پاشی کا نظام بنا کر سندھ طاس پر کھیتی باڑی کا آغاز کیا۔ بارہ ماسی اور زرعی آبادکاری کے منصوبے سے برطانوی اور مقامی اشرافیہ کو زمینی محصولات اور نقد فصلوں جیسے چینی، انڈگو (نیل) اور کپاس کی برآمد کے ذریعے منافع حاصل ہوا۔ سندھ طاس پر نئی آبادکاری کے بعد ، جب 1857 ء میں سیلاب آیا تو دریاؤں کے قریب آباد کیے گئے پورے گاؤں، مویشی اور فصلیں بہہ گئیں۔
دریائی زمینوں کی حدود میں مستقل آباد کاری کی ستم ظریفی سے دیہاتیوں سمیت زرعی اراضی بھی سیلاب کی زدّ میں آئی۔ 1857 ء کے سیلاب کے بعد ، انگریز نو آباد کاروں نے مستقبل میں آنے والے سیلاب کو روکنے اور زرعی معاشیات سے خام مال اور آمدنی کے سلسلے کی حفاظت کے لیے دریاؤں کے قریبی پشتوں کا ایک سلسلہ تعمیر کیا۔ امپیریل نکتہ نظر کے تحت ہونے والی ان تعمیرات میں مقامی علمیات اور ہائیڈرولوجیکل سائنس کو نظر انداز کیا گیا۔ چونکہ یہ پشتے دریاؤں کے قریب تعمیر کیے گئے تھے، یوں سیلاب کے خطرات مزید بڑھ گئے۔ ان تعمیرات سے کھیتی باڑی کے لیے متعین زمین نیچے چلی گئی، یوں مقامی آبادی جو صدیوں سے کھیتی باڑی پر انحصار کر رہی تھی، سیلاب میں رکاوٹ ڈالنے کی قدرتی صلاحیتوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا جب 1882 ء اور 1888 ء میں سیلابی پانی نے قریبی پشتوں کو توڑا تو اس سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔
برطانوی پارلیمان نے استعماری طاقت کے تحت، اگست 1947 ء میں اس خطے میں دو مملکتیں تشکیل دیں، اس تقسیم میں آبی گزر گاہوں کو بھی ایسے تقسیم کیا گیا کہ نئی سرحد بندیوں میں ہمیشہ قائم رہنے والے تنازعات نے جنم لیا۔ امریکا نے بریٹن ووڈ سسٹم کے تحت، ما بعد نو آبادیاتی اجارہ داری کا حق حاصل کر لیا اور امریکی سفارت کاری و عالمی بینک کی مداخلت کے ذریعے سے کالونیل ہائیڈرولوجیکل ڈھانچے کو مزید وسعت دی گئی۔ مملکت پاکستان کی ریاستی و سیاسی اشرافیہ نے باہم مل کر نو آبادیاتی عہد کے استعماری منصوبوں کو امریکی ایماء پر توسیع دی چنانچہ یورپی و امریکی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کر کے 1950 ء کی دہائی میں سندھ طاس کی آبپاشی اور ہائیڈرو پاور کے بنیادی ڈھانچہ کو پھیلایا گیا۔
نو آبادیاتی عزائم نے، نئی سرحد بندیوں میں جن تنازعات کو پیدا کیا، امریکا نے عالمی بینک کے ثالثی کردار کے ذریعے سے دونوں ممالک کو سندھ طاس معاہدہ پر دستخط کے لیے مجبور کیا۔ اس معاہدے کے ذریعے پاکستان پر مسلط آمر، جنرل ایوب خان نے قومی اقتصادیات کو ہمیشہ کے لیے گروی رکھ دیا، امریکی سہولت کاری میں طے پانے والے اس معاہدہ نے بھی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے منافع کمانے کا ایک نیا راستہ کھول دیا۔ پاکستان میں نئے آبی منصوبہ جات شروع ہوئے جس میں سات بلین کیوبک گز زمین کی کھدائی بھی شامل تھی۔ ڈیموں کی تعمیراتی لاگت دو ارب ڈالرز (موجودہ 17 ارب ڈالرز) ، بیراجوں اور چار سو میل پر مشتمل طویل تعمیرات شامل تھیں۔ جنرل ایوب کے عہد میں 1958 ء میں تونسہ بیراج کی تعمیر شروع ہوئی جبکہ 1960 ء کی دہائی میں منگلا اور تربیلا ڈیم پر کام ہوا۔ ان پروجیکٹس پر پہلے برطانوی و امریکی انجینئرنگ اینڈ کنسٹرکشن کمپنیوں نے کام کیا۔ بعد ازاں اطالوی اور فرانسیسی ماہرین بھی آئے۔
ہائیڈرو پاور کے نئے منصوبوں میں مقامی جاگیرداروں نے اپنے اثر و رسوخ کی بنیاد پر ان تعمیرات میں مداخلت کی، یوں چھوٹے کسانوں کی قیمت پر جاگیرداروں کی زمین کی حفاظت کی گئی، یورپی کمپنیوں نے منافع بخش ٹھیکہ جات لیے۔ امریکی ورلڈ آرڈر کے تحفظ کے لیے، پاکستان سے جنرل ایوب کا انتخاب کیا گیا، یہی وجہ تھی کہ جنرل ایوب کا امریکا میں شان دار استقبال کیا گیا، اس استقبال میں امریکا کے مذموم عزائم پوشیدہ تھے۔ امریکا نے، سرد جنگ میں پاکستان کو معاوضہ دینے کے لیے جدیدیت کے ترقیاتی ماڈل کو پیش کیا اور عالم جنوب میں پاکستان کی اقتصادیات کو قرضوں کی معیشت میں تبدیل کرنے کی پالیسی نافذ کی گئی۔ پاکستان میں جدیدیت کا منصوبہ، تکنیکی بنیادوں پر تیار کیا گیا جس کے لیے غیر ملکی تکنیکی امداد اور فنڈنگ کو یقینی بنایا گیا۔
یہ امر حیران کن ہے کہ دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم پر، پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ کو حل کرنے میں بھی کمیونزم کے پھیلاؤ میں رکاوٹ پیدا کرنے کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ جنرل ایوب کی ریاست مخالف پالیسی کا نتیجہ تھا کہ 1962 ء میں تکنیکی امداد کے نام پر 500 امریکی خاندان پاکستان میں لا کر آباد کیے گئے۔ جنرل ایوب کے ذریعے سے امریکا کی آٹھ کمپنیوں کے کنسورشیم کو یہ ٹھیکہ دیا گیا اس کنسورشیم کی سربراہی Guy F Atkinson کمپنی کر رہی تھی۔ اس کمپنی کو 50 کروڑ 10 لاکھ ڈالرز مالیت کا ٹھیکہ دیا گیا، اڑھائی ہزار امریکی و یورپی افراد کو آباد کرنے کے لیے ایک مکمل ائر کنڈیشنڈ ٹاؤن بنایا گیا۔ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، مغربی جرمنی اور نیوزی لینڈ نے لاگت کے لیے تقریباً ایک ارب ڈالر فراہم کرنے کا عہد کیا۔ انٹرنیشنل جنرل الیکٹرک کمپنی نے ڈیم کی تعمیر کے لیے 15 لاکھ ڈالر مالیت کا بجلی کا سامان فراہم کیا۔ چھ سال بعد ، دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم کے لیے 62 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا معاہدہ اطالویوں اور فرانسیسیوں نے حاصل کیا، جنھوں نے اس معاہدے کے لیے امریکی، جرمن، برطانوی اور سوئس حریفوں کو شکست دی۔
جنوبی ایشیاء کا جغرافیہ گلوبل امپیریل طاقتوں نے مشترکہ طور پر تیار کیا، عالمی شمال اور عالمی جنوب کے درمیان طاقت کی اجارہ داری کو ایک صدی مکمل ہونے کو ہے۔ پاکستان کا ہائیڈرو پاور کا منصوبہ سندھ طاس کے تحت ایک مکمل طور پر انجینئرڈ لینڈ اسکیپ ہے، جو دنیا کے سب سے بڑے ملحقہ انفراسٹرکچر نیٹ ورک کا گھر ہے، جس میں بڑے اور چھوٹے ڈیموں، بیراجوں، نہروں اور لنک کینالوں کی بدولت پانی کا کنٹرول سنبھالا۔ پانی کا کنٹرول ہمیشہ ایک سیاسی منصوبہ تھا، جسے امریکی سامراج کی سیاست، بین الاقوامی ترقی اور قرضوں، اور ترقی کے بعد نو آبادیاتی امنگوں نے وضع کیا تھا۔ بنیادی طور پر ایک اقتصادی اور قومی وسیلہ کے طور پر پانی کو دیکھنے کے ساتھ بڑے بنیادی ڈھانچے کی قدر نے مٹی اور آبی ذخائر کو متاثر کیا ہے جس سے ڈیلٹا مزید سکڑ گیا ہے۔
قرضوں کے عالمی سسٹم کے تحت پاکستان کو کثیر الجہتی حربوں کے ذریعے سے کنٹرول کیا جاتا ہے یہ صرف مالیاتی مدد نہیں ہوتی بلکہ تکنیکی مدد بھی شامل ہوتی ہے، یوں گورننس میں تبدیلیاں لائی جاتی ہیں، آڈٹ کے نئے طریقہ کار لاگو کیے جاتے ہیں اس امر کو سمجھنے کے لیے ہمیں پاکستان کے بجٹ 2024 ء میں آئی ایم ایف کی شرائط کا جائزہ لینا ہو گا جس کی بنیاد پر اکنامک گورننس کا نفاذ ہوا۔ کثیر الجہتی اداروں نے پاکستان کی آبی پالیسی کو کم از کم اس حد تک تشکیل دیا ہے جتنا کہ مبینہ طور پر بدعنوان اور نا اہل مقامی عہدیداروں کی تشکیل ہے۔
اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے دوران، پاکستانی حکومتوں نے ہائیڈرولوجیکل انفراسٹرکچر پر کبھی سوال نہیں اُٹھایا۔ ملک کی اشرافیہ نے ڈیموں اور نکاسی آب کے نظام کی تعمیر جاری رکھی ہے، نیز انڈس بیسن کے ساتھ گریٹر تھل اور کچھی کینال جیسے منصوبوں کے ساتھ بارہ ماسی آبپاشی کو بڑھایا ہے۔ عام طور پر، غیر ملکی ماہرین اور فنانسنگ کی مدد سے، ان میگا پروجیکٹس نے مقامی پسماندہ خاندانوں کو متاثر کیا ہے۔ مثال کے طور پر 2010 ء کے سیلاب کا الزام تونسہ بیراج کی عالمی بینک کی زیر قیادت ناقص مرمت پر لگایا گیا، جس کی ابتدائی تعمیر نے جنوبی پنجاب کے علاقے میں مقامی خاندانوں کو بھی بے گھر کر دیا۔ ان میگا پروجیکٹس کی تعمیر جاری ہے، تاہم، نو آبادیاتی ہائیڈرولک مداخلتوں کی طرف سے تشکیل کردہ انجینئرنگ کے نمونے کی وجہ سے اور اب اشرافیہ کی بالادستی کے حصول کے لیے ایک مشترکہ نقطہ نظر کو اپنایا گیا ہے جس سے سیلاب کی تباہ کاریوں کو روکنا مستقبل میں بھی چیلنج سے دوچار رہے گا۔
عالمی شمال کی طرف سے دی جانے والی موسمیاتی موافقت کی مالیات کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ قرضوں کے طور پر دیا جاتا ہے، گرانٹ کے طور پر نہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں نقصان اور نقصان کی اقتصادی لاگت کا تخمینہ 2030 تک 290 ارب ڈالر سے 580 ارب ڈالر تک لگایا گیا ہے جو 2050 ء تک دو کھرب ڈالر تک بڑھ جائے گا۔ پاکستان کے حکمرانوں کو یہ سوچنا ہو گا کہ ہم اپنے نو آبادیاتی ہائیڈرولوجیکل سسٹم میں تبدیلی کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ سازی پر دھیان دے کر تباہی کو کم کریں گے یا پھر آئندہ ہر سال سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کے ازالہ کے لیے عالمی شمال اور اداروں سے امدادی چندہ وصولی پر ہی انحصار کو جاری رکھ کر ما بعد نو آبادیاتی عزائم کی تکمیل کرتے رہیں گے۔

