اسی سال پہلے کا مقدمہ
”ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی“
یعنی جرمنی میں وہ سب جو ہمیں نظر آ رہا ہوتا ہے سو فیصد درست نہیں ہے۔ جرمنی میں بھی میرا فیورٹ قول کہ "پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہیں“ صادر آتا ہے البتہ یہاں حتمی طور پر کوشش کی جاتی ہے کہ پولیس اور عدالتوں کے نظام میں کوئی جھول نہ آنے پائے۔
Bundesgerichtshof فیڈل کورٹ آف جسٹس نے، نازی حراستی کیمپ کی نوے سالہ سابقہ سیکریٹری کے، سن دو ہزار بائیس کے، جرمنی کے شہر اٹزیہو کے، صوبائی عدالتی فیصلے میں، اجتماعی قتلِ عام میں مدد اور حوصلہ افزائی کرنے کے جرم میں، سزا کی توثیق کی ہے۔ اسے، دس ہزار پانچ سو پانچ مقدمات میں قتل میں مدد اور حوصلہ افزائی جبکہ پانچ اقدام قتل میں مدد پر ، ”نوجوانوں پر جرم“ کے قانون کے مطابق، دو سال پروبیشنی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
فیڈرل کورٹ آف جسٹس نے یہ فیصلہ امسال اکتیس جولائی کو محفوظ کیا تھا جسے آج مورخہ بیس اگست دو ہزار چوبیس کو سنایا گیا ہے۔ آئی۔ ایف نامی، ملازمت کی شروعات میں اٹھارہ سالہ لڑکی، لائپزگ کے قریب واقع سٹٹہوف نامی حراستی کیمپ کے کمانڈنگ دفتر میں بطور سیکریٹری کام کرتی تھی۔
صوبائی عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ نوجوان لڑکی حراستی کیمپ میں قیدیوں کا باقاعدہ قتل ہوتے ہوئے، مدد دینے کے الزام کی مجرمہ قرار پائی ہے۔ اس فیصلے کے خلاف مجرمہ کی طرف سے فیڈرل کورٹ آف جسٹس میں اپیل کی گئی تھی۔ فیڈرل کورٹ آف جسٹس کی چیف نے یہ ریمارکس بھی دیے کہ کیا اسی سالہ پرانے ہولوکاسٹ جرائم اب قابلِ سماعت ہیں یا نہیں؟ تو خود ہی جواب دیا کہ "قتل کے جرم کی میعاد کبھی ختم نہیں ہوتی“
ملزمہ کے دفاعی وکیلوں کی طرف سے دلائل کہ اجتماعی قتل کی اسے آگاہی نہیں تھی، عدالت کی طرح، فیڈرل کورٹ آف جسٹس بھی نہیں مانی۔ کیونکہ تقریباً تمام قسم کی خط و کتابت دفتر میں ہوتی تھی جس سے ایک طبعی مددگاری ثابت ہوتی ہے۔ دفاعی وکیلوں نے اس کیس کو خارج اور ملزمہ کو بری کرنے کی استدعا کی جو دونوں عدالتوں نے مسترد کی تھی۔
”جو کچھ بھی ہوا اور میں اس وقت حراستی کیمپ میں موجود تھی اس کا مجھے بہت افسوس ہے۔ اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہنا چاہتی“ ۔ ملزمہ نے عدالت میں کہا تھا۔
دستاویزی ارولسن مرکز کے مطابق، سٹٹہوف حراستی مرکزی کیمپ کے علاوہ انتالیس بیرونی مراکز میں، انیس سو انتالیس اور پینتالیس کے دوران 28 ممالک کے تقریباً ایک لاکھ دس ہزار لوگ مقید تھے۔ تقریباً پینسٹھ ہزار لوگ مار دیے گئے تھے۔
سن دو ہزار اکیس/بائیس کی طویل صوبائی عدالتی کارروائی کے دوران ان گنت گواہان اور مشترکہ مدعیان کے بیانات قلمبند کیے گے تھے۔ اکتیس جولائی دو ہزار چوبیس کو ، حاضرین سے بھری فیڈرل کورٹ آف جسٹس میں، چھیانوے سالہ مشترکہ مدعی مسٹر اے۔ کے نامی شخص، جو سٹٹہوف حراستی کیمپ سے زندہ بچ نکلا تھا اور اب اسرائیل کے شہر حیفا میں رہتا ہے، کا دو صفحاتی بیان پڑھ کر سنایا گیا:
”کیمپ میں قید ہوتے ہی مجھ پر یہ سچائی آشکار ہو گئی کہ یہ کتنا خوفناک قتل عام کیمپ تھا۔ میری طرح تمام، اس کیمپ کے پاس موجود، انسانوں کو شمشان گھاٹ کی بدبو آ رہی تھی۔ اور جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے ہدایات پر عمل کیا تھا وہ اس قتلِ عام میں برابر کے شریک تھے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو کیمپ کی انتظامیہ میں ملازمت کرتے تھے وہ یہ نہیں کہہ سکتے تھے۔ وہ قیدیوں سے پہلے ہی یہ جانتے تھے۔ جو کیمپ کمانڈنٹ کے جتنا قریب تھا اتنا ہی اس قتل میں ملوث تھا۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ کسے فوری طور پر مرنا ہے اور کسے سٹٹہوف حراستی کیمپ سے کہیں اور بھیجا جانا ہے۔“
شاید یہ نازی جماعت کے اجتماعی قتل کے تناظر میں جرمنی میں آخری مقدمہ ہے جس کی اپیل ممکن نہیں ہے۔
میری ذاتی رائے میں اسرائیل، نازی جماعت کے، اسی سالہ پرانے سلوک کا بدلہ فلسطینیوں پر ظلم و ستم ڈھا کر لے رہا ہے۔


