کم عمری میں شادی کے واقعات
سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2013 میں بچوں کی تشریح 18 سال سے کم عمر کے ہر فرد کے طور پر کی گئی ہے جو کہ 2016 سے نافذ العمل ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ شادی کے لیے لڑکے اور لڑکی کی کم سے کم عمر 18 برس ہوگی اور اس سے کم عمر افراد کو بچے تصور کیا جائے گا اور بچوں کی شادی پر لڑکی اور لڑکے کے والدین اور سرپرستوں کو تین سال تک قید اور 50 ہزار روپے تک جرمانہ یا دونوں میں سے کوئی ایک سزا یا پھر دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ اس قانون کے تحت ضلعی عدالتوں کو چائلڈ میرج کے واقعات کا ازخود نوٹس لینے اور اس پر قانونی کارروائی کے اختیارات حاصل ہوں گے جب کہ کوئی بھی شخص عدالتوں میں بھی کم عمر بچوں کی شادی رکوانے کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ اسی طرح پولیس کو بھی چائلڈ میرج روکنے کے اختیارات دیے گئے ہیں اور وہ بھی ایسے واقعات سامنے آنے کے بعد قانون کے تحت کارروائی کر کے بچوں کی شادیاں کروانے والے تمام افراد کو حراست میں لینے سمیت بچوں کو بھی اپنی تحویل میں لے سکتی ہے۔
اس قانون میں کم عمری کی شادی کروانے والے ملزمان کے اقدام کو ناقابل ضمانت قرار دیا گیا ہے، یعنی ان کی ضمانت نہیں ہو سکے گی لیکن اب تک کے سامنے آنے والے کیسز کا جائزہ لیا جائے تو حالات اس کے برعکس ہیں۔ حال ہی رپورٹ ہونے والی ایک خبر کے مطابق ضلع دادو خان محمد علی گوٹھ میں 45 کم عمر بچیوں کی شادی 2022۔ 23۔ 24 میں کی گئی۔ یہ علاقہ ماضی قریب کے سیلاب سے متاثر ہوا تھا، خاندان کے سربراہان نے اپنی معاشی حالات کو بہتر کرنے اور نئے مکانات کی تعمیر کے لیے اپنی کم عمر بیٹیوں کے عوض شادی کر دی۔ اب اس حوالے سے جب مختلف اداروں اور میڈیا نے ان حقائق کو اجاگر کیا تو وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی نوٹس لے کر کمشنر حیدرآباد سے رپورٹ طلب کی ہے۔ اور حکم دیا ہے کہ کمیٹی بنا کر گوٹھ میں تفصیلی انکوائری کریں اور رپورٹ دیں، یہ بھی بتایا جائے کیا بیاہی گئی لڑکیاں سیلاب متاثرہ خاندانوں سے ہی تھیں۔ اگر یہ لڑکیاں سیلاب متاثرہ خاندانوں سے تھیں تو ان کی کتنی امداد کی گئی؟ بیاہی گئی لڑکیاں اس وقت کس حال میں ہیں؟ ہر پہلو کی رپورٹ دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انکوائری رپورٹ میں اپنی سفارشات دینے کی بھی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہر پہلو کی رپورٹ دیں تاکہ اس کا سدباب کیا جا سکے۔
قابل افسوس امر یہ ہے کہ یہ سلسلہ 2024 میں بھی نہیں رُکا۔ ذرائع کے مطابق جیسے ہی پاکستان میں مون سون کی بارشوں کا آغاز ہوا، ضلع دادو کے خان محمد ملا گوٹھ میں کم عمر لڑکیوں کی شادی کا سلسلہ اس سال بھی عروج پر پہنچ گیا، ایک رپورٹ کے مطابق بچیوں کی کم عمری میں شادی کا فیصلہ والدین اس لیے کر رہے ہیں تاکہ سیلاب کے خطرے سے خاندان کو جس معاشی عدم تحفظ کا سامنا ہو گا، اس سے بچا جا سکے۔ تقریباً 15 کم عمر بچیوں کی شادیاں رواں سال مئی اور جون میں بھی ہوئیں ہیں۔ پیسوں کے عوض کم عمر بچیوں کی شادی کی نہ تو دین اسلام میں گنجائش ہے اور نہ ہی ریاست کے قوانین میں، شریعتِ مطہرہ میں نکاح کے موقع پر بدل اور عوض کے طور پر اگر کسی چیز کو لازم قرار دیا ہے تو وہ صرف مہر ہے، جو کہ شرعاً بیوی کا حق ہے۔ باہمی رضامندی سے مہر کی جو مقدار طے ہو جائے شوہر پر اس کی ادائیگی لازم ہوتی ہے۔ اس میں ایک اور پہلو کا جاننا بھی ضروری ہے کہ اسلامی فقہ کے تحت بالغ ہونے کی شرط پر شادی کی اجازت ہے۔
ملک میں رائج وفاقی اور صوبائی سطح پر قوانین سامنے آنے کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل اور کچھ علماء کرام نے اس پر اعتراض اٹھایا۔ کہ شادی کی عمر کو 18 سال مقرر کرنا شریعت کے خلاف ہے۔ اس تناظر میں وفاقی شرعی عدالت میں بھی اپیلیں دائر کی گئی ہیں، جن میں اس قانون کو اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ تاہم، عدالتوں نے مختلف مواقع پر یہ موقف اختیار کیا ہے کہ قانون سازی ریاست کا حق ہے، اور عوامی مفاد میں قوانین وضع کیے جا سکتے ہیں۔
لیکن جہاں تک حق مہر کے علاوہ قیمت لگا کر پیسوں کے عوض کم عمری میں شادی کا تعلق ہے یہ نہ صرف ملکی قوانین کے خلاف ہے بلکہ شریعت مطہرہ میں بھی قبیح فعل ہے۔ یہ رجحان کسی بھی خطے میں مزید مسائل کو جنم دیتا ہے۔ مثال کے طور یہاں ضلع دادو میں معاشی دباؤ کو سامنے رکھتے ہوئے جن لڑکیوں کی کم عمری میں شادی کردی گئی، شادی ہوتے ہی وہ مزید معاشی دباؤ میں چلی گئیں کئی خاندانوں نے تو تیسرے فریق سے قرض لے کر لڑکی کے والدین کو دیا تھا اب لڑکی کو روزانہ کی بنیاد پر پیسوں کے عوض لے کر آنے کے طعنے بھی سننا پڑتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ پریشان بھی کیا جاتا ہے کہ قرض واپس کرنے کے لیے کوئی انتظام کرو۔ دوسری خرابی یہ پیدا ہوئی کہ ان کو تعلیم کے حق سے محروم کر دیا گیا، اب تک کی تحقیق کے کے مطابق ان بچیوں کے لیے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھے ہیں۔ شادی کے بعد حمل، ولادت کی پیچیدگیوں اور محدود معاشی مواقع کے زیادہ خطرات سے یہ بچیاں دوچار ہوئی ہیں۔ یہ ہی عوامل معاشرے میں صنفی عدم مساوات کو برقرار رکھتے ہیں۔ کم عمر دلہنوں کو گھریلو تشدد کا سامنا کرنے کا بھی زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
ایسے واقعات اور کم عمری کی شادی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے متعدد اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنا ضروری ہے، جن میں سرکاری ایجنسیاں، غیر سرکاری تنظیمیں، کمیونٹی لیڈرز، مذہبی اسکالرز اور بین الاقوامی تنظیمیں شامل ہیں۔ ان اداروں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی زیادہ موثر اور پائیدار مزاحمت اور بندش کا باعث بن سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ قدیم و جدید علوم پہ مہارت رکھنے والے مذہبی اسکالرز معاشرے کی صحیح اور بروقت رہنمائی میں کردار ادا کریں۔ یہ رہنمائی معاشرے پہ فی الفور اور دیرپا اثرات مرتب کرے گی۔


