ذکر اس پری وش کا، پھر بیاں اپنا

عمومی طور پر جس جگہ بھی پہنچنا ہو تو لیٹ ہو جانا میرا معمول ہے جو کہ ایک خاصی بری عادت ہے۔ مگر اس لیٹ ہونے میں جو ذرائع و عوامل ہمیشہ انہونی طور پر شامل رہتے ہیں وہ زمانہ کہاں سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی کبھی ایسی کوئی سنجیدہ کوشش کی ہے مگر یہ قابل فخر بات بھی نہیں۔
آج شاید کچھ زیادہ انہونی ہو گئی۔ طے کیے ہوئے وقت سے پندرہ منٹ پہلے منزل آ گئی۔ مقام تھا اپنی جامعہ برائے انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور۔ مقصد تھا فرانس پلٹتے ہوئے کوپے سے ایک مختصر الوداعی ملاقات۔ مغرب سے کوئی 35 منٹ بعد کا وقت ہو گا۔ ویسے بھی بارش کے بعد اندھیرا کچھ جلدی ہو گیا۔ کچھ لمحے مسجد کے آگے کھڑا ہونے کے بعد، داخلی دروازے کے سامنے والی فٹ پاتھ کی سائیڈ پر بنے تھڑے پر بیٹھ گیا۔ بس پھر اچانک پتا نہیں کیسے اپنے بائیں جانب ماضی کا ایک عکس سا مسجد کے دروازے کی جانب آتے جاتے محسوس ہوا۔ کچھ دیر کے لیے آنکھیں بھینچیں مگر عکس کی شدت زیادہ تھی۔ ایسے لمحات محسوس ہو رہے تھے جو حقیقت حال میں وہاں موجود نہیں تھے۔
ایک بے چینی و اضطراب کی سی کیفیت میں چند ہی لمحوں میں وہاں سے اٹھ کر پیدل مین لائبریری چوک کی طرف چل پڑا۔ بارش کے پانی سے بچنے کے لیے تھوڑا سڑک کے بیچ میں ہوا تو بائیں جانب ایکسٹینشن کینٹین میں کرسیاں ٹیبلز پر اوندھے منہ پڑی تھیں اور ایک ویرانی سی محسوس ہوئی۔ پھر دھیمے قدم تیزی میں بدل گئے اور سیدھا لائبریری چوک آ گیا۔ کہاں اسے ہم ’اللہ ہو‘ چوک کہتے تھے کہ درمیان میں ’اللہ‘ کے نام کا ماڈل نصب تھا۔ مگر بعد ازاں یونیورسٹی بھر میں شجرکاری کی بھرپور مہم کے دوران یہ ختم کر دیا گیا۔ وائس چانسلر فضل خالد صاحب کے نزدیک شاید جامعہ کو جدت بخشنے کا بہترین ذریعہ شجرکاری تھا مگر بہرحال اچھا اقدام تو تھا۔
مین لائبریری کی بھی از سرنو تزئین و آرائش ہو چکی تھی۔ یہ پہلی تصویر اتارتے ہوئے جب لائبریری پر نظر پڑی تو ایک خفیف مسکراہٹ زیر لب آئی۔ لائبریری میں روز دو اخباروں کا مطالعہ ایک معمول تھا۔ اکثر و بیشتر اس مطالعے میں ساتھ کوئی دوست ہوتا تو اخبار کے اوپر باقاعدہ تکرار و بحث بھی ہو جایا کرتی تھی۔ کہاں وہ موضوع اخبارات کی زینت ہوا کرتے تھے کہ پاک افغان میں لگی سامراجی جنگ کا کیا بنے گا۔ امریکی رسوا بھی ہوں گے یا اپنی عمر گزر جائے گی اس تماشے میں۔ وقت کی گنگا میں سب کچھ بہہ گیا بس اسی لیے ایک خاموش مسکراہٹ پر اکتفا کیا۔
لائبریری کا ویسے زیادہ استعمال یا یوں کہیے 80 فی صد استعمال شور و غل مچانے کے لیے ہی ہوتا تھا۔ گراؤنڈ فلور والے ہال میں بڑے بڑے ڈیسک لگے ہوتے تھے جو درمیان میں ایک لکڑی کے تختے سے جدا ہوتے تھے تاکہ آمنے سامنے والوں کی پرائیویسی رہے مگر ایک لائن میں آپ برابر بیٹھ سکتے تھے۔ کمبائنڈ سٹڈی کے نام پر اکثر ایک ہنگامہ ہی برپا رہتا تھا اور پرائیویسی کے دوسرے استعمال کے قصے بھی سننے کو ملتے رہتے تھے۔ مگر یہ نوعیت اوپر والی دو منازل پر مختلف تھی۔ شور کم ہوتا تھا۔ تیسری منزل پر تو مکمل خاموشی ہوتی تھی اور ایک بہترین کمپیوٹر لیب بھی تھی۔ مگر معلوم نہیں کہ پوری لائبریری میں خاموشی قائم رکھنے کا ایک جیسا پیمانہ کیوں نہیں تھا۔ ہوا میں اوپر ہوئے انسان شاید ویسے ہی برابر والوں کو بلانا پسند نہیں کرتے مگر اس وقت ایسے عجیب خیالات بھی نہیں تھے۔ خیر اب تو لائبریری کا ڈیزائن بدل گیا۔ دوبارہ کبھی نہیں دیکھی۔
بس تصویریں محفوظ کرتے ہوئے پرانے لمحے ٹٹول رہا تھا تو سامنے سے اورنج ٹرین کی گونج محسوس ہوئی۔ یقین تھا کوپا اسی ٹرین سے نکلا ہے۔ فون ملایا تو یقین، سچ نکلا۔ اسے گیٹ نمبر 6 سے عبدل کے ساتھ آنے کا کہہ کو خود دوبارہ مسجد کی طرف ہو لیا۔ ابھی کچھ مزید وقت اکیلے گزارنے کی شدید طلب باقی تھی۔ ایکسٹینشن کینٹین کے پاس دوبارہ آ کے سٹیڈیم کی طرف دائیں جانب مڑا پر فوراً ہی پلٹ گیا۔ اس سڑک سے ماضی کے عکس ایک متواتر دوڑ لگاتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ میں سامنا نہیں کر سکا اور منہ واپس موڑ لیا۔ دو منٹ خاموش ہاتھ پہ ہاتھ باندھے انتظار میں گزرے تھے کہ عبدل اور کوپا آ وارد ہوئے۔ خاکسار کو انتظار کروا کے انہوں نے آتے ساتھ پہلے خود کو ایک بہت بڑے معرکے کا فاتح ٹھہرایا۔ بس زمانے کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں۔
کوپے کے ساتھ بہت اچھا اور ایک لمبا وقت گزرا ہے مگر رہ رہ کر بحیثیت کولیگز دفتر میں اکٹھے گزرا ڈیڑھ سال کا زمانہ کافی یاد آتا ہے۔ بالکل برابر بیٹھا کولیگ دن بھر کے آٹھ دس گھنٹے آپ کے ساتھ ہوتا ہے، پرانا دوست ہو تو سونے پہ سہاگا۔ بس اب کامل ایمان کے بعد فرانس پلٹنے سے پہلے یہ الوداعی ملاقات ضروری تھی۔ اور اس میں شامل انیکسی کا پنگا آئس کریم شیک ہو جائے تو مزہ دوبالا۔
اس وقت غالباً 100 سے 120 کا تھا اب 160 کا ہے۔ ذائقہ بالکل ایک دم ویسا ہی۔ مگر وہ آرڈر لینے والے صفدر بھائی نہیں رہے۔ ان کی اچانک وفات کا سن کر غم ہوا تھا۔ زبیر ہال کینٹین کا وٹو بھی چل بسا۔ جس کو ہر وقت پراٹھے لانے کی آوازیں ہی لگتی رہتی تھیں۔ کیو ہال کینٹین پر بھی ایک بڑا ہی بھلا لڑکا تھا۔ شام کے اوقات میں جی سی یو سے ایم ایس فزکس کر رہا تھا اس وقت۔ نام پتا نہیں کیوں ذہن سے محو ہو گیا۔ ان سب کے بارے میں یو ای ٹی آفیشل پیج سے پتا لگتا رہا۔
خیر اپنی ملاقات ایک الوداعی جپھی پر ختم ہوئی۔ کوپے کو البتہ ضرور کہا کہ جب مرضی آئے مگر واپس اپنے دیس ضرور پلٹے۔ جو کہ یقیناً ایک مشکل امر ہے۔ واپسی پر پھر اپنی پسندیدہ سٹیڈیم روڈ پر جانا لازمی تھا۔ جنید جمشید کی ناگہانی موت کے بعد ان کے اعزاز میں اس کا نام تبدیل کر کے اب ’جنید جمشید کرکٹ سٹیڈیم‘ رکھ دیا گیا ہے۔
ایک مختصر خاموش مشاہدے کا بہترین موقع دوبارہ ملا۔ بارش کے بعد ویسے ہی موسم خوشگوار تھا۔ جامعہ میں گزرے چار سالوں کی ادھوری تشنگی ستا رہی تھی کہ بہت سی چیزیں رہ گئیں یا جو اب ایسے محسوس ہوتا ہے کہ بتلائی ہی نہیں گئیں جب ان کے بتانے کی اشد ضرورت تھی۔ چار سالہ ڈگری کہیے یا 16 سالہ تعلیمی کیریئر، اس کی زیادہ تر بنیاد ہم مادی اصولوں پر کر رہے ہوتے ہیں۔
ڈگری یافتہ ہو کر کامیابی کے جھنڈے لہراتے پھرتے ہیں مگر معاشرتی آداب و رہن سہن، طرز زندگی اور رویوں میں اس کا ویسا اثر و رسوخ یا مکمل ثمرات لاگو نہیں کر پاتے۔ خواہ انفرادی ہوں یا اجتماعی سطح پر ۔ جغرافیے میں پتا نہیں وہ خط استوا تو ضرور پڑھاتے ہیں مگر یو ای ٹی کی بغل میں گڑھی شاہو کی ٹریفک آج بھی ایسی ہی شدید بد نظمی کا شکار ہے۔ رویوں میں دونوں انتہاؤں کی شدت ہے اور درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوئی لگن یا جستجو نہیں ہے۔
بس اپنی اپنی دوڑ ہے اور دوڑ بھی کہاں تک لیں گے۔ بحیثیت مجموعی ایک دوسرے کو کندھا دینے کی تربیت نہیں ہے۔ نا ایسے تعلیمی ادارے کر رہے ہیں، مساجد و منبر کے والی وارث بھی ایک عجیب ہیجان کا شکار ہیں اور ریاست کا تو خدا ہی حافظ ہے۔ جہاں اب ہائبرڈ والے مستقل سائے ہی مقدر ہیں۔ سلامت رہیں وہ سب حضور ۔
کسی کو کیا دوش دینا خود اپنا حال کچھ ایسا ہے کہ دوڑ بس اپنی اپنی۔ بس ارادہ و نیت ہی اچھی ہو جائے تو میرے دیس کے اور اس کے باسیوں کے دن سنور جائیں۔

