پچاس کروڑ کا نیزہ

ارشد ندیم نے یہ کب سوچا تھا کہ اولمپکس میں اس کا پھینکا ہوا فقط ایک نیزہ اس کو ایک دن اس قوم کا ہیرو بنا دے گا۔ اس ایک نیزے کے بدلے پچاس کروڑ کا خیال تو شاید کبھی اس کے تصور کو بھی نہ چھو کر گزرا ہو گا۔ اور ایسی لش پش نو دس گاڑیوں کی بارات بھی کہاں اس کے فرشتوں نے کبھی دیکھی ہو گی۔ اور کم و بیش اتنے ہی اپارٹمنٹس۔ سبحان اللہ۔ لیکن بس جسے اوپر والا نواز دے۔
اللہ نے ارشد ندیم کو دنیا بھر میں جو عزت سے نوازا سو نوازا پر ہمارے حکمران بھلا کیوں کسی سے پیچھے رہتے۔ بھئی آخر دنیا کو بھی تو دکھانا ہے کہ پاکستانی حکمران اور عوام کیسے اپنے ہیروز کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ اور ایسا سپر پاور نیزہ تو صدیوں میں کوئی ایک ماں کا لال پھینکتا ہے لہذا کہیں صدارتی عشائیہ، کہیں سرکاری انعامات کی بارش، کہیں چمچماتی گاڑیاں۔ اور ایسے میں ملک ریاض صاحب نے بھی حسب روایت اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالنا فرض عین سمجھا اور ان کی دیکھا دیکھی تحائف میں دیے گئے اپارٹمنٹس کی تعداد بھی بڑھتی چلی گئی۔
ایسا لگتا ہے جیسے ہر کوئی اس نیزے پر اپنا نام کھدوانے کی دوڑ میں ہو۔ میں تو ابھی اس وقت کے انتظار میں ہوں جب ارشد ندیم شیمپو کے اشتہار میں ہانیہ عامر کے ساتھ اپنے ریشمی بال جھٹکتا دکھائی دے گا یا پھر کسی ٹوتھ پیسٹ کے اشتہار میں مسکراہٹیں بکھیرتا پایا جائے گا۔ یہ بھی عین ممکن ہے وہ در فشاں کے ساتھ چائے کے اشتہار میں کسی ٹیرس پر خوشگوار موڈ میں چائے پیتا دکھائی دے جائے یا پھر وسیم اکرم کی طرح سرف ایکسل یا ہارپک کے اشتہار میں لوگوں کے ٹوائلٹس اور کپڑوں کے داغ دھوتا نظر آئے۔ کیونکہ اس عظیم قوم سے کچھ بھی بعید نہیں۔ سب چڑھتے سورج کے پجاری ہیں۔ یہاں جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ارشد ندیم کی سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر عزت افزائی اس کا حق تھا۔ اور جس شاندار انداز میں یہ ٹائٹل اس نے جیتا وہ از خود ایک تاریخ ساز کارنامہ ہے جس پر ہر محب وطن کا سر فخر سے بلند ہوا۔ لیکن اس کے بعد انعامات کے نام پر جو تماشا رچایا گیا۔ کیا اس کو ایک درست عمل قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا انعامی رقم کی مد میں قومی خزانے کی ایسی لوٹ مار ایک ایسے دیوالیہ ملک کو زیب دیتی ہے جو پہلے ہی وینٹیلیٹر کے سہارے مصنوعی سانسوں پر زندہ ہے۔
جہاں بیروزگاری عروج پر ہو اور لوگ بھوک سے مر رہے ہوں۔ جہاں ہر پڑھا لکھا اور ہنر مند نوجوان بیرون ملک پرواز بھرنے کے لئے موقع کی تلاش میں تیار بیٹھا ہو۔ جہاں مہنگائی اور ٹیکسز کی بھرمار نے عوام کی کمر توڑ رکھی ہو۔ لیکن انعامات کے شاہی انداز کو دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے ہمارے ہاں تیل کے کنویں ہیں اور دودھ کی نہریں بہتی ہیں۔ اور غالباً قارون کا خزانہ بھی پنجاب کی سر زمین میں کہیں دفن ہے۔ یہی نہیں انعامات کو ارشد ندیم کی ایک نسل تک محدود رکھنا مناسب نہیں سمجھا گیا اور اس کی سات نسلوں تک کے مستقبل کو محفوظ بنانے کا بھرپور انتظام کر دیا گیا۔
حالانکہ ارشد ندیم جیسے نوجوان جو اپنے بل بوتے پر اس مقام پر پہنچتے ہیں ان کے لئے ایک مناسب حد تک انعامی رقم بھی بہت بڑی اچیومنٹ ہوتی ہے۔ نہ کہ کروڑوں نواز کے بہت سارے حسرت بھرے دلوں کا خون کیا جائے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ارشد ندیم کو سرکاری سطح پر ایک اکیڈمی کھول دی جاتی اور اس کے ذمہ یہ کام لگایا جاتا کہ وہ اپنے جیسے اور بہت سارے ٹیلنٹڈ نوجوانوں کو نیزہ بازی اور اس جیسے اور بہت سارے سپورٹس میں طاق کرے یا اس کے نام پر چھوٹے بڑے شہروں میں چھوٹی چھوٹی علاقائی سطح پر اکیڈمیاں بنائی جاتیں جہاں اور بہت سارے ارشد ندیم تیار کیے جاتے۔
پاکستان میں جو ہنر آج بے دردی سے سڑکوں پر رل رہا ہے اور کسی چانس کی خواہش میں دھکے کھا رہا ہے اس کی جانب نظر کون کرے گا۔ کئی ارشد ندیم اس حسرت میں اپنے اپنے ہنر اور فن کے ساتھ قبر میں اتر گئے کہ کوئی تو ہو جو ان کے سر پر ہاتھ رکھے۔ اور وہ بھی اس قوم کا فخر بن سکیں۔ پر جس ملک میں گنگا الٹی بہتی ہو وہاں ہنر مندوں کے نیزے میلوں کے فاصلے پر گر کر ریکارڈ قائم نہیں کرتے بلکہ ان کے اپنے سینے میں اتر جاتے ہیں۔

