اقبال کا خط اور دوسری طرف کا آرگومنٹ
کسی شخص کے نظریات تبدیل ہونے پر اس شخص کو زیرِ عتاب لانا درست روش نہیں بلکہ یہ ایک سوچنے والے دماغ کی نشانی ہے، فکری ارتقاء اسی کا نام ہے۔ جو معاشرہ فکری جمود کا شکار ہو وہ باقی اقوام سے پیچھے رہ جاتا ہے، اور وقت اسے روندتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے۔
ہم پاکستانیوں کی ایک خاص عادت ہے کہ کچھ مخصوص دنوں اور مہینوں میں ان دنوں اور مہینوں سے جڑے واقعات پہ بحث مباحثہ کرتے ہیں۔ محرم کے دنوں میں کہیں یزید کی ”بطور ولیعہد نامزدگی“ زیرِ بحث ہوتی ہے تو کہیں کوفیوں کے خطوط، اسی طرح میلاد النبی ﷺ کے موقع پہ کہیں ”میلاد النبی پہ صحابہ کرام کی سیرت سے دلائل“ تو کہیں ”اکابرینِ بریلی کی زندگیوں سے میلاد منانے کا جواز“ گردش کر رہا ہوتا ہے۔ یہی حال اگست میں یومِ آزادی کے موقع پر ہوتا ہے، کوئی یہ ثابت کرنے میں لگا ہوتا ہے کہ پاکستان انگریز کی ایماء پر بنا تو کوئی قائد اعظم اور علامہ اقبال کو ولی ثابت کرنے میں لگا ہوتا ہے۔
میں اس بحث مباحثہ کو غلط نہیں سمجھتا اور نہ ہی اس عقیدہ کا حامل ہوں کہ تاریخ کو نہ چھیڑا جائے، میرے نزدیک ماضی کا درست تشخص، مستقبل کی درست سمت کے لیے از حد ضروری ہے، اسی چیز پہ جارج اورول کا ایک مشہور قول ہے :
"جو طاقت ماضی یعنی تاریخ پڑھاتی یا اسے کنٹرول کرتی ہے، وہی مستقبل کو کنٹرول کرتی ہے”، لیکن میر اعتراض یہ ہے کہ تاریخ کو سبجیکٹیو ہو کے پیش نہ کیا جائے، اور نہ ہی اسے تقدس، مذہب اور محبت کی عینک سے دیکھا جائے، تاریخ کا کوئی پراسپکٹیو نہیں ہوتا، تاریخ صرف آبجیکٹو ہوتی ہے۔ معروضیت (objectively) کا تقاضا ہے کہ دوسری طرف کی تاریخ بھی اسی شد و مد سے پیش کی جائے جس شد و مد سے اپنے مقدمے سے لگا کھانے والی تاریخ پیش کی جاتی ہے۔
اس اگست فیسبک پہ اہلِ علم حضرات کے ہاں علامہ اقبال کے پروفیسر تھامسن کو لکھے گئے ایک خط کا چرچا رہا، اس خط کے مندرجات میں ایک بات یہ تھی کہ اس میں اقبال پاکستان بنانے کی سکیم سے برات کا اعلان فرما رہے ہیں۔ اس خط کو کئی لوگوں نے شیئر کیا ان کے دل کا حال اللّٰہ جانے کہ کس نیت سے شیئر کیا، لیکن جب اس خط کے سیاق و سباق سے متعلق محترم احمد الیاس صاحب نے ایک آرٹیکل لکھا کہ خط میں مذکورہ ”پاکستان کی سکیم“ سے مراد چودھری رحمت علی کی سکیمِ پاکستان ہے نہ کہ موجودہ پاکستان، تو اس کے بعد اس پہ بحث کا دروازہ بند ہونا چاہیے تھا، یا احمد الیاس صاحب کے آرگومنٹ کی صحت پہ بات کی جانی چاہیے تھی لیکن یہاں یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ آخر علامہ اقبال اتنے تضادات کا مجموعہ کیوں ہیں؟ ان کی فکر میں اتنی تبدیلیاں کیونکر وقوع پذیر ہوئیں؟ اس سے مقصود یہ ثابت کرنا تھا کہ اقبال کی فکر ڈائلوژن کا شکار ہے، ان کی فکر میں کلیرٹی نہیں۔
لیکن جو احباب اقبال کے فکری ارتقاء کے ادوار کے بارے جانتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ اقبال کی فائنل پراڈکٹ ”بالِ جبریل“ اور ”ضربِ کلیم“ اور اس کے بعد کا دور ہے۔
مذکورہ خط کا رد اقبالیات پہ گہری نظر رکھنے والے اسلامک یونیورسٹی کے لیکچرر جناب ادریس آزاد صاحب نے بھی کیا، ان کا موقف ہے کہ اقبال 23 مارچ 1940 کی قراردادِ پاکستان کے نتیجے میں وجود میں آنے والے پاکستان کے مخالف نہیں کیونکہ یہی حل وہ قائد اعظم محمد علی جناح کو 1937 میں لکھے گئے ایک خط میں پیش کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کی غربت و امن وامان کا حل میرے نزدیک ایک آزاد مسلم مملکت ہے۔
یہاں مقدمہ یہ نہیں کہ اقبال کس طرح کا پاکستان چاہتے تھے؟ کیا وہ الگ ریاست کے متمنی تھے، یا متحدہ ہندوستان کے اندر ایک مسلم ریاست؟ بلکہ مقدمہ یہ ہے کہ جب آپ ایک موضوع پہ قلم اٹھا رہے ہیں تو آپ کو دونوں اطراف کے حقائق بیان کرنے چاہئیں، نہ کے آدھی بات۔ کسی شخصیت کے افکار و نظریات کے متعلق کیا اس کی زندگی کا ایک حصہ فراموش کر کے بات کرنا مناسب ہے؟ کیا مکاتیبِ اقبال پہ نقد پیش کرنے والے احباب نے محض 4 مارچ 1934 تک کے مکاتیب پہ نقد کرنی تھی یا بعد کے خطوط بھی نقد کے اس عمل کا حصہ تھے؟ کیا نقد میں یہ طریقہ بہتر نہیں ہو گا کہ آپ اپنا مقدمہ پیش کریں اور ساتھ ہی اس مقدمے کے دفاع میں پیش کیے گئے آرگومنٹ بھی۔ ایک طرف کے آرگومنٹ پہ ”تاثر قائم“ کرنے کے لیے ایک چھوٹا سا تجربہ کرتے ہیں اس کے لیے مولانا آزاد کی تحریر ملاحظہ فرمائیں۔
مضامین آزاد حصہ سوم میں مولانا آزاد لکھتے ہیں :
”کفار سے مسلمانوں کو ساز و باز نہیں رکھنا چاہیے۔ ان سے بے تعلقی لازم ہے، جو ساز و باز رکھتے ہیں، جنھیں ان سے بے تعلق رہنے میں اپنے اور اپنی قوم کے لیے مشکلات اور مصائب کا اندیشہ ہے وہ غلطی پر ہیں، ان کو پشیماں ہونا پڑے گا۔“ بحوالہ مضامین آزاد حصہ سوم
انھیں مضامین میں وہ ایک اور جگہ لکھتے ہیں :
کفار کے عہد و پیمان کا تمہیں بار ہا تجربہ ہو چکا ہے، وہ آبرو باختہ ہیں، عزت نفس اور شرف کا انہیں لحاظ تک نہیں، وہ قسمیں کھاتے ہیں، حلف اٹھاتے ہیں کہ یہ وعدہ استوار ہے اس میں دوام اور استمرار ہے، یہ عہد محکم ہے، یہ قول و قرار قانونی حیثیت رکھتا ہے، زبان سے کچھ کہتے ہیں مگر ہاتھ سے کام لینے کے وقت کچھ یاد نہیں رکھتے۔ ”بحوالہ مضامین آزاد حصہ سوم
درجہ بالا اقتباسات سے آپ کو یہی تاثر ملا ہو گا کہ مولانا آزاد کفار کے بارے میں انتہائی سخت موقف رکھتے ہیں، اب اگر کوئی شخص ہندو مسلم اتحاد کی مخالفت کے بارے میں مولانا آزاد کے ان خیالات کو پیش کرے جو اوپر بیان ہوئے ہیں لیکن دسمبر 1932 کو دہلی کے ایک اجلاس میں ہندو مسلم اتحاد کے بارے میں ان کا نیچے دیا گیا موقف پیش نہ کرے تو کیا یہ مولانا آزاد سے زیادتی نہیں؟
”اگر ایک فرشتہ آسمان کی بدلیوں سے اتر آئے اور دہلی کے قطب مینار پر کھڑے ہو کر اعلان کر دے کہ سوراج چوبیس گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے، بشرطیکہ ہندوستان، ہندو مسلم اتحاد سے دست بردار ہو جائے۔ تو میں سوراج سے دست بردار ہو جاؤں گا۔ کیونکہ اگر سوراج کے ملنے میں تاخیر ہوئی تو یہ ہندوستان کا نقصان ہو گا۔ لیکن اگر ہمارا اتحاد جاتا رہا تو یہ عالم انسانیت کا نقصان ہے۔“ (بحوالہ ”جہانِ ابو الکلام آزاد“ )
بی بی سی سے جڑے نامور صحافی وسعت اللہ خان صاحب کا ایک قول ہے کہ ہمیں اپنا سچ نہیں چاہیے بلکہ اپنے بنائے گئے سچ کی کنفرمیشن چاہیے، جو صحافی اس کی کنفرمیشن کر دے وہ اچھا صحافی باقی لفافی۔ بعینہ یہی روش ہماری تاریخ کے بارے میں ہے، ہم نے دونوں اطراف کی تاریخ کو سنے بغیر ہی اپنے دماغوں میں ایک موقف ترتیب دیا ہوا ہے، جو تاریخ اس موقف کی کنفرمیشن کرے، اس سے لگا کھائے وہ درست باقی جھوٹی و من گھڑت۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ہمیں تاریخ کے دونوں اطراف کا موقف سنانا چاہیے اس کی جانچ پرکھ کے بعد ہی اس پہ کوئی رائے قائم کرنی چاہیے، اور اس تمام عمل میں عجلت سے حتیٰ الامکان بچنا چاہیے، رہی شخصیات کی بات تو شخصیات میں فکری ارتقاء یا تضادات کا ہونا، بشری تقاضا ہے۔ ہاں یہ ہے کہ یہ ارتقاء الٹی سمت میں نہ ہو بلکہ بہتر سے بہترین کی جانب گامزن ہو۔


