پھیرو نہ نَجَر سے نَجَرِیا
سکھر میں پسینے سے شرابور کر دینے والی گرمی پڑ رہی تھی، لیکن مینارہ معصوم شاہ کی چوٹی پہ چاروں طرف بنی کھڑکیوں سے تیز اور ٹھنڈی ہوا چھنچھناتے ہوئے آتی تو کیف آور احساس میں لِپٹی غنودگی میں اضافہ ہو جاتا۔
میں اکیلا بیٹھا اوپر ہی اوپر سے سارے شہر کا نظارہ کر رہا تھا۔ دور سے پُرانا سکھر اور روہڑی نظر آ رہے تھے۔ روہڑی پہ مِصر کا گمان ہو رہا تھا۔ ٹِکٹِکی باندھے شہر کو تکتا رہا۔ آدم شاہ کے مزار پہ نظر ٹِک گئی۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اسے دیکھ کر یہاں آ رہا تھا۔ کیا ہی افسانوی منظر تھا۔ موبائل پہ ہلکی ہلکی آواز میں میوزک بج رہا تھا۔ کَلاء مووی کا یہ گانا گزشتہ دو دنوں سے رپِیٹ پہ سُن رہا تھا اور چند گھنٹوں سے میں خود بھی رپِیٹ پہ گُنگنائے جا رہا تھا۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے یہ گانا میری زبان پہ روحانی طور پہ جاری ہو گیا ہے۔
تا اا اا اا اا ااروں
کو تورے
نہ چھیڑوں
گی اب سے
تا اا اا اا اا اا اروں
کو تورے
نہ چھیڑوں گی
اب سے
با اا اا اا اا اادل
نہ تورے
ادھیڑوں گی
اب سے
کھولوں گی نا
توری کِیوڑِیا
پھیرو نہ
نجر سے
نجریا
پھیرو نہ
نجر سے
نجریا
پھیرو نہ
ؔنجر سے
نجریا
میری نجرِیا سارے سکھر پہ تھی۔ پھیرنا کُفر ٹھہرا تھا۔ طویل وقت تک وہیں بیٹھے بیٹھے شہر کو تکتا رہا اور ’پھیرو نہ نجر سے نجرِیا‘ گُنگُناتا رہا۔ واپسی پہ چند تصویریں لیں۔ کچھ بچّے آئے تو ان سے اپنی تصویریں بھی بنوائیں۔
عصر تک سارا شہر پیدل گھوم کے سادُھو بیلا مندر پہنچ گیا۔ یہاں صرف ہندو جا سکتے ہیں۔ مسلمانوں کو وزٹ کے لیے اجازت لینی پڑتی ہے جو کہ وقت طلب اور دقت والا کام ہے۔ میں نے اپنا تعارف کروایا۔ کچھ کچھ مبالغہ آرائی سے بھی کام لیا۔ گارڈ نے اپنے مینجر کا نمبر دیا۔ شام ہونے والی تھی۔ میں نے گُنگناتے ہوئے نمبر ڈائل کیا
پھیرو نہ
نجر سے
نجرِیا
پھیرو نہ
نجر سے
نجریا
کراچی سے ایک میاں بیوی بھی وزٹ کرنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ مینیجر کے ان سے رویے سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ دونوں کوئی افسران تھے۔ بات چیت ہوئی تو مجھے بھی ان کے ساتھ وزٹ کرنے کی اجازت مل گئی۔ میں مسلسل گُنگنا رہا تھا
پھیرو نہ
نجر سے
نجریا
پھیرو نہ
نجر سے
نجریا
’سادھو بیلہ مندر‘ دریائے سندھ کے درمیان ایک جزیرے پہ انتہائی خوبصورت اور روح پرور سماں باندھے شان و شوکت سے کھڑا تھا۔ کیلوں اور کھجوروں کے درخت، انواع و اقسام کے پھول، پرندوں کی چہچہاہٹیں، چہلیں کرتے ہوئے اور پہلیں ڈالتے ہوئے مورنیاں مور، اعلیٰ اور نفیس قسم کی سنگ مرر سے تراشیدہ دیواریں جن پہ ہندو مذہب کی تعلیمات، مصوری اور بت تراشی کی شکل میں مزین تھی۔ پتھر کی دیواروں پہ کی گئی کاروِنگز آرٹ کی کلاسیکل قسم کی شاہد تھیں۔
اس جزیرے پہ ٹھنڈی ٹھار تے دِلبہار ہوائیں چل رہی تھیں۔ ہوا کے ساتھ دریائے سِندھ کی اپنی ہی خوشبو اور اوپر سے پھر جزیرے پہ موجود پھولوں کی خوشبو کے مرکب سے بننے والی فضا میں سانس لینا کسی بھی روحانی تجربے سے کم نہیں تھا۔ میں بیک وقت پُر جوش بھی تھا اور دھیما بھی۔ خاموش بھی تھا اور باتونی بھی۔ یہ باتیں میں دل ہی دل میں اپنے آپ کے ساتھ کر رہا تھا۔ اِس مخمور کُن نظارے کو دیکھ کر میری مسکراہٹ میں اضافہ ہو گیا تھا اور گُنگُناہٹ مستقل ٹھہری تھی۔
پھیرو نہ
نجر سے
نجرِیا
پھیرو نہ
نجر سے
نجرِیا
اس جزیرے پہ چھوٹے بڑے کُل 13 مندر ہیں۔ یہاں کا تِیرتھ استھان پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم مندر مانا جاتا ہے۔ پوری دُنیا سے یاتری یہاں آتے ہیں۔ ہندوؤں کی اُداسی تحریک کے سَنتوں نے اسے آباد کیا۔ بابا بنکھنڈی مہاراج کی یہاں آمد سے پہلے اس جگہ کا نام مِنک پربت تھا۔ اس کے آمد پہ اس کا نام سادھو بیلہ یا سادھ بیلو پڑا۔ ایک روایت کے مطابق عرب کمانڈر سعید نے اس جگہ پہ قبضہ کر کے قیام کیا، جس سے اس کا نام ساد بیلو پڑ گیا۔
یہاں سکھوں اور ہندوؤں کے مشترکہ مندر ہیں اور ہندو اُداسیوں کا یہ فرقہ اصل میں سکھوں اور ہندوؤں کی تعلیمات کا ملغوبہ ہے۔ گورو گوبند جی کے خالصہ والے کانسیپٹ سے انہیں اختلاف ہے۔ یہاں سب سندھی اور ہندی میں لکھا ہوا تھا۔ انگریزی میں بھی تھا لیکن اردو میں نظر نہ آیا۔ البتہ چند ایک تختیاں پنجابی میں نظر آئیں جو گورمکھی سکرپٹ میں لکھی ہوئی تھیں۔ بڑے ہی شاندار انداز میں ہمیں وزٹ کروایا گیا۔ تاریخ بتائی گئی۔ یہاں تصویریں لینا منع ہے لیکن ہمیں خصوصی رعایت دی گئی۔ ان 13 مندروں میں سب سے بڑے مندر میں ہمارے ماتھوں پہ تِلک لگائے گئے۔ تِلک لگواتے ہوئے بھی میں گُنگنایا۔
پھیرو نہ
نجر سے
نجرِیا
اور شام ڈھلنے سے پہلے ہم کشتی پہ بیٹھ کے واپس آ گئے۔ انجن سے چلنے والی اس کشتی نے ہمیں گُنگنانے کا بھی پورا موقع نہ دیا۔
پھیرو نہ
نجر سے
نجرِیا
باہر نکلا تو شام پھیل رہی تھی۔ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ چلتا گیا۔ میرا ارادہ تھا کہ میں دریائے سندھ کا پانی بھی پیوں گا۔ چلتے چلتے مجھے محسوس ہوا جیسے لوگ مجھے بڑے غور سے دیکھ رہے ہوں۔ آہستہ آہستہ یہ دیکھنا چُبھنے لگا۔ ہلکا سا کنفیوز بھی ہو گیا۔ لیکن چلتا رہا۔ لینڈز ڈاؤن برِج اور ایوب برِج پار کر کے مجھے روہڑی جانا تھا۔ لوگوں کی توجہ کا ابھی بھی مرکز تھا۔ ایک موٹر سائیکل والا بڑے ہی غور سے دیکھ رہا تھا۔ یہ کیا تماشا ہے۔ پاس سے گزرا تو نمسکار کیا اور کہا ”آپ دیوان ہیں؟“ یہ بات اس نے سندھی میں کہی تھی۔ فوراً میرے ذہن میں ماتھے کا تِلک آیا۔ مُسکرا دیا۔
” جی نہیں۔ اور مجھے سندھی نہیں آتی۔“
” تو پھر یہ ماتھے پہ ٹِیکا کیوں لگایا ہوا ہے؟“
میں نے سادھو بیلا مندر والی بات سنائی تو وہ مسکرا دیا۔ بعد میں میرے ذہن میں بار بار گردش کرتا رہا کہ مجھے دیوان ہی بتانا چاہیے تھا۔ رات دس بجے تک تِلک لگائے شہر میں گھومتا رہا۔ میں لوگوں کی نظر میں ہندو تھا۔ تِلک لگا کے گھومنا پھرنا ایک حیران کُن تجربہ ٹھہرا۔ مجھے خود بھی محسوس ہونے لگا کہ میں جیسے ہِندو ہی ہوں۔ میری چال ڈھال ہی بدل گئی۔ خیالات بھی بدل گئے۔ لوگوں کا اپنے بارے تاثر سوچ کے اور اُن کے رویے دیکھ کے مجھے اقلیت ہونے کا احساس شدت سے ہوا۔ سندھ میں اگر چہ بہت سارے ہِندو ہیں لیکن سکھر میں ان کی تعداد کم ہے۔ ایسے ہی اقلیتی سوچ لیے چلتے چلتے سارا روہڑی گھوم لیا۔ اندھیرا بڑھ چکا تھا۔
پھیرو نہ
نجر سے
نجرِیا
واپسی کی راہ لی۔ تلِک قائم تھا اور گُنگناہٹ جاری تھی۔
پھیرو نہ
نجر سے
نجرِیا
موبائل پہ قدموں کی تعداد چیک کی تو چالیس ہزار سے اوپر تھے۔ گُنگناتے ہوئے واپس گھنٹہ گھر آ گیا۔ یہاں سے الیکٹرانکس کی دکان سے پاور بینک لینا تھا۔ مُسکراتے ہوئے داخل ہوا
پھیرو نہ
نجر سے
نجرِیا
اپنا موبائل فون وہیں دکان پہ چارجنگ پہ لگا دیا اور خود ایک بینچ پہ بیٹھ گیا۔ گاہک آتے جاتے رہے۔ موبائل چارج ہوتا رہا۔
پھیرو نہ
نجر سے
نجرِیا
پھیرو نہ
نجر سے
نجرِیا
پھیرو نہ
نجر سے
نجرِیا
جونہی موبائل فون چارجنگ سے اتارا دکاندار نے جھٹ سے پوچھا :
” آپ نے وہسکی پی ہوئی ہے؟“
” نہیں تو! “
میں نے مسکراتے ہوئے کندھے اُچکائے۔
” آپ جب سے آئے ہیں وہسکی کی خُوشبو آ رہی ہے“
” یہ تِلک کی خوشبو ہے“
میں پھر سے مُسکرایا۔ میرے خیال میں یہ اُس کا نفسیاتی مسئلہ تھا۔ تِلک دیکھ کے اُس نے مجھے ہِندو سمجھا اور ہِندوؤں سے سمیل آنے والا خیال اس کے ذہن میں عود کر آیا۔ میں نے بتایا کہ میں ہِندو نہیں ہوں، مسلم ہوں اور ویسے ہی مندر وزٹ کرتے ہوئے لگا لیا تھا۔ اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔
” آپ نے تو اپنا نام روَی بتایا تھا“
پھیرو نہ
نجر سے
نجرِیا
میں پھر سے مُسکرا دیا۔ ”سئیں، احتشام بتایا تھا“
پھیرو نہ
نجر سے
نجرِیا
رات چار بجے تک جاگتا رہا۔ گُنگناتے گُنگناتے سو گیا۔ صبح 7 بجے کے قریب آنکھ کُھل گئی۔ نیند پوری نہیں ہوئی تھی لیکن آج لمبے سفر کرنے تھے۔ سُستی سے آنکھیں جھپکیں۔ سر پِھر سے ایک طرف لڑھک گیا۔ آنکھیں بند ہو گئیں، سر کو زور سے جھٹکا دیا اور اُٹھ کے بیٹھ گیا۔ مدھم اور تھکی ہوئی آواز میں صبح بیدار ہونے کی جیسے دُعا پڑھ رہا ہوں
پھیرو نہ
نجر سے
نجریا


