سو سال پیچھے

بانسانوانہ بازار میں انارکلی کی طرف مڑنے والی سڑک، ایبک روڈ، سے چند قدم پہلے نمک منڈی میں ایک بابا جی سے حادثاتی ملاقات نے گردشِ ایام کو سو سال پیچھے کی طرف دھکیل دیا۔ بابا لبھا جی کے بارے بات پھر کسی دن، فی الوقت بات صرف اس ماحول، کلچر، فضا، خوشبو، خاموشی، رنگوں، انسانوں، نمک، مندر، دھوبی گھاٹ، گراؤنڈ، کوچوں، گلیوں، تاروں، کپڑوں، نالیوں، لائٹوں، پانی، اینٹوں، پتھروں اور دروازوں کی ہو گی جو اس محلے کے اندر

Read more

تفرید : چند تحریریں

انسانی سرشت تنوع کی خوگر ہے۔ سروائیول اوّ دا فِٹیسٹ (Survival of the fittest) نے خوب سے خوب تر کی جستجو کو انسانی سرشت کا جزوّ لازم بنا کر پیش کیا تو قلب و نظر اور عقل و فکر میں جدّت طرازی کو وجود بخشا گیا جس سے یکسانیت کا جلد از جلد شکار ہونے کی راہ ہموار ہوئی اور تفرید نے جنم لیا۔ تعمیر و تخریب کو پیرالل رکھ کر ’تفرید: چند تحریریں‘ نے اپنے عنوان میں موجود پیراڈوکسی

Read more

A City in City

واپسی پہ میں نے نومی کو نیشنل کالج آف آرٹس کے سامنے استنبول چوک میں موجود ایک چھوٹے سے پرندوں کے شہر کا حوالہ دیا تو ہمارے دورے کا اختتام ہو چکا تھا۔ یہ ایک دلچسپ دورہ تھا۔ میرے لیے سب سے مشکل کام صبح سویرے جاگنا تھا۔ دو ہی آپشنز تھے۔ یا تو سویا ہی نہ جائے یا پھر دورہ کینسل کر دوں۔ قرعہ پہلے آپشن کے حق میں نکلا۔ معمول جیت گیا اور میں جاگتا رہا۔ آٹھ بجے

Read more

ایک انڈین لڑکی کے ساتھ لاہور میں کیے گئے سفر کی روداد

چندر گُپت موریا، اور گُپت روگ کی یاد دلاتی، کنیکا گُپتا سے میں نے سب سے پہلے اُس کے نام کا مطلب پوچھا۔ ” اس کا مطلب ہوتا ہے ایٹم، بالکل چھوٹا سا دانہ نہیں ہوتا جیسے“ ” ہاں ہاں ایٹم کا تو پتہ ہے مجھے“ ” یہ کنِک سے نکلا ہے، ہندی میں کسی چیز کے چھوٹے سے زرے یا دانے کو کنِک کہتے ہیں“ میں نے مال روڈ پہ پھیلی ہوئی دھند میں سے دہلی کی مماثلتیں تلاش

Read more

پھیرو نہ نَجَر سے نَجَرِیا

سکھر میں پسینے سے شرابور کر دینے والی گرمی پڑ رہی تھی، لیکن مینارہ معصوم شاہ کی چوٹی پہ چاروں طرف بنی کھڑکیوں سے تیز اور ٹھنڈی ہوا چھنچھناتے ہوئے آتی تو کیف آور احساس میں لِپٹی غنودگی میں اضافہ ہو جاتا۔ میں اکیلا بیٹھا اوپر ہی اوپر سے سارے شہر کا نظارہ کر رہا تھا۔ دور سے پُرانا سکھر اور روہڑی نظر آ رہے تھے۔ روہڑی پہ مِصر کا گمان ہو رہا تھا۔ ٹِکٹِکی باندھے شہر کو تکتا رہا۔

Read more