غلام عباس کے افسانوں کا تنقیدی جائزہ


غلام عباس اردو افسانہ نگاری کے ایک ممتاز اور اہم ستون مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی افسانہ نگاری سے اردو ادب کو نئے افق دیے اور ان کے کام کو نہ صرف اردو ادب میں بلکہ عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔ غلام عباس کے افسانے مختصر ہوتے ہوئے بھی ایک مکمل دنیا کی عکاسی کرتے ہیں، جو ان کی فنی مہارت اور گہری بصیرت کا ثبوت ہے۔

غلام عباس 17 نومبر 1909 ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا، اور اسی وجہ سے ان کی ابتدائی تعلیم و تربیت میں ادب اور فنون کی اہمیت رہی۔ غلام عباس نے بچپن ہی سے ادب کی طرف رغبت دکھائی اور جوانی میں وہ افسانہ نگاری کی طرف مائل ہوئے۔

انہوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز بچوں کے ادب سے کیا اور پھر رفتہ رفتہ بالغوں کے لیے افسانے لکھنے لگے۔ ان کے افسانے ”انگارے“ نامی ادبی رسالے میں شائع ہونا شروع ہوئے، جو اس وقت کے ترقی پسند مصنفین کا پلیٹ فارم تھا۔ ان کے افسانے جلد ہی عوام و خواص میں مقبول ہو گئے اور انہوں نے اردو افسانہ نگاری میں اپنا مقام مضبوط کر لیا۔

ان کی باقاعدہ ادبی زندگی کا آغاز 1925 ء میں ہوا۔ 1925 ء سے 1928 ء تک غیر ملکی افسانوں کے ترجمے کرتے رہے۔ رسالہ ہزار داستان کے مدیر حکیم احمد شجاع پاشا کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت انھوں نے متعدد عالمی ادب کی اصناف کو اردو میں قلب میں ڈھالا۔ فی ہفتہ 5 روپے کے عوض ٹالسٹائی کے ناول The Long Exile کا اردو ترجمہ جلاوطن کے عنوان سے کیا۔ حکیم یوسف حسن کے رسالہ تازیانہ میں بھی تراجم اور کہانیاں لکھیں۔ اس کے علاوہ اپنے زمانے کے مشہور ادبی رسالوں میں ادب کے جوہر دکھاتے رہے۔ چند رسالوں کے نام جن کے لیے غلام عباس نے لکھا:

رسالہ نیرنگ خیال
رسالہ ہمایوں
رسالہ سہیلی
رسالہ امرتسر

چراغ حسن حسرت کے رسالہ شیرازہ میں اپنا مشہور افسانہ ”جزیرہ سخنوراں“ سال 1936 ء سے 1937 ء میں شائع کروایا۔ یہ افسانہ مشہور فرانسیسی طنز نگار ”آندرے مورووا“ کی تصنیف ”ووژا اوپے ای دیزارتی کول“ سے متاثر ہو کر لکھا۔

### افسانہ نگاری کی خصوصیات
غلام عباس کے افسانوں کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں :

1۔ **حقیقت پسندی:** غلام عباس کی تحریروں میں حقیقت پسندی کی جھلک نمایاں ہے۔ ان کے افسانے عام لوگوں کی زندگیوں پر مبنی ہوتے ہیں اور وہ معاشرتی اور سماجی مسائل کو بڑی دیانت داری سے بیان کرتے ہیں۔ ان کے افسانے سادہ لیکن زندگی کی حقیقتوں پر مبنی ہوتے ہیں۔

2۔ **موضوعات کی وسعت:** غلام عباس کے افسانوں کے موضوعات وسیع ہیں۔ ان کے یہاں معاشرتی مسائل، طبقاتی کشمکش، سیاسی طنز، انسانی فطرت، محبت اور نفرت، غم اور خوشی، سبھی کچھ موجود ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں زندگی کے ہر پہلو کو بڑی گہرائی سے پیش کرتے ہیں۔

3۔ **فنی چابکدستی:** غلام عباس نے افسانہ نگاری کے فن میں ایک خاص مہارت حاصل کی تھی۔ ان کے افسانے فنی اعتبار سے بے حد پختہ اور مکمل ہوتے ہیں۔ وہ کہانی کی تعمیر، کرداروں کی تخلیق اور پلاٹ کی ترتیب میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔ ان کے افسانوں میں اکثر آغاز، وسط اور اختتام ایک بہترین ترتیب سے ہوتا ہے، جو کہانی کو ایک مکمل شکل دیتا ہے۔

4۔ **کردار نگاری:** غلام عباس کے کردار عام لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ اپنے کرداروں کو حقیقی زندگی کے لوگوں سے قریب تر رکھ کر پیش کرتے ہیں۔ ان کے کرداروں کی نفسیات اور ان کی سوچ کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے، جس سے قاری کو ان کرداروں کے ساتھ جذباتی لگاؤ محسوس ہوتا ہے۔

5۔ **سادگی اور اختصار:** غلام عباس کے افسانے سادہ اور مختصر ہوتے ہیں۔ وہ غیر ضروری تفصیلات سے گریز کرتے ہیں اور کہانی کے اصل جوہر پر توجہ دیتے ہیں۔ ان کی زبان سادہ اور رواں ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ان کے افسانے آسانی سے سمجھ میں آتے ہیں اور قاری کو متاثر کرتے ہیں۔

### مشہور افسانے

غلام عباس کے کئی افسانے اردو ادب میں کلاسیکی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ان میں سے چند مشہور افسانے درج ذیل ہیں :

1۔ ** ”آنندی“ :** یہ غلام عباس کا سب سے مشہور اور بہترین افسانہ ہے۔ ”آنندی“ ایک گاؤں کی کہانی ہے جہاں ایک خیالی حکومت قائم کی جاتی ہے۔ یہ افسانہ معاشرتی اور سیاسی طنز کا ایک شاہکار ہے، جس میں غلام عباس نے حکومتی نظام کی بے بسی اور عوام کی معصومیت کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔

2۔ ** ”اوور کوٹ“ :** اس افسانے میں ایک شخص کی کہانی بیان کی گئی ہے جو سردیوں میں ایک اوور کوٹ خریدنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ افسانہ انسانی خواہشات اور معاشرتی ناہمواریوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس افسانے کے ذریعے غلام عباس نے انسانی فطرت کے اندر چھپے ہوئے تضادات کو بڑی مہارت سے پیش کیا ہے۔

3۔ ** ”کن رس“ :** یہ ایک محبت کی کہانی ہے جس میں غلام عباس نے عشق کے جذبات اور اس کے پیچیدہ پہلوؤں کو بیان کیا ہے۔ ”کن رس“ میں عشق کی خوشیوں اور غموں کی عکاسی بڑے خوبصورت انداز میں کی گئی ہے۔

4۔ ** ”جمہوریت“ :** اس افسانے میں غلام عباس نے سیاسی طنز کا استعمال کرتے ہوئے جمہوریت کے اصولوں اور ان کی عملی حالت کا موازنہ کیا ہے۔ یہ افسانہ ہمیں جمہوریت کے اصل معانی اور اس کے انحرافات کے بارے میں غور و فکر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

5۔ ** ”دھانک“ :** ”دھانک“ غلام عباس کا ایک اور مشہور افسانہ ہے جس میں انسانی جذبات اور خوابوں کی عکاسی کی گئی ہے۔ یہ افسانہ انسانی آرزوؤں اور حقیقتوں کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو بیان کرتا ہے۔

غلام عباس کی ادبی اہمیت

غلام عباس اردو ادب میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ ان کے افسانے ایک طرف تو زندگی کی حقیقتوں کی عکاسی کرتے ہیں، اور دوسری طرف انسانی جذبات اور معاشرتی مسائل کو بڑی دیانت داری سے بیان کرتے ہیں۔ ان کے افسانے ادب کے علاوہ فلسفہ، نفسیات اور سماجیات کے موضوعات پر بھی گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔

غلام عباس کا اسلوب سادہ، لیکن پر اثر ہے۔ ان کی تحریروں میں گہرائی اور بصیرت پائی جاتی ہے، جو قاری کو نہ صرف محظوظ کرتی ہے بلکہ زندگی کے بارے میں سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔ ان کے افسانے مختصر ہونے کے باوجود اپنے اندر ایک مکمل دنیا رکھتے ہیں، جو کہ ان کی فنی مہارت کا ثبوت ہے۔

غلام عباس کی افسانہ نگاری نے اردو ادب میں نئی راہیں ہموار کیں اور انہوں نے آنے والی نسلوں کے لیے ایک معیاری ادب کی بنیاد رکھی۔ ان کے افسانے آج بھی اردو ادب میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں اور نئی نسل کے لکھاریوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔

###تصانیف###
افسانوی مجموعے
آنندی، 1948 ء
جاڑے کی چاندنی، 1960 ء
کن رس، 1969 ء
رینگنے والے، 1980 ء
ناولٹ
گوندنی والا تکیہ، 1936 ء
جزیرہ سخن وراں، 1941 ء
دھنک، 1969 ء
بچوں کا ادب
الحمرا کے افسانے، 1931 ء
چاند تارا (نظمیں ) ،
ننھی کی گڑیا، 1936 ء
تراجم
جلا وطن، از لیو ٹالسٹائی
بے چارہ سپاہی
صدر ایوب کی کتاب فرینڈ ناٹ ماسٹرز کا ترجمہ، ”جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی“ کے نام سے
دیگن
چار چھوٹے ناٹک، 1936 ء
##وفات##
غلام عباس 2 نومبر 1982 ء کو کراچی میں وفات پا گئے اور سوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔
*اردو ادب کی تعلیم و اصلاح*
غلام عباس کی افسانہ نگاری کا فکری و فنی مطالعہ:

غلام عباس ایک شریف النفس انسان تھے۔ لکھنا پڑھنا اور خاموشی سے اپنے کام میں لگے رہنا ان کی زندگی کا ہنر تھا۔ وہ اپنے کام سے کام رکھتے تھے انہیں گروہ بندی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اردو زبان کو ایسی کہانیاں دیں جو ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ آپ کی کہانیوں میں آنندی، کتبہ، جواری، غازی مرد، سمجھوتہ، یہ پری چہرہ لوگ، اوورکوٹ، سایہ، کن رس، حمام میں، اس کی بیوی، پردہ فروش شامل ہیں۔ غلام عباس نے زندگی کو ایک حقیقی روپ میں دیکھا پھر اس پر لکھنا شروع کیا۔

”غلام عباس ہمارے وہ افسانہ نگار تھے جو اپنی زندگی میں کلاسیک کا درجہ اختیار کر گئے تھے۔ وہ دھیمے مزاج کے انسان تھے۔ یہی دھیما پن ان کی کہانیوں کا مزاج ہے۔ غلام عباس نے مساہلی افسانے نہیں لکھے بلکہ انسانوں کی کہانیاں لکھی ہیں۔ اس لئے ان کے افسانے وقت کے ساتھ اپنی دلچسپی نہیں کھوتے بلکہ اسی طرح تروتازہ زندہ رہتے ہیں۔“ (1)

موضوعاتی سطح پر غلام عباس کے افسانوں کا مطالعہ کیا جائے تو یوں پتا چلتا ہے کہ انہوں نے زندگی کو طنز اور فریب سمجھا ہے۔ زندگی کے ہر پہلو کو دیکھتے ہیں اور اس میں سے طنز کو دیکھتے اور اس طنز کو الفاظ کا جامہ پہنا کر پیش کر دیتے ہیں۔ غلام عباس حقیقت نگار تھے ان کی حقیقت نگاری ان کے افسانوں میں ملتی ہے۔ اردو ادب میں ترقی پسند افسانہ نگاروں نے تلخ حقیقت کا بیان کیا ہے۔ غلام عباس کی حقیقت نگاری ترقی پسند تحریک سے ہٹ کر ہے۔

انہوں نے کہیں بھی اپنی حقیقت نگاری کی نہ وضاحت پیش کی ہے نہ ہی اُس کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے اپنے افسانوں میں اُنہی مشاہدات تجربات کو جگہ دی ہے جو عام انسان محسوس کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے ان کا افسانہ ”بہروپیا“ اہم ہے۔ یہ افسانہ پڑھ کر قاری الجھن کا شکار نہیں ہوتا ہے کیونکہ یہ حقیقت نگاری پر لکھا گیا ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو:

”اسلم آؤ اس بہروپیے کا پیچھا کریں اور دیکھیں کہ وہ کہاں رہتا ہے اس کا گھر کیسا ہے اس کا کوئی نہ کوئی میک اپ روم تو ہو گا ہی شاید اسی تک ہماری رسائی ہو جائے۔ پھر میں یہ بھی دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی اصلیت میں کیسا لگتا ہے۔“ (2)

حقیقت نگاری سے عام طور پر معاشرتی یا سماجی حقیقت نگاری مُراد لیا جاتا ہے۔ غلام عباس کو ان رویوں میں تقسیم کرنے کی بجائے سادہ حقیقت نگار کہنا بہتر ہو گا۔ غلام عباس کے افسانے معاشرتی اور نفسیاتی حقیقت کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے ”چکر“ کے عنوان سے افسانہ لکھا۔ اس افسانے میں ایک شخص معاشرتی ضرورتوں کو پورا کرنے کی جدوجہد میں لگا رہتا ہے۔ پیٹ بھرنے کے لیے اسے دن بھر بے لگام محنت کرنی پڑتی ہے۔

اس کے باوجود نہ اُس کی ضرورت پوری ہوتی ہیں نہ آسودگی ملتی ہے۔ چیلا رام کے ذریعے لاحاصل محنت اور نفسیات کا بیان غلام عباس کی نفسیاتی حقیقت نگاری کی طرف اشارہ ہے۔ س جس طرح غریب آدمی خواہشات کی چکی میں پستا چلا جاتا ہے۔ اور دن بدن غربت بھی بڑھتی جاتی ہیں اور زندہ رہنے کی آرزو بھی ختم ہو جاتی ہے اسی نفسیات کا بیان غلام عباس کے ہاں ملتا ہے۔ افسانے میں غلام عباس یوں بیان کرتے ہیں :

”اس کی بیوی نے کوٹھری میں چلا کر کہا بھوجن کر لو۔ چیلا رام نے کچھ جواب نہ دیا آنکھیں بند کیے چپ چاپ پڑا رہا تھوڑی دیر کے بعد اس کی بیوی نے دروازے میں کھڑے ہو کر کہا:

بھوجن کبھی کا تیار ہو چکا ہے اب اندر آ جاؤ نہ! وہ کیا سوچ رہا تھا کیا وہ۔ کے مسلے پر غور کر رہا تھا؟ کیا وہ یہ چاہ رہا تھا کہ اب کے جب وہ مر جائے تو اس کا جنم گھوڑے کی جون میں ہوں۔ ”(3)

غلام عباس کے افسانوں میں معاشرتی حقیقت نگاری کھل کر سامنے آتی ہے۔ نچلا اور متوسط طبقہ معاشرتی محرومیوں کے باعث اپنی خواہشات اپنے سینے میں دفن کر کے قبر میں چلا جاتا ہے۔ اس طبقے می محرومی اس کے نفسیاتی بحران کو جنم دیتی ہے۔ اس کشمکش میں انسان سوچتا ہے کہ وہ دنیا میں کیوں آیا یا دنیا میں آنے کا اس کا مقصد کیا تھا۔ اس حقیقت نگاری پر غلام عباس کا لکھا گیا افسانہ ”کتبہ“ ہم ہے۔ شریف حسین کے ذریعے انہوں نے متوسط طبقے کی حقیقت کا نقشہ کھینچا ہے۔

شریف حسین جب سنگ مر مر کے ٹکڑے پر جب اپنا نام کُھدا ہوا دیکھتا ہے اور سنگ تراش سے وہ کتبہ لے کر چلتا ہے تو اس کی ذہنی کیفیت کو غلام عباس نے الفاظ کے ذریعے گرفت میں لے لیا ہے۔ غربت صرف انفرادی بلکہ اجتماعی مسئلہ ہے۔ یہ واحد حقیقت ہے جو انسان کے اندر احساس پیدا کر دیتی ہے۔ زندگی انجانے گناہوں کا نتیجہ دکھائی دینے لگتی ہے۔ اسی وجہ سے ایک فرد دوسرے جان کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتا ہے۔ اس حوالے سے اقتباس ملاحظہ کیجئے :

” اسے سنگ مرمر کے ٹکڑے پر اپنا نام کُھدا ہوا دیکھ کر اسے ایک عجیب سی خوشی ہوئی۔ زندگی میں شاید یہ پہلا موقع تھا کہ اس نے اپنا نام اس قدر جلی حروف میں لکھا ہوا دیکھا ہو۔ سنگ تراش کی دکان سے روانہ ہوا تو بازار میں کئی مرتبہ اس کا جی چاہا کہ کتبہ پر سے اس اخبار کو اتار ڈالے جس میں سنگ تراش نے اسے لپیٹ دیا تھا۔“ (4)

انسان کے اندر ایک انسان تلاش کرنا غلام عباس کا پسندیدہ طریقہ کار ہے۔ اُن کے بیشتر افسانوں میں یہی انداز نمایاں ہے۔ انسانی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو ہر انسان کا ایک ظاہر ہوتا ہے ایک باطن ہوتا ہے۔ غلام عباس کے افسانے ”کن رس“ میں بھی ایک نئے انسان کی تلاش کا عمل سامنے آتا ہے۔ اس افسانے کا بنیادی کردار فیاض کا ہے جو بہت شریف اور اپنے طبقے سے محبت رکھنے والا ہے۔ اس افسانے میں انسانیت کی تذلیل بھی کی گئی ہے۔

وہ یہ ہے کہ افسانے میں ایک ہنستے کنبے کو زوال پذیر ہونا پڑتا ہے۔ فیاض کے کنبے کا بازارِ حسن میں آجانا دراصل نئے انسان کی جستجو ہے۔ غلام عباس کے افسانے میں قاری کو انجام پر چونکا دیا ہے۔ غلام عباس نے افسانے میں انسان کے باطن کی رمزیں تہہ در تہہ دریافت کیں اور اچھے خاصے انسان کی روح عریاں کر کے ہمارے سامنے پیش کر دی۔

”فیاض اپنے فلیٹ کے سامنے جو کمرہ خالی نظر آتا تھا اب اس میں چہل پہل ہونے لگی تھی۔ لوگ آتے جاتے تھے اور گائیوں تکیوں سے لگ بھگ بیٹھتے جاتے تھے۔ یکبارگی طبلہ پر تھاپ پڑی اور غیرت نائیداد پہلی پشواز پہنے چھم سے محفل میں کودی اور مرث کرنے لگی۔ ہاتھ پاؤں کی چلت پھرت اس غضب کی تھی کہ ہر ہر ادا پر دیکھنے والوں کے دل مسلے جاتے۔“ (5)

ہمارا معاشرتی نظام ایسا ہے کہ جہاں انسان مجبور ہو جاتا ہے بجائے اس کے کہ اس کی مدد کی جائے لوگ صرف تماشا دیکھتے ہیں۔ محرومیوں کی آنکھ میں جھونک دینے کے بعد بھی سماج کے مکار کھلاڑی سادہ اور معصوم لوگوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے لیے اور اُن کو کٹھ پتلیوں کی طرح نچوانے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ غلام عباس نے اس موضوع کو ”فینسی ہیر کٹنگ سیلون“ میں کھل کر بیان کیا۔ غلام عباس خیر کا روپ ڈھال کر شر کی آلودگی پھیلانے والے منشی جیسے سماجی سرطانوں کی بڑی عمدگی سے تشخیص کرتے ہیں۔

اپنے انداز بیان سے وہ استحصالی طبقہ کی جابرانہ سوچ کو ختم کرتے ہیں۔ اسی افسانے کے کرداروں میں چار حجام ہوتے ہیں جو دکھنے میں باشعور ہوتے ہیں لیکن اندر سے وہ عیار ہوتے ہیں۔ لیکن اس افسانے میں منشی کا کردار ایسا کردار ہے جو ان حجام کا مہارت اور سماجی عیاری سے ان کا استحصال کرتا ہے۔ منشی ایسے محسوس کرواتا ہے کہ گویا وہ ان پر رحم کر رہا ہوں لیکن وہ ان کا استحصال کر رہا ہوتا ہے اور وہ با آسانی سے اس کی اطاعت کر لیتے ہیں۔ وہ ان کو ایسا فریب دیتا ہے کہ وہ دربدر بھٹک جاتے ہیں۔ غلام عباس نے یوں لکھا اقتباس ملاحظہ ہو :

”منشی نے جواب دیا“ گستاخی معاف میں آپ کو زیادہ سے زیادہ اسی روپے دے سکتا ہوں دوسرے نمبر والے کو ساٹھ، تیسرے نمبر والے کو پچاس اور چوتھے کو چالیس۔ اگر آپ لوگ یہ تنخواہ منظور کریں تو ابھی جاکر چاہے مجھے دُگنے تگنے سود پر قرض لینا پڑے آپ سب کے لئے دو سو تیس روپے بطور پیشگی تنخواہ کے لیے لاتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کو ہر مہینے پیشگی تنخواہ ملا کر گی۔ یاد رکھو میرے دوستوں یہ تنخواہ کسی بڑے ہیئر کٹنگ سیلون کی تنخواہ سے کم نہیں ہے آپ لوگ خود جا کر دریافت کر سکتے ہیں۔ ”(6)

غلام عباس کا افسانہ سماجی مظالم کے خلاف ایک بھرپور احتجاج ہے۔ جسے پوری شدت سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اُن کی ایک بات واضح ہے کہ طاقت ہی اس سماج کی سب سے بڑی سچائی ہے۔ مظلوم لوگ انصاف کی عدالت میں صرف اور صرف اپنی عزت کا ہی تحفظ چاہتے ہیں۔ لیکن سماج کے جابر لوگ ان کی عزت کا تحفظ نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ مظلوم طبقہ ظلم کی چکی میں پستی چلا جاتا ہے۔ اور وہ کانٹوں کو اپنے پاؤں کے چھالوں کا رس پلاتے ہیں۔ اس موضوع کے حوالے سے غلام عباس نے ”بردہ فروش“ لکھا۔

اس افسانے میں ریشماں کا کردار درد کے کرب میں مبتلا کردار ہے۔ مائی جمی کا کردار سماج کی طاقت کو بیان کرتا ہے۔ اس افسانے میں سماج کے ظلم کی عکاسی کی جاتی ہے کس طرح عورت سماج میں بکتی ہے۔ عورت اس سماج میں ماں، بہن، بیٹی سے ہٹ کر طوائف، لونڈی، فاحشہ کے ادب میں بھی موجود ہے۔ عورت کے اس ادب کی عکاسی غلام عباس نے خوبصورت انداز میں کی۔ اقتباس ملاحظہ ہو :

”تو چوہدری آؤ نہ پہلے کیوں نہ اسی کا قصّہ پاک کریں۔ ہم بھی کیسے بے وقوف ہیں کہ اس فاحشہ کے پیچھے جانیں دیتے ہیں۔ اس کا کیا پتا کل کسی اور کی بغل گرم کر رہی ہوگی۔“ (7)

اس اقتباس سے یہ بات واضح ہے کہ دو لوگ خود کو سارے گناہوں سے بری الزماں ہو کر تمام الزامات فاحشہ ریشمہ پر ڈال دیتے ہیں۔ لفظ فاحشہ میں عورت کے کردار پر گہرا طنز کیا گیا ہے۔ غلام عباس ایسے گناہ کرنے والے کے اصلی روپ زمانے کے سامنے لا کر رکھ دیتے ہیں۔ غلام عباس کے افسانوں میں مجبور طبقے کی نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں۔ اور لوگوں پر حقیقت واضح کرتے ہیں کہ جرم کرنے والے آزاد ہیں اور مجبور طبقہ ساری عمر کیے گئے گناہوں کا ازالہ کرتے زندگی گزار دیتا ہے۔

سماجی بہروپ بھی غلام عباس کے افسانوں کا بنیادی موضوع رہا ہے اس حوالے سے ان کا افسانہ ”اور کوٹ“ اہم ہے۔ افسانے کی تمام محض خوبیاں اس میں موجود نہیں ہیں۔ زندگی سے متعلق ہر طرح کی بصیرت اس افسانے میں ملتی ہے۔ اوور کورٹ بظاہر ایک سیدھا سادہ سا بیانیہ ہے۔ اور کوٹ سماجی بہروپ کی علامت ہے۔ سماج میں انسان کی شناخت مصنوعی چہروں کی وجہ سے مشہور ہو چکی ہے۔ ہمارے سماج کا یہ المیہ ہے کہ ہم ظاہر دیکھتے ہیں باطن میں جھانکنے کی کوشش نہیں کرتے۔ جب ظاہری خول انسانی چہروں سے ہٹ جاتا ہے تو ہم خوفزدہ دکھائی دیتے ہیں۔ اس افسانے کا بنیادی کردار ایک نوجوان ہے جو دیکھنے میں خوبصورت ہے۔ لیکن جب حادثے میں اس کی موت ہوتی ہے تو اس کا اصل چہرہ سماج کے سامنے آ جاتا ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو :

”نوجوان کے گلو بند کالر کیا سرے سے قمیض ہی نہیں تھی۔ اوور کوٹ اتارا گیا تو نیچے سے ایک بوسیدہ اونی سویٹر نکلا جس میں جابجا بڑے بڑے سوراخ تھے۔ ان سوراخوں سے سویٹر سے بھی زیادہ بوسیدہ میلا کچیلا بنیان نظر آ رہا تھا۔ نوجوان سلک کے گلوبند کو اس ڈھب سے گلے پر لپیٹے رکھتا تھا کہ اس کا سارا سینہ چھپا رہتا تھا۔ اس کے جسم پر میل کی تہیں بھی خوب چڑھی ہوئی تھیں۔ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ کم سے کم پچھلے دو مہینوں سے نہیں نہایا تھا۔“ ( 8 )

حوالہ جات
1۔ جمیل جالبی، ڈاکٹر، ”غلام عباس“ ، مشمولہ معاصرِ ادب، (لاہور:۔ 1991ء) ، ص228

2۔ غلام عباس، ”بہروپیا“ ، مشمولہ غلام عباس کے بے مثال افسانے، مرتبہ: طاہر منصور فاروقی، (لاہور: حاجی حنیف پرنٹرز، 2008) ، ص171

3۔ غلام عباس، ”چکر“ ، مشمولہ غلام عباس کے بے مثال افسانے، ص191
4۔ غلام عباس، ”کتبہ“ ، مشمولہ غلام عباس کے بے مثال افسانے، ص 86
5۔ غلام عباس، ”کن رس“ ، مشمولہ غلام عباس کے بے مثال افسانے، ص151
6۔ غلام عباس، ”فینسی ہیر کٹنگ سیلون“ ، مشمولہ زندگی نقاب چہرہ (کراچی: مکتبہ دانیال، 2005ء) ، ص264
7۔ غلام عباس، ”بردہ فروش“ ، مشمولہ غلام عباس کے بے مثال افسانے ص 152
8 ایضا ص 155
# نتیجہ

غلام عباس کی افسانہ نگاری کا مطالعہ ہمیں اس بات کا شعور دیتا ہے کہ ادب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ انسانی زندگی کے مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کی تلاش میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان کے افسانے ہمیں انسانیت، محبت، نفرت، طبقاتی فرق اور دیگر سماجی مسائل پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

Facebook Comments HS