وزارت امور کشمیر اور کشمیر سٹیٹ پراپرٹی
حکومت پاکستان نے معاشی بحران کی صورتحال میں انتظامی اخراجات کم کرنے کی غرض سے 5 وفاقی وزارتوں کے 28 محکموں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں کمیٹی کی سفارشات پہ یہ فیصلہ کیا گیا اور 5 وزارتوں میں اصلاحات سے متعلق بتایا گیا جن میں کشمیر افیئرز اور گلگت بلتستان، اسٹیٹس اینڈ فرنٹیئر ریجنز، انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن، انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن اینڈ نیشنل ہیلتھ سروسز شامل ہیں۔ اجلاس میں وزارت کشمیر افئیرز اور گلگت بلتستان کو سٹیٹ اینڈ فرنٹیئر ریجنز میں ضم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ 5 وزارتوں میں موجود 28 مختلف محکموں کو بھی بند کرنے، نجکاری کرنے یا پھر ان محکموں کو فیڈرل یونٹس کو دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزارت امور کشمیر کے خاتمے کے امکان کی اس اطلاع سے متعلق ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں واقع کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کے معاملات وزارت امور کشمیر کے پاس ہیں۔ امور کشمیر وزارت کے خاتمے سے کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کو فروخت کرنے کے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کے آفس نے 6 دسمبر 2019 کو وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کو ہدایات جاری کی تھیں کہ ایک ہفتے کے اندر کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی فروخت پر عائد پابندی ختم کرنے کی سمری تیار کر کے منظوری کے لئے وزیر اعظم کو ارسال کی جائے۔
اس کے بعد عمران خان نے وزیراعظم کی حیثیت سے کابینہ اجلاس میں ہدایت کی تھی کہ کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کو فروخت کرنے کی تجویز بنائی جائے، اس پر وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے وزارت امور کشمیر کو کابینہ اجلاس کے منٹس کے مطابق مکتوب لکھا تھا کہ کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کو فروخت کرنے کی تجویز بنا کر وزیر اعظم آفس کو ارسال کی جائے۔
موجودہ حکومت نے ملک میں انٹرنیٹ فائر وال سسٹم کی تنصیب عمل میں لائی ہے اور یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ انٹرنیٹ فائر وال سسٹم کی تنصیب کی منظوری سابق وزیر اعظم عمران خان نے دی تھی۔ یوں عمران خان حکومت نے کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کو فروخت کرنے کی ہدایت کی تھی اور اب وزارت امور کشمیر کو ختم کرنے کی صورتحال میں کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کو فروخت کرنے کے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے کہ موجودہ حکومت انٹر نیٹ فائر وال سسٹم کو نصب کرنے کی طرح اس معاملے میں بھی یہی جواز اختیار کر سکتی ہے کہ کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کو فروخت کرنے کی کارروائی عمران خان کی سابق حکومت نے شروع کی تھی۔
پاکستان میں ریاست جموں وکشمیر کی کل شہری سٹیٹ پراپرٹی 1048 کنال تھی جس میں سے 468 کنال فروخت کردی گئی ہے۔ جبکہ اب 580 کنال پر مبنی جائیداد باقی بچی ہے۔ اسی طرح کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی کل زرعی اراضی تقریباً 2426 ایکڑ تھی جس میں سے 452 ایکڑ فروخت کردی گئی اور اب 1974 ایکڑ باقی بچی ہے۔ کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی ان 35 جائیدادوں میں سے 14 جائیدادیں 1961 سے وزارت امور کشمیر کے خطوط پر مبنی اجازت کے ذریعے منظور نظر افراد کو فروخت کی جاتی رہی ہیں۔ کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی فروخت کردہ جائیدادوں کی مالیت کیا ہے؟ کس کس کو کتنے کتنے میں فروخت کی گئیں؟ اس بارے میں کوئی تفصیل موجود نہیں ہے۔ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ آزاد کشمیر حکومت کے پاس پاکستان میں واقع کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی کوئی تفصیل موجود نہیں ہے۔
کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کا انتظام 1947 سے 1955 تک آزاد کشمیر حکومت کے پاس رہا۔ ایڈمنسٹریٹنگ آف کشمیر پراپرٹی آرڈیننس 1961 کے تحت متنازعہ ریاست جموں وکشمیر کی سٹیٹ پراپرٹی کا انتظام و انصرام آزاد کشمیر حکومت سے لے کر وفاقی وزارت امور کشمیر کو دیا گیا۔ وزارت امور کشمیر لاہور میں قائم ایڈمنسٹریٹر جموں کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کے دفتر کے ذریعے اس سٹیٹ پراپرٹی کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے۔ ایڈمنسٹریٹر جموں و کشمیر سٹیٹ پراپرٹی لاہور کے مطابق 1947 میں آزادی کے بعد ریاست جموں وکشمیر کی جائیدادیں (یا مہاراجہ آف جموں کشمیر یا مہاراجہ پونچھ) جو ریاست جموں وکشمیر کی علاقائی حدود سے باہر واقع تھیں، ان کا انتظام آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر نے لے لیا اور اس سٹیٹ پراپرٹی کے قیام کے لئے منیجر قائم کیا۔
پنجاب حکومت نے اس کشمیر پراپرٹی کو متروکہ جائیداد تصور کیا۔ ایڈمنسٹریٹر آفس کے مطابق قانونی و انتظامی مشکلات کی وجہ سے آزاد کشمیر حکومت نے جون 1955 میں حکومت پاکستان سے درخواست کی کہ وہ کشمیر پراپرٹی کا انتظام سنبھال لے۔ حکومت پاکستان ایڈمنسٹریٹنگ آف کشمیر پراپرٹی آرڈیننس 1961 کے تحت کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے۔
راقم نے 2012 میں پہلی بار اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں واقع کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی تفصیل کیا ہے اور ان میں سے کتنی پراپرٹی فروخت کر دی گئی ہے۔ راقم نے اس رپورٹ میں ایڈمنسٹریٹو آفس لاہور کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان کے مختلف شہروں میں واقع کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی درج ذیل تفصیل کو منظر عام پہ لایا تھا۔
( 1 ) ۔ حویلی دیال سنگھ لاہور میں 55 کنال 6 مرلہ 150 مربع فٹ آراضی تھیں جس میں سے 32 کنال 10 مرلہ 203 مربع فٹ لیٹر نمبرKP۔ 3 / 11 / 72 مورخہ 3۔ 9۔ 1980 اور لیٹر نمبر KP 1۔ 1 / 1 / 81 مورخہ 15۔ 7۔ 1981 کے ذریعے نامعلوم افراد کو فروخت کردی گئیں۔ اب اس میں سے 22 کنال 17 مرلہ 128 مربع فٹ جائیداد باقی بچی ہے۔
( 2 ) ۔ لنڈا بازار لاہور ( 3 ) ۔ لوہا بازار لاہور ( 4 ) ۔ ٹرنک بازار لاہور ( 5 ) ۔ چانگڑ محلہ لاہور ( 6 ) ۔ تھاریاں لاہور ( 7 ) ۔ جھگیاں لاہور ( 8 ) ۔ سرد چاہ باغ لاہور ( 9 ) ۔ کٹیر لاہور ( 10 ) ۔ احاطہ غلام بی بی لاہور ( 11 ) ۔ احاطہ میاں سلطان لاہور ( 12 ) ۔ احاطہ کرپا رام لاہور اور ( 13 ) ۔ سرائے میاں سلطان لاہور، کی کل اراضی 289 کنال 5 مرلہ 200 مربع فٹ تھی جس میں سے 32 کنال 17 مرلہ 127 مربع فٹ لیٹر نمبر KP۔ 9 ( 3 ) / 62 (K۔ 1 ) مورخہ 27۔ 3۔ 1963 اور KP۔ 4 / 1 / 81 (K۔ 1 ) مورخہ 31۔ 7۔ 1962 کے تحت فروخت کردی گئیں۔ اور اب اس میں سے 256 کنال 8 مربع 7 مربع فٹ باقی ہے۔
( 14 ) ۔ نو لکھا گڈز ٹرانسپورٹ لاہور کل اراضی 1 کنال 12 مرلہ 221 فٹ تھی جو کہ تمام کی تمام لیٹر نمبر KP۔ 10 ( 17 ) 64۔ KII مورخہ 5۔ 3۔ 1965 کے ذریعے فروخت کردی گئی۔
( 15 ) ۔ کشمیر ہاؤس کشمیر روڈ لاہور کل اراضی 100 کنال 12 مرلہ 13 فٹ، اور ( 16 ) ۔ حسن دین نرسری ایجرٹن روڈ لاہور کی 13 کنال 216 فٹ جائیداد لیٹر نمبر KII ( 3 ) / 61 (K۔ 1 ) مورخہ 21۔ 3۔ 1961 تمام کی تمام فروخت کردی گئیں۔
( 17 ) ۔ A۔ 10 کشمیر روڈ کی 6 کنال 12 مرلہ جائیداد میں سے 2 کنال 3 مرلہ 53 مربع فٹ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے ) نے اکوائر کرلی۔ یوں اب اس میں سے 4 کنال 8 مرلہ 172 مربع فٹ جائیداد باقی ہے۔
( 18 ) ۔ پونچھ ہاؤس لاہور کی کل 212 کنال اراضی میں سے 36 کنال لیٹر نمبر K۔ 8 ( 6 ) / 53 (K۔ 2 ) مورخہ 1۔ 11۔ 1965 فروخت کردی گئی اور اب یہاں کوئی اراضی باقی نہیں ہے۔ یوں پونچھ ہاؤس لاہور کی باقی 176 کنال جائیداد کا کچھ پتہ نہیں ہے، ایڈمنسٹریٹر آفس کے ریکارڈ کے مطابق پونچھ ہاؤس لاہور کی 212 کنال اراضی میں سے کچھ باقی نہیں ہے۔
( 19 ) ۔ پونچھ ہاؤس کنسٹرکشن سکیم ایریا لاہور کی کل جائیداد 174 کنال 11 مرلہ 194 مربع فٹ تھی جو تمام کی تمام زیر لیٹر نمبر KP۔ 3 ( 3 ) / 82 مورخہ 9۔ 6۔ 1992 کو فروخت کردی گئی۔ اور اب کشمیر پراپرٹی کی اس جائیداد کا بھی کوئی وجود نہیں ہے۔
ضلع گوجرانوالہ میں، ( 20 ) ۔ فاریسٹ ریسٹ ہاؤس وزیر آباد میں کل 5 کنال 13 مرلہ پر مبنی کشمیر پراپرٹی کی جائیداد تھی جس میں سے 4 کنال 16 مرلے لیٹر نمبر KP۔ 1 / 1 / 81 مورخہ 15۔ 7۔ 1981 فروخت کر دی گئی اور اب اس میں سے صرف 17 مرلہ باقی ہے۔
ضلع سیالکوٹ ( 21 ) ۔ سرائے مہاراجہ سیالکوٹ کی کل 19 کنال 1 مرلہ جائیداد ہے اور یہ اب تک فروخت ہونے سے بچی ہوئی ہے۔ ( 22 ) ۔ بنگلہ نمبر 13 ہسپتال روڈ سیالکوٹ کی 1.87 ایکڑ اراضی تھی جسے B۔ 1 قرار دیا گیا اور اس کا قبضہ پاکستان آرمی کو دیا گیا۔
ضلع جہلم ( 23 ) ۔ فاریسٹ ریسٹ ہاؤس جہلم کی کل 17 کنال 12 مرلہ اراضی پر مبنی جائیداد تھی جس میں سے 13 کنال 3 مرلہ لیٹر نمبر K۔ 23 ( 1 ) ۔ K۔ 1 مورخہ 26۔ 8۔ 1963 اور لیٹر نمبر KP۔ 4 / 3 / 71 مورخہ 14۔ 2۔ 1981 فروخت کردی گئیں۔ یوں اب اس میں سے 4 کنال 19 مرلہ 47 مربع فٹ کی جائیداد باقی بچی ہے۔
( 24 ) ۔ فاریسٹ ہاؤس شاداب روڈ جہلم کل اراضی 43 کنال 11 مرلہ تھیں جس میں سے 38 کنال 9 مرلہ 47 مربع فٹ زیر لیٹر نمبر KP۔ 4 / 3 / 71 مورخہ 14۔ 2۔ 1981 فروخت کردی گئی۔ یوں اب اس میں سے 4 کنال 18 مرلے 47 مربع فٹ باقی ہے۔ ( 25 ) ۔ پونچھ ہاؤس راولپنڈی 23 کنال 11 مرلہ۔ یہ اب تک فروخت ہونے سے بچی ہوئی ہے۔ ( 26 ) ۔ سرائے خرد و کلاں راولپنڈی 10 کنال اراضی ہے۔ جس میں 83 کرایہ دار مقیم ہیں۔
( 27 ) ۔ پنڈی ہزارہ ٹرانسپورٹ کمپنی اینڈ ناردرن پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کی 17 کنال 13 مرلہ پر مبنی جائیداد تھی جو تمام کی تمام زیر لیٹر نمبر KP۔ 30 / ( 2 ) / 56۔ (۔ 1 ) مورخہ 7۔ 3۔ 1964 فروخت کر دی گئی۔ ( 28 ) ۔ سرائے گنڈا سنگھ کی 4 کنال 9 مرلہ 6 مربع فٹ اراضی پر مبنی جائیداد تھی، یہ بھی تمام کی تمام زیر لیٹر نمبرK۔ II ( 6 ) 61 (K۔ 1 ) مورخہ 7۔ 3۔ 1964 فروخت کردی گئی۔
( 29 ) ۔ راجہ بازار راولپنڈی میں 7 کنال 162 مربع فٹ اراضی پر قائم 17 دکانیں تھیں جو زیر لیٹر نمبر K۔ II ( 4 ) 61 (K۔ 1 ) مورخہ 14۔ 2۔ 1962 فروخت کر دی گئیں۔
( 30 ) ۔ آزاد پتن میں 16 کنال 12 مرلہ اراضی، ریکارڈ کے مطابق یہ تمام زمین دریائے جہلم کے کٹاؤ میں آ گئی۔
( 31 ) ۔ سرائے مہاراجہ کہوٹہ ساڑھے پندرہ مرلہ، یہ اب بھی باقی ہے۔
( 32 ) ۔ پونچھ ہاؤس مردان میں 15 کنال کشمیر سٹیٹ پراپرٹی KAD کے زیر لیٹر نمبر K۔ 81 ( 14 ) 53 (K) مورخہ 15۔ 11۔ 1965 کو ڈاکٹر امیر محمد خان کو فروخت کردی گئی، یوں اب خیبر پختون خواہ میں کشمیر سٹیٹ کی کوئی پراپرٹی موجود نہیں ہے۔
اسی طرح کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی زرعی اراضی کے ریکارڈ کے مطابق، ( 33 ) ۔ گاؤں سلطان پور لاہور میں 111 ایکڑ اراضی تھی جس میں سے 234 کنال 14 مرلہ لیٹر نمبر K۔ 6 ( 8 ) / 60 (K۔ 1 ) مورخہ 14۔ 2۔ 1962 کے ذریعے 1091 کنال بی آر بی نہر اور ریلوے لائن کے لئے ایکوائر کی گئی، اب اس میں سے 12 ایکڑ 1 کنال 12 میٹر باقی ہے۔
( 34 ) ۔ ضلع شیخوپورہ گاؤں پوراب تحصیل فیروز والا میں 1259 ایکڑ اراضی میں سے 353 ایکڑ 9 مرلہ زیر لیٹر نمبر KP۔ 3 / 1 / 75 مورخہ 10۔ 8۔ 1981 فروخت کردی گئی۔ اور اب اس میں سے 906 ایکڑ اراضی باقی بچی ہے۔
( 33 ) ۔ گاؤں جنگھو چک شیخوپورہ میں 1056 ایکڑ اراضی موجود ہے۔
آفس آف دی ایڈمنسٹریٹر کشمیر سٹیٹ پراپرٹی لاہور کی 2004۔ 5 کے مالی سال میں آمدن تقریباً 6 کروڑ روپے تھی جس میں سے 3 کروڑ روپے اخراجات ظاہر کیے گئے تھے۔ واضح رہے کہ اس کشمیر سٹیٹ پراپرٹی سے متعلق یہ جائیدادیں برائے نام کرایہ پر دی گئی ہیں۔ ایڈمنسٹریٹنگ آف کشمیر پراپرٹی آرڈیننس 1961 کا مقصد متنازعہ ریاست جموں وکشمیر کے حتمی فیصلے تک پنجاب اور خیبر پختونخوا میں موجود کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کا اچھا انتظام کرنا ہے۔
یوں وزارت امور کشمیر کی طرف سے کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی فروخت کا یہ سلسلہ حاصل مینڈیٹ کی سراسر خلاف ورزی اور قومی و ریاستی خزانے کو نقصان پہنچانے کے علاوہ کرپشن اور اقربا پروری کے زمرے میں آتا ہے۔ کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کے حوالے سے یہ بھی حیران کن امر ہے کہ اس کی آمدن آزاد کشمیر یا پاکستان کے خزانے میں نہیں جاتی بلکہ صرف وزارت امور کشمیر کی صوابدید پر ہے۔ جبکہ آزاد کشمیر کے لئے حکومت پاکستان کے منظور کردہ عبوری آئین 1974 کے تحت پاکستان میں کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کا سبجیکٹ کشمیر کونسل کو دیا گیا۔
یوں آزاد کشمیر کے عبوری آئین 1974 میں پاکستان میں واقع کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کا سبجیکٹ کشمیر کونسل کو تفویض کیے جانے کی وجہ سے 1961 کا ایڈمنسٹریٹنگ آف کشمیر پراپرٹی آرڈیننس منسوخ کر دینا چاہیے۔ وزیراعظم پاکستان ہی کشمیر کونسل کے بھی سربراہ ہیں۔ واضح رہے کہ آزاد کشمیر کے آئین کی 13 ویں ترمیم میں کشمیر کونسل کو ختم کر دیا گیا ہے اور یوں پاکستان کے مختلف شہروں میں واقع کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کا انتظام بھی آزاد کشمیر حکومت کو منتقل کیا جانا چاہیے۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں واقع کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی مالیت کا اندازہ اگر مارکیٹ ریٹ کے حساب سے لگایا جائے تو یہ اربوں نہیں بلکہ کھربوں میں بنتی ہے۔ یہ بڑا سوال ہے کہ پنجاب اور صوبہ پختون خواہ میں واقع کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کا یہ بڑا حصہ کس کس کو کس مالیت پر فروخت کیا گیا، فروخت سے حاصل ہونے والی رقوم کہاں گئیں؟ اطلاعات کے مطابق ہر دور میں متعین ہونے والے وفاقی وزیر امور کشمیر نے کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کے ایڈمنسٹریٹر آفس لاہور میں بڑی تعداد میں اپنے علاقے کے افراد بھرتی کیے ۔
اس طرح کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی بدانتظامی اور فروخت کے معاملات میں کرپشن، اقربا پروری اور اختیارات سے تجاوز کی صورتحال نیب کی تفتیش کے لئے ایک بڑا موضوع ہے۔ مناسب یہی ہے کہ کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کا انتظام واپس آزاد کشمیر حکومت کو دیا جائے اور اس کی آمدن بھی آزاد کشمیر حکومت کو دی جائے۔ ایڈمنسٹریٹر آفس میں ملازمت کا سب سے پہلا حق بھی کشمیریوں کو ہی حاصل ہونا چاہیے۔ کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی اس طرح کی صورتحال کشمیریوں کے پاکستان پر اعتماد کو نقصان پہنچانے کا باعث بھی ہے۔


