نیک موت


بابر صاحب اپنی دکان پر بیٹھے ریڈیو کی آواز کو درست کر رہے تھے اچانک آواز آئی ”دو کلو چینی دے دیجیے“

”ارسلان اسے چینی دے دو“

بابر صاحب نے عالیان کو گھورتے ہوئے آواز لگائی۔ اتنے میں ایک بچہ باہر آیا اور چینی دے کر اندر چلا گیا۔ ”پیسے کھاتے میں لکھ دیجیے گا ابو کہ رہے تھے“ عالیان بھاگتا ہوا دکان سے نکل گیا۔

”ارسلان زرا رجسٹر تو لے آنا“ بابر صاحب نے چشمہ اتارتے ہوئے کہا۔ ”ہاشم صاحب کا کھاتا کھولو۔“
ارسلان نے بیٹھتے ہوئے پوچھا ”اس بار حساب نہیں لگانا؟“
”لگا لیتے ہیں اس کا لکھ کر شروع سے کھولو۔“

کچھ لمحوں بعد ارسلان نے اونچی آواز میں پڑھنا شروع کر دیا ”غنی صاحب کا 5 کلو آٹا 785 روپے کا ارسلان نے پڑھنا شروع کر دیا“

” 90 کر دو“
” 3 کلو چینی 300 کی“
” 310 کر دو“
” 5 کلو گھی 580 کا“
” 600 کر دو“
” 4 کلو آلو 385 کے“
” 390 کر دو“

”اسلم صاحب کا 5 کلو پیاز 165 کا، ان کا اس بار صرف پیاز ہی گیا ہے لگتا ہے سودا کہیں اور سے لگا لیا ہے“ ارسلان نے حیرانی سے بابر صاحب کو بتایا ”

”آخر ہم بھی شہر سے سامان لاتے ہیں ہمارا بھی خرچ آتا ہے ہم نے بھی گھر چلانا ہے، اگر 10، 20 روپے کے لیے اس نے سامان لینا چھوڑ دیا ہے تو ہم کچھ نہیں کر سکتے خیر تم 170 کرو اسے۔“

اسی طرح بابر صاحب اور ارسلان نے حساب مکمل کیا اچانک بابر صاحب کو دل سے درد نکلتا محسوس ہونے لگا انھیں فوراً یاد آیا کہ آج صبح وہ دواء لینا بھول گے ہیں۔ انھوں نے ارسلان کو پانی لانے کا اشارہ کیا اور فوراً گھر سے دواء لانے کا کہا۔

ارسلان پانی پکڑا کر گھر دواء لانے بھاگ گیا اتنی دیر میں بابر صاحب بے ہوش ہو گئے باہر سے گزرتے کسی شخص کی نظر پڑھی تو انھیں ہسپتال پہنچایا گیا، تھوڑی دیر میں بابر صاحب کے گھر والے بھی ہسپتال پہنچ گے۔

”انھیں مائینر اٹیک ہوا ہے آپ اسے ہلکا دل کا دورہ کہ سکتے ہیں۔ اگر دوائیاں وقت پر نہ لی گئی تو کچھ بھی ہو سکتا ہے ابھی اللہ کے کرم سے خطرے سے باہر ہیں“ ڈاکٹر صاحب نے گھر والوں تسلی دیتے ہوئے کہا۔

اگلے دن بابر صاحب گھر آئے تو انھیں تین دن تک دکان سے چھٹی کرنا پڑی۔
لیکن ان کی غیر موجودگی میں ارسلان نے اکیلے ہی دکان کو سنبھالا اور اپنے استاد کی طرح برابر حساب کیا۔

ایک ماہ گزر گیا بابر صاحب کی طبیعت اب بہتر ہو گئی تھی اب وہ پہلے کی طرح دکان پر آتے تھے۔ ایک دن دکان پر حساب کرنے کے بعد وہ نماز کے لیے گئے تو جماعت میں ابھی کچھ وقت باقی تھا وہ مسجد میں بیٹھ گئے اتنے میں انھیں اپنے بائیں کندھے میں درد محسوس ہوا انھیں یاد آیا کہ آج پھر وہ دوا لینا بھول گئے ہیں، وہ اٹھ کر جانے لگے تو تکبیر ہو گی انھوں نے سوچا کہ نماز پڑھ کر ہی گھر جاؤں انھوں نے نماز شروع کر لی درد میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔

بابر صاحب رکوع میں گرنے لگے تھے کہ انھوں نے خود پہ قابو پا لیا سجدے میں جاتے ہوئے بابر صاحب کو ایک شدید درد کا جھٹکا لگا اتنے میں بابر صاحب سجدے میں گئے لیکن واپس نہ اٹھ سکے۔ اگلے دن جنازے پر لوگ دکھ کا اظہار کرتے ہوئے فرما رہے تھے اللہ ہمیں بھی بابر صاحب جیسی زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے بڑی نیک موت ہے۔

Facebook Comments HS