سماجی ذمہ داری کا احساس: حکومت اور شہری


ہمارے معاشرے میں کم و بیش ہر شخص تبدیلی کا خواہاں ہے اور نظام کو بدلنے کا خواہشمند ہے۔ لیکن نظام تبدیل کیسے ہوتا ہے اس کی جزیات اور ہیت سے ہم مکمل طور پر نابلد ہیں۔ لے دے کے آسان اور نامعلوم اہداف جیسے سیاستدانوں، سرکاری افسروں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور اسٹیبلشمنٹ کے اوپر تنقید کے تیر چلا کر دل کو تسلی دے دی جاتی ہے کہ تبدیلی کے عمل میں اپنا فرض ادا کر دیا۔ ایک حقیقت بھول جاتے ہیں کہ سٹیٹس کو کی جگہ سٹیٹس کو ہی لیتا ہے۔

اشرافیہ کے ایک طبقے کو آپ اقتدار سے بے دخل کرتے ہیں تو دوسرا طبقہ اشرافیہ پیدا ہو جاتا ہے۔ پوری انسانی تاریخ میں ہمیں طبقہ اشرافیہ کی حکومت ہی نظر آتی ہے۔ فطری طور پر ہر بندہ چاہتا ہے کہ وہ زندگی میں دولت و اختیار حاصل کرے اور ہر انسان کی اپنی اخلاقیات ہے کہ وہ دولت، شہرت اور پاور ملنے کے بعد اپنے معروضی حالات میں دوسروں کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرتا ہے۔ پاکستان بننے کی مثال سامنے کی بات ہے کہ ولائیتی اشرافیہ کی جگہ دیسی اشرافیہ نے لے لی۔

اب اکثر لوگ کہتے ہیں کہ دیسی اشرافیہ سے انگریز اشرافیہ ہی بہتر تھی۔ میرے خیال میں ہم اگر انقلاب یا تبدیلی کو انفرادی سطح پر لے کر آئیں اور وہ لوگ جن پر ہم فوری اثر انداز ہو سکتے ہیں ان کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانے کی کوشش کریں تو تبدیلی اور ارتقا کے عمل میں اپنا موثر اور بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ہم اپنے بہن بھائیوں، قریبی عزیزوں، دوستوں اور بچوں پر محنت کر کے انھیں تعلیم یافتہ بنانے اور انھیں معاشرے کا مفید اور اچھا شہری بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یقین کریں یہ معاشرے کی ایک بہتر ین خدمت ہو گی۔

لیکن کام کرنا، محنت کرنا مشکل اور تنقید اور گالی گلوچ آسان کام ہے اور ویسے بھی بحیثیت قوم ہمارا طرز عمل یہ ہے کہ خود کو تبدیل کرنے کی بجائے ہم دوسروں پر الزام تھوپ کر اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ بنیادی طور پر حکومتی نظام چلانا سماجی سائنسدانوں کا کام ہے لیکن جس طرح باقی دنیا میں سرمایہ دار طبقات سماج، شعبہ سیاست اور طاقت کے ایوانوں پر بالواسطہ یا بلا واسطہ حاوی ہیں اسی طرح کی کیفیت پاکستان میں بھی ہے بلکہ کچھ زیادہ ہی ہے۔

بہرحال کیس سٹڈی کے تناظر میں یہاں ایک ایسے پاکستانی شہری کا ذکر کرنا چاہوں گا جنہیں سماجی ذمہ داری کے احساس کی ایک بہترین مثال قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کا ایک مقصد ایسے ذمہ دار اور درد دل رکھنے والے شہریوں کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ہے تاکہ اوروں کو بھی اچھے کاموں کی ترغیب ملے۔ کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر ایک بہادر، بے غرض، احساس کی دولت سے مالا مال، با اعتماد اور سماجی خدمت کے جذبے سے سرشار بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد کی ایک سٹوڈنٹ شفق صہیب نامی لڑکی نے ایک غریب اور بے یار و مددگار خاندان کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کیں جو میری نظر سے بھی گزریں۔

تحقیق حال پر معلوم ہوا کہ ساہیوال سے تعلق رکھنے والے کسمپرسی کے شکار اس خاندان کی ایک خاتون کینسر کی مریضہ تھیں اور شدید غربت کے سبب ان کے پاس علاج معالجہ کے وسائل نہ تھے۔ یہ لوگ بے یار و مددگار ایف نائن پارک کے قریب روڈ کنارے کسی مسیحائی یا معجزے کی آس میں بیٹھے تھے۔ یوں تو سڑک پر سینکڑوں لوگ آ جا رہے تھے لیکن کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ وہ ذرا رک کر اس پریشان حال خاندان کی کوئی مدد کرتے یا خیریت دریافت کر لیتے۔

اسی اثناء میں مذکورہ لڑکی کا وہاں سے گزر ہوا جو شاید اس وقت اپنی یونیورسٹی کی طرف جا رہی تھیں۔ انھوں نے اس خاندان کو نہ صرف دلاسا دیا بلکہ انھیں اپنی مدد آپ کے تحت قریبی ہسپتال لے کر گئیں۔ بات صرف یہاں تک محدود نہیں رہی بلکہ انھوں نے اس خاندان کی مدد کے لئے اپنے حلقہ احباب اور یونیورسٹی میں فنڈ ریزنگ کا سلسلہ شروع کر دیا اور گاہے بگاہے اس خاندان کی نہ صرف ہسپتال میں دیکھ بھال جاری رکھی بلکہ ان کے علاج معالجہ کے لئے سچے جذبے سے تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کی مشکلات کو حل کیا جس سے اس خاندان کو بے پناہ ریلیف ملا اور اس کینسر کی مریضہ کا بخوبی علاج ممکن ہوا۔

اس لڑکی کا شفقت، ہمدردی اور انسانیت سے بھر پور محبت کا کردار ادا کرنا اپنی جگہ لیکن اس کے والدین بھی لائق ستائش ہیں کہ جنھوں نے اپنی بیٹی کو نہ صرف اچھی تعلیم اور خود اعتمادی دی بلکہ اتنی اچھی تربیت کی کہ وہ سماجی ذمہ داری کا احساس کر سکے۔ ایک اچھے معاشرے کی تشکیل کے لئے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت اور ان میں سماجی شعور کا ادراک بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ایک اچھی ماں ایک اچھے معاشرے کی ضامن ہوتی ہے۔

کاش سماجی انقلاب کے لئے ہمارے تمام والدین اور اساتذہ نسل نو کی ایسی ہی تعلیم و تربیت کر سکیں۔ یہ عمل نہ صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ ہماری نوجوان نسل خاص طور پر طلبا میں سماجی بہتری کا شعور پایا جاتا ہے بلکہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت بہت کچھ کر گزرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ بلا شبہ شفق صہیب جیسے کردار تمام لوگوں خاص طور پر لڑکیوں کے لئے رول ماڈل کا درجہ رکھتے ہیں جن میں سماجی ذمہ داری کا احساس پایا جاتا ہے۔ اگر تمام شہری ایسی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو ہمارا معاشرہ جنت بن سکتا ہے۔

سال 2000 میں اقوام متحدہ نے ملینئم ڈکلیریشن کا آغاز کیا جس میں تمام ممالک کی حکومتوں کو 2015 تک سماجی بہتری کے لئے آٹھ واضح اہداف دیے گئے جن میں زچہ بچہ کی صحت میں بہتری لانے، تعلیم کے فروغ، صنفی مساوات، گلوبل پارٹنر شپ، غربت، بھوک، ایڈز اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ پروگرام کے تحت 2015 تک شدید غربت اور بھوک کے خاتمے کے لئے تین نکاتی اہداف مقرر کیے گئے جن کے تحت روزانہ ایک ڈالر اجرت لینے والے افراد کی معاشی حالت کو بہتر بنانے، غریب خواتین و حضرات ورکرز کے لئے روزگار کے مناسب مواقع اور خوراک کی شدید کمی کے شکار افراد کی بحالی کے لئے حکومتوں کو اقدامات تجویز کیے گئے۔

بدقسمتی سے پاکستان 2015 تک سماجی بہبود کے اس پروگرام کا کوئی بھی ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی کم یا غیر معیاری خوراک کی شکار ہے، پندرہ فیصد نومولود بچے خوراک کی شدید کمی کا شکار رہتے ہیں، پانچ سال کی عمر تک کے 44 فیصد بچے مکمل خوراک نہ ملنے کے سبب ذہنی طور پر نارمل نہیں ہوتے، 32 فیصد ایسے بچے ہیں جن کا وزن مناسب نہیں ہوتا جبکہ ہمارے ستر لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔

ہمارے ہاں حکومتی پالیسیاں، کرپشن، زرعی زمین کی غیر منصفانہ تقسیم، مادیت پسندی، تعلیم و شعور کی کمی، بڑے پیمانے پر درآمدات، امن عامہ کی مخدوش حالت، توانائی کا بحران، بیرونی سرمایہ کاری میں اتار چڑھاؤ، پرائیویٹائزیشن کے عمل میں غیر شفافیت اور سماجی اخلاقیات و ذمہ داری کے احساس کی کمی جیسے مسائل غربت کے خاتمے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس (HDI) جو دنیا بھر میں سماجی بہتری جانچنے کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے کے مطابق کسی بھی معاشرے میں 0.800 کے اعشاریے کو سماجی و انسانی ترقی کا معیار مانا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں ایچ ڈی آئی کی شرح پنجاب میں 0.600، سندھ میں 0.590، کے پی کے میں 0.480 اور بلوچستان میں محض 0.440 ہے اور اس حوالے سے پاکستان گلوبل رینکنگ میں 147 ویں نمبر پر ہے۔

ایشیائی ممالک میں جنگ کے شکار افغانستان کے علاوہ باقی تمام ممالک ہم سے آگے ہیں۔ ایران 0.774، سری لنکا 0.766، مالدیپ 0.701، انڈیا 0.624، بھوٹان 0.607، بنگلہ دیش 0.579، نیپال 0.558 جب کہ پاکستان میں ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس کی مجموعی شرح محض 0.550 ہے۔ ایسے میں حکومت کے ساتھ ساتھ ہمارے باشعور طبقے پر بھی سماجی بہتری کے لئے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اب اقوام متحدہ نے ہر ملک کے لئے سال 2030 تک پائیدار ترقی کے اہداف ایس ڈی جیز (SDGs) مقرر کیے ہیں لیکن اس دوڑ میں بھی سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی بدولت ہم باقی دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔

کسی بھی ملک میں شہریوں کی اکثریت اگر غربت کا شکار ہو یا تعلیم و صحت جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہو تو اس ملک کا و جود اور استحکام شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔ غربت اور بنیادی ضروریات سے محروم شہری ملکی ترقی میں معاشی طور پر کسی خود کفیل شہری کی نسبت آزادانہ اور قائدانہ کردار ادا نہیں کر سکتے۔ پاکستان کے قیام کے مقاصد میں اسے ایک فلاحی مملکت بنانا بھی شامل ہے اور پاکستان تبھی ایک فلاحی مملکت بن سکتا ہے جب حکومت کے ساتھ ساتھ شہری بھی منفی طرز عمل کی بجائے معاشرے میں احساس، آگاہی اور شعور بیدار کرنے کے مثبت اصولوں کو اپنا کر اپنی سماجی ذمہ داریاں پوری کرنے کا عزم کریں گے۔ سماجی ذمہ داری کا احساس کسی قانون کے تابع نہیں بلکہ یہ ہر فرد کا ایک اخلاقی فریضہ ہے اور مہذب معاشرے کے شہریوں میں یہ قانون سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

سماجی ذمہ داری کا مطلب ہے کہ خواہ کوئی تنظیم ہو یا فرد اخلاقی طور پر انھیں معاشرے کی بہتری کے لئے کام کرنا چاہیے۔ اسی اصول کے تحت عالمی سطح پر ملٹی نیشنل اور منافع بخش کارپوریشنز اور ادارے اپنے منافع میں سے سی ایس آر کے تحت سماجی بہبود کے پروگراموں پر خرچ کرنے کے پابند ہیں۔ یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس کو نبھانا ہر شہری پر لازم ہے تاکہ اکانومی اور ایکو سسٹم (ecosystems) میں توازن برقرار رہے۔ طالبعلموں سے سماجی ذمہ داری کی سب سے زیادہ توقع کی جاتی ہے کیونکہ اس تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں جو ہمیں اچھا انسان نہ بنا سکے یا سماجی ذمہ داری کا احساس اجاگر نہ کر سکے۔

تعلیم، شعور اور سماجی ذمہ داری کے احساس سے ہی معاشرے کی ہیت تبدیل ہوتی ہے اور معاشرے کو خوبصورت بنانے میں مدد ملتی ہے اور ہمارے معاشرے کو اس سلسلے میں ابھی بہت لمبا سفر کرنا ہے کیونکہ یہاں تعلیم، شعور اور ذمہ داری کے احساس کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ تخریب اور انقلاب سے گریز کرتے ہوئے ارتقائی منازل طے کر کے ہی ہم ترقی کے سفر پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ کسی انقلابی شارٹ کٹ کی بجائے معاشرتی ارتقا جتنا تیز ہو گا اتنا ہی ہم ترقی کی راہ پر تیزی سے بڑھ سکیں گے۔

حال ہی میں قلعہ عبداللہ بلوچستان سے اسرار کاکڑ آکسفورڈ یونیورسٹی طلبا یونین کے صدر منتخب ہوئے جو انتہائی پسماندہ علاقے اور ورکنگ کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسرار کاکڑ نے محنت، لگن اور اپنے عزم سے سکالرشپ حاصل کرتے ہوئے آکسفورڈ میں نہ صرف داخلہ لیا بلکہ اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر یہ مقام حاصل کیا۔ بے شک اسرار کاکڑ اور شفق صہیب جیسے قوم کے عظیم بچے ہمارے معاشرے کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں جن کی حوصلہ افزائی کرنے، انھیں اپنے بچوں کا رول ماڈل بنانے اور انھیں عزت دینے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS