Black Widow
دھوکہ دینا ہر مہذب معاشرے اور ملک میں ایک مذموم عمل سمجھا جاتا ہے، تمام مذاہب میں اسے ایک بڑی برائی کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ تاہم آج کی دنیا میں کچھ ایسے علاقے بھی ہیں جہاں لوگ دوسروں کو دھوکہ دے کر، فریب کاری سے ان کا مال لوٹنے کو اپنی چالاکی سمجھتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی اس مکروہ حرکت پر شر مندہ ہونے کے بجائے، فخر محسوس کرتے ہیں۔ آج ہم آپ کو ایک ایسے شہر کے لوگوں کی کہانی سناتے ہیں، جو سیاحوں کو مختلف حیلوں، بہانوں سے لوٹتے ہیں اور اس پہ فخر بھی کرتے ہیں۔
سمتھ برطانیہ کا رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے ایک کامیاب جوہری ہے، جسے اپنے والد سے خوب چلتا ہوا کاروبار ورثے میں ملا۔ بچپن ہی سے اسے دنیا کی سیر اور مختلف ملکوں کو دیکھنے کا شوق تھا۔ چند برس قبل اپنی سالگرہ کے موقع پر اس نے فیصلہ کیا کہ اگر زندگی نے اسے مزید موقع دیا، تو وہ آنے والے سالوں میں جتنا ممکن ہو سکا، مختلف ممالک کی سیر کرے گا۔ اسی لیے اب وہ ہر سال دو سے تین ممالک میں سیاحت کے لیے جاتا۔ اس سال اس کا پہلا انتخاب ارجنٹینا تھا، جو فٹ بال اور عظیم فٹ بالر میراڈونا کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔
سمتھ ایک امریکن ایئرلائن کی فلائیٹ کے ذریعے ارجنٹینا کے شہر بیونس ایریز پہنچا، عملے نے تیزی سے ضروری کارروائی مکمل کی اور پاسپورٹ اس کے ہاتھ میں دے دیا، آدھے گھنٹے بعد اسے اپنا سامان بھی مل گیا۔ ائرپورٹ سے باہر آتے ہی وہ ایک ٹیکسی میں بیٹھا اور ہوٹل کا پتہ بتا کر کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھنے لگا۔ ڈرائیور نے اسے میٹر دکھایا اور ٹیکسی آگے بڑھا دی۔ تقریباً بیس منٹ کی مسافت کے بعد ٹیکسی والے نے گاڑی روکی اور سامنے ہوٹل کے نیون سائن کی طرف اشارہ کیا۔ سمتھ نے کرایہ ادا کیا، ٹیکسی ڈرائیور نے بقایا کی مد میں دس ڈالر کے تین نوٹ اسے تھما دیے۔ سمتھ نے وہ نوٹ جیب میں ڈالے اور ہوٹل میں داخل ہو گیا۔
کمرے میں پہنچ کر سامان رکھا اور تازہ دم ہونے کے بعد روم سروس سے کافی منگوائی۔ مگر پہلی چسکی نے ہی اس کا موڈ بگاڑ دیا، کیونکہ کافی حد سے زیادہ میٹھی اور ٹھنڈی تھی۔ مایوس ہو کر اس نے کافی کا کپ وہیں رکھا اور باہر جا کر شہر کی سیر کرنے اور اچھی کافی پینے کا فیصلہ کیا۔
ہوٹل سے باہر نکل کر سمتھ نے ایک ٹیکسی روکی اور ڈرائیور سے کہا کہ اسے ڈاؤن ٹاؤن لے چلے۔ چند ہی منٹ بعد ٹیکسی ایک با رونق بازار کے سامنے رک گئی۔ سمتھ نے سو ڈالر کا نوٹ ڈرائیور کو دیا، ڈرائیور نے پلان کے مطابق جلدی سے وہ نوٹ نیچے پھینک دیا اور ایک جعلی نوٹ ہاتھ میں پکڑ کر غصے بھرے لہجے میں کہا کہ آپ کا دیا گیا نوٹ جعلی ہے۔ سمتھ کو لگا کہ شاید ڈرائیور مذاق کر رہا ہے، کیونکہ نوٹ ذرا پرانا تھا، پھر بھی اس نے مسکراتے ہوئے دوسرا نوٹ دیا۔ ڈرائیور نے بقیہ رقم واپس کی اور سمتھ گاڑی سے اتر کر بازار کی طرف چل پڑا۔ اب اس کی جیب میں چند اصلی نوٹوں کے ساتھ ٹیکسی ڈرائیور کے دیے ہوئے جعلی نوٹ بھی تھے۔
کچھ دیر چلنے کے بعد ، اسے ایک معروف کافی برینڈ کا آؤٹ لیٹ نظر آیا۔ سمتھ نے وہاں اپنی پسندیدہ کافی کا آرڈر دیا اور قیمت ادا کی، لیکن اس وقت حیرت زدہ رہ گیا جب کاؤنٹر پر موجود لڑکی نے بتایا کہ اس کا دیا گیا نوٹ جعلی ہے۔ سمتھ نے شرمندگی سے دوسرا نوٹ دیا، لیکن لڑکی نے پھر سے بتایا کہ وہ نوٹ بھی جعلی ہے۔ لڑکی نے غور سے سمتھ کی طرف دیکھا اور پوچھا، کیا آپ اس شہر میں نئے ہیں؟ اور کیا آپ نے ٹیکسی استعمال کی ہے؟ سمتھ نے اثبات میں سر ہلایا تو لڑکی نے وضاحت کی، کہ ”یہاں کے ٹیکسی ڈرائیور سیاحوں کو بقیہ رقم میں جعلی نوٹ دے دیتے ہیں۔ آپ محتاط رہیں“ ، خیر سمتھ نے ادائیگی کی اور کافی کا انتظار کرنے لگا۔
چند ہی لمحوں میں سمتھ کو اس کی کافی مل گئی۔ وہ بازار کی طرف کھلتی کھڑکی کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا اور آہستہ آہستہ کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے باہر کا نظارہ کرنے لگا۔ شام ڈھل چکی تھی، اور بازار میں لوگوں کی چہل پہل بڑھ رہی تھی۔ مقامی لوگوں کے ساتھ مختلف ملکوں سے آئے سیاحوں کی بھی ایک بڑی تعداد وہاں گھوم رہی تھی۔ لیکن موسم اب بھی قدرے گرم تھا۔ سمتھ نے اپنی کافی ختم کی اور دکانوں کی سجاوٹ، اور ان پر چمکتی رنگ برنگی روشنیوں کو دیکھتے ہوئے بازار میں ٹہلنے لگا۔
اچانک، سامنے سے آتا ہوا ایک فربہی مائل شخص اس سے زور سے ٹکرایا۔ سمتھ ڈگمگا گیا، اس کی چھٹی حس نے اسے خطرے کا احساس دلایا۔ اس نے فوراً اپنی بیک پاکٹ کو چیک کیا تو اسے اپنے دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہوئی محسوس ہوئی اور ماتھے پر پسینہ بھی۔ جیب خالی تھی! وہ جان گیا کہ جب وہ شخص مجھ سے ٹکرایا، تو میری توجہ بھٹکی اور ٹھیک اسی وقت کسی نے بٹوا چرا لیا۔
سمتھ کی حالت غیر ہو گئی۔ وہ جلدی سے ارد گرد نظر دوڑانے لگا تاکہ جیب کترے کو تلاش کر سکے، لیکن بھیڑ میں اسے پہچاننا ممکن نہ تھا۔ اچانک اسے خیال آیا کہ چور مجھ سے ٹکرانے والا شخص بھی تو ہو سکتا ہے۔ وہ فوراً واپس مڑا اور اسے تلاش کرنے لگا، مگر وہ شخص بھی کہیں دکھائی نہ دیا۔
اس واقعے نے سمتھ کو پریشان اور مایوس کر دیا۔ حالانکہ پرس میں زیادہ کیش نہیں تھا کیونکہ وہ ہوٹل سے نکلنے سے پہلے زیادہ تر رقم کمرے کے لاکر میں چھوڑ آیا تھا، لیکن بٹوے میں اس کے کریڈٹ کارڈز، شناختی دستاویزات اور کچھ اہم رسیدیں تھیں۔ اسے کچھ دیر لگی اپنے حواس بحال کرنے میں۔
کچھ سوچنے کے بعد اس نے فیصلہ کیا کہ اسے اس چوری کی رپورٹ پولیس کو دینی چاہیے۔ وہ اسی سمت واپس چلنے لگا۔ اب بازار میں رش اور بڑھ چکا تھا، ہوا کے چلنے سے موسم بھی خوشگوار ہو گیا تھا۔ تھوڑی دیر چلنے کے بعد سمتھ کو سڑک کے کنارے ایک پارک نظر آیا، جہاں چند بنچ لگے ہوئے تھے۔ اسے تھکاوٹ کا احساس ہوا، اور وہ ایک خالی بنچ دیکھ کر وہاں جا بیٹھا تاکہ کچھ دیر آرام کر سکے۔
بنچ پر بیٹھتے ہی سمتھ نے چند گہری سانسیں لیں اور خود کو پرسکون کرنے کے لیے تازہ ہوا اپنے اندر کھینچی۔ آہستہ آہستہ وہ خود کو بہتر محسوس کرنے لگا اور ارد گرد کا جائزہ لینے لگا۔ اس کی نظر پارک کے ایک کونے پر پڑی، جہاں مختلف رنگوں اور سائز کے بٹوے بکھرے ہوئے تھے، اور چند لوگ گھاس پر بیٹھے انہیں چیک کر رہے تھے۔ سمتھ حیران ہوا اور تجسس میں وہ بھی اس طرف چل پڑا۔
وہاں پہنچ کر اس نے صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کی، مگر کچھ واضح نہ ہو سکا۔ آخر کار، اس نے اپنے جیسے ایک اور سیاح سے پوچھا کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔ وہ شخص بولا، ”یہاں اکثر سیاحوں کی جیبیں کاٹ لی جاتی ہیں، جیب کترے نقدی نکال کر بٹوے یہاں پھینک جاتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا، مگر خوش قسمتی سے مجھے میرا والٹ یہاں سے واپس مل گیا ہے ۔“ یہ کہہ کر وہ شخص بازار کی طرف روانہ ہو گیا۔
سمتھ نے بھی اپنا بٹوا تلاش کرنا شروع کیا اور چند منٹ کی کوشش کے بعد واقعی اسے اس کا بٹوا مل گیا۔ جب اس نے اسے کھولا تو تسلی ہوئی کہ اس کے کریڈٹ کارڈز اور شناختی دستاویزات سب موجود تھیں۔ جیب کترے نے صرف نقد رقم ہی نکالی تھی۔
سمتھ نے شکر ادا کیا کہ کم از کم والٹ واپس مل گیا، اور اسے اس بار فرنٹ پاکٹ میں محفوظ کر لیا تاکہ دوبارہ کوئی جیب کترا ہاتھ صاف نہ کر سکے۔ تاہم، اس ساری صورتحال نے اس کا موڈ خراب کر دیا تھا اور اب وہ تھکن محسوس کر رہا تھا۔ چنانچہ، مزید بازار میں گھومنے کے بجائے اس نے ہوٹل واپس جانے کا فیصلہ کیا۔
ہوٹل پہنچتے ہی سمتھ نے کھانا کھایا اور آرام کرنے کے لیے بستر پر لیٹ گیا۔ اگلی صبح آنکھ دیر سے کھلی، ناشتے کا وقت گزر چکا تھا، اس لیے اس نے کمرے میں ہی کافی اور سینڈوچ منگوائے۔ کھانے کے بعد تیار ہو کر وہ شہر کی سیر کے لیے نکل پڑا۔ پہلے چند گھنٹے ایک میوزیم میں گزارے، مگر جلد ہی بوریت محسوس ہونے لگی، تو اس نے شہر کا مشہور فٹبال تھیم پارک دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ نہایت درست ثابت ہوا۔ پارک بہت خوبصورت تھا، جیسے جیسے وہ آگے بڑھتا جا رہا تھا، اس کی دلچسپی بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ پارک میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے دلچسپ معلومات فراہم کی گئی تھیں، جیسے فٹ بال کے ابتدائی دن، ورلڈ کپ کے آغاز اور میچ کے رولز میں کی جانے والی تبدیلیاں اور ان کی وجوہات وغیرہ۔
کچھ دیر بعد بھوک محسوس ہونے پر وہ پارک میں موجود ایک منفرد ریسٹورنٹ میں چلا گیا، جو مکمل طور پر فٹبال سٹیڈیم کی طرز پر ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اسے جو برگر پیش کیا گیا، وہ دیکھنے میں ایک چھوٹے فٹبال جیسا تھا اور ذائقے میں نہایت لذیذ۔ سمتھ فٹ بال کا دیوانہ تھا اس لیے اس نے پارک میں گزارے ہوئے ہر لمحے کو بھرپور طریقے سے انجوائے کیا، اب وہ نہ صرف جسمانی طور پر ریلیکس ہو چکا تھا بلکہ ذہنی طور پر بھی تازگی محسوس کر رہا تھا۔ کل پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات بھی اس کے ذہن سے نکل گئے کیونکہ آج کا دن بے حد خوشگوار اور یادگار رہا۔
سمتھ تھیم پارک سے باہر نکلا تو رات گہری ہو چکی تھی، دن بھر چلنے کے وجہ سے اسے تھکن کا احساس ہوا۔ اس نے سوچا کہ ہوٹل جانے سے کہیں بیٹھ کر ایک ڈرنک پیا جائے۔ یہ سوچ کر وہ ایک کلب میں داخل ہوا اور ایک کونے میں پڑی میز پر بیٹھ کر اپنے پسندیدہ ڈرنک کی چسکیاں بھرنے لگا۔
اسی دوران، داخلی دروازے کے پاس بیٹھی ایک نوجوان اور بے حد حسین لڑکی اٹھ کر اس کی طرف آئی اور اجازت طلب کر کے اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔ لڑکی نے اپنا نام اولیویا بتایا اور فٹبال کی بات چھیڑ دی، جو ارجنٹینا میں سیاحوں سے گفتگو شروع کرنے کا عام طریقہ ہے۔ سمتھ کو بھی یہ موضوع دلچسپ لگا، اور وہ دونوں فٹبال کے بارے میں باتیں کرنے لگے۔ باتوں باتوں میں اولیویا نے بتایا کہ وہ ایک اسٹیج ڈانسر ہے اور اچھی کمائی کر لیتی ہے، لیکن اس کی ماں کینسر کے مرض میں مبتلا ہے جس کا علاج مہنگا ہونے کی وجہ سے وہ اضافی پیسے کمانے کی کوشش میں لگی رہتی ہے۔ لڑکی نے سمتھ کو آفر دی کہ اگر وہ چاہے تو وہ اس کے کمرے میں جا کر اسے کمپنی دے سکتی ہے۔ دو ڈرنکس کی وجہ سے سمتھ پر ہلکا ہلکا نشہ چڑھ چکا تھا، حسینہ کی اس پر کشش آفر کو وہ رد نہ کر سکا۔
وہ دونوں ٹیکسی میں سوار ہو کر چند ہی منٹوں میں ہوٹل پہنچ گئے۔ کمرے میں پہنچ کر سمتھ نے دو گلاسوں میں جوس ڈال کر ٹیبل پر رکھا اور خود واش روم چلا گیا۔ جیسے ہی اس نے واش روم کا دروازہ لاک کیا، اولیویا نے فوراً اپنی خفیہ جیب سے ایک شیشی نکالی، اور چند قطرے سمتھ کے گلاس میں ڈال دیے۔ شیشی واپس جیب میں رکھنے کے بعد ، اس نے اپنا گلاس اٹھایا اور جوس پینے لگی۔
سمتھ واش روم سے واپس آیا، اپنا گلاس اٹھایا اور ایک ہی سانس میں خالی کر دیا۔ گلاس واپس رکھنے کے بعد ، دو تین منٹ کے اندر ہی وہ بے ہوش ہو چکا تھا۔ اولیویا نے اطمینان سے اپنے مشروب کا لطف اٹھایا، گلاس رکھا اور اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔
جب سمتھ کی آنکھ کھلی، تو اسے سر میں شدید درد محسوس ہوا۔ تکیے کے نیچے ہاتھ مار کر موبائل تلاش کرنے کی کوشش کی، لیکن موبائل وہاں نہیں تھا۔ اس نے لائٹ آن کی، اور کمرہ روشن ہوتے ہی اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ کپڑے فرش پر بکھرے ہوئے تھے، بیگ الٹا پڑا تھا، الماری کھلی ہوئی تھی، الماری کے اندر موجود سیف بھی کھلا تھا اور خالی بھی۔ اس نے جیبوں کو ٹٹولا، اور والٹ کو بھی موجود نہ پایا۔
وہ مکمل طور پر لٹ چکا تھا بلکہ برباد ہو چکا تھا۔ غیر ملک میں، پاسپورٹ، موبائل، پیسے، کارڈز، اور آئی ڈی کچھ بھی اس کے پاس نہیں تھا۔ درد سے اس کا دماغ پھٹ رہا تھا۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑے نیچے بیٹھتا چلا گیا۔
اولیویا دراصل ایک بلیک وڈو تھی۔ بلیک وڈو ارجنٹینا میں ایسی عورتوں کو کہتے ہیں جو اکیلے سیاح کو اپنے حسن کے جال میں پھانس کر اس کے کمرے تک پہنچ جاتی ہیں اور پھر سیاح کو بے ہوش کر کے اس کے سامان میں موجود قیمتی اشیاء، کپڑے، موبائل اور پیسے لوٹ کر رفو چکر ہو جاتی ہیں۔

