بدکار/ ٹھرکی مرد کی بیوی کو کیا کرنا چاہیے؟


ایک ایسا نظام جہاں محض شبہے کی بنیاد اور غیرت کے نام پر مرد عورت کو قتل کر دیتا ہے اور پھر عدالت سے رہا بھی ہو جاتا ہے، وہاں یہ ایک سلگتا ہوا سوال ہے۔

ایک ایسا معاشرہ جہاں ازدواجی تعلقات میں امین رہنا مرد کی بے وقوفی سمجھی جاتی ہے اور عورت کو صبر و شکر کا درس دے کر اس کی ذات کو مٹی میں ملا دیا جاتا ہے۔

سو عورت کیا کرے؟
کسی بھی سوال کا ایک جواب تو ہوتا نہیں۔ سو اس کے بھی دو جواب ہیں۔ ایک آسان اور دوسرا مشکل۔
آسان جواب پہلے سن لیجیے جو معاشرے کے برزجمہر خواتین و حضرات نے تجویز کیے ہیں ؛
”کل کی عورت برداشت کرتی تھی۔ یہ تو گھر سے باہر کے معاملات ہیں ایسے مرد جن کے اپنی بھابھیوں سے سلسلے ہوتے تھے۔ عورت آنکھوں سے دیکھتی، خاموش رہتی اور بچے پالتی رہتی تھی۔ اب کوئی یہ کہے کہ عورت کو برداشت ہی نہیں کرنا چاہیے تو وہ ان عورتوں کو ایک گھر اور ماہانہ اچھی رقم دیں پھر یہ مشورہ دیں”

”متفق۔ کیا یہ حالات اب بنے عورت تو ہر زمانے میں یہ دکھ برداشت کرتی آئی ہے۔ کل کی عورت میں برداشت صبر تھا منہ بند کر کے پڑی رہتی تھیں۔ آج کی عورت میں اگر صبر برداشت ہو تو مرد ایک وقت تک ہی باہر منہ مارتا ہے”

”اب آ جائیں گے فیمینسٹ۔

جن کا کہنا ہو گا کہ عورت برداشت نہ کرے، ایسے مرد کو لات مارے اور اپنی زندگی آزاد گزارے۔ تاکہ ساری زندگی دنیا کا ہر مرد اسے ٹھڈے مارتا رہے۔

ارے بھئی دو بیویوں کا ایک دوسرے کے ساتھ بھی اچھا گزارا ہوجاتا ہے”

یہ جو مرد باہر منہ مار رہا ہے تو کسی کھوتے سے نہیں مار رہا۔ اگلی جانب بھی عورت ہی ہے جو شادی شدہ، بیوہ، مطلقہ، کنواری کچھ بھی ہو سکتی ہے”

”مرد بدکار ہے تو اس کے گلے جو غیر عورت پڑی ہے وہ بھی بدکار ہی ہے اس کے گھر کے مرد بھی اسے برداشت کر ہی رہے ہیں نا "

”ایدھی کی بیوی نے کہا تھا کہ سو مردوں کے جوتے کھانے سے بہتر ہے کہ ایک مرد کے جوتے کھا کے بچے پال لو۔ یہ سب سے بہترین جملہ ہے جو میں آج کی عورت کو کہوں گی”

اس خاتون کو خلع لینے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے

خاوند سے کہہ دے کہ منہ ماری کرنے کی بجائے دوسرا تیسرا نکاح کر لے، اسے سمجھائے کہ منہ ماری کرنا شرعاً کس قدر گھناؤنا جرم ہے

اس کے ساتھ ساتھ مسلسل اللہ کریم سے دعا کرتی رہے کہ اللہ اس کے خاوند کو اس فعل بد کو ترک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

”اس سے یہ نہیں پوچھا آپ نے کہ تمہارے ہوتے ہوئے بھی تمہارا شوہر باہر ناجائز تعلقات کیوں بنانے کی کوشش کرتا ہے؟

اس سے پوچھنا چاہیے تھا کہ تم میں کیا کمی ہے؟
باہر کی عورتیں تمہارے شوہر کو ایسا کیا دیتی ہے جو تم نہیں دے سکتیں؟ نہیں دے سکتیں تو کیوں؟

”میرا ماننا ہے میکہ میں اگر سونے کے برتن میں بھی کھانا پانی ملے تو کبھی طلاق یا خلع کے بعد نہیں جانا چاہیے۔ جو ذلت میکہ جا کر برداشت کرنا ہے وہ شوہر کے گھر صبر کر کے برداشت کرے تو رب سوہنا اسے انسان بنا دیتا ہے”

”ہم مردوں کو دوسری شادی کی اجازت دے کے اس قبیح فعل سے بچا سکتی ہیں پر نہیں ہمیں تو سالم مرد چاہیے نہیں تو چاہے آگ لگے ہمارے گھروں کو

”سو فیصد متفق۔ ہمارے معاشرے میں ہر دوسرے نہیں تو تیسرے گھر کی یہی کہانی ہے کہ مرد دوسری عورتوں سے تعلقات رکھتا ہے عورت صبر کرے تو گھر ٹوٹنے سے بچ جاتا ہے اور کم از کم بچے ان حالات میں ماں باپ دونوں کے زیر سایہ پرورش پاتے ہیں اور یہ زیادہ ضروری ہے نا کہ عورت یا مرد خود ”کے لئے سوچے۔

”ہماری ایسی بہنیں اپنے خاوند کا ناجائز رشتہ تو برداشت کر لیتی ہیں۔ اپنی اور خاوند کی دنیا و آخرت برباد کرتی ہیں۔ لیکن گھر میں دوسری عورت کو برداشت نہیں کرتیں۔ جذباتی پن میں اپنا رشتہ توڑ لیتی ہیں۔ اور پھر جب خود پہ مشکلات آتیں ہیں تو خود کسی کی دوسری تیسری بیوی بننا بھی قبول کر لیتی ہیں۔ اللہ ہم پر رحم فرمائے”

”اگر شوہر نان و نفقہ دیتا ہے، حقوق پورے کرتا ہے تو بہتر یہی ہے کہ شوہر کو موقع دیں۔ خلع کے بعد اولاد رل جائے گی۔“

”یہ بھی پوچھتے کہ اس بندے سے خلع لے کر اگر دوسری جگہ شادی ہو گئی تو کیا شرط ہے کہ وہ فرشتہ ہی ہو ”

”کچھ بہنیں یہ سمجھتی ہیں کہ ایسے شوہر سے خلع لینا ہی بہتر ہے، ذرہ یہ بھی سوچ لیں جن معاشی مسائل کی ہر فیملی شکار ہے کیا بھائی اپنی فیملی کے ساتھ ایک اور فیملی کا بوجھ اٹھانے کہ قابل بھی ہے؟

پھر اگر وہ خود گھر سے باہر نکل کہ بچی کوئی روزگار تلاش کرتی ہے اس کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا؟

ماں کا ساتھ کب تک رہے گا، بچی کو کون دیکھے گا اگر جاب کے لئے گھر سے باہر جانا پڑے تو”

”کافی کیسز میں تو ایسا بھی ہوتا ہے خواتین کسی نہ کسی حد تک خود بھی ذمہ دار ہوتی ہیں ایسے معاملات میں۔

خاوند کو نظر انداز کرنا، ہر وقت کوسنا لڑائی جھگڑا کرنا، اس کی ضروریات کا خیال نہ رکھنا”

”اگر شوہر دوسری عورتوں کی طرف راغب ہے تو عورت کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ آخر وہ کون سی کمی ہے جس کی وجہ سے دوسری عورتوں کی طرف راغب ہے؟“

اگر، مگر، لیکن، چونکہ۔
مرد کے ہرجائی پن کو قابل قبول سمجھنے کی ہزاروں تاویلات و توجیہات!
عورت سے نہ ہمدردی نہ اس کے دکھ کا احساس، اُلٹا اسی کا قصور کہ تم آٹا گوندھتے ہوئے ہلتی کیوں ہو؟

یہ سب وہ کمنٹس ہیں جو ایک ایسی پوسٹ پہ ہم نے پڑھے جس میں خاتون نے گلہ کیا تھا کہ ان کے شوہر کے تعلقات دوسری عورتوں سے ہیں اور وہ علیحدگی اختیار کرنا چاہتی ہیں۔

خواتین و حضرات کی ایک بڑی تعداد علیحدگی کا سن کر تڑپ اٹھی اور پھر وہ کچھ کہا جس کی ایک جھلک ہم نے آپ کو دکھائی۔

یہ ہے ہمارا معاشرتی تانا بانا۔ جس میں عورت کو نہ سوال کرنے کی اجازت ہے نہ اعتراض کرنے کی۔ اور مسلے کا حل ایک ہی بتایا گیا ہے۔ بارٹر سسٹم۔

اگر عورت کے سر پہ نان نفقے کی صورت میں چھت اور پیٹ میں روٹی ہے تو بہت ہے اس کی گزر بسر کے لیے۔ اور کیا چاہیے؟

مرد بچے پہ روک ٹوک؟
بس کرو بی بی۔ ان سہولیات کے بدلے میں آنکھ کان منہ بند کر کے چپکی بیٹھی رہو۔
مالک سے کیا سوال و جواب کرنا؟

Facebook Comments HS