آخری نشانی
بس اڈے پر لوگوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری تھا، کوئی گلے مل کر خوش ہو رہا تھا تو کسی کی آنکھیں اپنوں کو الوداع کہہ کر نم ہو رہیں تھیں۔ گاڑیوں کے ہارن کی آوازیں کانوں کے پردے پھاڑ رہی تھیں عورتوں، بچوں اور جوانوں کی ملی جلی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ ”یہ لال بس کا ٹکٹ دے دیں کھڑکی سے جھانکتے ہوئے اسلم نے کہا“ ”سر آپ نے جانا کہاں ہے؟“ ایک نسوانی آواز نے
Read more
