مدثر نارو کی جبری گمشدگی: مریم نواز کی آزمائش
20 اگست 2024 کو مدثر نارو کو لاپتہ ہوئے چھ سال مکمل ہو گئے۔ سچل کو باپ کو دیکھے چھ سال ہو گئے۔ سچل چھ ماہ کا تھا جب سوچنے اور بولنے والے اس کے باپ صحافی مدثر نارو کو جبری لاپتہ کیا گیا تھا۔ اہلیہ اور سچل کے ساتھ گھر سے باہر تفریح کے لیے جانے والا بد قسمت مدثر لاعلم تھا کہ سچل کے ساتھ اس کا آخری دن تھا۔ اس سال مدثر کے لیے ہونے والے مظاہرے میں سلمان اکرم راجہ اور عمار جان بھی موجود تھے۔
یوں تو گئے برسوں میں مریم نواز بھی سچل کو گود اٹھائے پھرتی تھیں۔ اٹھانے والوں کو بلیک میل کرنا شاید مقصود تھا کیونکہ مملکتِ خداداد پاکستان کے طاقتور ترین صوبے کی وزیراعلیٰ کو اب تو مدثر کا نام بھی شاید یاد نا آ سکے لیکن اس بدنصیب ماں کا کیا کریں جس کی زندگی مدثر کی واپسی پہ آ کر رک گئی ہے۔ سیاست کا کھیل شاید اتنا ہی بے رحم ہوتا ہے اور اقتدار تک پہنچنے کے لیے اتنا ہی سفاک ہونا پڑتا ہے۔ مسنگ پرسنز کے ساتھ زمین پہ بیٹھنے والی مریم نواز کو اقتدار میں آنے کے بعد صرف ریاستی بیانیہ سوٹ کرتا ہے۔
کہتے ہیں مرنے والے پہ صبر آ جاتا ہے لیکن لاپتہ پہ نہیں۔ یہی حال ان لاچار ماں باپ کا ہے جو ہر پیشی پہ کسی معجزے کے انتظار میں بسوں کے دھکے کھاتے اسلام آباد پہنچتے ہیں۔ کسی عدالت سے تو شور کرنے والے سچل کو نکال بھی دیا جاتا ہے۔ سچل کے باپ کو بھی تو ایسے ہی نکال دیا گیا تھا۔ یہ وہی عدالتیں ہیں جو پورا ملک جلا دینے والوں کو گڈ ٹو سی یو کہتی ہیں۔ لیکن باپ کے ہوتے ہوئے یتیمی کا درد سہنے والے سچل کی موجودگی برداشت نہیں کرتیں۔
جب بھی جبری لاپتہ لوگوں کی بات ہوتی ہے مجھے مدثر نارو ہی یاد آتا ہے شاید اس کی وجہ ہے کہ مدثر کا تعلق بھی فیصل آباد سے تھا۔ یا شاید اس کی بیوی کا یوں چلے جانا مجھے سچل کے لیے بہت بڑا المیہ لگتا ہے۔ افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ 9 مئی سے پہلے ہمارے پنجابی بھائی جبری لاپتہ کے مفہوم سے نا آشنا تھے۔ عمران ریاض تو تاویلیں دینے میں اتنا آگے چلے گئے کہ خود لاپتہ ہو گئے۔ پھر سمجھ آیا کہ ہر وہ شخص جسے جبری لاپتہ کیا جاتا ہے وہ ظالم نہیں ہوتا۔ مظلوم بھی ہو سکتا ہے۔ جبری گمشدگی دنیا کے بہت سے ملکوں میں ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی ایسی مثالیں مل جاتی ہیں لیکن اتنی بڑی تعداد میں شاید نہیں ہوتیں۔ حالیہ بنگلہ دیشی انقلاب میں کئی ایسے لوگ گھر واپس آ گئے جنہیں حسینہ واجد کی حکومت نے کئی کئی سال سے لاپتہ کیا ہوا تھا۔
کئی برس سے لاشعوری کوشش رہتی ہے کہ ان تصویروں میں سچل کو نا دیکھوں۔ جب بھی سچل کو دیکھا۔ ایک ایسا خالی پن نظر آیا جو اس عمر کے بچوں میں ہوتا ہی نہیں۔ اس بچے کو کبھی کسی جگہ میں نے مسکراتے کھیلتے نہیں دیکھا۔ مدثر کے نام کے بورڈ اٹھائے بچپن میں بوڑھا سچل کبھی کہیں کبھی کہیں دکھائی دیا۔ اس کی آنکھوں میں مجھے زندگی دکھائی ہی نہیں دیتی۔ اس کے دادا دادی کے گزر جانے کے بعد اس کا کیا ہو گا۔ سچل کی تصویر دیکھ کر یہ سوچیں کتنا عرصہ دماغ میں ابلتی رہتی ہیں۔ لیکن کیا اس بے حس ملک کے بے حس حکمرانوں کے لیے ایک صحافی اتنا بڑا خطرہ بن گیا تھا۔ کہ اسے گمشدہ کرنا بہتر لگا۔
عمران ریاض ہر طرح کا کیچڑ اچھالنے کے لیے آزاد ہے لیکن مدثر نارو لاپتہ ہے۔ مدثر کی بیوی کا دل بھی کئی سال پہلے اسی اذیت کے کارن بند ہو گیا تھا۔ لیکن عمران کی بیوی کا درد محسوس کرنے والے کسی بے حس کو خاموشی سے مرجانے والی صدف چغتائی کی اذیت نظر نہیں آئی۔ اس سے پہلے کہ سچل کی پرورش کرنے والے یہ دو بد نصیب دل بھی بند ہو جائیں۔ خدا را سچل کو سچ بتا دیں۔ اس کا باپ زندہ ہے یا نہیں اسے جان لینے دیں۔ روز مرنے روز جینے کی اذیت سے ان دو لاچار ماں باپ کی مکتی دے دیں۔
وزیراعلیٰ صاحبہ! کچھ دن پہلے آپ نے تین صوبوں کے وزرائے اعلی کو بجلی کے بلز کی سبسڈی کا چیلنج دیا تھا۔ آج ایک چیلنج مدثر کی ماں کا بھی قبول کر لیں۔ مدثر کو کہیں سے لے آئیں۔ وگرنہ بلوچ مسنگ پرسنز کے ساتھ آپ کی تصویروں کے ساتھ ساتھ سچل کو اٹھانا بھی آپ کا ڈرامہ ہی کہلائے گا۔ حضور کا اقبال بلند ہو!



