عوامی مسائل سیاسی جماعتوں کی اولین ترجیح کب ہوں گے؟


مہنگائی اور بے روز گاری نے عوام کی معاشی زندگی اجیرن بنا دی ہے جن کے منفی اثرات نے سماجی زندگی کو تباہ کر دیا ہے۔ ایک طبقہ تو ان پیشہ ور گداگروں کا ہے جو ہر چوک اور ٹریفک سگنل پر بھیک کے طلب گار ہوتے ہیں اور ضعیف العقیدہ افراد انھیں پیسے دیتے نظر آتے ہیں۔ ایک طبقہ وہ ہے جو دھوکے اور جعل سازی سے لوگوں کو لوٹتا ہے۔ ایک وہ سفید پوش طبقہ ہے جن کی آمدن محدود اور رُکی ہوئی ہے۔ اشیاء خورد و نوش کی قیمتیں اُن کی دسترس سے باہر ہوتی چلی جا رہی ہیں مگر وہ پریشانیوں کے باوجود کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا۔ ہمارے یہاں حکومت اور مخیر حضرات کی ایک تعداد مدد بھی وہاں کرتی ہے جہاں سے داد نقد ملے۔

پیشہ ور گداگروں اور سفید پوش طبقے کے ذکر سے قرآن مجید میں سورہ بقرہ کی آیات نمبر 272۔ 274 یاد آ گئیں، جس میں بتایا گیا ہے کہ ” (بنی اسرائیل نہیں مانتے تو اے پیغمبر) ، اِن کو ہدایت پر لے آنا تمھاری ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے، (اپنے قانون کے مطابق) ہدایت دیتا ہے۔ (اس لیے اِن سے قطع نظر کر کے تم، مسلمان یہ سمجھ لو کہ) جو مال بھی تم خرچ کرو گے، اُس کا نفع تمھیں ہی ملنا ہے، اور تم اِسی لیے تو خرچ کر رہے ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو، اور (اِس مقصد سے ) جو مال بھی تم خرچ کرو گے، وہ (قیامت میں ) تمھیں پورا کر دیا جائے گا اور تمھارے حق میں ذرا بھی کمی نہ ہوگی۔

یہ خاص کر اُن غریبوں کے لیے ہے جو اللہ کی راہ میں گھرے ہوئے ہیں، (اپنے کاروبار کے لیے ) زمین میں کوئی دوڑ دھوپ نہیں کر سکتے، اُن کی خودداری کے باعث ناواقف اُن کو غنی خیال کرتا ہے، اُن کے چہروں سے تم اُنھیں پہچان سکتے ہو، وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے۔ (اُن کی مدد کرو) اور (سمجھ لو کہ اس مقصد کے لیے ) جو مال بھی تم خرچ کرو گے، اُس کا صلہ تمھیں لازماً ملے گا، اِس لیے کہ اللہ خوب جانتا ہے۔ جو لوگ شب و روز، علانیہ اور چھپا کر اپنا مال ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرتے ہیں، اُن کے لیے اُن کا اجر اُن کے پروردگار کے پاس ہے اور وہاں اُن کے لیے کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ کبھی غم زدہ ہوں گے ”۔

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ معاشی اور سماجی مسائل کے حوالے سے کسی سیاسی جماعت کا کوئی قابل ذکر پروگرام نہیں ہے۔ ہمارا حال تو اس وقت یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور وہ مذہبی جماعتیں بھی جو سیاست میں سرگرم ہیں مفاد ات کے لیے ایک کلب کے سوا کچھ نہیں۔ مثبت تبدیلی جس کے لیے وسائل و اختیارات، مذہب اور سماج پر اجارہ داریوں کو ختم کر نا بنیادی شرط ہے اور اس کے لیے شعور اور آگہی کو عام کرنا پہلا قدم ہے۔ اس باب میں ہماری سیاسی و مذہبی جماعتیں بانجھ ہیں۔ اس کے لیے مثبت سوچ رکھنے والے ہر فرد کو اس میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے، کہ لوگ مسائل کی بنیاد پر متحد ہوں اور زبان، فرقے اور علاقائی تعصب کے زندان سے نکل سکیں۔

حدیث مبارکہ جو عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں کہ ”نبی مکرم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپ کو دیکھنے کے لیے امڈ آئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے : اللہ کے رسول آ گئے ہیں، اللہ کے رسول آ گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں بھی اُن کے ساتھ باہر نکلا۔ پھر میں نے جب آپ کا چہرہ دیکھا تو مجھے اُسی وقت اندازہ ہو گیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے آدمی کا نہیں ہو سکتا ۔ اُس موقع پر پہلی بات جو آپ کی زبان سے میں نے سنی، وہ یہ تھی کہ کہ آپ نے فرمایا :لوگو، سلام کو عام کرو، بھوکوں کو کھانا کھلاؤ، رشتے داری کا حق ادا کرو اور نماز کا اہتمام رکھو، اُس وقت بھی جب لوگ سو رہے ہوتے ہیں۔

تم یہ کرو گے تو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“ اِن اوصاف کی حامل شخصیات جس میدان میں بھی قدم رکھیں گی خواہ وہ سیاست ہو، معیشت ہو، ادب ہو، سماجی مسائل ہوں وہ وہاں استحصال اور جبر کا خاتمہ کریں گی اور اللہ کی مدد اُن کے ساتھ ہوگی۔ اقبالؒ نے جو کہا ہے کہ ”جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی“ طالبِ علم کے مطابق اِسی طرف اشارہ ہے۔ اسی طرح مولانا سندھی سماجی تبدیلی کے عمل کو انقلاب سے تعبیر کرتے ہیں اور سیاسی عمل کو جہاد۔

ان کے نزدیک سماجی تبدیلی سیاسی تبدیلی کی بنیاد بنتی ہے۔ محمود مرزا صاحب بھی قومی سیاست پر سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے تسلط کو توڑنے کے لیے سماجی خدمت کے ذریعے سیاست میں آنے والوں کو ناگزیر قرار دیتے تھے۔ پاکستان میں حقیقی تبدیلی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عوام سیاسی اختیارات امیر ترین اور بدعنوان اشرافیہ سے سماجی سیاستدانوں کو منتقل نہ کر دیں جو انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کے لیے جد و جہد کریں۔

طالبِ علم کا خیال ہے کہ اس تجویز پر عمل درآمد کے لیے بھی اسٹیٹس کو کی حامی جماعتوں کے خلاف سخت جدوجہد کرنا ہوگی۔ ہماری پوری سیاسی تاریخ میں سیاسی جماعتیں ہوں یا اُن پر مشتمل اتحاد، اُن کا مقصد اس استحصالی نظام کو کمزور اور ختم کرنے کی بجائے حکومت ِ وقت کو کمزور کرنا رہا ہے۔ اس غیرمنصفانہ معاشی نظام کے خاتمے کے لیے سماجی طور پر سرگرم سیاستدانوں اور دائیں اور بائیں بازو کی فکر کی حامل جماعتوں کو ایک ایسے سماجی اور معاشی نظام کے قیام کے لیے تحریک کا آغاز کرنا چاہیے جو لوگوں کی فلاح و بہبود کو فروغ دے اور ان اسباب کو ختم کرے جو غربت کو جنم دیتے ہیں۔ اس کے لیے ترقی پسند ہوں یا رجعت پسند دنوں کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر صرف اور صرف عوام اور وطن کی ترقی اور خوشحالی کے لیے متحد ہونا ہو گا۔

Facebook Comments HS