گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں نیا ڈریس کوڈ نافذ


ماضی کی تاریکیوں میں مسلسل تاکا جھانکی کرنے والے کبھی آ گے نہیں بڑھ سکتے، ماضی پرست اور خودی کے خول میں بند نرگسیت کا شکار قوموں کا سب سے بڑا المیہ بھی یہی ہوتا ہے کہ انہیں اپنی جامد ذہنیت سے باہر نکلنے میں ڈر، خوف، ہچکچاہٹ اور بے بنیاد قسم کے اوہام سے محسوس ہوتے رہتے ہیں۔

جو قومیں وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں پس و پیش سے کام لیتی رہتی ہیں وہ ایک دن تاریخ کے کوڑے دان میں کہیں گم ہو جاتی ہیں، ان کا نظام تعلیم، کھوکھلا طنطنہ، تہذیب و ثقافت اور تمدن وقت سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے زبوں حالی کا شکار ہو جاتا ہے اور سب کچھ ایک دن بس ایک تاریخی حوالہ بن کے رہ جاتا ہے۔

دنیا بھر میں سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے مہذب دنیا میں نجانے کیسی کیسی کاوشیں جاری ہیں، تعلیمی ادارے اپنی نئی نسل کو آج کے جدید تقاضوں اور علم و شعور سے آ راستہ کرنے کے لیے دن رات کاوشوں میں لگے ہیں۔

انہیں بخوبی اندازہ ہے کہ آج کی نسل کے چیلنجز کیا ہیں اور بطور ریاست اکیڈیمک سطح پر ہمیں ان کے لیے مزید کیا کرنے کی ضرورت ہے۔

وہ اپنی تجربہ گاہوں اور تعلیمی اداروں میں ہر وہ سہولت فراہم کرتے ہیں جو ان کی موجودہ یا آ نے والی نسلوں کی سمجھ بوجھ اور بصیرت کو چمکانے میں اہم کردار ادا کرسکے۔

دوسری طرف ہمارے تعلیمی ادارے ہیں جہاں سہولیات تو درکنار پڑھانے والے اساتذہ بھی پورے نہیں ہیں اور جو ہیں وہ بھی کوئی زیادہ سر دردی نہیں لیتے بس وقت گزاری کر کے گھر چلے جاتے ہیں۔

یونیورسٹیاں آئیڈیاز کی آماجگاہ کہلاتی ہیں، جہاں بچوں کو خود سے سوچنا سکھایا جاتا ہے لیکن ہماری یونیورسٹیاں نئی نسل کو کچھ نیا دینے میں بری طرح سے ناکام ہو چکی ہیں۔ اب اسے مقام عبرت کہیں یا حیرت!

کہ مدارس کا نظام ہماری یونیورسٹیوں سے کہیں بہتر ہونے لگا ہے، بہترین طرز کی کمپیوٹر لیب اور باقاعدہ کالج و یونیورسٹی کی طرح سے مختلف مضامین بشمول انگریزی بھی پڑھانے لگے ہیں جبکہ ہماری یونیورسٹیاں بڑی تیزی سے مدارس کی جگہ لینے لگی ہیں۔

القادر روحانی یونیورسٹی، تعلیمی اداروں میں مشہور و معروف مبلغین کے تبلیغی بیانات اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کا حالیہ اقدام جس میں بچے بچیوں کو باحیا و باکردار بنانے کے لیے ٹی شرٹ اور جینز پر پابندی ایسے اقدامات ہماری مجموعی ذہنیت کے عکاس ہیں۔

آج کی دنیا میں ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ ہمیں لگتا ہے کہ لوگوں کے درمیان حیا و شرم اور کردار کے نام پر بیریئر کھڑے کر دینے سے ہم اپنی نسل کو ”صالح نوجوان“ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے، ایسا سوچنا محض سراب یا خام خیالی ہے۔ کیا یوم حیا منا لینے سے ویلنٹائن ڈے کی صحت پر کوئی اثر پڑا؟

زندگی کی حقیقتوں یا سچائیوں کے گرد روایتی رکاوٹیں کھڑی کر دینے سے انسانی تجسس و جستجو کی قدرتی جبلت کو کچلا نہیں جا سکتا۔ انسان اور انسانی جسم سے جڑے ہوئے مسائل، تقاضے یا فنکشنگ کو زیر بحث لانا اور نئی نسل کو ان اہم موضوعات پر آ گاہی فراہم کرنا وقت کا تقاضا ہے، اس میں خاتون مرد کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔

اگر جینز، ٹی شرٹ یا کوئی کھلا ڈھلا لباس پہن لینے سے مخالف جنس کی شلوار میں زلزلہ کی سی کیفیت پیدا ہوتی ہے یا طبیعت جنسی استحصال کی طرف مائل ہونے لگتی ہے تو اس میں قصور کس کا ہے؟

کیا مخالف جنس کو اس وجہ سے ڈھانپ دیا جائے یا علیحدہ کر دیا جائے یا مخصوص ڈریس کوڈ نافذ کر دیا جائے کہ ان کا جنسی استحصال نہ ہو جائے عقل مندانہ اقدام ہو گا؟

کیا ذہنی و جنسی مریضوں کو سماج میں کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے یا ان کو سماج سے الگ کر کے علاج و معالجہ کی طرف توجہ دی جاتی ہے؟

نجانے کتنی بچیاں اس پسماندہ یا گھسے پٹے سے کلیشے یا ذہنیت کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر پاتیں کہ معاشرہ، سکول و کالج یا یونیورسٹی میں فحاشی یا بے حیائی بہت زیادہ ہے اور یہ جگہیں بچیوں کے لیے محفوظ نہیں ہیں۔

تو سوال یہ ہے کہ نقصان کن کا ہوا یا تعلیم سے محروم کون رہا؟ اور اس قسم کی مکروہ ذہنیت سے متاثر کون ہوئے جو مجموعی آ بادی کا نصف سے بھی زیادہ ہیں جنہیں خواتین کہا جاتا ہے۔

مردوں کی صحت پر تو کوئی اثر نہیں پڑتا، لیکن یہاں ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ بچے جنہیں بیٹے کہا جاتا ہے جو انہی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں کیا والدین انہیں گھر میں یہ تربیت دیتے ہیں کہ خواتین کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا چاہیے؟

کیا والدین اپنے حصے کی ذمّہ داری نبھاتے ہیں؟
کیا وہ بیٹوں کو تربیت دیتے ہیں کہ بہنوں کے ساتھ کیسے رہا جاتا ہے؟

اگر ایک بھائی اپنی بہن کے رشتے کی کیمسٹری کو سمجھ جاتا ہے تو سماج میں خاصا سلجھاؤ آ سکتا ہے لیکن اس طرز کی مائنڈ میکنگ کرنے کی یہ بھاری ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ ظاہر ہے وہ والدین ہی ہوتے ہیں۔

پردے کے نام پر کسی کو پس دیوار کرنا، جنس کے نام پر انسانوں سے الگ کرنا یا ان سے شناخت چھین لینا ایک طرح سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں نیا ڈریس کوڈ نافذ

  • 25/08/2024 at 6:45 صبح
    Permalink

    دنیا کے متعدد کالج اور جامعات میں ڈریس کوڈ ہوتا ہے۔ اس میں اتنا جذباتی ہونے کی کیا بات ہے۔
    نوجوان جامعہ سے باہر جاکر جو پہننا چاہیں آزاد ہیں۔ ایک طرف ہم مانتے ہیں کہ روم میں رہنا ہے تو وہی کرو جو اہل روم کرتے ہیں اور وہی پہنو جو وہ پہنتے ہیں۔ اگر کسی تعلیمی ادارے میں ڈریس کوڈ ہے اور طالب علم اس ڈریس کوڈ کو پسند نہیں کرتا تو اپنا داخلہ کسی ایسی جامعہ یا کالج میں لے لے جہاں اس کو یہ آزادی ہو۔
    بہت کچھ سامنے ان آنکھوں سے دیکھا ہوا ہے اور میں ادارے کے سربراہ سے متفق ہوں۔
    جسم ڈھانپبے سے نہ شخصی آزادی ختم ہوجاتی ہے اور نہ تحقیق کے سوتے خشک ہوجاتے ہیں۔
    اسلام آباد کے متعدد اداروں میں پابندیاں عرصے سے موجود ہیں اور وہ بھی ترقی کررہے ہیں۔ کسی کو کوئی پریشانی نہیں۔

Comments are closed.