بقا کی کشمکش اور اداروں کی بے توقیری!


سابق سفارتکار توقیر حسین اپنے حال ہی میں شائع ہونے والے مضمون میں رقم طراز ہیں کہ ’پاکستان کا سیاسی جسد عشروں کی آمرانہ اور جمہوریت کی بگڑی ہوئی شکل میں نیم جمہوری حکمرانی کے باعث اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے۔ قومی ادارہ جاتی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ قومی اداروں کی شکست و ریخت کا ہی نتیجہ ہے کہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی اور معاشی و معاشرتی استحکام مفقود ہو چکے ہیں‘ ۔

قومی ریاستوں کی پانچ سو سالہ تاریخ میں قوموں کے عروج و زوال کے اسباب پر نگاہ رکھنے والے سوالات اٹھاتے ہیں کہ کیا قوموں کے مابین معاشرتی اور معاشی اونچ نیچ کے پسِ پشت قومی تہذیب و تمدن کار فرما ہے؟ کیا جغرافیائی یا موسمیاتی اسباب قوموں کی ترقی یا پسماندگی کا باعث بنتے ہیں؟ یا کہ کچھ قوموں کی پسماندگی کی وجہ ’کم علمی (Ignorance Theory) ہے؟ معلوم ہوا کہ ان تمام سوالات کے جوابات بالعموم نفی میں ہیں۔ اس سب کے برعکس دیکھا گیا ہے کہ گزشتہ چند صدیوں پر محیط کچھ قوموں کی بے پناہ ترقی کا بنیادی سبب ان معاشروں کے اندر ایلیٹ کلچر کے خاتمے اور مستحکم و آزاد قومی اداروں کی موجودگی رہا ہے۔ دورِ حاضر میں دنیا پر حکمرانی کرنے والی کسی بھی قوم کی تاریخ کو اگر کھنگالا جائے تو اُن کے اُس دور کے رویے ہمارے آج کے طرزِ عمل سے بہت مختلف نہیں ہوں گے۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ان قوموں (بالخصوص مغربی یورپ اور شمالی امریکہ) کے اندر معاشرتی شعور بیدار ہوا تو انہوں نے قومی اداروں کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیے جانے کو اپنا شعار بنا لیا۔ بیسویں صدی میں اس امر سے قطع نظر کہ کس ملک میں کون سا طرزِ حکومت رائج رہا، یہ طے ہو چکا تھا کہ وہی قومیں دنیا پر حکمرانی کریں گی جہاں الیٹ گروہوں کے مفادات کی نگہبانی کرنے والا نہیں، انصاف پر مبنی معاشی اور معاشرتی نظام اور وسیع البنیاد قومی ادارے کارفرما ہوں گے۔

وطنِ عزیز وجود میں آیا تو ہمیں نوآبادیاتی نظام میں شامل ادارے ورثے میں ملے تھے۔ تمام سیاسی اور غیرسیاسی اداروں میں سویلین بیوروکریسی اور برٹش انڈین آرمی سے ٹوٹ کر وجود میں آنے والی پاکستان آرمی دیگر اداروں کی نسبت زیادہ منظم اور مستحکم پیشہ ورانہ بنیادوں پر استوار تھے۔ اس کے برعکس سیاسی جماعتیں زیادہ تر جاگیرداروں اور حلقہ انتخاب سے محروم ان مہاجر سیاست دانوں پر مشتمل تھیں کہ جنہیں امورِ مملکت چلانے کا کوئی خاص تجربہ نہیں تھا۔ اس کے باوجود کہا جا سکتا ہے کہ ورثے میں ملنے والے اداروں کی حالتِ زار لگ بھگ ایک جیسی تھی۔ تاہم کشمیر کی جنگ، دو اطراف سے لاحق سلامتی کو خطرات اور اس کے نتیجے میں بقاء کی لامتناہی کشمکش کے نتیجے میں ریاست کی تمام تر توجہ افواج پاکستان کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے پر مرکوز ہو کر رہ گئی۔ کئی دیگر شخصی، داخلی اور علاقائی عوامل کی بناء پر گزرتے برسوں میں ’غیر منتخب ادارے‘ نوزائیدہ مملکت کے ’منتخب اداروں‘ کے مقابلے میں نظام پر حاوی ہوتے چلے گئے۔ اپنے مخصوص مزاج کی بناء پر ’غیر منتخب اداروں‘ نے ’مضبوط مرکز‘ پر توجہ کی تو صوبوں میں احساسِ محرومی اس حد تک پیدا ہوتا چلا گیا کہ جس کا منطقی نتیجہ بالآخر ملک کے دولخت ہونے کی شکل میں برآمد ہوا۔

بھٹو صاحب کے دور میں متفقہ آئین منظور ہوا تو اس کا بنیادی ڈھانچہ تین ستونوں پر استوار تھا۔ فوج کے نئے سربراہ نے ادارے کو سیاست سے الگ کیے جانے کے عزم کا اظہار کیا۔ تاہم جلد ہی ان کو ایسے احکامات ملنے لگے کہ جو ادارے کے پیشہ ورانہ کردار سے میل نہیں کھاتے تھے۔ بسا اوقات ایسے احکامات جی ایچ کیو کو بائی پاس کرتے ہوئے براہِ راست فارمیشن کمانڈرز کو دیے جانے لگے۔ آرمی چیف اس رویے پر معترض ہوئے تو انہیں انتہائی تضحیک آمیز انداز میں برطرف کر دیا گیا۔ عدلیہ کو زیرِ بار لانے کے لئے آئین میں ترمیم کے لئے کوششوں کا آغاز روزِ اول سے ہی ہو گیا۔ تین چوتھائی اکثریت کے حصول کے لئے ہی قبل از وقت انتخابات اور بعد ازاں دھاندلی کا ڈول ڈالا گیا۔ جو نتیجہ برآمد ہوا، وہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔ فوجی حکمرانوں کی بات اور ہے، مگر ہر سویلین حکمران کی خواہش بھی یہی رہی ہے کہ وہ ریاستی تکون میں سے ایک، یعنی عدلیہ کو زیرِ بار لا کر بلا شرکتِ غیرے حکومت کرے۔ اس کے لئے پارلیمنٹ اور انتظامی مشینری کو استعمال کیا جاتا ہے۔ عسکری ادارہ اگرچہ انتظامی ستون کا ایک ذیلی ادارہ ہے تاہم روایتی طور پر اس کا وزن کسی ایک آئینی ستون کے پلڑے میں پڑ جانا ہی فیصلہ کن امر سمجھا جاتا رہا ہے۔ چنانچہ تمام حکمرانوں کی یہی کوشش رہی ہے کہ عدلیہ کے ساتھ ساتھ عسکری ادارے کو بھی قابو میں رکھا جائے۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر عسکری ادارے کی سربراہی کے لئے اپنی پسند کے افراد کو ڈھونڈا جاتا رہا ہے۔ شجاع نواز نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’کراس سورڈز‘ میں مرحوم آرمی چیف جنرل آصف نواز کے حوالے سے لکھا ہے کہ کیسے ملک کے منتخب وزیرِ اعظم نے فوج کے اندر سینئر افسروں کی پروموشن کے وقت اُن سے ’ساڈے‘ (ہمارے ) بندوں کا خیال رکھنے کی درخواست کی تھی۔ جنرل باجوہ کی تعیناتی اور بعد ازاں اُن کی مدتِ ملازمت میں توسیع کن عوامل کے تحت ہوئی، اس کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں اب کوئی اور نہیں، خود حکومتی وزراء پھوڑ رہے ہیں۔

سنیارٹی کا اصول طے ہو جانے کے بعد عدلیہ کو قابو میں لانے کا طریقہ نسبتاً گنجلک ہو چکا ہے کہ اس کے لئے آئینِ پاکستان میں ترمیم درکار ہے۔ ترمیم کے لئے تین چوتھائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم تین چوتھائی اکثریت کی عدم دستیابی کی صورت میں پارلیمنٹ میں اچانک درجن دو درجن معزز ارکان کی موجودگی سے فائدہ اٹھا کر کوئی بل پاس کروا کر وقتی طور پر کام چلایا جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے عدلیہ کو زیرِ دام لانے کے لئے عام طور پر کورٹ میں ججوں کی متعین تعداد یا اُن کی مدتِ ملازمت میں رد و بدل کیا جاتا ہے۔ انگریزی میں اِس آئینی واردات کو ’کورٹ پیکنگ‘ کہا جاتا ہے۔

بات سابق سفارتکار جناب توقیر حسین کے مضمون سے چلی تھی، کہاں تک پہنچی۔ دیکھنا یہ ہے کہ قومی اداروں کی شکست و ریخت سے متعلق ان کی بات کہاں تک درست ہے۔ دکھائی تو یہی دیتا ہے کہ کسی کی چونچ تو کسی کی دُم، اب اس کے ساتھ نہیں۔ بد قسمتی سے ملک پر مسلط حکومتی بندوبست، قانونی اساس، سیاسی عزم اور اخلاقی جواز سے بظاہر محروم ہے۔ دوسری جانب گھر میں کوئی ایک بڑا بوڑھا دکھائی نہیں دے رہا کہ جس کی طرف بیچ بچاؤ کے لئے دیکھا جا سکے۔ دھونس دھاندلی کا دَور دورہ ہے۔ سبھی ایک دوسرے کو مٹانے کے درپے ہیں۔ سفید پوشوں کے لئے پردہ پوشی اگرچہ کبھی اس قدر مشکل نہ تھی، بقاء کی لامتناہی کشمکش میں مگر قومی ادارے جس قدر بے وقعت و بے توقیر ہوئے ہیں، اِس کی مثال ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔

Facebook Comments HS