کچھ ہم جنس پسندی اور مذہبی اخلاقیات کی باتیں
پیارے درویش وجاہت مسعود!
ہمارے بہت سے مشترکہ دوست ہمارے ادبی و سماجی محبت ناموں کو بڑے ذوق و شوق سے پڑھ کر محظوظ و مسحور ہوتے ہیں۔ سلیم ملک صاحب نے تو ان کے بارے میں ایک مزاحیہ کالم بھی لکھ ڈالا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ہم دونوں کو اب عورتیں لفٹ نہیں کرواتیں اس لیے ہم ایک دوسرے کو خط لکھتے ہیں۔ آپ نے نہایت رومانوی عاجزی و انکسار کا مظاہرہ کیا۔ اپنے بارے میں صرف یہ عرض کر سکتا ہوں کہ دختران خوش گل اگر مجھ پر اپنی زلفوں کا سایہ کرنا چاہتی ہیں تو اس میں درویش کا کیا قصور کیونکہ درویش کا شروع سے ہی یہ فلسفہ حیات رہا ہے کہ
مل جائے تو شکر نہ ملے تو صبر
یہ تو میری خوش بختی رہی کہ شکر کرنے کے مواقع صبر کرنے کے مواقع سے کہیں زائد میسر آئے۔
آپ نے اپنے درویش نامے میں آسکر وائلڈ کا ذکر کیا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ وہ ایک غیر روایتی سوچ اور فلسفہ حیات کے مالک تھے اور انہوں نے اپنے غیر روایتی طرز زندگی کی بھاری قیمت ادا کی۔
مغربی دنیا میں بھی ایک وہ زمانہ تھا جب ہم جنس پسندی کو غیر فطری، غیر اخلاقی اور غیر قانونی طرز حیات سمجھا جاتا تھا اور گے اور لیسبین مردوں اور عورتوں کو یا قتل یا پابند سلاسل اور یا شہر بدر کر دیا جاتا تھا۔
بعض ممالک تو انہیں ٹورسٹ ویزا دینے سے انکار کر دیتے تھے۔ آسکر وائلڈ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ میں نے ایک زمانے میں THE TRIALS OF OSCAR WILDE BY MONTGOMERY HYDE پڑھی تھی جس میں عدالت کے جج اور آسکر وائلڈ کے مکالمے تفصیل سے لکھے گئے تھے۔ عدالت میں بھی آسکر وائلڈ کی ذہانت دیدنی تھی۔
میرے درویش دوست!
گے اور لیسبین لوگوں کے ساتھ زیادتی کی حد یہ ہے بیسویں صدی کے شروع میں مغربی ماہرین نفسیات بھی انہیں ذہنی مریض سمجھتے تھے اور ہوموسیکشول لوگوں کا علاج کر کے انہیں ہیٹروسیکشول بنانے کی ناکام کوشش کرتے تھے۔
جب ایسے رویے کے خلاف احتجاج ہوا تو ماہرین نفسیات نے اس موضوع پر غور کیا اور پھر اسے ذہنی بیماریوں کی فہرست سے خارج کر دیا۔
میں نے کئی دہائیاں پیشتر ’ہر دور میں مصلوب‘ کتاب لکھی تھی جس میں گے اور لیسبین طرز حیات کا سائنسی ادبی اور نفسیاتی تجزیہ پیش کیا تھا۔ اس کتاب کو جب پاکستان کے پبلشرز نے چھاپنے سے انکار کیا تو میرے کلکتے کے ڈرامہ نگار دوست اور ہمزاد ظہیر انور نے اس کتاب کو ہندوستان سے چھپوایا اور روایتی لوگوں کی سنگ زنی کو برداشت کیا۔ میرے روشن خیال دوست کہتے ہیں کہ اس کتاب کو دوبارہ چھپوانا چاہیے۔
جب مغربی ممالک میں ہم جنس پسندوں کے بارے میں ہمدردانہ رویہ پیدا ہوا اور گے اور لیسبین مردوں اور عورتوں نے اپنے انسانی اور رومانی حقوق کا مطالبہ کیا تو سماجی رویوں کے ساتھ ساتھ قوانین بھی بدلے اور انہیں شادی کا حق دیا گیا۔ جن ممالک میں اب گے اور لیسبین شادیاں ہو سکتی ہیں ان میں کینیڈا بھی شامل ہے۔ اسی لیے SAPIENS کتاب کے خالق یووال ہراری نے اپنے محبوب سے کینیڈا میں شادی کی رسم ادا کی۔ مغربی دنیا نے اب اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے کہ دو عاقل و بالغ انسانوں کا، چاہے وہ مرد ہوں یا عورتیں، جذباتی و رومانی رشتہ ان کا ذاتی معاملہ ہے جس میں ریاست یا مذہب کو مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں۔
کینیڈا کے وزیر اعظم پیر ٹروڈو نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ حکومت کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ شہریوں کی خواب گاہوں میں جھانکے۔ جب لوگ مجھ سے کینیڈا اور پاکستان کا فرق پوچھتے ہیں تو میں کہتا ہوں کہ کینیڈا کا وزیر اعظم کینیڈا کو سیکولر ریاست بنانے کا سوچتا ہے اور پاکستان کا وزیر اعظم اسے ریاست مدینہ بنانا چاہتا ہے۔
قبلہ و کعبہ!
انسانی تاریخ کا ایک وہ دور تھا جب مذہب زندگی کے ہر شعبے اور ہر پہلو پر حاوی تھا۔ انسانی ارتقا کے سفر میں مختلف شعبوں نے مذہب سے آزادی حاصل کی اور ایک سیکولر رویے کی بنیاد رکھی جس میں گرجے اور ریاست کو علیحدہ کر کے SEPARATION OF CHURCH AND STATE کا فلسفہ حیات اپنایا۔ اب ہم صحت کو طب کے پیمانوں پر اور ادب کو جمالیات کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔ اب ہم جانتے ہیں کہ اخلاقیات کا تعلق مذہب سے زیادہ انسانیت سے ہے اور غیر مذہبی انسان بھی اعلیٰ اخلاقی زندگی گزار سکتے ہیں۔
جو لوگ زندگی کے ہر شعبے کو مذہب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ گناہ و ثواب کی بھول بھلیوں میں کھو جاتے ہیں اور یہ سمجھ نہیں پاتے کہ آپ جس قدر مذہبی رویے لوگوں پر مسلط کریں گے آپ مولویوں اور پادریوں کو اتنا ہی طاقتور بنائیں گے اور عوام میں اتنی ہی زیادہ منافقت کو فروغ دیں گے۔
مشرقی دنیا کے سعادت حسن منٹو اور مغربی دنیا کے آسکر وائلڈ ان ادیبوں میں سے تھے جنہوں نے اس منافقت کو بے نقاب کیا اور اس کی بھاری قیمت ادا کی۔ وائلڈ اور منٹو دونوں کو اپنے دفاع میں عدالتوں کے چکر لگانے پڑے۔
حضور والا!
ہم سب جانتے ہیں کہ ہر دور کے شاعروں ادیبوں اور دانشوروں نے غیر روایتی زندگی گزارنے کی بھاری قیمت ادا کی اور یہ قیمت عورتوں کو مردوں سے کہیں زیادہ ادا کرنی پڑی۔ جب عورتوں نے روایتی اور مذہبی اخلاقیات کو چیلنج کیا تو ان پر روایتی مولویوں نے ہی نہیں روایتی ادیبوں نے بھی فتوے لگائے۔ مغرب میں اس کی مثال ورجینیا وولف اور اینائس نن تھیں اور مشرق میں فروغ فرخ زاد اور سارہ شگفتہ۔ سارہ شگفتہ کی نثری نظموں پر مذہبی فتووں کے ساتھ ساتھ ادبی فتوے بھی لگے۔ یہ فتوے ان روایتی ادیبوں اور شاعروں نے لگائے جن کے چہرے کی بجائے پیٹ میں داڑھی تھی۔
سارہ شگفتہ کی خوش بختی یہ تھی کہ انہیں امرتا پریتم جیسی ادیبہ مل گئیں جنہوں نے ’ایک تھی سارہ‘ لکھ کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ سارہ شگفتہ اپنی زندگی میں راندہ درگاہ ٹھہریں لیکن ان کی موت کے بعد ان کی غیر روایتی شاعری اور زندگی پر بہت کچھ لکھا گیا اور اب بھی لکھا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر فہیم شناس کاظمی نے سارہ شگفتہ کی نظموں اور ان کے بارے میں لکھے گئے مقالوں کو یکجا کیا ہے اور ایک آٹھ سو صفحات کی کتاب ’کلیات سارہ شگفتہ‘ کے نام سے فکشن ہاؤس سے چھپوائی ہے۔
جن لوگوں نے وہ کتاب نہیں پڑھی میں ان کی خدمت میں اس کتاب سے پروین شاکر کی ایک نظم پیش کرنا چاہتا ہوں جو سارہ شگفتہ کے سماجی اور ادبی المیے کا ماحصل پیش کرتی ہے۔ اس نظم کا عنوان ہے
ٹماٹر کیچپ
ہمارے ہاں
شعر کہنے والی عورت کا شمار عجائبات میں ہوتا ہے
ہر مرد خود کو اس کا مخاطب سمجھتا ہے
اور چونکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا
اس لیے اس کا دشمن ہو جاتا ہے
سارہ نے ان معنوں میں
دشمن کم بنائے
اس لیے کہ وہ وضاحتیں دینے میں
یقین نہیں رکھتی تھی
وہ غریب کی جورو بننے سے قبل ہی
سب کی بھابی بن چکی تھی
ایک سے ایک گئے گزرے ادیب کا
دعویٰ تھا
کہ وہ اس کے ساتھ سو چکی ہے
صبح سے شام تک
شہر بھر کے بے روزگار دانشور
اس پر بھنبھناتے رہتے
جو کام کاج سے لگے ہوئے تھے
وہ بھی
سڑی بسی فائلوں اور بوسیدہ بیویوں سے اوب کر
ادھر ہی آتے
(بجلی کے بل۔ بچے کی فیس۔ اور بیوی کی دوا سے بے نیاز ہو کر اس لیے کہ یہ چھوٹے لوگوں کے مسائل ہیں )
سارا دن
ساری شام
اور رات کے کچھ حصے تک
ادب اور فلسفے پر کافی پیغمبرانہ گفتگو ہوتی
بھوک لگتی
تو چندہ وندہ کر کے
نکڑ کے ہوٹل سے روٹی چھولے آ جاتے
پھر عظیم دانشور
اس سے چائے کی فرمائش کرتے ہوئے کہتے
تم پاکستان کی امرتا پریتم ہو
بے وقوف لڑکی
سچ سمجھ لیتی
شاید اس لیے بھی
کہ اس کے نان و نفقہ کے ذمہ دار
تو اسے ہمیشہ
کافکا کے بسکٹ
اور نرودا کی کافی پلاتے رہے
اس رال میں لتھڑے ہوئے کومپلیمنٹ کے
بہانے اسے روٹی تو ملتی رہی
لیکن کب تک
ایک نہ ایک دن تو اسے بھیڑیوں کے چنگل سے نکلنا ہی تھا
سارہ نے جنگل ہی چھوڑ دیا
جب تک وہ زندہ رہی
ادب کے رسیا اسے بھنبھوڑتے رہے
ان کی محفلوں میں اس کا نام
اب بھی لذیذ سمجھا جاتا ہے
بس یہ کہ اب وہ اس پر دانت نہیں گاڑ سکتے
مرنے کے بعد انہوں نے اسے
ٹماٹر کیچپ کا درجہ دے دیا ہے!
پیارے درویش!
اب آپ مجھے بتائیں کہ کسی معاشرے میں مذہبی شدت پسندی۔ بنیاد پرستی۔ تشدد روی اور منافقت کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے اور کیسے ایک سیکولر اور انسان دوست ریاست کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
آپ کا درویش دوست
خالد سہیل


