فیض سے فیض تک


Hassan Umar Sahafi

آج کل پاکستان میں اگر مگر کی گفتگو آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے کہ اگر یہ ہو جاتا تو شاہد یہ نہ ہوتا اور نہ ہی دوسرے آئین کی ضرورت ہوتی اور نہ ہی سقوط ڈھاکہ ہوتا اور نہ ہی آج ہم فیض حمید کے فیلڈ کورٹ مارشل کے متعلق بات کر رہی ہوتے۔

شہر اقتدار کنٹینروں کا جنگل بن چکا ہے اقتدار کے ایوانوں کے طرف جانے والی شاہراہوں پہ کنٹینروں کی بھرمار ہے، یہ بڑے بڑے کنٹینر اس خوف کو اظہار کر رہے ہیں جو شہر کے آخری منطقے میں اپوزیشن جماعت نے جلسہ کا طبل بجا رکھا تھا۔

سوال یہ ہے کہ کیا آرمی ایکٹ کے تحت کسی سویلین کا کورٹ مارشل ہو سکتا ہے؟ آرمی ایکٹ 1952 ء کے سیکشن ون ٹو ڈی میں دو ایسی شقیں موجود ہیں جس کے تحت سویلینز کا ٹرائل کیا جا سکتا ہے، اگر کوئی شخص کسی کو فوجی کمانڈر کے خلاف بغاوت، فساد برپا کرنے کے لئے اشتعال دلانے، اکسانے یا ترغیب یا تحریک دینے کا سبب بنے تو اس صورت میں فوج میں ان کا ٹرائل ٹو ون ڈی کے تحت ہو سکتا ہے۔

جب خان صاحب کے پاس اقتدار کی باگ ڈور تھی تب ظفر مہدی کے بیٹے حسن عسکری جنہوں نے جنرل باجوہ کو اس خط کی پاداش میں فوجی عدالت نے سزا سنائی۔ ایک شہری ادریس خٹک کا بھی کورٹ مارشل ہوا اور اسے 14 برس کی سزا سنائی گئی۔ جنرل باجوہ کے 6 سالہ دور میں مجموعی طور پر 25 سویلین کا کورٹ مارشل ہوا۔

ہم جیسے جمہوریت پسند دوست کل بھی اور آج بھی کسی بھی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہونے کو غلط اور ناجائز سمجھتے ہیں۔

29 اکتوبر 1958 ء کو محترمہ فاطمہ جناح نے جنرل ایوب سے ملاقات کر کے مارشل لاء کا خیر مقدم کیا تھا اور چھ سال بعد ایوب خان کے مقابل صدارتی چناؤ میں نعرہ بلند ہوا کہ بدترین جمہوریت بہترین آمریت پر قابل قبول ہے۔ 26 مارچ 1971 ء کو بھٹو صاحب نے کراچی ائرپورٹ پر کہا تھا کہ ”خدا کا شکر ہے کہ پاکستان بچ گیا“ اور جولائی 1977 ء کا کیا ہوا اور پھر 1979 ء میں بھٹو صاحب نہیں بچ پائے۔

18 اکتوبر 1999 ء کو بے نظیر بھٹو نے جنرل مشرف کی بغاوت کو نواز شریف صاحب سے نجات قرار دیا اور مئی 2006 ء میں بے نظیر کو نواز شریف کے ساتھ بیٹھ کر میثاقِ جمہوریت پر دستخط کرنا پڑے۔

اس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیاست دان ایک دوسرے کو انتقام کا نشانہ بنانے کے لئے اسٹیبلشمنٹ کے کاندھوں کا سہارا لیتے ہیں اور مخالف سیاست دان کی یہ کوشش رہتی ہے کہ منظور نظر کو اسٹیبلشمنٹ سے دور کیسے رکھا جائے اور ہمارے سیاست دان تاریکی میں مقتدرہ کی چوکھٹ پر دست بستہ حاضری دیتے ہیں اور نظرِ التفات کے متمنی رہتے ہیں۔

یادش بخیر، 23 فروری 1951 ء کو کسی خفیہ اجلاس میں برسرِ اقتدار حکومت کے مسلح بغاوت اور تختہ الٹنے کے جرم میں ہمارے بے بدل شاعر فیض احمد فیض کو بھی شریکِ جرم ٹھہرایا گیا تھا۔ حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کرنے کو جس کو بعد ازاں راولپنڈی سازش کیس بھی کہا جاتا ہے، اس سازش میں ملوث 11 فوجی افسران کے ساتھ 5 سویلین کو سزائیں ہو سکتی ہیں، پھر کیوں نہیں ایوب خان اور سکندر مرزا پر مقدمہ چلایا گیا؟

اس سے قبل 1945 ء میں ایوب خان کو برما کے محاذ پر جنگ میں بزدلی دکھانے پر کمان سے ہٹا کر فارغ کیا گیا اور پاکستان بننے کے بعد عبدالرب نشتر کی رپورٹ پر جناح صاحب نے کورٹ مارشل کا حکم دیا اور انکوائری افسر موسیٰ خان تھا جو بعد ازاں 1959 ء میں ایوب خان نے فوج کا سربراہ مقرر کیا، دسمبر 1949 ء کو پاکستانی فوج کے نامزد سربراہ میجر جنرل افتخار خان کی ہوائی حادثے میں پراسرار موت کی تفصیلات تاحال پردے میں ہیں۔

یوں سیاست کے میدان میں اسٹیبلشمنٹ کی پیش قدمی بڑھتی گئی۔ 1971 ء کا تاریخی سانحہ فوجی شکست تھا اور سیاست دانوں کی یہ کوتاہی کا ثبوت ہے کہ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ پر عمل درآمد نہ کروانا۔ اگر ان سفارشات پر من و عن عمل درآمد کیا جاتا تو شاید دوبارہ فیض حمید جیسے آئینی حدود اور حلف کو پائمال کرنے والے کردار جنم نہ لیتے۔

5 جولائی 1977 ء کا سورج طلوعِ ہونے سے قبل پاکستان میں جمہوریت کی بساط الٹ دی گئی اور ملک پر ایک اور مارشل لاء مسلط کر دیا گیا۔ ضیاء الحق کی آمریت میں سیاست تباہ ہوئی اور مذہب کے نام پر بدترین فسطائیت قائم کر دی گئی سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ۔

اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت اتنی بڑھ گئی کہ پھر چھوٹے چھوٹے جمہوری نخلستانوں کے بعد ملک طویل ریگ زاروں میں اپنی منزل کھوٹی کرتا رہا۔

اس طرح اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت اتنی بڑھ گئی کہ 12 اکتوبر 1999 ء کو جنرل مشرف نے بغاوت کر دی اور آج بھی سیاست دان شکایتیں کرتے رہتے ہیں کہ خفیہ ادارے سیاست میں مداخلت کرتے ہیں اور بلکہ عدلیہ کے ججوں نے بھی ایسی ہی شکایتیں کرنا شروع کر دی ہیں۔

پاکستان کے آئین کی دفعہ 244 میں واضح لکھا ہوا ہے کہ فوجی افسران اور فوج کے جوانوں کو سیاست میں مداخلت نہیں کرنا چاہیے۔

جنرل فیض حمید بھی اس نظام کی پیداوار ہے جس نے جنرل احتشام، جنرل ظہیر الاسلام، جنرل پاشا یا جنرل رضوان جیسے کرداروں کو جنم دیا۔

ہمارے سیاست دان بھی کمال کرتے ہیں فوجی جرنیلوں کو توسیع دیتے ہیں اور پھر رونا روتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہم سے ڈبل گیم کھیلی گئی۔

Facebook Comments HS