ایک سوال ایک جواب: فکری پولرائزیشن
سوال: بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں فکری پولرائزیشن بہت بڑھ گئی ہے، آپ کی اس سلسلے میں کیا رائے ہے؟ (محمد شہزاد)
جواب: پولرائزیشن کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ دو مختلف گروپ ہیں یا دو مختلف لوگ ہیں اور ان کی رائے ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ لوگوں کی رائے مختلف ہو سکتی ہے اور لوگوں کی رائے مختلف ہونا ایک قطعی فطری سی شے ہے، یہ تو کسی بھی سوسائٹی کے تنوع یا ڈائیورسٹی کو ظاہر کرتا ہے، یہ ڈائیورسٹی ہی دراصل ڈیموکریسی یا جمہوریت کی اصلی ساخت کا تعین کرتی ہے اس کے بغیر کسی بھی فرد کی شناخت کا تصور ہی ختم ہو جائے گا یعنی نظریاتی ہونا کسی بھی شخص کا ایک بنیادی سماجی حق ہے مگر شہزاد، پولرائزیشن ایک قطعی مختلف سی شے ہے کیونکہ پولرائزیشن کے دوران تو دو گروپ یا دو افراد ایک دوسرے کی قطعی مخالفت میں چلے جاتے ہیں، وہ ایک دوسرے سے نا صرف متفق ہی نہیں ہوتے ہیں بلکہ اُن کا ایک اندھا ایمان بھی ہوتا ہے کہ ان کا مخالف یا دوسرا گروپ سراسر غلط اور گناہ کے راستے پر ہے۔ یعنی وہ گروپ سیاسی، فلسفیانہ یا مذہبی طور پر ہی نہیں بلکہ اخلاقی اعتبار سے بھی بالکل ہی غلط راستے پر ہے۔ اُن کے لیے یہ رائے بنا لی جاتی ہے کہ اُن میں بہتری کی کوئی بھی گنجائش نہیں ہے۔ وہ درست ہونے کے بالکل بھی لائق نہیں ہے یعنی وہ سراسر گناہ کے راستے پر ہے۔
مجھے پولرائزیشن کے اندرونی دھاگے سیاسی مسائل ہی سے جڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ جیسے آج کل کے عہد کی سیاست اور یہ جو ہمارے سیاسی رہنما ہیں وہ جس قسم کا سیاسی ماحول اپنی خود غرضیوں کی وجہ سے اپنے تئیں سماج میں پیدا کر رہے ہیں وہ وقتی طور پر تو ضرور کامیاب ہو جاتے ہیں یا ہوجائیں گے مگر اس کے اثرات مجموعی طور پر تاریخ میں بہت ہی برے ہوں گے یعنی کہ اس کے نتیجے میں سوسائٹی اور بھی بیمار ہو جائے گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان باتوں کی وجہ سے ایک خانہ جنگی کی فضا بن جائے اور پھر ایک دوسرے کے خون بہانے کی حد تک بھی چلی جائے۔ انہوں نے جن تاریخ کے کرداروں سے یہ طریقہِ سیاست سیکھا ہے یا جنہیں پڑھ کر یہ وہی نفرتوں کی سیاست پریکٹس کر رہے ہیں وہ سیاست دان وغیرہ تو دنیا سے جا چکے ہیں اور انہیں نہیں پتہ کہ ان کے مرنے کے بعد دنیا کس قدر مسائل میں گھر گئی ہے اور انسانیت کا کتنا زیادہ نقصان ہوا ہے۔ دور حاضر میں پولرائزیشن میں جو اہم عناصر اس کی ساخت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ان میں ظاہر ہے سیاسی لیڈرز کی کرشماتی (کرزمیٹک) مگر نارسسٹک یا نرگسی شخصیت، ان کی انتہا پسندانہ فکر، ذرائع ابلاغ کا کردار خصوصاً پیپر اور الیکڑانک میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور سب سے بڑھ کر نیشنل اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کا کردار کسی طور بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مذہبی نظریات کا سیاسی استعمال اور اس کی انتہا پسندانہ فکر تو جیسے جلتی پر تیل کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
جب بھی ہم پولرائزیشن کی بات کرتے ہیں تو ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ پاپولسٹ قسم کے جو لیڈرز ہوتے ہیں یا جو بھی سیاسی پارٹی ہوتی ہے وہ کئی لحاظ سے سیاسی میدانوں میں اپنے جوہر دکھاتی ہے اور ان کے اثرات ہمیں ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ لاطینی امریکہ میں و ینیزویلا کے مرحوم صدر شیویز تھے یا اسپین میں پاڈیموس پولیٹکل پارٹی اور یونان میں بھی جو کچھ ہمیں پچھلی حکومتوں میں دکھائی دیا، اچھا یہ تو بائیں بازوں کی مثالیں ہیں بالکل ایسے ہی دائیں بازو کی سیاسی دنیا کی طرف دیکھیں تو آپ کو ایک بڑا نام تو ڈونالڈ ٹرمپ صاحب کا ہی مل جائے گا اور پھر ہنگری میں وکٹر اربائین یا فرانس میں میری لی پین وغیرہ اس قسم کے اور بھی نام آپ کو مل جائیں گے جو بہت ہی سنسنی خیز سیاست کرتے ہوئے ملیں گے، جو ہر وقت میڈیا کی سرخی میں رہنے کی کوشش کرتے رہیں گے مثلاً یونان میں اینٹی امیگرنٹس کی مثال مل جائے گی کہ اس سیاسی سلوگن کو خوب ہی استعمال کیا گیا۔ ایک اور بات کہ اس قسم کی سیاست میں خاصا آرتھوٹیٹیرین قسم کا انداز سیاست آپ کو ملے گا۔ میں پچھلے دنوں ایک کتاب کا سرسری سا مطالعہ کر رہا تھا ڈاکٹر موفف کی ’گلوبل رائز آف پاپولرازم‘ ، اس میں مثالیں دے کر بتایا گیا ہے کہ کس طرح پچھلے پچیس تیس برسوں میں اس قسم کی سیاست پروان چڑھی ہے جیسا کہ فلپائن کے ڈوریف یا امریکہ کے ٹرمپ وغیرہ کی سیاست کہ وہ کیسی ٹیکٹس یا بیانیے استعمال کرتے ہیں جیسا کہ اینٹی انٹلیکچولزم، اینٹی ایلیٹ کلاس اور اسی طرح کے اور بھی نیگیٹوازم کو پھیلایا جاتا ہے، مثلاً جمہوریت جو پہلے ہی دنیا بھر میں اسٹیبلش ہو چکی ہے، اُسے ایک پیچیدہ سا نظام کہہ کر متعارف کروایا جاتا ہے۔ اس طرح کی مثالیں ہمیں کم و بیش ہر جگہ مل جاتی ہیں مثلاً ہندوستان میں دیکھ لیں نریندر مودی ہیں۔ یہ ایک پاپولسٹ لیڈر ہیں یا پولینڈ کے جلسوزا کازکی ہیں یا ترکی کے صدر طیب اردگان ہیں تو اس قسم کے سیاستدان یا لیڈرز آپ کو کئی جگہ دکھائی دیں گے۔ یہ لوگ بہت زیادہ مشہور اور طاقتور ہیں، یہ بیک وقت الیکشن پر اثر انداز ہوتے ہیں، میڈیا انڈسٹری کے ذریعے کام کرتے ہیں، سوشل میڈیا میں رول پلے کرتے ہیں، جوڈیشری سسٹم کے خلاف بات کرتے ہیں، اگر وہ ان کے سیاسی عزائم کے خلاف ہے تو اس کی مخالفت میں بات کرتے ہیں، کہنے کا مطلب یہی ہے کہ سوسائٹی میں جو اعتدال اور برداشت کی فضا ہوتی ہے اُس کا خاتمہ کر دیتے ہیں، اس کے اندر مذہبی انتہا یا شدت پسندی بھی نشو و نما پاتی ہے، اس انتہا پسندی کو بھی مزید پولرایز کر کے استعمال کیا جاتا ہے۔
پاکستان کے کئی ایک سیاستدان ہے جنہیں آپ پاکستان میں پولرایزشن کا سبب سمجھ سکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کس طرح سے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف نعرے بناتے ہیں، وہ اپنے مخالفین کے لطائف بناتے ہیں، اُن کے الگ الگ طرح کے کارٹونز بناتے ہیں، بیک گراؤنڈ میں الگ الگ طرح کی آوازیں ڈب کردی جاتی ہیں تاکہ عوام الناس میں اُن کا ایک سنجیدہ تشخص نہ بن پائے، اُن کی کم و بیش ہر ایک شے حتیٰ کہ پرسنل اور فیملی تک کا مذاق بنایا جاتا ہے تاکہ نفرت، غصے اور گالی گلوچ کی فضا بنی رہے اور پھر ظاہر ہے ان باتوں کے نتائج میں اس قدر بدتہذیبی کی فضا پیدا ہوجاتی ہے کہ سوسائٹی باآسانی کئی حصوں میں تقسیم ہوتی چلی جاتی ہے۔ معاملات اس قدر خراب ہو جاتے ہیں کہ ایک ہی خاندان سیاسی نظریات کی وجہ سے تقسیم ہونے لگتا ہے، سیاست میں مختلف لیڈروں کو فالو کرنے والے خاندان ایک دوسرے کے ساتھ رشتے رکھنے یا شادیاں کرنے تک پر راضی نہیں ہو پاتے ہیں۔ اسی طرح دو مختلف سیاسی نظریات یا لیڈرز کو فالو کرنے والی فیملیز آپس میں بزنس کی فضا تک قائم نہیں رکھ پاتی ہیں یوں پوری سوسائٹی کئی حلقوں میں تقسیم ہوجاتی ہے اور بدقسمتی سے پچھلے چند برسوں کی سیاسی ایکٹیوٹیز کی وجہ سے پاکستان میں آپ کو اس طرح کی فضا چاروں جانب پھیلی ہوئے نظر آ رہی ہے۔


