حلوہ پوری اور خودکشی

کوئی ایک مسئلہ تھوڑی ہے۔ کئی دنوں سے حلوہ پوری کھانے کو دل کر رہا ہے۔ مگر مسلسل ناکامی ہو رہی ہے۔ اول تو ہر ایک کو اچھی حلوہ پوری بنانی نہیں آتی۔ جو گنے چنے دکاندار اچھی بناتے ہیں انہوں نے صرف ہفتہ اتوار کی پخ لگا رکھی ہے کہ جی باقی دنوں میں ہم نہیں بنائیں گے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ کیوں نہیں بنائیں گے؟ تو اس سوال کا کوئی معقول جواب ان کے پاس نہیں۔ بس نہیں بنائیں گے۔ اللہ کی مرضی۔ دوم یہ کہ ہفتہ اتوار آتے آتے موڈ نہ جانے کتنی دفعہ تبدیل ہوجاتا ہے۔ ضروری تو نہیں کہ ہفتے اتوار کو ہی دل کرے۔ بھئی ہمارا دل سوموار منگل کو کرتا ہے۔ ہم کیا کریں۔ چلو خدا خدا کر کے ہفتے کو بھی لینے جائیں تو آگے یہ منظر ملتا ہے کہ کڑاہی تھال اور چولہے دھو سنوار کر رکھ رہے ہوتے ہیں۔ ہم حیرانی سے سراپا سوال بنے پوچھتے ہیں کہ حلوہ پوری؟
ارشاد ہوتا ہے ابھی ابھی ختم ہوئی ہے۔
بھائی اگر ابھی ابھی ختم ہوئی ہے تو تُو دو پیڑے فٹا فٹ اور ڈال دے۔ کتنی دیر لگتی ہے؟ مگر نہ۔ ان کا تو بھائی شریعت والا حساب ہے۔ مجال ہے جو آپ کو بنا دیں۔
’اب کل آنا بھائی۔ ‘
بھائی آج کیوں نہیں۔ ؟ آج نہیں بارہ بجے ختم کر دیتے ہیں۔ یہ دیکھیں بارہ بج کر ایک منٹ اور تین سیکنڈ ہو رہے ہیں۔
کوئی ان ظالموں سے پوچھے کہ ویک اینڈ پر کون بارہ بجے سے پہلے اٹھتا ہے؟ اب حلوہ پوریاں کھانے کے لئے بھی الارم لگا کر اٹھنا پڑے گا؟
اگر کبھی قسمت سے پہنچ بھی جائیں تو یہ حلوہ اور چنے دینے میں بہت کنجوسی کرتے ہیں۔ کیا پتہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔
ہم نے یہ مسئلہ اپنے گرو جی سے بیان کیا تو وہ فرمانے لگے دیکھ بھائی جس نے خود کشی کیے بغیر مرنا ہو وہ ہر روز حلوہ پوری کھانا شروع کردے۔ ہائیں؟ وہ کیسے؟
فرمانے لگے
وہ فلاں صاحب کو جانتے ہو؟ وہ چنگا بھلا تھا۔ کچھ ہفتے قبل میں فجر کی نماز پڑھ کر جونہی نکلتا تو دیکھتا کہ وہ حلوہ پوریوں کی دکان پر بیٹھا ناشتہ کر رہا ہے۔ میرا دل بیٹھ سا گیا۔ کئی بار جی میں آئی کہ اسے سمجھاؤں۔ مگر پھر یہ سوچ کر خاموش رہا کہ وہ ہر دوسرے ہم وطن کی طرح پہلے سے ہی عقل کل ہے۔ مجھے ایک کی چار سنائے گا۔
میں نے سوچا یہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟ کافی سوچ بچار اور تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ نافرمان اولاد کی جانب سے دکھی اور مایوس ہے۔ کوئی انتہائی قدم لینے سے گھبراتا ہے۔ خود کشی کا سوچتا ہو گا مگر خاندانی وقار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے باز رہا۔ آخر اس نے مرنے کا یہ حربہ نکالا کہ روز حلوہ پوری کھانی شروع کردی کہ اس سے ظاہری خود کشی بھی نہ ہوگی، بدنامی سے بھی بچ جاؤں گا اور اس جیون سے بھی جان چھوٹے گی۔
لو بھئی محمدعلی! اسے حلوہ پوریاں کھاتے دو ہفتے بھی پورے نہ ہوئے تھے کہ دل کے دورے سے مر گیا۔

