فیض کی دنیا


فیض احمد فیض 1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ اپنی تعلیم گورنمنٹ کالج لاہور سے مکمل کی۔ وہ زمانہ طالب علمی ہی میں شعر کہنے لگے تھے۔ نقش فریادی، دست صبا، میرے دل میرے مسافر، وادی سینا اور نسخہ ہائے وفا ان کے مشہور شعری مجموعے ہیں۔ وہ غزل اور نظم دونوں اصناف سخن پر یکساں قدرت رکھتے تھے اور اپنے عہد کے نمایاں ترقی پسند شاعر تھے۔ عمر بھر جبر و استحصال اور ظلم و استبداد کے خلاف لکھتے رہے۔ قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں اور 1984 کو وفات پا گئے۔

فیض احمد فیض نے نظم کو غزل کیا اور پیغام کی ترسیل کے ساتھ ساتھ غزل اور نظم کی ادبی حیثیت کو بھی برقرار رکھا۔ ان کے کلام میں علامتیں، فارسی رنگ اور احساس کی شدت پائی جاتی ہے۔ ترقی پسند ہونے کے باوجود فیض نے غزل کو خطابت اور نعرہ زنی سے بچایا اور غزل کی روایت کو اجتماعی شعور کے پس منظر میں پیش کیا۔ ان کی غزل کا اسلوب کسی حد تک میر تقی میر سے قریب تر ہے اور لب و لہجہ خالص کلاسیکی ہے۔ فنی لحاظ سے فیض نے روایت اور فکری لحاظ سے جدت کو اپنا شعری شعار بنایا۔ ان کے کلام میں کشش اور اثر آفرینی بنیادی طور پر نظم اور غزل میں اعلیٰ پائے کے ادبی توازن کو برقرار رکھنے کی وجہ سے ہے۔ ان کی نظموں میں غلامی، جبر، ظلم اور استحصال کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ لوح و قلم، فقہیہ شہر، محتسب، واعظ، مے کدہ، حدیث دوست، نوائے مرغ، کوئے جنون، قفس، چمن، صبا، رنگ بہاراں، شیخ، زاہد، شب گزیدہ سحر، داغ داغ اجالا وغیرہ فیض کی پسندیدہ علامتیں ہیں۔ ان کی غزلوں میں آنکھیں، زلفیں، خوشبو، انتظار، التفات، دنیا، جدائی، زندگی، امید، شوق، خوابیدہ، شمع، مینا و ایاغ وغیرہ جیسے الفاظ بہ کثرت استعمال ہوئے ہیں۔

فیض کے کلام کا ایک خاص معنیاتی نظام ہے۔ ان کے ہاں رموز و علائم کا استعمال بڑی ہنرمندی سے کیا گیا ہے۔ وہ مجاہد کے لیے عاشق، وطن کے لیے معشوق، سامراج کے لیے رقیب، باغی کے لیے رند، سیاسی بیداری کے لیے مے خانہ، انقلاب کے لیے جنون، مصلحت کے لیے عقل، ادیب کے لیے عندلیب، نصب العین کے لیے گل، سیاسی استحصال کے لیے گل چین، جبری نظام کے لیے حبس، ظالم کے لیے صیاد، مجبور انسان کے لیے کتا، بادشاہ کے لیے آقا، پرانی روایات کے لیے رات، مستقبل کے لیے سحر اور دیگر اس جیسی دل چسپ علامتیں استعمال کرتے ہیں۔ ان کے کلام میں رنگوں کی اپنی ایک دنیا ہے۔ ان کی غزلوں میں سرخ رنگ دلہن کے عروسی جوڑے کے لیے، زرد رنگ خزاں کے لیے، سیاہ رنگ جدائی و نارسائی کے لیے اور کاسنی رنگ فراق کے لیے ہے۔ جب کہ نظموں میں سرخ رنگ مظلوموں کے خون کے لیے، زرد رنگ بھوک اور افلاس کے لیے، سیاہ رنگ احتجاج کے لیے اور کاسنی رنگ زندگی سے بیزاری کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

فیض آمریت کے شدید مخالف تھے۔ انھوں نے ایوب خان کو از راہ تفنن مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنا انتخابی نشان ”پھول“ کے بجائے ”لہو“ رکھ لیں۔ فیض عوام الناس کے شاعر تھے۔ ڈاکٹر سحر انصاری کے مطابق فیض کی مقبولیت صرف ادبی دنیا، مزدوروں، کسانوں، طلبہ اور نظریاتی حلقوں تک محدود نہ تھی، بلکہ بیوروکریسی، صنعتی دنیا اور تیر و تفنگ سے تعلق رکھنے والے حلقوں میں بھی بام عروج پر تھی۔ ڈاکٹر نزہت عباسی کے مطابق ان کی شاعری لمسی سے زیادہ مرئی اور بصری ہے۔ اسی وجہ سے اس کی پیکر تراشی میں ترفع اور حلاوت ہے۔ ڈاکٹر انور سدید کے نزدیک عاشقی فیض کے لیے عبادت اور ترقی پسندی ان کے لیے فرض کا درجہ رکھتی ہے۔

فیض کے ہاں حسن کی تخلیق صرف جمالیاتی فعل نہیں، بلکہ افادی فعل بھی ہے۔ ان کا کلام فنی معیار کے ساتھ ساتھ زندگی کے معیار پر بھی پورا پورا اترتا ہے۔ ان کی غزلیں اگر مخمور و مسرور کرتی ہیں تو ان کی نظمیں جھنجھلاتی اور جھنجوڑتی ہیں۔ ان کی غزلیں اگر وصال و فراق کی لوریاں سناتی ہیں تو ان کی نظمیں ارضی معاملات سے برسر پیکار کر دیتی ہیں۔ فیض زندگی کے دائرے کے دونوں نصفوں (حسن اور افادہ) کو ملا کر کارآمد اور بامقصد زندگی گزارنے کے مبلغ ہیں۔ جمالیات اور مقصدیت میں توازن برقرار رکھنے کی وجہ سے فیض اردو شعر و سخن کی دنیا میں تا ابد نمایاں رہیں گے۔

Facebook Comments HS