محبوب آپ کے قدموں میں


معروف شہروں کی دیواروں، اخبارات کے صفحات اور کیبل کے اشتہارات میں آپ نے کسی ”عامل“ کا متذکرہ بالا دعویٰ ضرور پڑھا یا سنا ہو گا۔ ان ”عاملین“ کے مطابق ایک رات کے عمل سے یہ محبوب کو آپ کے قدموں میں ڈال سکتے ہیں، ظالم شوہر کو آپ کو گرویدہ بنا سکتے ہیں، پرائز بانڈ کی قرعہ اندازی کو آپ کے حق میں کر سکتے ہیں، پرچی جوئے کا نمبر بتا سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ کوئی بنگالی و غیر بنگالی بابا یا چاچا جو سفلی یا روحانی علوم میں ماہر ہونے کا دعویدار ہے وہ آپ کے جملہ مسائل حل کرنے کے لیے بیتاب ہے۔ کسی ظالم ساس یا نند کے ”عمل“ کی کاٹ کرنی ہو، بے وفا شوہر کو راہ راست پر لانا ہو، بے رخی برتنے والے محبوب کو آپ کے قوموں میں بچھانا ہو، یا بغیر پڑھے امتحان میں کامیابی حال کرنی ہو غرض کہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کا حل اس نیم جاہل ”عامل“ کے پاس نہ ہو۔

توہم پرستی صرف آج کے انسان کا مسئلہ نہیں۔ اس کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ مختلف تاریخی و مذہبی کتابوں میں اس کے حوالے ملتے ہیں۔ قدیم لٹریچر میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ مضمون کی طوالت کے خدشے کے پیش نظر یہاں ان کا ذکر شاید یہاں مناسب نہ ہو۔ پڑھے لکھے اور قدرے ماڈرن لوگ بھی اس کا شکار ہوتے رہیں ہیں۔ ماضی میں اکثر فوجی مہم بھیجنے سے قبل نجومیوں کی رائے پر عمل کیا جاتا تھا۔ یہ نجومی مستقبل کا حال جاننے کا دعویٰ کیا کرتے تھے اور کرتے ہیں۔

سورج گرہن، چاند گرہن، زلزلے اور سیلاب وغیرہ کے ضمن میں بھی انسان بہت زیادہ اوہام پرستی کا شکار رہا یعنی انسان کا ماضی اور حال توہم پرستی سے پاک نہیں رہا۔ ہمارے ہاں آج بھی اگر کوا بولے تو مہمان کے آنے کا اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ کالی بلی کا راستہ کاٹنا بدشگونی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ کالی بلی تو یورپ میں بھی نحوست کی علامت سمجھی جاتی رہی ہے۔ انسان ہر دور میں غیر مرئی طاقتوں سے خائف رہا ہے۔ اپنی بیماریوں، مسائل اور مشکلات کو وہ غیر مرئی قوتوں کے کھاتے میں ڈالتا رہا ہے۔

قدرتی محرکات، اپنی ذاتی غلطیوں، ماحولیاتی عوامل وغیرہ کو پس پشت ڈال کر وہ نظر نہ آنے والی مخلوقات سے ڈرتا رہا ہے اور انھیں ہی اپنے جملہ مسائل کا ذمہ دار گردانتا رہا ہے۔ اور اس مخلوقات سے چھٹکارے کے لیے وہ کسی ”کرنی بھرنی“ والے بابے (عامل) کے پاس جاتا رہا ہے اور یہ سلسلہ آج تک تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔

جدید دور میں یہ صورتحال کچھ زیادہ گمبھیر ہو چکی ہے۔ ہمارے ملک میں ان نام نہاد افراد کا کاروبار چمک رہا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ غیر مرئی مخلوقات جو (بقول ان کے ) انسان کے افعال اور زندگیوں پر اثر انداز ہوتی ہیں، ان کے قابو میں ہیں۔ جن کو وہ اپنے ”موکل“ قرار دیتے ہیں۔ کسی کے پاس ”شاہ جنات“ ہے تو اس کے قابو میں ”کالی شکتیوں“ والی کوئی ”آتما“ ہے۔ کسی نے ہمالیہ کے پہاڑوں پر چلہ کاٹا ہے تو کسی نے بنگال کے کسی ویرانے میں چلہ کشی کی ہے۔

اس نام نہاد جھوٹے دعوے کا سہارا لے کر وہ عوام الناس کو گمراہ بھی کر رہے ہیں اور دونوں ہاتھوں سے لوٹ بھی رہے ہیں۔ گھروں میں ناچاقیاں اور خاندانوں میں نفرت پھیلا رہے ہیں۔ یہ ساس بہو، بھاوج نند، شوہر بیوی وغیرہ کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ مشترکہ خاندانی نظام کے نتیجے میں پیدا ہونے والی چھوٹی موٹی ناچاقیاں ان نام نہاد عاملوں کی وجہ نفرت و عداوت میں بدل جاتی ہیں۔ کسی پریشانی کا شکار شخص اپنی غلطی یا سادہ لوحی کی بناء پر اگر ان کے پاس چلا جائے تو یہ اسے عجیب و غریب طریقے سے اپنے شکنجے میں جکڑ لیتے ہیں۔

اس کے اعصاب پر سوار ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی یہ اُسے کسی مخصوص قبرستان کی کسی مخصوص جگہ جانے کا کہتے ہیں اور وہاں کھدائی کرنے کا کہتے ہیں۔ کھدائی کے نتیجے میں وہاں ایک پتلا نکلتا ہے جس کے جسم پر سوئیاں گاڑی گئی ہوتی ہیں (یہ ڈرامہ بازی انہوں نے خود کی ہوتی ہے ) ۔ پریشان حال شخص کو مزید بیوقوف بنانے کے لیے یہ اسے اس کے کسی ناراض یا ”مشکوک“ واقف کار کا نام لینے پر مجبور کر دیتے ہیں اور اس عمل کی ”کاٹ“ کے نام پر یہ اس سے ہزاروں اور بعض اوقات لاکھوں روپے بٹور لیتے ہیں۔

یہ جاہل اور سفاک قسم کے عامل بے اولادوں کو اولاد دینے کا بھی دعویٰ کرتے ہیں اور اکثر اوقات بے اولاد عورتیں ان کے جھانسے میں آ کر اپنی عزت بھی گنوا بیٹھتی ہیں۔ گلی محلوں میں ان کے ٹاوٹ سرگرم ہوتے ہیں جو ان فراڈیوں کی جھوٹی کر امتوں اور قابلیت کا ڈھنڈورا پیٹھ کر لوگوں کا ان کا شکار بناتے ہیں۔ وطن عزیز میں پھیلی ہوئی مایوسی اور دوسرے عوامل کی وجہ سے ان عاملوں کا کاروبار عروج پر ہے۔ ان پر ہاتھ ڈالنا اس لیے بھی آسان نہیں ہوتا کہ ان کے تعلقات اکثر ہمارے ارباب اختیارات کے ساتھ بھی بہت مضبوط ہوتے ہیں۔ بہت سارے افسران کی بیگمات اور وہ خود اور ہمارے سیاستدان ان کے در پر حاضری دیتے ہیں۔

یہ نام نہاد ”عامل“ ہماری توہم پرستی کی وجہ سے ہمیں جکڑ لیتے ہیں۔ توہم پرستی سے چھٹکارا پانا مشکل نہیں ہے۔ ہمیں خود پر آنے والی پریشانی کا سبب اور وجہ تلاش کرنی چاہیے۔ اگر وہ ہماری کسی غلطی کا نتیجہ ہے تو اسے دور کرنا چاہیے۔ اگر حالات کی وجہ سے ہے تو حالات کو درست کرنی کی کوشش کرنی چاہیے۔ قسمت بھی ایک فیکٹر ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن ہمیں غیر مرئی مخلوقات، جنوں پریوں، چڑیلوں، روحوں، بدروحوں وغیرہ سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی انھیں اپنے مسائل کی وجہ قرار دینا چاہیے۔

ہمارا خوف ہی ہمارا دشمن ہے۔ اور یہ خوف ہمیں ان جاہلوں کے پاس لے جاتا ہے جو ہمیں مزید خوف زدہ کر کے لوٹ لیتے ہیں۔ اتنی مشکل اور محنت سے کمایا گیا پیسہ ہمیں ان جاہل ”عاملوں“ کے حوالے نہیں کرنا چاہیے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ غیر مرئی مخلوقات انسان سے زیادہ طاقتور نہیں ہوتیں۔ اگر ہوتیں تو آج دنیا میں انسانوں کی بجائے ان کی حکومت ہوتی اور یہ نام نہاد ڈرامے باز عامل اگر اتنے ”کرنی بھرنی“ والے ہوتے تو یہ دنیا کے حکمران ہوتے۔ یہ سب ڈرامے بازی ہے جس کا ہم شکار ہوتے ہیں۔

Facebook Comments HS