تم میرے باپ کو نہیں جانتے

’تم میرے باپ کو نہیں جانتے’ پاکستان کے امیر طبقے کا نیشنل جملہ۔ بس یہ جملہ کہنے کی دیر ہوتی ہے۔ تو پاکستان کا غریب کے حق میں سویا ہوا قانون جاگ اٹھتا ہے۔ گویا کبھی سویا ہی نا ہو جیسے۔ مگر جب یہاں بات کی جائے ایک عام انسان کے انصاف کی۔ ایک غریب انسان کے انصاف کی تو یہی قانون خراٹے مارنے لگتا ہے۔ کارساز واقع کی حقیقت تو کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ نتاشہ نامی لڑکی جس کے حوالے سے یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر ٹھیک نہیں اور ان کا دماغی توازن درست نہیں۔
مگر اس خراب دماغی کے ساتھ وہ بہت سی کمپنیاں چلاتی ہیں۔ کیا ایک پاگل انسان جس کا دماغی توازن برقرار نہیں اور وہ پروفیشنلی ہر چیز کو دیکھ رہا ہے کیا یہ سوالیہ نشان نہیں ان لوگوں کے لئے جو اس عورت کو پاگل ثابت کر کے اور غریب لوگوں کے انصاف کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ دوسری طرف ایک باپ حق حلال کما کر اپنی بیٹی کو پڑھاتا لکھاتا ہے تاکہ اچھی تعلیم دلوائی جائے اور معاشرے میں عزت اور سکون کے ساتھ رہا جائے۔ مگر اس معاشرے کا ایک بھیانک المیہ ہے جب بھی کسی غریب کی بستی کا سورج طلوع ہونے لگتا ہے ان جیسے رئیس لوگ اپنی پراڈو تلے کتنے خواب روند کر آگے نکل جاتے ہیں۔ بغیر اس چیز کی پرواہ کیے کے ان کی زندگی کی بھی کوئی قدر و قیمت ہے۔
قانون سب کے لئے بنائے جاتے ہیں قانون کی پاسداری سب کا فرض ہے۔ قانون تو معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے ہوتا ہے تاکہ معاشرے میں کسی بے قصور کے ساتھ زیادتی نا ہو سکے معاشرے میں سب کو برابری ملے امیر، غریب۔ مگر یہاں قانون کے رکھوالے ہی اتنے پکے ایمان والے ہیں کہ ہر اس انسان کا ساتھ دیتے ہیں اور ان لوگوں کو بچاتے ہیں جن کی وجہ سے مظلوم عوام برداشت کرتی رہتی ہے اگر ایسا ہے تو پھر ہر اس غریب کو معاف کیا جائے جس نے غربت کے ڈر سے چوری کی ہا کوئی ایسا قدم اٹھایا جو قانون کے خلاف تھا صرف امیروں کو رعایت کیوں؟ ایسی بات کرنا نہیں چاہتی تھی مگر۔ جیسا معاشرہ، جیسے قانون، ویسے ہم۔

