جماعت اسلامی: قیام، اثرات

”تحریک دیوبند“، ”تحریک علی گڑھ“، ”تحریک دعوت و تبلیغ“ اور سیاسی محاذ پر عام ہی کیا بڑے اکابرین تک کانگریس کے ساتھ تھے اور مسلمانوں کی بڑی جماعت مسلم لیگ جدوجہد کر رہی تھی لیکن اس سب کے ہوتے ہوئے سید مودودی نے جماعت اسلامی کا قیام عمل میں لایا۔ کیوں؟ جماعت اسلامی نہ معروف معنوں میں کوئی مذہبی جماعت اور نہ مروجہ سیاسی جماعت بلکہ ایک دینی سیاسی تحریک جو نہ صرف دعوت و تبلیغ کے لئے اور نہ محض سیاسی حقوق اور خودمختاری کے لئے بلکہ اقامت دین کے جدوجہد کے لئے قائم ہوئی۔ جس کا مقصد تجدید و احیائے دین، اسلامی نظام حیات کے احیاء اور اسلامی ریاست و حکومت الہیہ کا قیام ٹہرا۔ کامیابیاں : سب سے بڑی کامیابی اسلام ایک مکمل نظام حیات کا تصور دوبارہ زندہ رکھا اور اقامت دین کے لئے تحریک اور جدوجہد ایک حقیقت اور موضوع بحث ٹھہری۔ عجم اور عرب ہی کیا امریکہ اور یورپ تک میں اس فکر کے حاملین اپنے اپنے حالات اور طریقہ کار کے مطابق دعوت دین کے کام میں مصروف ہیں اور باقاعدہ ایک تحریک کا حصہ ہیں۔
امریکہ و یورپ کی دانش گاہوں اور محققین کا سب سے بڑا اسلامی موضوع ”سیاسی اسلام“ اور سید مودودی کا فکر تجدید و احیاء دین اور اقامت دین ہے اور بقول ان کے ”دنیا میں فساد کی جڑ یہ ہے“ کہ نظاموں کو چیلنج کرنے والا اور متبادل پیش کرنے والا یہی ہے۔ پاکستان میں ہر شعبہ زندگی پر سید مودودی کی فکر اور جماعت اسلامی کی تحریک کے اثرات نمایاں ہیں۔ جہاں جہاں نظریاتی، کمیٹڈ اور اچھی شہرت کے لوگ ہیں وہ کسی نا کسی درجہ میں اس تحریک کے تربیت یافتہ اور اثرات کو قبول کرنے والے ہوں گے۔
سیاسی میدان میں بھی اس کی بڑی جدوجہد اور گہرے اثرات ہیں۔ دساتیر میں اسلامی دفعات کا شامل ہونا اور خاص کر قرارداد مقاصد کو دستور میں شامل کرانے میں جماعت اسلامی کا بڑا کردار ہے۔ اسی طرح تحریک ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کے خلاف جماعت کا کردار بہت نمایاں رہا ہے۔ شعائر اسلام اور اقدار اسلام کے تحفظ کے لئے جماعت اسلامی نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بہت موثر کردار ادا کیا ہے۔ اگرچہ عددی اعتبار سے جماعت اسلامی کو پارلیمنٹ میں زیادہ کامیابی بوجوہ نہیں مل پائی مگر جتنا موقع ملا ان کا کردار بہت شاندار، موثر اور نمایاں رہا ہے۔
”ہم چند ہیں مگر قابل فخر“ ہیں کہ مصداق اس کے ممبران کی کارکردگی پوری پارلیمنٹ پہ بھاری رہی ہے۔ پاکستان میں جتنی بڑی سیاسی و جمہوری تحریکیں چلی ہیں اس میں جماعت اسلامی لیڈنگ پوزیشن پہ رہی ہے اور اس کے کردار اور کارکردگی کی ایک تاریخ ہے جس کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ جہاں جہاں جماعت اسلامی کو حکومتی سطح پر کام کا موقع ملا ہے اس کے وزراء، ممبران اور ناظمین نے امانت و دیانت اور اعلیٰ کارکردگی کی مثال پیش کی ہے۔
”جماعت اسلامی نے اپنے قیام سے لے کر آج تک لبرل ازم، سوشل ازم، سیکولر ازم و سرمایہ دارانہ نظام کے لٹریچر کا مقابلہ لٹریچر سے، دلیل کا مقابلہ دلیل سے، نعروں کا مقابلہ نعروں سے اور سیاست کا مقابلہ اس سیاست سے کیا جو اقامت دین اور شرافت کی سیاست ہے، جماعت اسلامی کے کارکنان نے اس ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کیے“ تعلیمی، رفاہی اور فلاحی خدمات میں تو جماعت اسلامی کے کردار کا زمانہ معترف ہے اور اس کے شعبے برینڈ بن چکے ہیں۔
بلامبالغہ پاکستان کی سب سے زیادہ جمہوری، نظریاتی، فلاحی اور ہمہ گیر جدوجہد کی حامل تحریک، جماعت اسلامی ہے۔ تطہیر افکار، تعمیر سیرت، اصلاح نظام اور خدمت خلق اس کے دائرے ہیں اور اسی لحاظ سے اس کا جائزہ اور تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ لمحہ موجود میں حافظ نعیم الرحمان نے عوامی مسائل اور ایشوز کو سیاست کا مرکز بنایا ہوا ہے اور جماعت کی حکمت عملی میں اس کو اولیت دی ہے۔ ایک بڑی سیاسی اور تہذیبی تحریک کے لئے عنوان دعوت اور معاشرے میں نفوذ اور عوامی بیداری، شعور، تحرک اور جدوجہد کو ٹھہرایا ہے۔
عوامی مسائل، ہوشربا مہنگائی، کمر توڑ بجلی بلز اور ناروا ٹیکسز اور خاص کر آئی پی پیز کے ذریعے عوام کا خون چوسنے کے خلاف جو موثر تحریک اس نے اٹھائی ہے وہ بلاشبہ ایک مثال ہے۔ انٹیلجنشیا اور عوام میں ٹاپ ٹرینڈ یہی تحریک اور حافظ نعیم کی جدوجہد ہے جو بہت ٹارگیٹڈ، موثر، مدلل اور جارحانہ انداز میں قوم کا مقدمہ پیش کیا کرتے ہیں اور صحیح معنوں میں حکمران اشرافیہ کو آشکار بھی کرایا ہے اور تشویش میں بھی مبتلا کیا ہوا ہے۔
اگر قوم ان کا ساتھ دیتی ہے اور جو معاہدہ انہوں نے حکومت سے کروایا ہے اس کی پاسداری ہوتی ہے تو اس سے عوام کو بڑا ریلیف بھی ملے گا اور آئندہ کے لئے ایک مثال بھی بن جائے گی۔ موجودہ عوامی شعور، بیداری اور جماعت اسلامی سے وابستہ توقعات اور اعتماد کو طاقت بنا کے حافظ نعیم اگر اسے تحریک کے صورت آگے بڑھا کر حکومت کو مجبور کراتے ہیں تو یہ کارکردگی اور امید و یقین ایک بڑی سیاسی اور تہذیبی تحریک اور انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکے گا۔

