کارساز حادثہ: جلد انصاف کی امید
اگر آپ سے پوچھا جائے کہ دو لوگوں کے درمیان کسی تلخ کلامی کے سبب جھگڑا ہو جاتا ہے اور بات یہاں تک سنجیدہ ہو جاتی ہے کہ ان میں سے ایک شخص دوسرے کا قتل کر دیتا ہے تو کیا قاتل کو سزا قتل کرنے کی ملے گی؟ یقیناً آپ سب کا جواب ہاں میں ہو گا لیکن اگر آپ سے کہا جائے کہ قتل ہونے والا ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا جبکہ قاتل ایک مالدار اور با اثر گھرانے سے ہے تو اب آپ کا جواب کیا ہو گا؟ لازمی آپ کے ذہن میں یہ بات ضرور آئے گی کہ یا تو قتل ہونے والے کے گھر والوں کو پیسے دے کر صلح کر لی جائے گی اور اگر مسئلہ پیسوں سے حل نہ ہوا تو قاتل اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ڈرا دھمکا کر ضرور قتل ہونے والے کے گھر والوں کو یا کیس کی پیروی کرنے والوں کو صلح پر مجبور کر کے کیس واپس کروانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ بالکل ایسی ہی سوچ تقریباً ہر انسان کے ذہن میں کچھ دن پہلے آئی جب 19 اگست کو کراچی کے علاقے کار ساز میں 100 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے چلتی ایک گاڑی کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار باپ بیٹی جان کی بازی ہار گئے۔
اس حادثے کے بعد زیادہ تر لوگوں کا یہ ہی کہنا ہے کہ نتاشہ اقبال جس کی گاڑی کی ٹکر سے عمران عارف اور ان کی بیٹی آمنہ عارف نے اپنی جان کی بازی ہار دی ایک طاقتور خاتون اور با اثر گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں اس لئے نہ تو ان کو سزا ملے گی بلکہ وہ جلد رہا ہو کر پھر سے پہلے کی طرح پاکستان کی سڑکوں پر اپنی مہنگی مہنگی گاڑیاں دوڑاتے ہوئے نظر آئیں گی۔
یہ حادثہ ہونے کے بعد جب قانونی کارروائی شروع ہوئی تو نتاشہ کے وکیل سامنے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آمنہ کے پاس ڈرائیونگ لائسنس موجود ہے اس لئے یہ قتل خطا ہے ملزمہ کا قتل کرنے کا ارادہ نہیں تھا بس یہ قتل حادثاتی طور پر ہوا اس لئے ملزمہ پر سیکشن 320 لگتا ہے اور 320 قابل ضمانت جرم ہے اس لئے نتاشہ کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔ مگر پولیس تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کے نتاشہ کے پاس برٹش ڈرائیونگ لائسنس موجود ہے پاکستان کا لوکل ڈرائیونگ لائسنس نتاشہ کے پاس نہیں ہے جس کے بعد اس کیس پر سیکشن 320 کی بجائے 322 لاگو ہوتی ہے یعنی قتل بالسبب کی دفعہ۔ ایسا قتل جس میں آپ کی غفلت کی وجہ سے کسی کی موت ہو جائے۔ 322 ناقابل ضمانت سیکشن ہے چنانچہ کورٹ کی جانب سے نتاشہ کو 14 دنوں کے لئے جوڈیشل ریمانڈ پر رکھا گیا۔
جب نتاشہ کو ضمانت پر رہا کروانے کے لئے لائسنس موجود ہونے کی ٹیکنیک کام نہ آئی تو نتاشہ کے شوہر کی جانب سے بیان سامنے آ جاتا ہے کہ ان کی بیوی کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے اس کا پچھلے 5 سال سے علاج چل رہا ہے۔ اور ہمارے علم میں نہیں تھا وہ ہم سے پوچھے بغیر گاڑی لے گئی اور یہ حادثہ پیش آ گیا۔ لیکن جب جناح ہسپتال کے ڈاکٹروں نے نتاشہ کی دماغی حالت کا معائنہ کیا تو وہ دماغی طور پر مکمل تندرست تھیں بلکہ مزید تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ نتاشہ 9 کمپنیوں کو ہیڈ کر رہی تھیں۔ یہ بات تو یہاں ہی واضح ہو جاتی ہے کہ کوئی بھی ایسا شخص جس کا پانچ سال سے علاج چل رہا ہو وہ 9 کمپنیاں ایک ساتھ کیسے سنبھال سکتا ہے۔
اس افسوس ناک حادثے کے بعد حادثے کی جگہ پر موجود لوگوں کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز وائرل ہوئیں جن کو دیکھنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ نتاشہ بظاہر نشے کی حالت میں محسوس ہو رہی ہے اور شاید اسی وجہ سے وہ گاڑی پر قابو نہ رکھ پائیں اور حادثہ پیش آ گیا۔ لیکن رپورٹس میں یہ بات ابھی تک ثابت نہیں ہوئی کہ نتاشہ نے کسی قسم کی نشہ آور چیز کا استعمال کر رکھا تھا یا نہیں۔ اگر یہ بات بھی میڈیکل رپورٹس سے ثابت ہو جاتی ہے تو یقیناً نتاشہ پر نشہ کر کے گاڑی چلانے کی دفعات بھی لگ سکتی ہیں۔
اس حادثے کے ایک سے دو دن کے اندر حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ جاتی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے نتاشہ اقبال اپنی گاڑی سے پہلے ایک سائیڈ پر پارکنگ میں کھڑی گاڑی کو ٹکر مارتی ہیں اس کے بعد وہ دو موٹر سائیکل سواروں کو گاڑی کی ٹکر سے زخمی کر دیتی ہیں جس کے بعد وہ وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کرتی ہیں اور موٹرسائیکل سوار باپ بیٹی کو جلد بازی میں اتنی زور سے ٹکر مارتی ہیں کہ ان کی جائے وقوع پر ہی موت ہو جاتی ہے۔
پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر نتاشہ کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے بنائی ایک تصویر بھی وائرل ہوئی جس میں وہ دونوں ہاتھوں سے وکٹری کا نشہ بناتے دکھائی دے رہی ہیں یہ تصویر مکمل طور پر فیک تھی اور اے آئی ٹیکنالوجی سے بنائی گئی تھی۔ اتنے احساس کیس کے دوران ایسی تصویر بنا کر وائرل کر دینا اچھی بات نہیں پہلے ہی عوام میں اس کیس کو لے کر غم و غصے کی کیفیت بہت زیادہ تھی اوپر سے اس تصویر نے مزید جلتی پر تیل کا کام کیا اس لئے لوگوں کو ایسے کاموں سے بھی گریز کرنے کی ضرورت ہے جس سے مسائل مزید پیچیدہ ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس کیس کو لے کر آگ لگی ہوئی ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو نتاشہ اپنی دولت اور اثر و رسوخ کا غلط استعمال کرتے ہوئے کیس کا فیصلہ اپنے حق میں لے لیں اور مرنے والوں کو انصاف نہ ملے۔
خیر اب دیکھنا یہ ہے کہ نتاشہ اقبال پر کون سے چارجز فائل ہوتے ہیں اور کیا فیصلہ ہوتا ہے اس کیس کی لیکن ایک چیز تو ہم خود بھی مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ جب بات انصاف کی طرف جائے گی تو دو طرح کے منظر نامے سامنے آئیں گے یا تو مرنے والوں کے گھر والوں کو ان کی جان کی قیمت ادا کی جائے گی اور بدلے میں وہ نتاشہ کو معاف کر دیں گے اور کیس یہاں پر ہی ختم ہو جائے گا یا پھر مرنے والوں کے گھر والے معافی قبول نہیں کرتے اور پیسے لینے سے انکار کر دیتے ہیں پھر ہو سکتا ہے نتاشہ اقبال کو اچھے خاصے وقت کے لئے جیل جانا پڑے یا پھر جو بھی سزا جج صاحبان کی جانب سے نتاشہ کو ملے گی نتاشہ کو وہ سزا کاٹنا ہوگی۔
انصاف ملنا ہر کسی کا بنیادی حق ہے اور انصاف کے لئے آواز اٹھانا بھی ہر کسی کا فرض ہے اس لئے سوشل میڈیا پر یہ کیس ان دنوں زیر بحث ہے خیر ہمارا اعتماد اپنی عدلیہ پر مکمل طور پر پختہ ہے انشاء اللہ بہت جلد اس کیس کا فیصلہ بھی میرٹ کی بنیاد پر ہو جائے گا مزید ہم سب کا یہ بھی فرض ہے کہ ہم سب ٹریفک قوانین کا احترام کریں اور ڈرائیونگ کرتے ہوئے ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔


