زندگی کا رنگ
کارِ جہاں دراز ہے، اب مرا انتظار کر۔ حضرت علامہ نے کچھ سوچ کے ہی یہ مصرع موزوں کیا ہو گا لیکن یہ ایک مصرع ہی ہماری موجودہ حالت و کیفیت بیان کرنے کو کافی ہے۔ اب تو غالب کے کہے والا حال بھی ہونے لگا کہ: جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن۔ لیکن فرصت بھی کیسے میسر ہو کہ: وقتِ فُرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے۔ یا بالفاظِ دیگر غلط العام مصرع کی صورت یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ: اسے چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا۔
صحرا نوردی اور سفرِ کوہ سائی میں دن کیسے گزر گئے، معلوم ہی نہیں ہوا۔ گو وقت اپنی ہی رفتار سے گزرتا ہے لیکن اچھے دنوں کی مصروفیت میں یہ وقت بغیر احساس دلائے چپکے سے یوں گزر جاتا ہے جیسے کوئی یارہ نہ ہو اور یہی وقت برے دنوں میں کچوکے لگانے سے بھی باز نہیں آتا۔ وقت کے کچوکے اپنی جگہ لیکن ان دنوں میں سفری تھیلے (ٹریول بیگ) نے بھی صرف معمول کے کچوکے لگائے رکھنے تک ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ باقاعدہ داغ سازی کا عمل بھی یقینی بنانا ضروری خیال کیا۔
سفر کی مناسبت سے بیگ میں ضروری دفتری سامان کے علاوہ عمرو عیار کی زنبیل کی طرح اور بھی بہت کچھ بھر رکھا تھا۔ اسٹیشنری، لیپ ٹاپ، کئی طرح کے چارجر، تاروں کے گچھے حتیٰ کہ کھانے اور پینے کی اشیا ء بھی الگ سے اسی بیگ میں ایک طرف سجا رکھی تھیں۔ اور انہی چیزوں کو حدت سے بچائے رکھنے کی خاطر بیگ کو اپنے ساتھ اگلی سیٹ پہ جگہ دی۔ سفر کی آخری منزل تک بیگ کی سزا کم ہونے میں نہ آئی۔ بیگ میں سامان کم تو کیا ہونا تھا، دل میں جگہ ہونی چاہیے کی مانند کچھ نہ کچھ مزید اس میں ٹھونسا ہی جاتا رہا۔
اختتامِ سفر پہ یقیناً اس ہمسفر بیگ نے بھی سکھ کا سانس لیا ہو گا کہ اس نام نہاد مال و متاع کے وزن سے جان چھوٹی۔ سارا سامان ایک ایک کر کے نکالا اور بیگ کو کسی اگلے سفر کی تیاری کے لئے خالی کیا۔ سامان نکال کے خود دوسرے کاموں میں مصروف ہو گیا اور بیگ وہیں پڑا رہا۔ کئی گھنٹے کی مصروفیت کے بعد بیگ پہ نظر پڑی، تو نظر جیسے اس پہ رک ہی گئی۔ اور ایک نہایت عجب خیال کوندا۔
سارا سامان نکالنے کے باوجود بھی بیگ کم و بیش اسی شکل میں تھا جس شکل میں یہ سامان کے ساتھ تھا۔ حالانکہ سب بھاری بھر کم چیزیں نکل چکی تھیں، جن چیزوں نے بیگ کا پیٹ پھلا رکھا تھا، وہی تو سب سے پہلے نکالی تھیں۔ لیکن اندر سے خالی یہ بند بیگ بھی باہر سے بھرا ہوا ہی لگ رہا تھا۔ جیسے ابھی بھی بیگ میں وہی سب سامان موجود ہو۔ ایسا ہی کچھ معاملہ حضرتِ انسان کے ساتھ بھی ہے۔ جیتا جاگتا انسان کسی ایک ماحول میں رچ بس جائے تو اس ماحول سے نکلنے کے باوجود بھی اس میں اسی ماحول کا رنگ اور انگ نظر آتا ہے۔
انسان کے اندر خوشی، اطمینان، ٹھہراوَ، محنت کا جذبہ اور رب کی رحمت پہ یقین قائم رہے تو اگر کبھی حالات سازگار نہ بھی ہو تو یہی خواص اسے باہر سے ویسا ہی پہلے جیسا دکھائی دینے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اور اگر کہیں منفی سوچ، حسد، لوبھ، شاطری اور ریاکاری جیسے عوامل ہوں تو باہر کے حالات جیسے بھی سرسبز کیوں نہ ہو جائیں، اس کے اندر صرصر کی ہوا ہی چلتی رہتی ہے۔ صحبت کا اثر اور محفل کا رنگ اثر تو رکھتا ہے۔
ربِ کریم کی بنائی اس دنیا میں کئی رنگ ہیں۔ ہر رنگ کا اپنا انگ اور ڈھنگ ہے۔ یہ تو ملنگ کی اپنی ترنگ ہے کہ رنگ کو جل ترنگ بنانا ہے یا زنگ۔ للاری کے رنگ کا بھی کیا ہے، کچا رنگ تو ویسے بھی جلد اتر جاتا ہے۔


