ایرانی صدارتی انتخاب میں اصلاح پسند امیدوار کی کامیابی اور ایرانی انقلاب کو درپیش چیلنجز


Syed Abdul Hasib Quetta

ابراہیم رئیسی کی اس سال انیس مئی کو ایک مشکوک فضائی حادثے میں شہادت کے بعد ایران کے قبل از وقت اٹھائیس جون اور پانچ جولائی کو منعقد ہونے والے انتخابات میں سابق وزیر صحت اور رکن اسلامی مشاورتی اسمبلی اصلاح پسند مسعود پزشکیان کی دوسرے راؤنڈ میں بطور نویں ایرانی صدر واضح کامیابی نے مبصرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ ان کے مقابلے میں سخت گیر، سپریم لیڈر آیت اللہ خامنی کے قریبی ساتھی سابق چیف جوہری مذاکرات کار، سابق سیکریٹری نیشنل سیکیورٹی کونسل اور نیشنل ایکسپیڈنسی کونسل ( مجمع تشخیص مصلحت نظام) کے موجودہ رکن سعید جلالی تھے۔

سابق مئیر تہران، سابق رکن اور موجودہ سپیکر اسلامی مشاورتی اسمبلی محمد باقر قالیباف اور سابق وزیر داخلہ مصطفی پور محمدی بھی مقابلے میں تھے۔ پہلے مرحلے میں جو اٹھائیس جون کو منعقد ہوا اس میں کوئی امیدوار بھی مطلوبہ پچاس فیصد ووٹ حاصل نہ کر سکا۔ مسعود پزشکیان کو چوالیس ( 44 ) سعید جلالی کو چالیس ( 40 ) ، محمد باقر قالیباف کو چودہ ( 14 ) جبکہ مصطفی پور محمدی کو صرف ایک ( 1 ) فیصد ووٹ ملے۔ پانچ جولائی کو دوبارہ پہلے مرحلے میں پہلے دو اُمیدواروں مسعود پزشکیان اور سعید جلالی میں سے کسی ایک کے انتخاب کے لئے ووٹ ڈالے گئے۔

اس میں مسعود پزشکیان کو واضح اکثریت ٪ 54.76 فیصد ووٹوں کے ساتھ کامیابی ملی جبکہ سعید جلالی کو ٪ 45.24 فیصد ووٹ ملے۔ ان نتائج سے ایک بار پھر ایرانی عوام نے اقتدار پہ انقلاب کے وقت سے برا جمان رجعت پسندوں کے لئے اپنی نا پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ یہ انیس نواسی ( 1989 ) سے منعقد ہونے والے دسویں صدارتی انتخابات میں سے پانچواں انتخاب تھا جس میں اصلاح پسندوں کو کامیابی ملی۔ اگرچہ ( 97۔ 1989 ) دو دفعہ منتخب ہونے والے سپریم لیڈر کے قریبی ساتھی، رجعت پسند ہاشمی رفسنجانی نے بھی بعد میں رجعت پسندوں کے تنگ نظری پہ مبنی رویوں اور پالیسیوں سے نالاں ہو کر اصلاح پسندوں کی کیمپ جوائن کر لی۔

دو ہزار نو میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخاب جس میں اصلاح پسند میر حسین موسوی کے مقابلے میں رجعت پسند احمدی نژاد کامیاب ہوئے انتہائی متنازعہ تھے۔ حالانکہ تمام انتخابی سرویز سے یہ ظاہر تھا کہ مقابلہ دوسرے راؤنڈ میں جائے گا لیکن احمدی نژاد حیران کن طور پہ پہلے ہی مرحلے میں تریسٹھ ( 63 ) فیصد ووٹوں کے ساتھ کامیاب ٹھہرے۔ اس کے بعد کئی ماہ تک ایک ملک گیر عوامی تحریک چلی جس کو جنبش سبز (Green Movement) اور بیداری ایرانی ( Persian Awakening) کا نام دیا گیا جس میں لاکھوں لوگوں نے انتخابی نتائج میں بے ضابطگیوں کے خلاف سڑکوں پہ نکل کے تقریباً چھ، سات مہینوں پہ محیط تحریک چلائی۔

اس میں درجنوں لوگ ہلاک اور ہزاروں گرفتار کیے گئے۔ بدترین ریاستی تشدد کے بعد بالآخر اس تحریک پہ قابو پا لیا گیا۔ اب آتے ہیں اصلاح پسند مسعود پزشکیان کی اصلاح پسند ایجنڈے اور اس کے نفاذ میں درپیش چیلنجز کی طرف۔ مسعود پزشکیان اپنی انتخابی مہم میں لازمی حجاب اور اخلاقی پولیس کے خلاف برملا اپنی ناپسندیدگی کا اظہار فرماتے رہے ہیں۔ اس نے اقتدار میں آنے کے بعد اخلاقی پولیس کو ختم، حجاب کے قوانین اور ثقافتی حدود کو نرم اور سماجی آزادیوں کو عام کرنے کے وعدے کیے ۔

لیکن سپریم لیڈر اور انقلاب کے بنیادی اصولوں کے ساتھ انھوں نے بھی اپنی وابستگی کا اظہار فرمایا۔ ایرانی عوام نے ان کے اصلاحی ایجنڈے کی طرف پسندیدگی رکھنے کے باوجود صدارتی انتخاب میں ان کی طرف اس شدید میلان کا اظہار نہیں کیا جس طرح انھوں نے محمد خاتمی ( 2005۔ 1997 ) اور حسن روحانی ( 2021۔ 2013 ) کے انتخاب کے موقع پہ دکھایا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ ان دونوں کا دو دو ٹرم انتخاب کے باوجود اپنے اصلاحی ایجنڈے پہ عمل میں مکمل ناکامی تھی۔

اسی عدم دلچسپی کی وجہ سے ٹرن آؤٹ صرف انتالیس ( 39 ) فیصد رہا۔ ایرانی عوام کو پاور سٹرکچر میں سپریم لیڈر اور گارڈین کونسل کی شکل میں رجعت پسندوں کو حاصل فوقیت کا اچھی طرح ادراک ہے۔ وہ کسی بھی اصلاح پسند صدر میں یہ سکت نہیں دیکھتے کہ وہ پینتالیس سالہ پاور سٹرکچر کو چھیڑیں ان کے صدارت اور پارلیمنٹ سے بالائی اختیارات کو کم، صدارتی اور پارلیمنٹ کے اختیارات میں اضافہ کریں۔ اس لیے ان کے نزدیک اصلاح پسند ایجنڈے کے نعرے صرف انتخابات جیتنے کے حربے ہیں حقیقت میں ان کے نزدیک کچھ بدلنے والا نہیں ہے۔

اس وجہ سے ایرانی عوام اور خصوصاً انٹلیجنشیا کے اندر اس وقت ملک چھوڑنے کا رجحان اپنے عروج پہ ہے۔ اگر مسعود پزشکیان ماضی کے اصلاح پسندوں کے برعکس کسی طور بھی اپنے اصلاحی ایجنڈے پہ عمل دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کو رجعت پسندوں کی طرف سے ایک یقینی مزاحمت کا سامنا ہوتا ہے تو یہ پچھلے تین دہائیوں سے امریکہ اور مغرب کی پابندیوں کے شکار اور اسرائیل کے نشانے پہ موجود ملک کے لئے یقیناً ایک مشکل صورتحال ہوگی۔

خاص طور پہ جبکہ یہ اسرائیل حماس، حزب اللہ اور حوثیوں کی جنگ میں واحد اسلامی ملک کے طور پہ کھلم کھلا ان تینوں تنظیموں کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی ہر قسم کی سیاسی، مالی اور فوجی امداد کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ انیس اپریل کو جوابی ردعمل کے طور پہ اسرائیل پہلے براہ راست اصفہان میں ایران کے ایس 300 لانگ رینج ائر ڈیفنس سسٹم اور پھر اکتیس جولائی کو اس کے نئے صدر کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لئے وہاں موجود فلسطین کے سابق وزیر اعظم اور حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کو تہران میں نشانہ بنا چکا ہے۔

ایران نے پہلے حملے کے جواب میں اسرائیل پہ اسی دن سینکڑوں میزائل داغے اور اب دوبارہ اسماعیل ہانیہ کی شہادت کا انتقام لینے کے لئے کسی بھی وقت اسرائیل پہ حملے آور ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات میں رجعت اور اصلاح پسندوں کے درمیان کسی قسم کی کشیدگی اور تناؤ ایرانی انقلاب اور اس کے مستقبل کے لئے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے دونوں اطراف کو سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے، ہر قسم کی محاذ آرائی سے پرہیز اور تمام مسائل افہام و تفہیم اور باہمی مشاورت سے حل کرنے چاہیے۔

Facebook Comments HS