اے شہر کراچی تیرا احسان ہے مجھ پر


برسوں پرانی بیتی کہانی پنجاب چھوڑا مستقبل سنوارنے کراچی کے لیے رختِ سفر باندھا۔ اپنے ہی شہر میں نصیب کا رزق وافر تھا مگر تسکین نہیں تھی۔ بیسیوں یاروں دوستوں کو الوداع کیا روزگار گنوایا اور غریب کی ماں کی آغوش میں جا بیٹھا۔ آپ میں سے جو غریب کی ماں کو نہیں جانتے تو جانتا بندہ ِ ناچیز بھی نہیں تھا۔ مگر کراچی پہنچ کر ہی جانکاری ہوئی کہ عروس البلاد کو غریب کی ماں بھی کہتے ہیں۔ میں غریب بن کر تو ماں کی آغوش میں نہیں گیا تھا ہاں مرزا محمد سعید کے الفاظ یاد آتے کہ آدمی یا دولت کے لیے کام کرتا یا پھر شہرت کے لیے۔

اوپر کے الفاظ سے قارئین محترم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مجھے یہاں کام کرنے کی کون سی لالچ لائی ہوگی۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں جرائم بھی بڑے مگر ہماری دیدہ دلیری دیکھیں یا سادگی اس دور کی جمع پونجی جو کہ لاکھوں میں تھی پتلون کی جیب میں بھر رکھی تھی۔ تسلی کچھ یوں بھی ہو جاتی کہ پتلوں ذرا چست تھی تو کسی کے چھونے سے احساس پانا مشکل نہیں ہو گا لہذا ہماری منطق رب کی حفاظت سے کامیاب ٹھہری ایک ٹکہ روپیہ بھی نا گنوایا مگر رکشہ والوں نے ہماری جمع پونجی سے خوب کمایا دس منٹ کی منزل پر گھنٹے بھر کے ہچکولے اور پانچ سو روپے کے نوٹ کو چھٹا کرا کے اس کا چوتھا حصہ مجھے بقایا میں جب ملتا تو جیب پر اثر اس لیے نا پڑتا کیونکہ خالی جیب ہی دنیا کا بڑا بوجھ ہوتی ہے اور ادھر تو جیب تھی کہ تجوری بنی ہوئی تھی۔

خیر آمدم بر سر مطلب سفارش کے بل بوتے پر جس میڈیا دفتر میں نوکری کے لیے پہنچا آگے سے مثبت تاثر نا پاکر حوصلہ برقرار رکھا دو دن بعد رابطہ کیا تو جواب ندارد دکھ ہوا کہ ہم نے تو طارق بن زیاد والا اصول اپنایا اور اپنے پیچھے کشتیوں کو جلایا جس کا نتیجہ یہ نکلا جس نے ہمیں مایوس کیا خدا نے موصوف کے سر سے باپ کا سایہ ہی چھین لیا اور یوں وہ ناصرف اس دفتر کو بلکہ شہر کو بھی چھوڑ گیا۔ یہ ہماری بدنصیبی تھی یا ہمارے ساتھ تعاون نا کرنے کی اس کو سزا۔

خیر خوش فہمی انسانی فطرت کا خاصا رہا ہے۔ ہماری نوکری اس دفتر میں نا ہوئی رہا وہ بھی نہیں نتیجہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ ادھر ہی اس کی کہانی ختم آگے چلیے ہمیں در بدر کی خاک چھاننی پڑی کراچی جیسے شہر میں میڈیا ہاوسز کون نہیں جانتا سوائے سرکاری ٹی وی چینل کے باقی کوئی ایسا چینل نہیں ہو گا جس کے دفتر ہم نا پہنچے ہوں۔ استقبالیہ پر کس کام سے آئے کس کو ملنا۔ جاب کے لیے کسی کو نہیں جانتا سی وی دیں واپس جائیں یہی ہر جگہ کا طور دیکھا ایک جگہ ایسی بھی پائی جہاں حوصلہ افزائی بھی ہوئی رہنمائی بھی باقی تو ہمیں خودکش بمبار سمجھ کر روانہ کر دیتے تھے ناصرف نیوز چینلز بلکہ ڈراما پروڈکشن میں بھی قسمت آزمائی کی مگر بار بار ان کا بھی ایک ہی ڈراما سفارش کا نا ہونا پورے بائیس دن یوں دھکے کھائے ایک دن تو چلتے چلتے بوٹ کا تلوا بھی نکل گیا مگر حوصلہ برقرار رہا

آخر غریب کی ماں کو ہمارے پھٹے پاپوش نظر آہی گئے۔ جنہیں دیکھ کر احساس ہوا اور اس کی مامتا جاگ اٹھی اور ایک چینل پر ہمیں بھی کام کے لیے جگہ مل گئی وہ بھی سفارش پر مگر آج وہ چینل ہی نہیں رہا بہت کچھ سیکھنے کو ملا شفیق باس پیارے ساتھی سینیئرز تھے مگر تکبر نہیں تھا۔ ہاں ہر جگہ انسان کو اس کی توقع کے مطابق سب کچھ میسر آ جائے تو رب سے ناتا ٹوٹنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے اس لیے رب کی مہربانی رہی اور اللہ سے رشتہ قائم رکھنے میں ایک بندہ وہاں ایسا مل ہی گیا جس کا رویہ دل آزاری کا موجب بنتا تھا اور ہماری صلاحیتیں مزید پروان چڑھنے کے جذبے پاتی تھی آج شاید وہ بھی کسی ویب ٹی وی کو پیارا ہو چکا ہے۔

کراچی جیسا بڑا شہر ڈیفینس سرکاری دفاتر ایدھی چھیپا سیلانی تھانے بکر منڈی مویشی منڈی سبز منڈی ہسپتال پارکس کلفٹن سیاسی سیکٹیریٹ کھیلوں کے میدان، ریلوے اسٹیشن، لاری اڈہ، ہسپتال، بازار و گوٹھ سب پھرا کیونکہ فیلڈ میں جانا ہوتا تھا ہر طرح کے مسلک فرقے لسانیات مذاہب کو بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا جہاں اپنا تعارف علاقائی و جغرافیائی حدود پر مظفر گڑھ سے جڑتا تو شخصیات دفعتاً آگے سے یہ بتائی جاتی تھیں۔ مختاراں مائی کا علاقہ!

مصطفی کھر حنا ربانی اور جمشید دستی اور ہم بھی بڑے فخر سے کہتے جی بالکل ہاں کراچی پریس کلب میں جب سرائیکی ہونے کا احباب کو انکشاف ہوتا تو نذیر لغاری شاہد جتوئی اور بالخصوص روف کلاسرا جیسے صاحبان کے نام لے کر اعزاز فضیلت بخشتے تھے مگر ان تینوں میں سے کام کوئی نا آیا۔ ماسوائے رانا محبوب اختر صاحب کے جو میرے کہنے پر متعلقہ بندے سے رابطہ ضرور کرتے تھے شاہد جتوئی صاحب سے بالمشافہ ملاقاتیں ہوئیں مگر بے سود۔

لغاری صاحب سے نا ملاقات ہوئی نا رابطہ ان کا گلا کرنا بنتا بھی نہیں ان کے لیے اب نیک تمنائیں ہیں اور دعائیں ہیں، ہاں کلاسرا صاحب سے کچھ احباب سے کہلوانے کی کوشش کی مگر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ یوں ہم نے اپنے حصے کا وقت کراچی کو دیا اور کراچی نے ہمیں کیا دیا دعائیں یا یادیں اس سے بڑھ کر اور بھی بہت کچھ دیا میرا بچپن کا ہم جماعت جو بمعہ اہل و عیال پکے سکونتی ہوچکے تھے ان تمام دنوں میں اس کا ساتھ ہمیشہ میرے ساتھ رہا اب نا تو وہ کراچی رہا نا ہی میں۔

میری محبت مجھے جنم بھومی لے آئے اور اس کی آرزو اسے دیار غیر لے گئی۔ وہ تو کراچی پلٹتا ہے میں نہیں کیونکہ اس کی شریک حیات کراچی سے اور ہم قید آزادی میں۔ آج بھی مجھے تشفی ہوتی کہ کراچی نے مجھے میرا ٹیلنٹ منوانے کا موقعہ تو فراہم نا کیا مگر خود آزمائی میں کامیاب ٹھہرایا کہ میں کر سکتا تھا اور کر سکتا ہوں۔ آج بھی مجھ سے کوئی پوچھتا کہ زندگی میں کبھی کسی کام پر پچھتاوا ہوتا ہو تو میرا جواب ہمیشہ یہی ہوتا کہ کراچی سے واپس لوٹ آنا میری زندگی کی شاید بڑی غلطی تھی جس پر پچھتاوا ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS