جز وقتی سرور یا دائمی لطف

فنون لطیفہ تاریخ، کلچر، روایت اور عقیدے کی پریزنٹیشن کا بہترین ذریعہ ہوتے ہیں۔ فنون خاص لوگوں کے لیے ہوتے ہیں جن سے عام لوگ بھی حظ اٹھاتے ہیں۔ فنون کے پیش نظر عوامی شعور کی بیداری ہوتی ہے مگر عام لوگ اسے محض تفریح کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یوں آہستہ آہستہ تفریح غالب آ جاتی ہے اور شعور عنقا ہو جاتا ہے۔ فنون پر دسترس رکھنے والے عوامی پذیرائی کے باعث اپنے معیارات پر سمجھوتا کر لیتے ہیں۔ وہ اپنے فن سے لوگوں کو تفریح فراہم کرنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے فنون کو زوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ادب، موسیقی، سٹیج سمیت دیگر فنون دہائیوں سے گمبھیر صورت حال کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فن میں محض تفریح رہ گئی ہے اور اصلاح و تربیت کا عنصر ختم کر دیا گیا ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ جن معاشروں میں سیاسی اور معاشی ناہمواری بڑھ جاتی ہے وہاں فنون کے پنپنے کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔ عجیب بات ہے کہ پاکستان دہائیوں سے ناہمواریوں کا شکار ہے مگر یہاں فنون کی بڑھوتری کے بجائے عوامی سطح پر انٹرٹینمنٹ کو فروغ مل رہا ہے۔
یہ صورت حال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ عام لوگ حقائق سے فرار حاصل کر کے محض خوش رہنے کے تمنائی ہیں۔ خوشی کا یہ احساس جلد ہی ختم ہو جاتا ہے اور دوبارہ حقائق کی دنیا میں لوٹنا پڑتا ہے۔ حقائق سے پیچھا چھڑانے کے لیے بار بار فنون سے تفریح حاصل کرنا دراصل ایڈکشن ہی کی ایک صورت ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ شاعری، موسیقی، اداکاری، مصوری سمیت دیگر فنون کے سطحی نمونوں کو عوامی پذیرائی حاصل ہے مگر اعلیٰ معیار کے حامل فن پارے داد سے محروم ہو رہے ہیں۔
اس کی وجہ سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ چاہت فتح علی خان اس کی بہترین مثال ہیں۔ ہر میدان میں ایک چاہت فتح علی خان اہل فن کی قابلیت کا منھ چڑاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اچھل کود اور ہنگامہ ہاؤ ہُو کو تقویت دیتا ہے۔ یہ نظام اخلاقیات، اصول پسندی اور روایت کو اپنے راستے میں رکاوٹ گردانتا ہے۔ یوں ہر جگہ سطحی خیالات کو فروغ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جز وقتی سرور کے لیے سرمایہ کاری کی جاتی ہے اور دائمی لطف کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہمارا فن کار سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ بن گیا ہے۔ دنیا تیزی سے بدل چکی ہے اور سرمائے کو تمام سطحوں پر مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ یعنی ثقافت، مذہب، اخلاقیات اور فنون سرمائے کے بغیر فروغ نہیں پا سکتے ہیں۔ فن کار نئے سانچے میں ڈھل گئے ہیں، انھیں فن سے زیادہ جز وقتی مفاد عزیز ہے۔ سٹیٹ خود بھی ایسے فن کاروں کو پذیرائی دیتی ہے جو صرف فن برائے فن کے قائل ہوتے ہیں اور انھیں ملکی معاملات سے کوئی علاقہ نہیں ہوتا ہے۔ استحصال کرنے والوں کو سوچنے والوں سے خدشہ لاحق ہوتا ہے۔ فنون لطیفہ سے وابستہ لوگوں کو قابو کرنے کے لیے انھیں چھوٹے چھوٹے مفادات کی ترغیب دی جاتی ہے۔ جو فن کار اس جال میں نہیں پھنستا ہے، مفاد پرست فن کار اسے پاگل قرار دے کر پتھر اٹھا کر مارنے لگتے ہیں۔

