اندوہناک دہشت گردی:یہ سر زمین پاک ہے یا ارض کربلا ہے یہ


بلوچستان میں 25 اگست کی شب شروع ہونے والے حملوں میں 10 فوجی اہلکاروں سمیت چار درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں، جس کے بعد بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ ’معصوم شہریوں کے قتل کا بدلہ لیا جائے گا۔ وطن عزیز اس وقت سیاسی عدم استحکام، معاشی ابتری اور قدرتی آزمائشوں کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ بیرون ملک اور اندرون ملک کوچز اور گاڑیوں کے اندوہناک حادثات کے صدمات کے اثرات جاری تھے کہ دہشت گردوں نے بلوچستان کے کئی مقامات پر حملے کر کے قوم اور سیکورٹی فورسز کے لئے پہلے سے موجود چیلنجوں کو دوچند کر دیا۔

موسیٰ خیل، قلات، مستونگ اور بولان میں تخریب کارانہ کارروائیوں میں تین درجن سے زیادہ انسانی جانوں کا خون بہایا گیا۔ سب سے بڑا اور المناک ترین واقعہ موسیٰ خیل کے علاقے راڑہ شم میں پیش آیا جہاں قومی شاہراہ کی ناکہ بندی کر کے دہشت گردوں نے پنجاب سے آنے والی بسوں کو روکا۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسافروں کو اتار کر ان کے شناختی کارڈ چیک کیے اور ان میں سے 23 کو گولی مار دی۔ تخریب کاروں نے 10 بسیں، 6 ٹرک اور 7 دوسری گاڑیاں بھی نذرآتش کر دیں۔ کولپور کے قریب ایک پل کو دھماکے سے اڑا دیا گیا، جس سے بلوچستان، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان ریلوے ٹریفک معطل ہو گئی۔

کھڈکوچہ میں لیویز تھانے پر حملہ کر کے اس کا ریکارڈ اور دوسری املاک جلا دیں۔ قلات میں ایک قبائلی شخصیت کے گھر پر حملہ کیا۔ بولان کے پہاڑ سے 6 لاشیں ملیں جو دہشت گردی کا نشانہ بنیں۔ کوئٹہ دھماکہ ایک شخص کی جان لے گیا۔ ”یہ سر زمین پاک ہے یا ارض کربلا ہے یہ“ کا منظر ہے۔ سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کر کے 12 دہشت گرد ہلاک کیے تاحال آپریشن جاری ہے۔ دہشت گردوں کے قبضے سے نائٹ وژن کیمرے اور جدید اسلحہ برآمد ہوا، جس سے پتہ چلتا ہے کہ انھیں بیرونی طاقتوں کی معاونت حاصل ہے جس کا مقصد پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کے علاوہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو سبوتاژ کرنا ہے۔ دہشت گردوں نے اس کے علاوہ ایک ہوٹل، پل، ٹول پلازہ اور اسپتال پر بھی حملہ کیا، جس سے ان کے مذموم عزائم کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

پاکستان دشمن قوتیں بھی ان کی مدد کر رہی ہیں۔ دہشت گردی کے یہ اندوہناک واقعات سیاسی جماعتوں سمیت تمام مکاتب فکر کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ اقتدار حاصل کرنے یا بچانے کی سیاست چھوڑ کر ملک کے لئے سوچنا چاہیے اور دہشت گردی سمیت ہر طرح کی منفی سرگرمیوں کے سدباب کے لئے اپنی توانائیوں کو پوری سنجیدگی سے بروئے کار لانا چاہیے۔ ٹریفک حادثات روزمرہ کا معمول بن گئے ہیں، سٹریٹ کرائمز اور امن عامہ کا مسئلہ بھی سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔

ایسے میں سیاسی محاذ آرائی وطن دشمن عناصر کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے۔ قوم اور اس کی قیادت کو ان کا رستہ روکنے کے لئے سنجیدہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ کہا جا رہا ہے کہ بی ایل اے ( بلوچستان لبریشن آرمی ) کی جانب سے یہ حملے نواب اکبر بگٹی کی 18 ویں برسی کے موقع پر کیے گئے اور علیحدگی پسند تنظیم نے اسے ’آپریشن ہیروف‘ کا نام دیا گیا۔ کالعدم بی ایل اے کے مطابق بلوچستان کے علاقے لسبیلا میں پاکستانی فوج کے ایک کیمپ پر حملے میں دو خود کش بمباروں نے کارروائی کی، جس میں ایک حملہ آور خاتون تھیں۔ صوبہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی شدت پسندوں کی کارروائیاں کیا سکیورٹی یا انٹیلی جنس کی ناکامی ہے، پنجاب کے شہریوں کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے، کیا صوبے میں حکومت کی رِٹ باقی ہے؟ یہ سوالات منہ پہاڑے کھڑے ہیں۔

بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی کارروائیاں تقریباً دو دہائیوں سے جاری ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں ان میں شدت دیکھنے میں آئی ہے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے شہریوں خصوصاً مزدوروں کو شناخت کرنے کے بعد قتل کیا گیا ہو۔

اپریل 2024 میں بھی بلوچستان کے علاقے نوشکی میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 شہریوں کو بس سے اُتار کر قتل کر دیا گیا تھا، جبکہ مئی 2024 میں شدت پسندوں نے ضلع گوادر سے ملحقہ ایک علاقے میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے سات مزدوروں کو ہلاک کر دیا تھا۔ ان تمام کارروائیوں کی باضابطہ ذمہ داری کسی علیحدگی پسند گروہ نے قبول نہیں کی تھی، لیکن کالعدم شدت پسند تنظیمیں ایسے حملوں میں ملوث رہی ہیں۔ پاکستانی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ فور کانفلکٹ اینڈ پیس سٹڈیز کے مطابق گزشتہ برس بلوچستان میں کم از کم 170 حملے ہوئے، جس میں 151 عام افراد اور 114 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال اور شدت پسندوں کے حملوں کے حوالے سے صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں ہزاروں کلومیٹر پر محیط سڑکیں ہیں، وہاں کوئی بھی چور اور ڈاکو سڑک پر کھڑا ہو جائے گا تو اسے سکیورٹی کی ناکامی نہیں کہا جا سکتا۔

تجزیہ کار اور ماہرین کہتے ہیں کہ حکومتوں کو ’ابھی تک یہی علم نہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ کیا ہے؟ کسی مسئلے کا حل ڈھونڈنے کے لیے سب سے پہلے آپ کو مسئلے کا علم ہونا چاہیے۔ ‘ شورش اور دہشتگردی میں فرق ہے۔ شورش کو اکثر مقامی افراد کی ہمدردی حاصل ہوتی ہے اور لوگ اس کے مقاصد کی بھی اکثر حمایت کرتے ہیں۔ ’شورش سے دہشتگردی کی طرح نمٹنا درست نہیں، یہ طریقے اکثر بیک فائر کر جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں پنجاب کے علاقے ماچھکہ میں کچّے کے ڈاکوؤں کے حملے میں 12 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت واضح کرتی ہے کہ‘ کچّے کا علاقہ سنبھالا نہیں جا رہا ایسے پورے صوبے میں آپریشن کیسے ممکن ہے۔ سندھ اور بلوچستان کی مسلح تنظیموں کے ٹھکانے بھی کچّے میں موجود ہیں۔

بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے اور عبد الرحمن کھیتران نے کسی بڑے آپریشن کا اعلان تو نہیں کیا، لیکن معصوم شہریوں کے قاتلوں سے بدلہ لینے اور ان کے خلاف ایک منظم آپریشن کی خواہش کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ ان حملوں میں بیرونی طاقتیں ملوث ہیں، انھیں بہت جلد بے نقاب کیا جائے گا۔ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں شدت پسندی کے خاتمے کے لیے فوجی آپریشن کرنا درست قدم نہیں۔

اب یہ سوچنے کی بھی ضرورت ہے کہ لوگ مسلح تنظیموں میں کیوں شامل ہو رہے ہیں؟ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ جب لوگ جبری گمشدہ ہوں اور مسخ شدہ لاشیں ملیں تو پھر ان تنظیموں کو نئے لوگ بھرتی کرنے کے لیے کسی مہم جوئی کی ضرورت نہیں رہتی۔ بلوچستان میں مختلف گروہ برسوں سے مبینہ جبری گمشدگیوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کی جانب سے اکثر ریاستی اداروں پر لوگوں کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کے الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں۔ پاکستانی نے ماضی میں متعدد مرتبہ مسلح تنظیموں کے رہنماؤں سے مذاکرات کرنے کی کوشش کی، لیکن ہر بار یہ ناکامی سے دوچار ہوئے۔

بادی النظر میں یہ مسئلہ فوجی آپریشن سے نہیں بات چیت سے حل ہی ہو گا۔

اب یہاں یہ سوال بھی ہے کہ بات کس سے کی جائے؟ پُرانے لوگ ایک طرف ہو گئے ہیں اور اب علیحدگی پسند تنظیموں کی قیادت نئی اور مختلف ہے۔ ان سے پارلیمنٹ کے ذریعے بات کی جائے تاکہ ان کا اس نظام پر کچھ اعتماد بڑھے اور مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو۔

بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی کہتے ہیں کہ اسلحہ پھینکنے والوں سے حکومت بات چیت کرنے کو تیار ہے۔ ہم مذاکرات کس سے کریں کیونکہ یہ تو صرف بندوق کی زبان میں بات کر رہے ہیں اور دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ہر محب وطن امن کا خواہاں ہے اس صورتحال کا مجموعی طور پر بہترین حل سیاسی ہے۔ سیاسی حل صرف بات چیت کے ساتھ اہل بلوچستان کو جمہوری اور سیاسی خودمختاری دینی ہو گی۔

Facebook Comments HS