گیا نگر میں لنکا، ایک تجزیاتی مطالعہ
اس کتاب کے مصنف اختر احسن ہیں۔ اس مجموعے کے کچھ حصے زین غزل کے عنوان سے مختلف رسالوں میں چھپتے رہے ہیں۔ پہلے پہل یہ زین غزل محمد حسن عسکری کے رسالے سات رنگ میں چھپی اور بعد میں اس کے کچھ حصے نیو یارک میں لکھے گئے۔ تب بھی اس کے دو حصے تھے۔ ایک حصہ گوتم کے نام سے اور دوسرا راون کے نام سے ہے۔
زین سے مراد ”بدھ مت“ مذہب کی ایک شاخ ہے جو جاپان میں بہت زیادہ مقبول ہے۔ ہندوستان میں اس کو ”دھیان“ ساکھا کہا گیا پھر چین میں یہ مذہب ”چان“ کے نام سے جانا گیا اس کے بعد زین کے نام سے جاپان میں شہرت حاصل کر گیا۔
مصنف کے مطابق گوتم کا ظہور ”گیا“ میں ہوا۔ دنیا اس کو بدھ کے نام سے بھی یاد کرتی ہے۔ راون کا روپ ”لنکا“ میں ظاہر ہوا، جو کلنگ کا دوسرا نام تھا۔ مگر اس مجموعے میں جیسا کہ ظاہر ہے راون کا روپ موجودہ دنیا کے رنگ میں دکھایا گیا ہے۔ اختر احسن نے اپنی غزلیات کو زین غزلیں قرار دیتے ہوئے انھیں ان تمام خطوں کے درد کا عکس کہا ہے جن پر بدھ مت کی اشاعت و قبولیت ہوئی۔ بدھ مت کا آغاز ہندوستان سے ہوا لیکن اب اس کے ماننے والے جاپان اور چین میں سب سے زیادہ ہیں۔ اختر احسن لکھتے ہیں :
”میری ان زین غزلوں کا میری دھرتی سے ایک بہت پرانا رشتہ بنتا ہے اور وہ ہے“ بدھ مت ”۔ اس کا پہلا اصول تھا پرستش کے لائق انسان ہے نہ کہ خدا۔ ایک“ میں ”کا لفظ ہی تنہا سب سے بڑا دکھ یا سکھ ہے۔ یہ“ میں ”کی کیفیت اور موضوعات زین غزلوں میں ملتے ہیں۔“
شعر ہمیشہ سے اشارتی رہا ہے۔ اس کا موضوع انسان اور اس کا مقصد دریافت انسان۔ اس سلسلے میں بھگت کبیر کا نظریہ انسان بھگتی تھا جو بھجنوں اور دوہوں کی شکل میں ہمارے سامنے آیا۔ آج کی زندگی میں ثواب اور گناہ ہماری قسمت میں نہیں۔ ہم مکمل بَن باس میں ہیں۔ وہ پرانی بھگتی ختم ہو گئی۔ آج کی بھگتی ثواب اور گناہ سے پرے نا قسمتی کا بوجھ ہے۔ اس بوجھ کا روپ یعنی ”گیا نگر میں لنکا کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔
اس مجموعے کی غزلوں میں دیومالائی علامتی انداز میں ایشیائی باشندوں کے دکھ کا اظہار ہے۔ بیسویں صدی میں ایشیائی اقوام جس درد اور کرب سے گزری ہیں، اس مجموعے میں ان کو اساطیری انداز میں واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس مجموعے میں زین غزلوں کی تعداد ایک سو ہے۔ اس کتاب کے پہلے حصے کا نام ”گوتم“ ہے اس میں پچاس غزلیں ہیں۔ اسی طرح دوسرے حصے کا نام ”راون“ ہے، اس میں بھی پچاس غزلیں ہیں۔
گوتم (گیا نگر) اور راون (لنکا) دو متضاد تہذیبوں کی علامتیں ہیں۔
گوتم بدھ کا اصل نام شہزادہ سدھارتھ تھا، وہ بدھ مت کا بانی ہے جو دنیا کے بڑے مذاہب میں سے ایک ہے۔ نیپال کی موجود سرحدوں کے بیچ لمبائی کے مقام پر 563 قبل مسیح میں پیدا ہوا۔ شاہی محل میں پر تعیش ماحول میں اس کی پرورش ہوئی، تاہم وہ خود اس ماحول کا خوگر نہیں ہوا۔ وہ بے کل رہتا تھا۔ اس نے مشاہدہ کیا کہ بیشتر انسان غریب ہیں اور اس محرومی کے سبب مسلسل ابتلاؤں میں گھرے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ اہل ثروت بھی اکثر مایوس اور ناخوش رہتے ہیں۔ نیز ہر شخص بیماری کا شکار ہوتا اور آخر کار مر جاتا ہے۔
قدرتی طور پر سدھارتھ نے غور کیا کہ کوئی ایسی کیفیت بھی ہے جو ان عارضی مسرتوں سے، جو بالآخر موت اور بیماری سے پامال ہو جاتی ہیں، معریٰ ہو، گوتم نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی موجودہ زندگی سے کنارہ کشی اختیار کر لے گا اور خود کو سچ کی تلاش کے لیے وقف کردے گا۔ وہ ایک مفلس یوگی بن گیا۔ کئی سال وہ مسلسل فاقہ کشی اور خود اذیتی کے مراحل سے گزرا۔ آخر ایک شام جب وہ ایک عظیم الجثہ انجیر کے درخت تلے بیٹھا تھا، اسے اس چیستان کے سبھی ٹکڑے باہم یکجا ہوتے محسوس ہوئے۔ اس پر منکشف ہوا کہ اس نے حل پا لیا تھا اور یہ کہ وہ اب ”بدھ“ بن گیا تھا جس کے معنی ایک ”اہل بصیرت“ کے ہیں۔ زندگی کے پینتالیس برس اس نے شمالی ہندوستان میں سفر کرنے میں گزارے۔ وہ ان لوگوں کے سامنے اپنے خیالات کا پرچار کرتا جو اسے سننے آتے تھے۔ 483 قبل مسیح میں اپنی وفات کے سال تک وہ اپنے ہزاروں پیروکار بنا چکا تھا۔
بدھ کی بنیادی تعلیمات کو بدھوں کے الفاظ میں ”چار اعلیٰ سچائیاں“ کے عنوان سے سمیٹا جاسکتا ہے۔ اول انسانی زندگی اپنی جبلی حیثیت میں دکھوں کا مسکن ہے۔ دوم اس ناخوشی کا سبب انسانی خود غرضی اور خواہش ہے۔ سوم اس انفرادی خود غرضی اور خواہش کو ختم جا سکتا ہے اور ایسی کیفیت پیدا کی جا سکتی ہے جس میں خواہشات اور آرزوئیں فنا ہوجاتی ہیں۔ چہارم اس خود غرضی اور خواہش سے فرار کا ذریعہ ”آٹھ راست راہیں“ ہیں۔ یعنی راست نقطہ نظر، راست سوچ، راست گوئی، راست بازی، راست طرز بودوباش، راست سعی اور راست ذہن اور راست تفکر اور یہ بات بھی ہے کہ بدھ مت ہر کسی کے لیے اپنی آغوش وا کیے ہوئے ہے۔
تیسری صدی قبل مسیح میں عظیم ہندوستانی شہنشاہ اشوک نے بدھ مت اختیار کر لیا۔ اس کی پشت پناہی سے ہندوستان بھر میں بدھ مت کے اثرات تیزی سے پھیلے۔ بدھ مت کے اثرات شمالی علاقوں میں بھی مرتسم ہوئے۔ اس نے چین میں بھی جگہ بنائی، یہاں سے آگے جاپان اور کوریا میں اس نے اپنے پیروکار پیدا کیے۔ لیکن ہندوستان میں ہی یہ مذہب 500 ء کے بعد تنزل کا شکار ہونے لگا اور 1200 ء تک یہ سمٹ کر بہت مختصر طبقے تک باقی رہ گیا۔ دوسری جانب چین اور جاپان میں بدھ مت ایک بڑے مذہب کی حیثیت سے موجود رہا۔
ہندو کتاب رامائن میں ”راون” ایک بنیادی اساطیری حریف کردار ہے۔ جسے راکھشس کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ لنکا کا بادشاہ تھا۔ تمام برائیاں اس سے منسوب کی جاتی ہیں۔
”گیا نگر“ ایشیائی مشرقی ممالک جبکہ راون کا ”لنکا“ تمام غالب اقوام کا استعارہ ہے۔ یہ وہ تمام غالب اقوام ہیں جن کی وجہ سے پہلی اور دوسری عظیم جنگیں ہوئیں۔ ان جنگوں میں لاکھوں ایشیائی انسان ہلاک ہوئے۔ اس مجموعے میں اختر احسن نے شاعری کے تین منشور بیان کیے ہیں۔ ان منشوروں کے مطابق یہ دنیا ایک شطرنج کی بساط ہے اور جیت اسی کی ہے جو تلوار کے فن میں ماہر ہو گا اور بیسویں صدی میں کچھ اقوام نے انسان بھگتی کو چھوڑ کر اس فن پر دسترس حاصل کر لی، جس کے نتیجے میں ایشیائی ممالک کے باشندے اپنی قسمت سے محروم ہو گئے۔ شاید اس وقت وہ سب سور ہے ہوتے ہیں۔ جب تلوار پنکھے میں بدل گئی اور بالآخر پنکھا بھی درمیان سے غائب ہو گیا تو پلک جھپکتے ہی ایک نا قسمتی کا دور سامنے تھا۔ یعنی یہ کہ آج بدھ جی کی تلوار کیا ان سے پنکھا بھی چھین لیا گیا ہے۔ یہ نیا دور خالص نا قسمتی کا دور ہے۔ اختر احسن لکھتے ہیں :
گوتم بدھ بے چارا ہے
بے طاقت ناکارا ہے
مشرق میں گر جیت ہوئی
مغرب میں اب ہارا ہے
شاعری کے پہلے منشور میں جس کا نام شاعر نے شطرنج کی بساط رکھا تھا اس میں سارے کا سارا شعری عمل بندر کی جبلی طاقت سے ظاہر ہوا تھا۔ شاعری کی یہ جنگ بندروں ہی کی جنگ تھی۔ ہمیں اس بات کا بھی علم ہے کہ مہا بھارت کی پرانی جنگ پہلے پہل بندروں ہی نے لڑی تھی۔ ڈارون صاحب کے ماننے والوں نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم لڑی۔ سب کو جلد ہی یہ پتہ چل گیا کہ یہ نیا زمانہ تلوار کا نہیں بلکہ نئی بندوق کا زمانہ ہے۔ اس نئے زمانے کے حادثات کچھ اور قسم کے ہیں۔ اور پھر جیسا کہ مہا بھارت میں کہا گیا ہے ہنومان جی تک اس نئے زمانے میں کلجگ کی بیماری کے شکار ہیں۔ سوچ کہتی ہے کہ اس اثنا میں پرانے زمانے کی جنگ لنکا سے گزر کر گیا نگر میں داخل ہو چکی ہے۔ راون جی ایک نیا روپ دھار کر نئے زمانے کے سنگھاسن پر راج کر رہے ہیں۔
اوّل اوّل کچھ بھی نہ تھا
آخر آخر آن بنا
لنکا کا راجہ راون
دھرتی کا ارمان بنا
تیر کمان پرانے ہو گئے۔ اب تو راون کا اڑن کھٹولا نئی طرز کی بندوقوں سے سجا ہوا ہے۔ اس نئے راون کے دربار میں سیاسی مکاشفے ایک نئے رنگ میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ شطرنج کی بات بھی پرانی ہو گئی تلوار کا فن بھی پرانا ہو گیا۔ اب انسانی سیاسیات کا منشور ایک نئے ملبوس میں ہے جس کا نام بد قسمتی کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا۔ اس خوفناک بے ہنگم ڈرامے کے مرکزی کردار پرانے گو سچے مذہبوں کے نئے پر جھوٹے پیرو کار ہیں :
پیچھے آگے راون کے
سادھو جاگے راون کے
تاریخ نے ہر چیز کو اُلٹ کر رکھ دیا ہے ساری خدائی الٹ پلٹ گئی ہے :
لنکا نگر کے گردا گرد
گیان کی ندی بہتی ہے
گیا نگر کے بیچم بیچ
راون جی کی کھیتی ہے
اسی اعتبار سے نئے مذہبی انسان کی پوشاک اور اس کی آرائش ملاحظہ ہو۔
گلے میں جوگی کے ہے مالا
ہاتھ میں راون کی بندوق
شدھی اور بھگتی کی علامتیں بھی بدل گئیں۔ کون کس کس چیز پر روئے؟
مکتی گولی کا انگارا
اگنی صاحب جی بندوق
اور اس کال اور کلجگ میں بندوق کا درجہ واضح ہے۔ سب سے اعلیٰ اور برتر ہے :
کال سے سیدھی بندوق
کلجگ میں بدھی بندوق
نئی دنیا کی یہ تبدیلی کچھ زیادہ واضح انداز میں یوں نظر آتی ہے۔ ملاحظہ کیجیئے۔
سجا ہوا بندوقوں سے
راون کا ہے اڑن کھٹولا
پرانے دور کا گوتم بدھی کے درخت کے نیچے نروان نگر کا ایک انوکھا ظہور تھا۔
چندن ہے نروان نگر
بدھی ناریوں کا جھرمٹ
کیسے سجے بنے گوتم
گلے میں جوگی کے ہے لٹ
لیکن اس نئے دور میں گوتم پیپل کے درخت کے پاس تنہا کھڑا ہے۔
ناریوں کے جھرمٹ میں راون
پیپل پاس کھڑا گوتم
اس دور میں ظالم پپیہے کا گیت تک بدل گیا ہے۔
پنچھی بولے پیا پیا
راون بن مانے نہ جیا
ایکائی کے فلسفے کے بارے میں یہ شعر سنئے۔
راون کی بندوق نے صاحب
ہر اک چیز کو ایک کیا
آج کے دور کا گرو بس راون ہے اور اسی سے سب ڈرتے ہیں۔
ڈرتے ہیں ہم گوتم سے
راون کی بندوق سے کم
اس زمانے میں گوتم کے بھکشو کا کیا حال ہوا اس کے بارے میں بھی سنتے جائیے۔ راون کے دربار کا نقشہ اب یوں ہے۔
بھکشو بیٹھا سامنے
دو ہاتھوں کو جوڑے
راون کے دربار میں
لاکھوں ہاتھی گھوڑے
پرانی مالا ایک خوشبودار درخت سے بنائی جاتی تھی۔ مالا کی ایک نئی قسم آج کے سادھو کے ہاتھ میں ہے جس میں لوہے اور بارود کا سنجوگ ہے۔
لوہے کی گولی کے منکے
راون مالا ہاتھ میں لیجو
سچے مارک کے سامنے نئے جوگیوں کا رونا دھونا ملاحظہ ہو۔
الٹا رستہ راون کا
اس میں محب ملا نہ ہوئے
سیدھا رستہ گوتم کا
دیکھ کے سادھو روئے
راون کے دربار میں ایک نئے جھوٹے جوگ کا چرچا ہے اور اس میں نئے جھوٹے جوگیوں کا دور دورہ ہے۔ ان نئے جوگیوں کے ذکر سے جی ڈرتا ہے۔
پیچھے آگے راون کے
سادھو جاگے راون کے
مایا موہ کی باندھی دُور
پکے دھاگے راون کے
ہم بھی اُٹھے اور چل نکلے
آگے آگے راون کے
آج کے بڑے وقت کا یہ دھارا اتنا تیز ہے کہ بے اختیار منہ سے نکل پڑتا ہے۔
سادھو سنت تھکے ہیں سارے
پہنچ چلو نا راون جی!
ان شعروں میں راون خود نئے جوگیوں کے جھرمٹ میں آلتی پالتی مارے دنیا کے ساتھ ایک نئے دھو کے کا کھیل کھیل رہا ہے۔
جوگیوں کے جھرمٹ میں صاحب
راون کیسا بھیس بنایا
کنچن دیکھنا ماتھے اُوپر
منہ میں گولی کا انگارا
ہاتھ میں ہیں چمپے کے پھول
گلے میں لٹکے خونی مالا
1986 ء میں جب زین غزلیں پہلے پہل چھپی تھیں تو برلن کی دیوار ابھی قائم تھی۔ اس دیوار پر راون کا روپ بھی دیکھتے جائیے۔ اس سے کسی جگہ امان نہیں، ما تا نگری یا بن یا کوئی شہر یا کسی شہر کی فصیل۔
پاسپورٹ ہے شیشہ
کر لیجے سنگھار
راون جن کا گھوڑا
برلن کی دیوار
ایک ٹانگ اس پار
ایک ٹانگ اس پار
دھرتی پر کسی جگہ امان نہیں۔ مشرق یا مغرب۔ برلن کی دیوار گر چکی لیکن سب قوموں کے درمیان اور لوگوں کے دلوں میں یہ دیوار اب بھی قائم ہے۔ بلکہ یوں کہیے یہ دیوار اگر چہ نظروں سے اوجھل ہے لیکن حقیقت میں اور بھی زیادہ مضبوط ہو گئی ہے دنیا کا نیا نقشہ اب صرف بارود اور آہن سے لیس دھوکے کے ہاتھ میں ہے۔ راون کی نئی فوج آ گئی۔ یہ فوج ایک لحاظ سے حقیقی بھی ہے اور علامتی بھی۔ آج کا راون حقیقت اور علامت دونوں کا بادشاہ ہے۔ بھگتی اُجڑ گئی اور تصوف کے تار و پود بکھر لئے۔ گوتم اور بھگت کبیر سبھی اس راستے میں ختم ہو گئے۔ انہیں کوئی بھی نہیں پوچھتا۔
بدھ جی ہو گئے بکری
کوئی نہ ڈالے گھاس
بھگت کبیر ہے روئے
ناس ہوا دیوداس
ریت ہی ریت ہے دنیا
اک پانی کا گلاس!
نئی دنیا میں راون کی گونجتی ہوئی آواز چار آفاق سے ٹکرا کر یوں واپس آتی ہے۔
اڑن کھٹولا لاؤ
گیا کی سیر کراؤ
چرس میں ڈالو کیرتن
بھجن میں بھنگ ملاؤ
اور نئے عوام کے لئے مایا کے پنتھیوں کی طرف سے ایک تازہ سندیسہ!
مایا کا نشہ ہے اونچا
بھنگ کو گھوٹ کے پی لے یار
اس نئے زمانے میں مستی کا بھی ایک نیا تصور ہمارے سامنے ظاہر ہے۔ یہ تصوف کی مستی نہیں مایا کی بدمستی ہے۔
مست ہے گوتم جی کی بدھی
پی کر راون جی کی بھنگ
زمانہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے۔ ترقی پسندوں کی شکست کے بعد بندر کے ناچ کے رسیا اور شطرنج کے ماہر نئے شاعر کو بھی شکست ہو گئی۔ کالے بادل چاروں طرف سے امڈ آئے ہیں۔ چمڑے کے پرانے سکّے اور نسلوں کی پراچین اقدار سب کچھ ختم ہو گیا۔ کیا مذہب کیا ملت کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ نہ کوئی ضابطہ نہ ابدی فارمولا۔ نہ معاشرے کی نت نئی رونق نہ جنگل کا قانون۔ خدائے بزرگ کی برتری کا عکس انسان کی روح سے غائب ہو گیا ہے۔ اب خدائے بزرگ کی آخری شکل اقوام متحدہ ہے۔ کیا یہ سچی شکل ہے؟
اڑن اُڑانی راون کی
بات نہ جانی راون کی
اس نے سمندر کو لوٹا
آنکھ ہے پانی راون کی
گوتم کھوٹا، راون کھرا
مدھر ہے بانی راون کی
اقوام متحدہ اور خدا ایک ہی شکل میں یوں دوبارہ اسٹیج پر واپس آ گئے ہیں کہ پتہ نہیں چلتا کون کون ہے۔ اقوام متحدہ خدا ہے یا خدا اقوام متحدہ ہے۔ نئے فنکار کی غیر تاریخیت اب نام قسمتی کا روپ دھار کر ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ اب کوئی تاریخی روایت بھی کہیں باقی نہیں رہی۔ انسان کی صدیوں کی تاریخ بے معنی ہو گئی ہے۔ انسان اور دھرتی کا رشتہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ جنگل اور جانور دونوں نابود ہو چکے ہیں۔ اگر شطرنج میں ذہنی چالبازی کی انتہا پائی جاتی ہے تو اس میں سوچ کی ایک طرح کی ہار بھی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کے انسان نے شطرنجی چالبازی کے تمام اصول سیکھ لئے ہیں۔
زین غزلوں کو اس گہری معنویت کے تناظر میں دیکھیں تو ”گیا نگر میں لنکا“ دراصل پاک زمینوں میں شر کی کونپل پھوٹنے کا استعارہ ہے۔ دراصل گوتم اور راون کے کرداروں کے ذریعے عصری حالات کو لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ گوتم کی تعلیمات اور اس کے ماننے والوں کا خاتمہ ہوئے جا رہا ہے۔ اس کی جگہ ظلم، زیادتی، فساد اور جنگوں نے لے لی ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا دور دورہ ہے۔ جن کے پاس طاقت ہے وہ ہر چیز پر قبضہ کرتے جا رہے ہیں۔ انسانیت کہیں بہت پیچھے رہ گئی ہے۔


