تنقیدی جائزہ: ”اپنا گریباں چاک“ از جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال

مصور پاکستان علامہ محمد اقبال کے صاحبزادے جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال اپنے روشن خیال نظریات، بے باک انداز گفتگو اور تحقیقی اور تعمیری افکار کی بدولت علمی و فکری دنیا میں بہت مقبول تھے۔ ان کی آپ بیتی ”اپنا گریبان چاک“ چھپی تو ان کی شہرت میں بہت اضافہ ہوا۔ یہ آپ بیتی سنگ میل پبلی کیشنز لاہور سے 2002 ء میں شائع ہوئی۔ آپ بیتی لفظ کے معانی ”سرگزشت“ یا ”جگ بیتی“ کے ہیں۔ آپ بیتی اصل میں

Read more

”باقیات اقبال“ از ڈاکٹر سید تقی عابدی، کا تنقیدی جائزہ

  اقبال کے ابتدائی دور ہی سے ان کے چاہنے والے ان کے کلام کو ایک قیمتی اثاثہ سمجھتے ہوئے اپنی بیاضوں اور ذاتی یادداشتوں میں محفوظ کرتے رہے۔ یہ عمل دراصل اقبال کی شاعری سے پیدا ہونے والی والہانہ عقیدت کا اظہار تھا۔ ابتدائی کلام، جو اکثر غیر مطبوعہ یا متروک رہ جاتا تھا، ان محبت کرنے والوں کے ہاتھوں محفوظ ہوتا رہا، جس سے اقبال کے تخلیقی سفر کی کئی چھپی ہوئی پرتیں سامنے آتی ہیں۔ وقت کے

Read more

انیس اشفاق بطور نقاد: فکری ژرف نگاہی اور اسلوبی سادگی کا امتزاج

اردو ادب کا سنجیدہ قاری انیس اشفاق کے نام سے بخوبی واقف ہے۔ وہ ان چند ادیبوں میں شامل ہیں جنہوں نے ادب کی تقریباً تمام اصناف میں قلم آزمایا اور اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ ناول ہو یا افسانہ، تنقید ہو یا تحقیق، ترجمہ ہو یا شاعری، انیس اشفاق نے ہر میدان میں ایسی بصیرت افروز تخلیقات پیش کیں جو اردو ادب کے سرمائے میں گراں قدر اضافہ ہیں۔ آپ لکھنؤ کے ایک محلے بزازے میں 1950ء، میں پیدا

Read more

”میرے ہم سفر“ از احمد ندیم قاسمی کا تنقیدی جائزہ

(غلام رسول مہر کے خصوصی حوالے سے ) احمد ندیم قاسمی کا خاکوں کا مجموعہ ”میرے ہم سفر“ اردو ادب کا ایک اہم اور دلنشین سرمایہ ہے، جو 2003 ء میں شائع ہوا۔ اس میں شامل تیرہ سوانحی خاکے قاسمی صاحب کے ادبی سفر کے ساتھیوں اور معاصر شخصیات پر مبنی ہیں، جنہیں انہوں نے نہایت محبت، خلوص اور گہری بصیرت کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ یہ خاکے محض تعریفی نہیں بلکہ ان میں شخصیات کی فکری، تخلیقی اور

Read more

مٹتی تہذیب کا نوحہ گر۔ فیض احمد فیض

فیض کے زمانے میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سیاسی، سماجی اور تہذیبی طور پر بہت سی تبدیلیاں واقع ہو رہی تھیں۔ دو عالم گیر جنگوں کی وجہ سے ہندوستان کی اقتصادی، سیاسی اور سماجی حالت تباہ ہو گئی تھی۔ لوگ بھوک اور ناداری کے شکار ہو رہے تھے۔ ملک کے استحصالی عناصر نے غریب اور پس ماندہ طبقوں پر ہر طرح کا ظلم و ستم روا رکھا۔ سامراجی قوتوں نے اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے ظلم و

Read more

شیراز دستی کے ناول ”ساسا“ میں مشرقی و مغربی تہذیب کی کشمکش

ناول ’ساسا‘ کے ہیرو سلیم کو محبت کی تلاش ہے۔ وہ اپنی تلاش کا آغاز اپنے گاؤں سے کرتا ہے اور گاؤں میں اسے ختم کرتا ہے۔ وہ انسانی حقوق، شہری آزادی اور عمومی انسانی صورتحال سے متعلق دو دنیاؤں کے تہذیبی فرق اور عالمی دنیا کے تضادات سے آگاہ کرتا ہے۔ اس ناول کے ذریعے قاری مشرقی اور مغربی تہذیب کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ ہوتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ مصنف نے کہیں بھی اپنی ثقافت

Read more

بلھے شاہ کے کلام میں خود شناسی۔ ایک جائزہ

پنجابی زبان کے اس عظیم شاعر بلھے شاہ کا اصلی نام سید عبداللہ شاہ تھا۔ حضرت بلھے شاہ کی پیدائش کا مقام اچ گیلانیاں اور زمانہ۔ 1758۔ 1680 بیان کیا جاتا ہے۔ جب اورنگ زیب کی وفات ہوئی بلھے شاہ کی عمر 27 برس تھی، اپنی زندگی کے باقی 51 برس بلھے شاہ نے اورنگ زیب کے جانشینوں کے عہد حکومت میں گزارے۔ بلھے شاہ ایک مقبول عام صوفی شاعر تھے۔ ان کے سارے کلام میں صوفیانہ شاعری کی آزاد

Read more

غلام ہمدانی مصحفیؔ کے کلام کا فکری و فنی مطالعہ

شیخ غلام ہمدانی مصحفیؔ (1748ء۔ 1824ء) کا شمار دبستانِ لکھنؤ کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ تاہم ان کی شاعری کی ابتداء دلّی میں ہوئی تھی۔ دلّی میں مغلیہ سلطنت کا جب شیرازہ بکھر گیا تو دلّی کو خیرباد کہہ کر لکھنؤ میں گوشۂ عافیت تلاش کی۔ مصحفیؔ اپنے عہد کے ایک باکمال اور قادر الکلام شاعر تھے۔ اِس کے کئی واضح ثبوت ہمیں ملتے ہیں۔ ایک ثبوت یہ ہے کہ ان کے نو دیوان میں 37 ہزار اشعار موجود ہیں۔

Read more

غلام ہمدانی مصحفیؔ کے کلام کا فکری و فنی مطالعہ

شیخ غلام ہمدانی مصحفیؔ (1748ء۔ 1824ء) کا شمار دبستانِ لکھنؤ کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ تاہم ان کی شاعری کی ابتداء دلّی میں ہوئی تھی۔ دلّی میں مغلیہ سلطنت کا جب شیرازہ بکھر گیا تو دلّی کو خیرباد کہہ کر لکھنؤ میں گوشۂ عافیت تلاش کی۔ مصحفیؔ اپنے عہد کے ایک باکمال اور قادر الکلام شاعر تھے۔ اِس کے کئی واضح ثبوت ہمیں ملتے ہیں۔ ایک ثبوت یہ ہے کہ ان کے نو دیوان میں 37 ہزار اشعار موجود ہیں۔

Read more

علم بیان و بدیع کی روشنی میں کلام ولی دکنیؔ کا جائزہ

ولی کے نام اور وطن کے بارے میں اختلاف ہے۔ اہل گجرات انھیں گجرات کا باشندہ ثابت کرتے ہیں اور اہل دکن کی تحقیق کے مطابق ان کا وطن اورنگ آباد دکن تھا۔ ولی کے اشعار سے دکنی ہونا ثابت ہے۔ ولی اللہ ولی، سلطان عبد اللہ قطب شاہ، قطب شاہوں کے ساتویں فرماں روا کے عہد میں 1667 ء میں اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد حصول علم کے لیے احمد آباد آ گئے۔ جو اس زمانے

Read more

جون ایلیا کے کلام میں کردار نگاری

جون ایلیا کا اصلی نام ”سید حسین جوؔن اصغر“ ہے۔ انھوں نے اپنا تخلص ”جوؔن“ لکھا۔ سادہ اور چمکتی ہوئی زبان میں نہایت گہری اور شور انگیز باتیں کہنے والے ہفت زبان، شاعر، صحافی، مفکر، مترجم، نثر نگار، دانشور اور بالاعلان نفی پرست اور انارکسٹ جون ایلیا ایک اوریجنل شاعر تھے۔ جن کی شاعری نے نہ صرف ادب نوازوں کے دل جیت لیے بلکہ آپ نے اپنے بعد آنے والے ادیبوں اور شاعروں کے لیے زبان و بیان کے نئے

Read more

ایڈورڈ سعید کی کتاب اورئینٹلزم: ایک توضیحی مطالعہ

ایڈورڈ سعید کی جائے پیدائش سرزمین فلسطین تھی، وہ نومبر 1935 میں یروشلم میں پیدا ہوئے۔ ان کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو ان کی تمام تر زندگی مشرق اور مغرب کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ ابتدائی تعلیم یروشلم اور قاہرہ میں حاصل کی۔ 1957 میں پرنسٹن یونیورسٹی سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں مزید تعلیم کے حصول کے لیے ہارورڈ یونیورسٹی سے وابستہ ہوئے۔ 1960 میں ایم اے اور 1964 میں فلسفہ میں پی ایچ

Read more

گیا نگر میں لنکا، ایک تجزیاتی مطالعہ

اس کتاب کے مصنف اختر احسن ہیں۔ اس مجموعے کے کچھ حصے زین غزل کے عنوان سے مختلف رسالوں میں چھپتے رہے ہیں۔ پہلے پہل یہ زین غزل محمد حسن عسکری کے رسالے سات رنگ میں چھپی اور بعد میں اس کے کچھ حصے نیو یارک میں لکھے گئے۔ تب بھی اس کے دو حصے تھے۔ ایک حصہ گوتم کے نام سے اور دوسرا راون کے نام سے ہے۔ زین سے مراد ”بدھ مت“ مذہب کی ایک شاخ ہے جو

Read more

مرزا غالب کے کلام میں بادہ خواری

یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالب تجھے ہم ولی سمجھتے، جو نہ بادہ خوار ہوتا بادہ خواری: مرزا غالب کا عرف یعنی مرزا نوشہ ان کی شراب نوشی کی وجہ سے ان کے نام کا حصہ نہیں بنا۔ یہ لفظ در اصل نو۔ شاہ ”ہے۔ ننھے اسد مرزا، اپنے چچا نصر اللہ بیگ کی شادی میں شہ بالا بن کر دلی آئے تو خاندان لوہارو کی بیگمات نے“ نوشہ (نو۔ شاہ) میاں ”کہہ کر مخاطب کیا، اور یہ ان

Read more

ظفر اقبال کے کلام میں تمثال کاری

ظفر اقبال نام اور تخلص ظفر کرتے ہیں۔ 27 ستمبر 1933 ء کو بہاول نگر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ضلع اوکاڑہ کے معزز زمیندار تھے۔ ظفر اقبال نے ابتدائی تعلیم بہاول نگر سے حاصل کی اور میٹرک ایم سی ہائی سکول اوکاڑہ سے 1950 ء میں کیا۔ انٹرمیڈیٹ کا امتحان ایف سی کالج لاہور سے پاس کیا اور بی اے گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا۔ ظفر اقبال نے ایل ایل بی کا امتحان لاء کالج جامعہ پنجاب لاہور

Read more