عقلی سماجی تفسیر کی سرگزشت
اسلامی معاشروں میں قرآنی تعلیمات سے کار آمد جدید نظریات کو کشف کرنے میں عقلی تفسیر کی رویداد کا بنیادی کردار رہا ہے۔ اسی طرح معاشرتی مسائل پر ہونے والے شبہات پر نقد کرنے میں بھی اس کی تاثیر نمایاں رہی ہے۔ آخری صدی میں اسلامی بیداری کے عنوان سے (الصحوۃ الاسلامیہ) دنیا میں قابل تعریف سماجی، علمی اور اجتماعی تحریکیں معرض وجود میں آئیں جن کی بدولت اسلامی معاشروں میں قرآنی قابل قدر آثار کو وجود ملا۔ یہ سب سماجی عقلی تفسیر کے رہبروں کی انتھک جدوجہد کا نتیجہ ہیں۔ ان تحریکوں میں سر فہرست عوامی جمہوریت کے شعار سے ایران کی سرزمین پر کامیاب ہونے والی انقلاب اسلامی کی نہضت شامل ہے۔ رہبر کبیر انقلاب حضرت آیت اللہ خمینی نے اپنی بصیرت اور دور اندیشی پر مبنی قیادت سے ایران کی سرزمین پر ایک اسلامی حکومت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ امام خمینی کے بعد ان کے شاگرد رشید حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اسلامی انقلاب کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا اور آج تک وہی اسے منزل کمال کی طرف بڑھانے میں بھرپور قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمانوں نے اسلامی انقلاب ایران کو اپنے لئے آئیڈیل قرار دے کر اپنے معاشروں میں اصلاحی تحریکوں کو کامیاب بنایا اور آج بھی بہت ساری جگہوں پر مظلوم مسلمانوں کے لئے انقلاب اسلامی امید کا چراغ ثابت ہو رہا ہے۔
دینی علمی آثار میں موجود قلمکاروں کے دل سے پھوٹے ہوئے ظریف علمی نکات اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ سماجی مسائل اور معاشرتی مشکلات کے حل کے لئے قرآنی آیات سے راہ حل تلاش کرنے کے حوالے سے ان کی بنیادی ترجیح رہی ہے۔ انقلاب کی برکتوں میں سے ایک تفسیر قرآن کے شعبے میں آنکھیں خیرہ کرنے والی پیشرفت ہے۔ تفسیر کے قابل توجہ علمی آثار وجود میں آنے کے علاوہ محققین و مفسرین نے اجتماعی فکر سے بھی قرآن کریم کی آیات پر تفسیریں لکھنے کی زحمتیں اٹھائی ہیں جیسے تفسیر المیزان، تفسیر پرتویی از قرآن، تفسیر نوین، تفسیر نمونہ وغیرہ۔ اسی طرح اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد قرآن کے سماجی مفاہیم و مسائل پر توجہ کر کے لکھے جانے والے بہت سارے علمی آثار کا ترجمہ بھی ہو چکا ہے جیسے علامہ اقبال کے علمی آثار کا ترجمہ، ابو الاعلیٰ مودودی اور سید قطب کے آثار کا ترجمہ۔
سید قطب کی تفسیر ظلال القرآن کے عمدہ حصے کا آیت اللہ خامنہ ای نے ترجمہ کیا ہے۔ انقلاب کی کامیابی کی بدولت تالیفی میدان میں بھی قیمتی آثار معرض وجود میں آئے جن میں سر فہرست آیت اللہ شہید مرتضیٰ مطہری، آیت اللہ شہید بہشتی، آیت اللہ طالقانی اور آیت اللہ خامنہ ای کے علمی آثار شامل ہیں۔ ان میں پائے جانے والا نقطہ مشترک اجتماعی نظر اور عقلی روش سے قرآن کریم کی تعلیمات کا تجزیہ و تحلیل ہے۔
اس بات پر توجہ درکار ہے کہ سماجی عقلی روش سے ایرانی محققین و دانشمندوں نے بہت علمی کام کیا ہے البتہ ایرانی محققین کے علاوہ مختلف ممالک میں مسلم محققین نے بھی اسی روش سے قرآن کی تفسیر پر کام کیا ہے، لیکن ایرانی اور شبہ قارہ ہند و عرب سرزمین سے تعلق رکھنے والے محققین کے درمیان اجتماعی عقلی کے مبانی و اصول میں کچھ فرق پائے جاتے ہیں جن کے بارے میں تحقیق کرنا اہمیت کا حامل ہے۔ اس حوالے سے قدر متیقن بات یہ ہے کہ تمام اصلاحی تحریکوں کے قائدین کا ہدف معاشرتی مسائل کا راہ حل قرآنی آیات سے اخذ کرنا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی عزت و تکریم کیا کرتے تھے مثلاً عالم اسلام میں اسلامی بیداری کی لہر پیدا کرنے میں بڑا رول ادا کرنے والی دو علمی شخصیات سید جمال الدین اور ابو الاعلیٰ مودودی کا ایک دوسرے کے بارے میں کیا جانے والا احترام قابل توجہ و مطالعہ ہے۔
امریکہ کی ایک معروف یونیورسٹی کے شعبہ سیاست کے استاد جناب ریچارڈ کاٹم نے نوفل لوشاٹو میں امام خمینی سے ملاقات کی۔ اس نے امام سے سید جمال الدین کے بارے میں معلومات لینے کی خواہش کا اظہار کیا تو امام خمینی نے فرمایا: سید جمال الدین زبردست انسان تھے، لیکن ان میں کچھ کمزور یاں بھی پائی جاتی تھیں۔ لوگوں کے درمیان ان کا قومی اور مذہبی تشخص کے لئے کوئی مرکز نہیں تھا جس کی وجہ سے ان کی تلاش و جدوجہد اور فراواں زحمتیں ثمر بخش نہ ہو سکیں۔ امام خمینی کی قیادت میں انقلاب اسلامی ایران کو کامیابی سے ہمکنار کرانے والے امام کے شاگرد آیت اللہ شہید مطہری نے سید جمال الدین کے بارے میں یوں لکھا ہے :بغیر کسی شک کے آخری 100 سالوں میں اصلاحی تحریکوں کو معرض وجود میں لانے کے حوالے سے سید جمال الدین اسد آبادی المعروف افغانی کا کردار بنیادی ہے۔ انہوں نے ہی اسلامی ممالک میں مسلمانوں کو بیدار کرنے کی تحریک کا آغاز کیا، مسلمانوں کے اجتماعی مسائل کا حقیقی معنوں میں تجزیہ و تحلیل کیا اور مسلمانوں کو درپیش مشکلات و مسائل سے چھٹکارا پانے کی راہوں کی نشاندہی کی۔
سید جمال الدین کی تحریک، فکری اور اجتماعی تھی۔ وہ اپنی اصلاحی تحریک کے ذریعے مسلمانوں کی نظری اور عملی زندگی میں کامیابی کے خواہاں تھے۔ چنانچہ انہوں نے دنیا اور اپنے زمانے کے حالات کی شناخت حاصل کرنے کے ساتھ اسلامی ممالک کے اجتماعی مشکلات و مسائل کا ادراک کیا۔ نیز وہ ان سے نجات پانے کے طریقوں سے بھی آشنا ہوئے۔ سید جمال الدین نے داخلی استبداد اور خارجی استعمار کو اسلامی ملکوں کا اہم درد جانا اور زندگی بھر پوری طاقت سے وہ ان سے مقابلہ کرتے رہے۔ چنانچہ اسی راہ میں انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔ ان کا اس بات پر اصرار تھا کہ مسلمانوں کو مفلوج کرنے والے ان دو عوامل (استبداد داخلی استبداد اور خارجی استعمار خارجی) سے مقابلہ کرنے کے لئے پوری آگاہی اور بصیرت کے ساتھ مسلمانوں کو سیاست میں شرکت کر کے بھر پور کردار ادا کرنا واجب ہے۔ وہ تاکید کرتے تھے کہ مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو دوبارہ حاصل کرنے اور اسلامی معاشروں میں اسلام کی مردہ روح کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کرنا فوری طور پر ضروری ہے۔ جس کے لئے بنیادی شرط اسلامی معاشروں سے بدعتوں اور خرافات کا خاتمہ کرانا ہے اور اتحاد مسلمین کو مستحکم کرنے کے ساتھ استعماری طاقتوں کے نفاق و اختلاف انگیز ناپاک عزائم کو خاک میں ملانا ہے۔
شہید مطہری ایک اور جگہ فرماتے ہیں : مرد بزرگ و شجاع جناب سید جمال الدین نے اپنے مبارزات کے لئے بہترین مقام کے طور پر مصر کا انتخاب کیا۔ آپ کے بعد آپ کی تحریک کو آپ کے شاگرد عبدہ سمیت دوسروں نے دوام بخشا۔ انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی میں ایران کے قائدین کے علاوہ شبہ قارہ ہند (پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش) میں اسلامی نہضت کے قائدین نے بھی اپنا حصہ ڈالا ہے۔ خصوصاً ابوالاعلیٰ مودودی نے اس سلسلے میں امام خمینی کے ساتھ کتابت کے ذریعے رابطہ کرنے کے علاوہ ملاقات بھی کی اور اپنی فعالیت کا ذکر کیا۔ امام نے ان کی یوں تعریف کی ہے :ابو الاعلیٰ مودودی واقعی مسلمان ہیں، انہوں نے اسلامی نظام کی تقویت کا باعث بننے والی اچھی فعالیتیں سر انجام دی ہیں۔ مودودی کی وفات کے بعد امام خمینی نے انہیں ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا:امت اسلام ایک ایسے برجستہ دانشمند عالم سے محروم ہو گئی جو اسلام کے لئے سرمایہ افتخار تھے، مرحوم نے پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو بلند اہداف کی منزل پر پہنچانے کے لئے بڑی خدمات سرانجام دی ہیں، وہ فقط پاکستانی مسلمانوں کے رہبر نہ تھے، بلکہ جہان اسلام کے تمام مسلمانوں کے رہبر تھے، انہوں نے پوری دنیا میں انقلاب اسلامی کو زندہ کرنے اور پھیلانے میں بھر پور کردار ادا کیا ہے۔ اس عظیم شخصیت کی وفات جہان اسلام کے لئے نقصان ہے۔ مذہبی اہداف کو تحقق بخشنے کے لئے موصوف نے جو زحمتیں اٹھائی ہیں اور اس راہ میں جو کوششیں کی ہیں انہیں جاری رکھنا نہضت اسلامی کے علمبرداروں پر لازم ہے۔


