قانون تو ہیں لیکن خواتین انصاف کی منتظر


 

سندھ میں خواتین کو تحفظ اور حقوق فراہم کرنے والے بے شمار قوانین موجود ہیں۔ قوانین کے بل پاس ہوتے رہتے ہیں، گھریلو تشدد (روک تھام اور تحفظ) ایکٹ 2013، سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2013، سندھ کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن ایکٹ 2015، کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ ایکٹ 2010، فوجداری قانون (تیسری ترمیم) ایکٹ 2011۔ اس کے باوجود خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو ان قوانین کے نفاذ پر سوال اٹھاتے ہیں۔

حیرت کی بات ہے کہ گزشتہ 2023 کے دوران سندھ میں خواتین کے خلاف تشدد کے 771 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔

سماجی تنظیم ایس ایس ڈی او کے مطابق، سندھ پولیس نے سال 2023 کے دوران خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کے واقعات کی ایف آئی آرز کی تعداد خطرناک حد تک زیادہ درج کیں۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یکم جنوری 2023 سے 30 اپریل 2023 تک، صرف چار مہینوں کے دوران سندھ میں 529 خواتین کو اغوا کیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ اوسطاً روزانہ چار سے زیادہ خواتین کو اغوا کیا گیا۔ یہ تعداد صوبہ سندھ میں خواتین کے تحفظ کی ایک انتہائی حوصلہ شکن عکاسی پیش کرتی ہے۔

یکم جنوری 2023 سے 30 اپریل 2023 تک خواتین پر تشدد کے 771 کیسز پولیس کو رپورٹ ہوئے جبکہ بچوں پر تشدد کے 142 کیسز رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ میں خواتین کے خلاف تشدد، عصمت دری، اغوا اور غیرت کے نام پر قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات میں اضافہ ہوا۔ یاد رہے کہ سال 2023 میں صرف سندھ میں روزانہ خواتین پر تشدد کا تقریباً ایک کیس رپورٹ ہوا۔ خواتین پر تشدد ایک جرم ہے اور جرم کو روکنے کے لئے قوانین موجود ہیں۔ پھر، صنفی بنیاد پر تشدد اور جرم کیوں جاری رہتا ہے؟

حکومتوں نے کافی قانون سازی کی، ادارے بنائے، وومین پروٹیکشن سیل ہو یا سندھ کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن جیسے ادارے ہوں لیکن ان پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے خواتین انصاف کی منتظر رہتی ہیں۔

آخر کیا اسباب ہیں؟ کیا منصوبوں پر عملدرآمد اور قوانین پر عمل درآمد میں لاپرواہی سبب ہو سکتا ہے؟ لہذا، جرم ہے اور جرم کو روکنے کے لئے قوانین موجود ہیں۔ پھر، صنفی بنیاد پر تشدد اور جرم کیوں جاری رہتا ہے؟

سندھ کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن ایکٹ، 2015، کا بنیادی مقصد، یعنی خواتین سے متعلق بین الاقوامی اعلامیوں، کنونشنوں اور معاہدوں کے مطابق سندھ میں خواتین کے سماجی، معاشی، سیاسی اور قانونی حقوق کا فروغ دینا ہے۔ پھر بھی خواتین پر تشدد کے واقعات میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ آخر بات کیا ہے، اسٹیک ہولڈرز بشمول قانون سازی، ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی کی تنظیموں، کمیشن کے ارکان، حکومتی کارکنان اور صحافیوں کا تعاون ہونے کے باوجود سندھ کی خواتین کو اس جنگ میں کیا انصاف ملا ہے؟ اگر انصاف ملا ہے تو ہر سال کتنی خواتین کو انصاف ملتا ہے؟

کیا ادارے انتظامی، مالی اور تکنیکی سہولتوں کے باوجود اپنے مقصد میں کتنے کامیاب ہوئے ہیں۔ ایک ادارہ سندھ کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن گزشتہ پانچ سالوں کے عرصے میں کیا کچھ کر سکتا تھا۔ جو اس نے نہیں کیا؟ منصوبے کے مقاصد اور حکمت عملی میں کتنا کامیاب ہوا ہے، مزید اس ادارے کو بہتر کرنے میں کیا کرنا چاہیے ؟ ہر ادارے کو انسانی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، کیا کمیشن موثر طریقے سے کام کر رہا ہے۔ ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو ہر ادارے کے بارے میں ہو سکتے ہیں۔ ادارے کی کارکردگی کے حوالے سے ہمیں ہر سال خواتین پر ہوتے تشدد کے کیسز کو دیکھنا پڑے گا۔ خواتین پر تشدد کے واقعات میں کتنی کمی آئی۔ کتنی خواتین کو انصاف ملا کتنی خواتین کے کیسز رجسٹر ہوئے۔

سندھ پولیس کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 2023 میں سندھ میں خواتین کے خلاف تشدد میں اسی طرح پریشان کن اضافہ دیکھنے میں آیا۔ رپورٹ میں حکومت کی فوری مداخلت کی سفارشات کے ساتھ مختلف زمروں میں واقعات میں تشویشناک اضافے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ 2023 میں ہر ہفتے اوسطاً 26 خواتین کو اغوا کیا گیا، جو 2022 کے اعداد و شمار کی نسبت نمایاں اضافہ ہے۔

اسی طرح 2023 میں ہر ہفتے اوسطاً چار خواتین کی عصمت دری کی وارداتیں ہوئیں، جو پچھلے سال کی تعداد کو پیچھے چھوڑتی ہیں۔ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ 2023 میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں ماہانہ اوسطاً 13 خواتین اپنی جانیں گنوا بیٹھیں۔ غیرت کے نام پر قتل ( 136 سے 96 ) ، اغوا کے واقعات ( 1,500 سے 1,349 ) ، اور گھریلو تشدد کے واقعات ( 350 سے 346 ) ۔ اس کے علاوہ، 2023 میں عصمت دری اور جنسی زیادتی کے 165 کیس رپورٹ ہوئے، جو 2022 میں 200 سے کم ہیں، جبکہ کام کی جگہوں پر 2022 میں 94 کے مقابلے میں 2023 میں ہراساں کرنے کے واقعات کی تعداد 73 تھی۔ رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اعداد و شمار سندھ میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد میں پریشان کن اضافے کی عکاسی کرتے ہیں، جس پر متعلقہ حکام کی فوری توجہ اور مداخلت کی ضرورت ہے۔

سندھ حکومت نے سندھ کے 15 اضلاع میں خواتین کے تحفظ کے وومین پروٹیکشن سیل قائم کرنے تھے، لیکن وہ سیل صرف چار اضلاع دادو، حیدرآباد، قمبر، شہداد کوٹ، اور لاڑکانہ کے علاوہ کہیں بھی کوئی سیل قائم نہیں کیا گیا، خواتین کے لیے شکایات کے اندراج کے لیے کوئی مناسب طریقے کار یا ہیلپ لائن موجود نہیں ہے۔

حکومت کو اور دیگر اداروں کو چاہیے کے ہر ضلع میں خواتین پروٹیکشن افسر ، ماہر نفسیات اور قانونی ماہر کا تقرر بھی کرنا بہت لازمی ہے۔ ان افسران اور ماہر نفسیات کو تمام اضلاع میں خواتین کے تحفظ کے سیل میں تعینات کیا جانا چائیے، لیکن اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

قواعد کو حتمی شکل دینے میں آخر تاخیر کیوں؟

خواتین میں قوانین کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ادارے خود یہ ناکامی تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے خواتین میں قانون سازی کے حوالے سے بیداری لانے میں اپنی ناکامی کو قبول کیا ہے۔ خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے کی جانے والی قانون سازی کو نیچے تک نہیں پہنچایا گیا جہاں ان پر عمل درآمد ہونا چاہیے تھا۔ ”عمل درآمد کرنے والی اداروں کو قانون کے نفاذ کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے کوئی مناسب طریقہ کار سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

صنفی عدم مساوات بہت سے مسائل کی نشاندہی کرتی ہے جو خواتین اور لڑکیوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتی ہے، جیسے گھریلو اور جنسی تشدد، کم تنخواہ، تعلیم تک رسائی کی کمی، شامل ہے۔

خواتین وسیع پیمانے پر صنفی بنیاد پر تشدد، گھریلو زیادتی، غیرت کے نام پر قتل، جنسی تشدد اور ادارہ جاتی امتیاز کا شکار ہیں۔ بدقسمتی سے پدرانہ سوچ برسوں سے مسلسل جدوجہد کے باوجود برقرار ہے۔ خواتین کو اب کچھ جگہ مل گئی ہے لیکن مساوی حقوق کی منزل ابھی بھی دور ہے۔

اہم حقائق

خواتین کے خلاف تشدد، خاص طور پر مباشرت ساتھی پر تشدد اور جنسی تشدد صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ اور خواتین کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے شائع کردہ تخمینے کے مطابق عالمی سطح پر دنیا بھر میں تقریباً 3 میں سے 1 ( 30 %) خواتین کو ان کی زندگی میں جسمانی اور /یا جنسی مباشرت ساتھی تشدد یا غیر پارٹنر جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اس تشدد میں سے زیادہ تر مباشرت پارٹنر تشدد ہے۔ دنیا بھر میں، 15۔ 49 سال کی عمر کی خواتین میں سے تقریباً ایک چوتھائی ( 27 %) جو رشتے میں رہی ہیں، تحقیق کے مطابق، انہیں اپنے قریبی ساتھی کی طرف سے کسی نہ کسی قسم کے جسمانی یا جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

تشدد خواتین کی جسمانی، ذہنی، جنسی، اور تولیدی صحت کو منفی طور پر متاثر کر سکتا ہے۔

پاکستان میں خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی رپورٹ 2023 میں صنفی عدم مساوات اور خواتین کو با اختیار بنانے کے لئے روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ رپورٹ صنفی مساوات اور خواتین کو با اختیار بنانے سے متعلق کلیدی موضوعات پر خواتین کی صورتحال کا ایک سنیپ شاٹ فراہم کرتی ہے، جس میں نظامی تبدیلی کی بنیادی ضرورت کو ظاہر کیا گیا ہے۔

گھریلو تشدد سے نمٹنا صرف سزا اور قانون کے نفاذ سے متعلق نہیں ہے۔ یہ گہرائی سے جڑے ہوئے معاشرتی رویوں کو تبدیل کرنے کے بارے میں ہے۔ یہ تعلیم، بیداری، اور با اختیار بنانے کے بارے میں ہے۔ یہ خواتین کو وہ وسائل اور مدد فراہم کرنے کے بارے میں ہے جو انہیں تشدد کی زنجیروں سے آزاد کرنے کے لیے درکار ہیں جو انھیں جکڑے ہوئے ہیں۔

Facebook Comments HS