قوس قزح سی لڑکی
گلزار ملک کا شمار اردو کے معروف فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ فیصل آباد کے گاؤں گٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہد مسلسل اور سخت کوشی کو چھوٹی عمر ہی سے اپنا شعار بنا رکھا ہے۔ اپنی منکسر المزاج طبیعت کی وجہ سے حلقۂ احباب میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ کہانی کو اپنا ذوق اور کہانی بنُنے کو اپنی فطرت گردانتے ہیں۔ اردو میں اب تک ان کے تین ناول چھپ چکے ہیں۔ افسانے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ متعدد افسانوی مجموعے چھپ چکے ہیں۔ اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی میں بھی طبع آزمائی کی۔ پنجابی افسانوں کا مجموعہ ”کُڑی جہیڑی ندی سی“ منظرعام پر آ چکا ہے۔ اس افسانوی مجموعے میں سے ایک افسانہ ”کڑی جہیڑی ندی سی“ کا اردو ترجمہ کیا گیا ہے۔
*** ***
دُلا بھٹی جیسے بہادر کی جائے پیدائش جلال پور جٹاں کے نسل در نسل رہائشی اس بدنصیب بوڑھی عورت کے اندوہناک غم کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ جس نے کم عقلی اور کم فہمی کی وجہ سے اپنی ہستی مسکراتی زندگی کو قبرستان کی طرح ویران کر لیا۔ جب آسمان پر کالے بادل چھاتے ہیں تو پھر تیز ہوائیں چھری کی طرح بدن کو کاٹتی ہیں تو وہ سودائیوں کی طرح آوازیں نکالتی گھر سے نکل کر دریا کے اس کنارے کی طرف بھاگ جاتی ہے۔ جس کا پانی رسّہ تڑوائے ہوئے سانڈ کی طرح دھاڑ رہا ہو۔ وہاں پہنچ کر وہ چیختی چِلاتی ہے اور اپنی بد نصیبی کا ماتم کرتی ہے۔
جس وقت کی یہ بات ہے اس وقت میں دس بارہ سال کا ہوں گا۔ اور اس وقت کے وہ سب کے سب چہرے جن کے ساتھ میں رہا مجھے اچھی طرح یاد ہیں۔ اُن میں سے ایک چہرہ رانو کا ہے۔ جس کا گھر میرے گھر سے تھوڑا ہی دور تھا۔ اب جب بھی میں گزرے وقت کو یاد کرتا ہوں تو بچپن کی فراموش یادوں کے بادلوں میں سے اچانک ایک چاند جیسا چہرہ جھانکتا ہے۔ جس کی چاندنی میری سانسوں میں اتر جاتی ہے۔ اور مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں ساتویں آسمان پر اڑ رہا ہوں۔ پھر میرے دیکھتے دیکھتے ان لشکاروں میں سے دو ہرنی جیسی آنکھیں جھانکتی ہیں جیسے وہ مجھے گھیرے میں لے کر مار دینا چاہتی ہوں۔ اب بھی ستائیس سال کی عمر کو پہنچ کر میں ان آنکھوں کے جلتے چراغوں کو بھول نہیں سکتا۔ جو میرے دشمن بن کر مجھے اپنی آگ میں بھسم کر دینا چاہتے ہیں، جن کی تلاش میں میں ہر حسین چہرے کو دیکھتا رہتا ہوں۔
بی بی رات کو جب بھی ہماری فرمائش پر کوئی کہانی سناتی تھیں اس کہانی کی شہزادی کے نقش و نگار اور بناؤ سنگھار کی بات سن کر میرے خیالات رانو کی طرف مڑ جاتے تھے۔ یہ کہانی جب چلتے چلتے وہاں پہنچتی ہے جہاں کوئی جن اس شہزادی کو اٹھا کر لے جاتا ہے تو میرا سارا جسم نجانے کیوں کانپنے لگ جاتا ہے اور میں خیال ہی خیال میں سارے گاؤں میں اس شیطان کو ڈھونڈنے لگ جاتا جو رانو کو بری نگاہ سے دیکھتا ہو۔ ُان دنوں بارہا میرے من میں یہ بات آئی کہ رانو سے کہوں کہ وہ اتنی خوبصورت نہ لگا کرے اور بن سنوار کر باہر نکلے تو احتیاط برتے۔ لیکن میرا شرمیلا پن ہمیشہ مجھے یہ بات کہنے سے روکتا رہا۔
پھر ایک دن ہمت کر کے میں نے اسے یہ بات کہہ دی۔ وہ منہ سے بات سن کر کافی دیر تک ہنستی رہی اتنا ہنسی کہ ہنس ہنس کر اس کی آنکھوں کے دیے پانی کی تراوت کے ساتھ جلنے بجھنے لگ گئے۔ اور اس کی آنکھوں سے گرنے والے آنسو میری روح کو بُری طرح زخمی کر گئے۔ میں اس کی اس حالت کی وجہ سے کانپ کر رہ گیا۔ پھر کافی دیر ہنسنے کے بعد اس نے میرے سامنے بیٹھتے ہوئے اپنے بالوں کی لٹ کو اپنے منہ سے ہٹا کر کہنے لگی۔ ”تم تو بہت شرارتی ہو لڑکے میں اتنی بھی خوبصورت کہاں کہ کوئی جن ہی مجھے اُٹھا کر لے جائے۔“ اس کی اس بات نے مجھے سمجھا دیا کہ وہ بہت سادہ مزاج اور اپنے چاند جیسے روپ سے بے خبر ہے۔ پھر میرے اندر کا خوف گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بڑھنے لگ گیا تھا اور میرے لیے سانس لینا بھی مشکل ہو گیا۔ آہستہ آہستہ مجھے یوں محسوس ہونے لگا جیسے میں اس کا سایہ ہوں اور اس کے وجود کے ساتھ میرا صدیوں پرانا کوئی اَٹوٹ رشتہ ہو۔
ان دنوں میں چناب کے کنارے بسنے والے اس گاؤں کی دوشیزائیں کپڑے دھونے کے لیے دریا پر جاتی تھی تو رانو بھی ان کے ساتھ جاتی تھی۔ وہاں ہی رانو کو اس کے خوابوں کا شہزادہ مل گیا جس کے ساتھ وہ چھپ چھپا کر ملنے لگ گئی۔ یہ باتیں مجھے پتہ چلیں تو میرے دماغ میں ٹھیک سے نہ سما سکیں۔ رانو عجیب عجیب باتیں کرنے لگ گئی۔ جو لوگوں کو سمجھ نہیں آتی تھیں لیکن اب جب میں وہ باتیں سوچتا ہوں تو سارا کچھ میری سمجھ میں آ جاتا ہے۔ اور ایک نرم اور نازک دل سے لشکارے نکلتے محسوس ہوتے ہیں جس میں محبت کی شبنم کے قطرے چمکتے ہوں۔ رانو نے دریا کے کنارے اس شہزادے سے کہا:
” کاشی“ دریا کا بپھرا ہوا پانی کنارے کی بلندی سے کتنی آزادی سے گرتا اور چمکتے لشکارے مارتے قطروں والا پانی میرے دل میں آتا ہے۔ اے میرے اللہ مجھے الہڑ دوشیزہ نہ بنایا ہوتا میں پانی کا ایک قطرہ ہوتی آزاد اور چمکتا۔ ہمیشہ سے بہتا ہوا شیشے کی طرح شفاف۔ رانو کی یہ باتیں سن کر کاشی ہنسنے لگ جاتا اور اس کا مذاق اڑاتا تھا۔ لیکن پھر بھی وہ باتیں کرتی رہتی۔ ایسی باتیں جو کاشی جیسے بے وقوف کے سر کے اوپر سے گزر جاتی تھیں کہتی۔ ”کاشی کبھی کبھی پانی کے یہ قطرے مجھے اپنے جسم کا حصّہ لگتے ہیں جیسے پانی کے قطرے نہیں میرے جسم کے حصّے الگ ہیں جن کو میں اپنے آپ سے اور اپنے خیالات سے الگ نہیں کر سکتی اور ان کے ساتھ چلتے چلتے دور نکل جاتی ہوں بہت دُور۔“
یہ نہر نجانے کتنے سالوں سے کتنی صدیوں سے ایسے ہی بہتی آ رہی ہے اور بہتی رہے گی۔ لہروں کے پنگھوڑے میں جھولتی ہوئی چھوٹی سی نہر جو سالوں سے اپنے محبوب کو ملنے کے لیے ترستی کناروں پر بھٹک رہی ہو۔ ”کاشی کبھی کوئی لڑکی بھی نہر ہو سکتی ہے۔ کیونکہ کئی دفعہ اداس شاموں میں میری یہ امنگ رہی ہے کہ میں لڑکی سے نہر بن جاؤں۔ لیکن اللہ کے حکم کے بغیر کچھ نہیں بن سکتا۔ میں یہ سوچتی ہوں۔ کاش میں لڑکی نہ ہوتی نہر ہوتی، چھوٹی سی کناروں میں بہتی۔“ رانو کی یہ باتیں میرے تک پہنچیں اُس کی اس گہری محبت کی پوتر سوچوں نے اس کی قدر میرے دل میں بہت زیادہ کر دی۔
اِن دنوں میں میری چھوٹی عمر محبت کے ان سچے اور پاک جذبوں سے واقف نہیں تھا۔ تبھی تو میں ان پوتر جذبوں کو بی جی کی کہانی کے کرداروں کے جذبوں کے ساتھ ناپتا تولتا تھا۔ یہ سلسلہ کوئی ایک سال ہی چل سکا جیسے دادی اماں کی کہانی ایک خاص موڑ پر پہنچ کر راستہ بدل لیتی تھی۔ اسی طرح رانو کی کہانی نے بھی پینترا بدل لیا۔ اس کہانی میں رانو کے ماموں کا بیٹا اَچھو آ گیا۔ کالا بھوت، وسیع و عریض ہاتھ پاؤں، جِنّاتی قد اور اس کا جسم جیسے گوشت کا پہاڑ ہو۔ رانو تو اس کے سامنے ایک چھوٹا سا کھلونا تھی۔
پھر وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔ جِن شہزادی کو اٹھانے کے لیے اپنے پَر تولنے لگا۔ اُدھر رانو کی ماں نے دھن دولت گھر میں ہی رکھنے کے لالچ میں رانو کے انکار کو بھی رد کر دیا اور اُس کی شادی اَچھو کے ساتھ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ جب رانو کے گھر اَچھو کی بارات کے آنے کے سلسلے میں بات چلی تو میں ان کے گھر میں ہی تھا۔ یہ بات سن کر میرا جسم کانپنے لگا۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے بڑی تیزی سے دھڑک رہا میرا دل پسلیاں توڑ کے باہر آ جائے گا۔ میں نے رانو کی طرف دیکھا وہ آہستہ آہستہ رو رہی تھی۔ اس کے دل کی نہر نے بہنا شروع کر دیا تھا۔ یہ سارا معاملہ میری سمجھ سے باہر تھا لیکن بہت جلدی یہ معاملہ میری سمجھ میں آ گیا۔ اس شام سب اپنے اپنے کاموں میں الجھے ہوئے تھے، میں گھر کی پچھلی دیوار کی طرف کسی کام سے گیا تو آہستہ آہستہ باتیں کرنے کی آواز میرے کانوں میں آئی۔
کاشی تم چلو گے میرے ساتھ۔ آج رات کسی وقت۔ جب سب لوگ سو جائیں گے۔ دن نکلنے تک ہم اتنی دور نکل جائیں گے کہ کسی کو پتہ ہی نہیں لگے گا کہ ہم کہاں مر کھپ گئے ہیں۔ ”شہزادی باتیں کر رہی تھی اور شہزادہ گھبرایا ہوا تھا اور کہہ رہا تھا۔ مشکل کام ہے۔ ناممکن۔ ابھی تو نہیں جب تک میرے امتحان نہیں ہو جاتے اس وقت تک مشکل ہے۔ وہ شرمندگی کے ساتھ یہ باتیں کر رہا تھا۔ میں نے دیوار سے تھوڑا سا اونچا ہو کر دیکھا تو ایسا لگا جیسے شہزادی کو کچھ سمجھ نہ آ رہی ہو اور بے بسی سے اس کا بدن مرجھا گیا ہو۔ بس تو پھر اب تم فٹافٹ چلے جاؤ۔ وہ سسکیاں بھرتی ہوئی بولی۔ اگلی شام جب چناب کے کنارے کے پاس پہنچا تو میں اُس کی شکل دیکھ کے کانپ کر رہ گیا۔ وہ ایک درخت کی گود میں ایسے گٹھڑی بنی بیٹھی تھی جیسے سردیوں کی رات نے اس کے جسم کو برف بنا دیا ہو۔ توبہ توبہ ایسا پیلا پھٹک چہرہ میں نے کبھی نہ دیکھا تھا۔ میں نے آہستہ آہستہ اس کے قریب ہو کر پوچھا۔ رانو کیا بات ہے۔ کیا ہوا ہے۔ تمہارے ساتھ کیا ہوا ہے۔ تو وہ دکھ بھرے لہجے میں بولی:
”گلو زندگی کے موسم اتنی جلدی بھی بدل جاتے ہیں کہ بندہ ہاتھ ہی ملتا رہ جائے۔ میری ماں جو میرے ہر دکھ سکھ کو جانتی تھی۔ میرے ذرا سے درد سے ساری رات جاگتی رہتی تھی۔ آج مجھے اس لیے خاندان کے کھونٹے سے باندھ دینا چاہتی ہے کہ آبا و اجداد کی دولت کہیں باہر نہ نکل جائے، اور آج اسے میرا پہاڑ جیسا دکھ بھی سمجھ نہیں آیا۔ میں راتیں رو رو کر گزارتی ہوں لیکن اسے اس سے کیا۔ اس کا ایک مقصد تھا جس کے لیے اس نے یہ سارا کچھ کیا، لیکن اس نے کیا کیا۔ وہ جس کے میں نے خواب دیکھے جس کے بعد میرا زندہ رہنا محال ہے۔ گلو مجھے بتاؤ کوئی اپنا ایسے بھی کر سکتا ہے کہ کسی کو ساری رات جگائے۔ اس جاگنے میں امید کا بیج بوئے اس کی آبیاری کرے اور پھر یہ سارا کچھ ایسے برباد کر دے جیسے اس کا اس کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہ ہو۔“
آنسو اس کی آنکھوں میں چمکنے لگ گئے تھے اور میں اس کی باتیں سن کر اس کے سامنے ایک درخت کی طرح جم کر کھڑا تھا۔ ساحل کا پانی اپنے آنسو ختم کر چکا تھا اور اب ایک چھوٹی سی نہر اس کا دکھ اپنے سینے سے لگا کر جینا چاہتی تھی۔ ”میری روح اس ظالم کے جسم کے ساتھ لٹکی ہوئی تار تار ہو گئی لیکن اس نے کوئی پرواہ نہ کی۔ وہ سودائی اب بھی یہ سمجھتا ہے کہ وقت ہمیشہ ایک جیسا ہی رہتا ہے اور اس کے امتحانات تک کچھ بھی نہیں بدلے گا۔ لیکن وہ نہیں جانتا میں قسمت کی ماری سالوں سے بہتا کوئی دریا تو نہیں۔ میں تو ایک چھوٹی سی نہر ہوں جس کے نگلنے کے لیے کوئی بھی دریا آگے بڑھ سکتا ہے۔ جس کا وجود گھڑی پل کا محتاج ہے۔ گلّو۔ تم نہیں جانتے۔ پچھلی رات میں کیا کچھ گنوا بیٹھی ہوں۔ افسوس جسے میں نے روح کی گہرائیوں سے چاہا اس نے مجھے صرف اپنے جسم کے مزے کے لیے استعمال کیا۔“
”گلو۔ جب تم کاشی جتنے ہو جاؤ گے تو تم بھی یہ سب کچھ کرو گے۔ بھائی دیکھو میں تمہیں کہتی ہوں۔ کبھی بھی ایسا نہ کرنا۔ کبھی بھی ایسا نہ کرنا۔“ مجھے سمجھاتے ہوئے اس کا سارا جسم ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا اور آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے جیسے وہ چناب کے کنارے سے گرتے پاک قطرے ہوں۔ اس کی بے بسی کی یہ حالت دیکھ کر میرا کلیجہ منہ کو آنے لگا۔ اور میں نے بھی رونا شروع کر دیا۔ وہ عجیب دکھ بھرا سماں تھا۔ ساحل رو رہا تھا۔ نہر رو رہی تھی۔ اور ان میں کھڑا میں بھی رو رہا تھا۔ ایسے جیسے ہم سب اپنے مشترکہ دکھ کو نہر کے پانی کے قطروں میں بہا دینا چاہتے ہوں۔
اس کے پتلے اور نازک ہونٹ ہلتے ہوئے نئی نکور کونپلوں کی مانند لگ رہے تھے جن پر گرتے ہوئے آنسو شبنم کی طرح چمک رہے تھے۔ اس وقت مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے اس کی زندگی کی کہانی کا انجام قریب ہی ہو۔ ساری رات اس نے بستر پر کروٹیں بدلتے ہوئے گزاری۔ طوفانی رات تھی اور بادل ایسے گرج رہا تھا جیسے آج وہ کوئی بھی چیز سلامت نہیں چھوڑنا چاہتا۔ رات کے آخری پہر وہ گھر سے نکل کھڑی ہوئی۔ صبح گھر والے جاگے تو اسے ڈھونڈنے نکل پڑے۔ طوفانی موسم کی وجہ سے دریا میں طغیانی تھی۔ زمین و آسمان رو رو کر تھک گئے تھے۔ اگلے کئی دنوں تک اس کی کوئی خبر نہ ملی۔ اور ایسے گہری خاموشی سے ایک کمزور سی نہر سالوں سے بہتے دریا کا حصہ بن گئی۔ اس کی ماں کتنے ہی دن اس آس کے ساتھ دریا کے پانی کو دیکھتی رہی کہ شاید رانو پانی سے مدد کے لیے ماں کوہی آواز دے لے۔ لیکن اس نے کسی کو آواز نہ دی۔
ایک میرے گھر والے ہی نہیں سارے گاؤں کے رہنے والے رانو کو یاد کرتے اور روتے رہے۔ لیکن میرے علاوہ اصل حقیقت کو کوئی نہ جان سکا۔ آج بھی کوئی نہیں جانتا کہ رانو کسی کی محبت کا شکار ہو گئی تھی اور شاید کوئی بھی کبھی نہ جان پائے کہ اس کی محبت کی جڑیں کتنی مضبوط تھیں۔ اس کی ماں بھی نہیں۔ پندرہ سال گزر گئے ہیں اور آج بھی جب آسمان پر کالے بادل آتے ہیں یا پھر تیز ہوائیں چُھری کی طرح بدن کو کاٹتی ہیں اور وہ سودائیوں کی طرح آوازیں دیتی گھر سے نکل کر دریا کے اس کنارے کی طرف بھاگتی ہے۔ جس کا پانی رسّہ تڑوائے سانڈ کی طرح دھاڑ رہا ہو۔
(گلزار ملک کا پنجابی افسانہ "کڑی جہیڑی ندی سی ” کا اردو ترجمہ شمع پروین نے کیا)


