سمارٹ فون
خدا کا شکر ہے کہ گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہوئیں، والدین نے سکھ کا سانس لیا کہ بچے جتنی دیر سکول میں رہیں گے اتنی دیر وہ موبائل فون سے دور رہیں گے۔ جب یہ ٹیکنالوجی متعارف ہوئی تھی تو اس کا مقصد آسان ابلاغ تھا مگر کوئی شے بھی مستقل ماسوائے تبدیلی کے کچھ نہیں۔ لہذا اس میں جدت نے اسے اس قدر مقبولیت عطا کر دی کہ یہ اب ہر ایک کی زندگی کا جزو لاینفک بن گیا ہے۔ گھر میں، دفتر میں، سفر میں الغرض ہر وقت ہر جگہ اس کا استعمال اس قدر عام ہے کہ یہ روگ بن چکا ہے۔
بچے جن کی پیدائش 1997۔ 2012 کے درمیان ہوئی ہے اسے جنریشن زی کہتے ہیں کیونکہ ان کی آنکھ ہی اس ماحول میں کھلی جب والدین روتے منہ بسورتے بچوں کو راضی کرنے کے لئے فون پکڑا دیتے اور بچہ کھیل کھیل کے چکر میں کہیں سے کہیں پہنچ جاتا۔ اب اس نسل کے بچوں کو اس کی اس قدر شدید عادت پڑ گئی ہے کہ یہ بھی ایک قسم کا نشہ بن گیا ہے جس کی وجہ سے بچوں کی یاداشت کمزور ہو گئی ہے، وہ کسی چیز پہ زیادہ دھیان نہیں دے سکتے، سکول سے چھٹی کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے جو ان کے تعلیمی نتائج پہ بھی منفی اثر ڈالتا ہے اور اکثر بچوں کے نتائج حسب منشاء نہیں ہوتے۔ یہ صورتحال والدین، اساتذہ اور ماہرین طب کے لئے باعث تشویش ہے۔ اب تو موبائل کمپنیاں خود سے والدین کو پیغامات دیتی ہیں کہ وہ گیارہ سال سے کم عمر بچوں کو موبائل سے دور رکھنے کی عادت ڈالیں۔ بچے ہر وقت موبائل میں گھسے اپنے پسندیدہ لوگوں سے ہمکلام رہتے ہیں انہیں اردگرد کے ماحول کا اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ قریب بیٹھا ہوا شخص کس حال میں ہے۔ بلا روک ٹوک موبائل فون کے استعمال سے بچوں کے دماغ کی رگیں ہی الٹ پلٹ چکی ہیں اور اس کا کوئی علاج بھی اب تک دریافت نہیں ہوا ہے۔ بس ایک ہی ظاہری طریقہ ہے کہ بچوں کو سکرین ٹائم سے دور کیا جائے۔ اس کے لئے آپ کی توجہ چاہیے۔ اب اس نسل کو نسل پریشان کہا جاتا ہے۔
مسئلہ تو یہ ہے کہ والدین خود بھی اسی ڈیوائس سے جڑے ہوتے ہیں وہ بچوں کو کیسے منع کر سکتے ہیں۔ والدین کو ایسا عمل کرنا چاہیے کہ بچوں کو کچھ کہنا سننا نہ پڑے بلکہ وہ آپ کو دیکھ کر تقلید کریں۔ بچوں کو بظاہر راضی رکھنے کی خاطر اکثر والدین سات سال کی عمر میں سمارٹ فون لے دیتے ہیں اور فخریہ اپنے دوست احباب کو بتاتے ہیں کہ ان کا بچہ بڑا سمارٹ ہے جو فٹافٹ سمارٹ فون کے کرتب کر سکتا ھے مگر اس چیز کا احساس بہت کم کیا جاتا ہے کہ بچے کو آن لائن کن خطرات اور خرابیوں کا وہ شکار بنا چکا ہے۔ بچوں کو فون پہ جنسی، جسمانی اور سماجی خطرات چنداں بڑھ جاتے ہیں۔ شکاری لوگ آن لائن بیٹھے ان معصوموں کے شکار پہ ہوتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے کئی فوائد بھی ہیں مگر اس کی قیمت بھی خاصی مہنگی چکانا پڑتی ہے۔ کلاس روم ایسی جگہ سمجھی جاتی تھی جہاں دوستیاں قائم کی جاتی تھیں، ربط قائم ہوتے اور سماجی گفتگو ہوتی ایک دوسرے کی خوشیاں اور غم سانجھے ہوتے تھے اساتذہ خاموشی کے لئے بار بار یاد دھانی کرواتے مگر اب وہ وقت بیت گیا ہے اب بچے کلاس روم میں شور بھی کم مچاتے ہیں کیونکہ ان کا دھیان محض اپنے فون پہ ہوتا ہے وہ پرواہ ہی نہیں کرتے کہ اردگرد کیا ہو رہا ہے۔ اب والدین، اساتذہ اور سماجیات کے ماہرین سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں کہ ان مسائل سے کیسے نبرد آزما ہوا جائے۔
تاریخ گواہ ہے انسان ہمیشہ سے اپنی تن آسانی کے لئے شب و روز مشغول عمل رہتا ہے مگر جب بھی کوئی نئی دریافت ہوتی ہے تو اس کا قدرتی طور پہ عوامی ردعمل بہت خوش دلی سے ہوتا ہے مگر وقت ثابت کرتا ہے کہ اس کے جہاں کئی فوائد ہیں و ہیں کئی دوسرے نقصان دہ اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اب موبائل فون ایک اٹل حقیقت ہے جس کا درست استعمال تو جائز ہے مگر اس کے زیادہ استعمال سے ہونے والے منفی اثرات سے بچاؤ بھی لازم ہے۔


