ایک انڈین لڑکی کے ساتھ لاہور میں کیے گئے سفر کی روداد


چندر گُپت موریا، اور گُپت روگ کی یاد دلاتی، کنیکا گُپتا سے میں نے سب سے پہلے اُس کے نام کا مطلب پوچھا۔
” اس کا مطلب ہوتا ہے ایٹم، بالکل چھوٹا سا دانہ نہیں ہوتا جیسے“
” ہاں ہاں ایٹم کا تو پتہ ہے مجھے“
” یہ کنِک سے نکلا ہے، ہندی میں کسی چیز کے چھوٹے سے زرے یا دانے کو کنِک کہتے ہیں“

میں نے مال روڈ پہ پھیلی ہوئی دھند میں سے دہلی کی مماثلتیں تلاش کرتی ہوئی کنیکا کو آنکھ ماری تو وہ فلک شگاف قہقہہ لگا کر لوٹ پوٹ ہو گئی۔ ہم ٹھٹھرتی ہوئی سردی میں خراماں خراماں پاک ٹی ہاؤس کی طرف گامزن تھے۔ میرا ارادہ تھا کہ اسے آج پیدل چلا چلا کر تھکا ماروں گا۔ محسن حامد کے ناول the reluctant fundamentalist کا ذکر چھیڑا۔ کنیکا نے پڑھ رکھا تھا۔ اس پہ بنی ہوئی مووی بھی دیکھ رکھی تھی۔

” بس پھر یہ وہی پاک ٹی ہاؤس ہے جو فلم میں دکھایا گیا ہے اور جس میں چنگیز اپنے سٹوڈنٹس کو جہاد پر لیکچر دیا کرتا تھا“

پاک ٹی ہاؤس کے اوپر والے سیکشن میں ہم کھڑی کے پاس بیٹھ گئے۔ دو چار لوگ اور بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ویٹر کو بتایا کہ یہ انڈیا سے ہیں۔ میری بے ترتیب بڑھی ہوئی داڑھی مونچھیں دیکھ کر کہتا کہ "اس سے زیادہ تو آپ انڈین لگ رہے ہیں“

تصویریں بنوانے کے لیے میں نے ساتھ والے ٹیبل پہ بیٹھے دو لڑکوں میں سے ایک کو کیمرہ دے کر تصویر بنانے کی التماس کی اور ساتھ آہستہ سے بتا دیا کہ ہم دونوں نیو دہلی سے ہیں۔ وہ مسکراتے ہوئے بولے "مجھے لگ رہا تھا کہ آپ پاکستانی نہیں ہیں”۔

میرا ہاسا نکل گیا۔ انہوں نے کافی بری تصویریں بنائیں۔ اصل میں باہر ہلکی ہلکی بارش کی وجہ سے ہمارے کیمرے کا لینز گیلا ہو گیا تھا۔ موبائل سے البتہ اچھی تصویریں آئیں۔ چند منٹ بعد ہمارے ساتھ والے ٹیبل سے ایک لڑکا اٹھا اور نہایت ہی مؤدبانہ انداز میں براؤنی پیش کی کہ یہ ہماری طرف سے آپ کے لیے ہے۔ ہماری چائے کا بِل بھی انہی دونوں نے دیا۔ اب وہ میرے ساتھ فیس بک پہ ایڈ ہو چکے ہیں۔ خالد زبیر پیرزادہ اور مخدوم عدیل عزیز آپ کی مہمان نوازی اور پیار نے ہمارے دل جیت لیے۔ اگر چہ میں انڈیا سے نہیں ہوں لیکن کنیکا یقیناً ہمیشہ آپ کو یاد رکھے گی۔ میں بھی رکھوں گا۔

ہم پاک ٹی ہاؤسں سے باہر نکلے۔ میں دہلی اور لاہور کا موازنہ کروانے پہ بضد تھا لیکن کنیکا بولنے سے زیادہ مشاہدے پہ یقین رکھتی تھیں۔ نتیجتاً میرا ہی گلا بیٹھا۔ نیلا گنبد سے ہوتے ہوئے انارکلی کی طرف مڑے اور وہاں سے سگریٹ خریدے۔ کنیکا کو گِلا تھا کہ یہاں سگریٹس کے کھوکھے بہت کم ہیں۔ دہلی میں تو جگہ جگہ پہ سگریٹس ملتے ہیں۔ اسے لاہور کا ریلوے سٹیشن دیکھنا تھا۔ سپیڈو پہ بیٹھ کے گئے۔ لاہور ریلوے سٹیشن دیکھ کے وہ دنگ رہ گئی۔

” ارے یااار! میرے کو کچھ ہو رہا ہے۔ ہمارے والا تو بڑا جدید قسم کا ہے۔ یہ تو بڑا ہی سُندر ہے۔ کتنا آرٹسٹک ہے۔ ریلوے سٹیشنوں کے ساتھ جڑی ہوئی آمد اور روانگی کے رومانس کو ڈسکس کیا۔ آنا، جانا، گہما گہمی، انتظار، کامیڈی، ٹریجڈی، تقسیم، لوٹ کھسوٹ اور نا جانے کیا کیا باتیں زیر بحث آئیں۔

” اگر تمہیں اردو پڑھنا آتی ہوتی تو میں تمہیں قرۃ العین حیدر کی کتابیں دیتا“
اگر تمہیں ہندی پڑھنا آتی ہوتی تو میں تمہیں بھگت کبیر کی کتابیں دیتی ”
” مجھے تو آتی ہے ہندی“
میں نے کندھے اچکائے۔ بھگت کبیر اور قرۃ العین حیدر کا تبادلہ پھر نہ ہو سکا۔

 میں نے کافی مبالغہ آرائی کی، کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ وہ خود بھی لہور لہور اے کہے جا رہی تھی۔ رہی سہی کسر لہوری عوام نے نکال دی۔ جسے بھی بتایا کہ یہ انڈیا سے ہے، والہانہ استقبال ہوا۔ اکثر کھانا پینا تو بالکل ہی فری میں ہوا۔ سپیڈو پہ سفر کیا تو انہوں نے بھی کرایہ نہیں لیا۔ کنیکا کے چکر میں میرے بھی بیس روپے بچ گئے۔ نیا پرانا سارا لاہور گھوما ہم نے۔ وہ مجھے منع کر رہی تھی کہ اب میں کسی کو نہیں بتاؤں گا کہ وہ انڈیا سے ہے۔

” میرے کو سمجھ آ گئی ہے۔ یہ تمھاری چال ہے۔ تم بس پیسے بچا رہے ہو۔ اب نہیں کسی کو بتانا کہ میں انڈیا سے ہوں۔ ورنہ کھاؤ گے مجھ سے“

اور بات بھی سچ تھی۔ انتہائی پڑھے لکھے لوگوں سے لے کر رکشہ ڈرائیورں تک میں نے سبھی سے اس کی بات چیت کروائی اور سبھی نے انتہائی گرمجوشی سے خیر مقدم کیا۔ دہلی گیٹ میں داخل ہوں تو مسجد وزیر خان کے پاس ایک چھوٹی سی گلی میں چائے کا ڈھابہ ہے۔ بہترین چائے ملتی ہے۔ ہم وہاں پہنچے تو وہ دکان بند کر رہے تھے۔ کنیکا نے اپنا تعارف کروایا۔ وہ خان صاحب بولے

” اب تو دوود کتم ہو چکا ہے۔ اب چائے نہیں مل سکتا۔ معذرت چاہتا ہے ام“
” نہیں میرے کو یہیں سے چائے پینی ہے“
میڈم دودھ نہیں ہے ہمارے پاس ”
” ہم آپ کو دودھ لا دیتے ہیں“
” معذرت چاہتا ہوں میڈم اب ام نے سب کچھ سمیٹ دیا ہے“
” آپ کو پتہ ہے میں کتنی دور سے صرف آپ کے ہاں سے چائے پینے آئی ہوں۔ ایسے ہوتے ہیں یہاں کے لوگ“

یہ کہہ کر کنیکا تو وہاں سے چلتی بنی لیکن وہ پٹھان پریشان ہو گیا۔ ساتھ ہی ایک اور ڈھابہ تھا ہم وہاں چلے گئے۔ ہم وہاں چائے پی ہی رہے تھے کہ اچانک اوپر سے وہ لالہ آیا اور کہتا :

” میڈم پلیز ام کو معاف کر دے ام کو اچھا نہیں لگ رہا۔ آپ وہاں جا کر مت بتائیے گا کہ ام نے آپ کو چائے نہیں پلایا“
کنیکا کہاں ماننے والی تھی۔
” میں تو وہاں جا کر ایسے ہی بتاؤں گی“
” نہیں نہیں۔ آپ کی اس چائے کے پیسے ام دے گا۔“
ہم بہت ہنسے اور میں نے کنیکا کو بتایا کہ یہ ہے ہمارا پاکستان۔ آخر کنیکا نے اسے ”آپ بہت سویٹ ہیں“ کہا، تو اس کی جان میں جان آئی۔

بادشاہی مسجد سے عصر کی اذان کی ریکارڈنگ کی۔ شاہی قلعہ اور علامہ اقبال کا مزار دیکھا۔ مسجد کو دیکھ کو وہ بار بار جامع مسجد دہلی کو یاد کرتی رہی۔ ہیرا منڈی ہم دیکھتے دیکھتے رہ گئے۔

” لاہور اور دہلی میں کیا فرق نظر آیا تمہیں؟“
” اردو اور ہندی سائن بورڈز کا “
” ہاہاہا۔ زبان کیسی ہے یہاں کے لوگوں کی؟“
” بہت ہی میٹھی۔ میرا دل کرتا ہے میں سنتی رہوں“
” اچھا کوئی ایسی چیز جو اجنبی لگی ہو؟“
” لِٹرلی! یہاں پہ کوئی ایک چیز بھی نہیں جو اجنبی لگے۔ انتر ہی نہیں ہے کوئی“
” اب انتر کیا ہوتا ہے“
” فرق۔ ہاہاہا“
” شکر کرو میں امتیاز، ممتاز، یا نمایاں وغیرہ ایسے الفاظ کا استعمال نہیں کر رہا“
” ابے کیا کہہ رہے ہو۔ ہاہاہا“

کنیکا گُپتا وار اینڈ کنفلکٹ جرنلسٹ رپورٹر ہیں۔ کشمیر اور افغانستان میں کام کر چکی ہیں۔ میں نے دانستہ طور پہ کشمیر کے بارے میں کوئی بھی بات چیت نہیں کی ان سے۔ انہوں نے خود بتایا کہ وہاں پہ لوگ کیسے رہ رہے ہیں، کیا ہو رہا ہے، گورنمنٹ کی کون کون سی پالیسیز ہیں جن سے انہیں خود بھی اختلاف ہے۔ پاکستان میں کسی بھی شخص نے ان سے میرے سامنے کشمیر کے موضوع پہ بات نہیں کی۔ دوستی، پیار اور محبت کو سمیٹتے سمیٹتے افغانستان چلی گئی ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کے عوام ایک دوسرے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، ہمیشہ ان کے ذہن پہ نقش رہے گا۔ باقی کچھ چیزوں کے بارے میں، میں بھی گُپت ہوں۔

Facebook Comments HS

One thought on “ایک انڈین لڑکی کے ساتھ لاہور میں کیے گئے سفر کی روداد

  • 31/08/2024 at 2:35 شام
    Permalink

    کشمیر کا ذکر کر بھی دیتے تو کوئی مسئلہ نہیں تھا، کشمیر نہ احتشام کا ہے نہ کانیکا کا، کشمیر کشمیریوں کا ہے۔ ایک ارب کی آبادی والے ملک میں مواقع کو ہم لوگوں نے بلاوجہ دشمن بنا رکھا ہے۔ صرف مذہبی سیاحت سے ہی ہم بہت کما سکتے ہیں، لیکن نہیں، ہمیں تو بلنڈر مارنا اچھا لگتا ہے—کبھی ممبئی، کبھی پٹھان کوٹ، تو کبھی خالصتان۔

Comments are closed.