ڈھکن کمیٹی
شہر کی پوش آبادی کی ایک گلی کے گٹر کا ڈھکن کافی دنوں سے غائب تھا، جس کے باعث وہاں کے رہائشی کافی تکلیف میں مبتلا تھے، ہر وقت کی بدبو کے علاوہ ہمہ وقت کسی کے گٹر میں گرنے کا خدشہ بھی رہتا تھا اور چند ایک راہ گیر انجانے میں اس گٹر کی گہرائی بھی ناپ چکے تھے اور کئی ایک کافی زخمی بھی ہوئے تھے۔
آج میر اکمل صاحب کے کمرہ مہماناں میں گلی کے سر کردہ افراد اکٹھے ہوئے اور گٹر کے ڈھکن کے غائب ہونے سے لے کر اس میں گرنے والے راہ گیروں تک کے تمام معاملات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی، کھانے اور چائے کے دور کے بعد میر اکمل صاحب کی سربراہی میں ایک ڈھکن لگاؤ کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے اگلے دو تین دنوں میں محلے کے ناظم سے اس ضمن میں ملاقات کرنی تھی۔
اگلے تین دنوں تک ڈھکن لگاؤ کمیٹی کی چند مزید بیٹھکیں گلی کے دوسرے گھروں میں بھی ہوئیں اور ناظم صاحب کے گوش گزار کرنے کے لئے سفارشات کو حتمی شکل دی گئی۔ مقررہ دن کو جب ڈھکن کمیٹی ناظم صاحب سے ملاقات کرنے ان کے دفتر گئی تو پتا چلا کہ ناظم صاحب ایک ہفتہ کے لیے اسلام آباد گئے ہوئے ہیں، چار و ناچار کمیٹی واپس آ گئی اور اگلا پورا ہفتہ مختلف گھروں میں گٹر ڈھکن لگانے کے سلسلے میں کمیٹی کی خوب بیٹھکیں ہوئیں۔
اس دوران گٹر کا منہ کھلا رہا، بدبو بھی فضا کو متعفن کرتی رہی اور اجنبی راہ گیر بھی گٹر میں گر گر کر زخمی ہوتے رہے، اسی گٹر کنارے گلی میں ملاں اسلم سبزی فروش کا کھوکھا بھی لگا ہوا تھا اس کو بھی کھلے منھ کے گٹر سے کافی تکلیف تھی۔ وہ پچھلے ایک ہفتے سے ڈھکن لگاؤ کمیٹی کی آنیاں جانیاں دیکھ رہا تھا لیکن اس کو کوئی مثبت نتیجہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ ایک شام وہ کھوکھا بند کر کے خاموشی سے ناظم صاحب کے دفتر گیا اور وہاں سے ایک عدد گٹر کا ڈھکن لا کر کھلے منھ کے گٹر پر رکھ کر رات کو گھر چلا گیا۔
اگلے دن حسب وعدہ ڈھکن کمیٹی پوری تیاری اور لاؤ لشکر کے ساتھ ناظم صاحب سے ملاقات کرنے نکلی تو گٹر کا منھ ڈھکن سے بند دیکھ کر ششدر رہ گئی، کھوج لگانے پر پتا چلا کہ یہ سارا کیا دھرا ملاں اسلم سبزی فروش کا ہے، سبزی فروش کو کمیٹی کے روبرو بلایا گیا تو اس نے عرض کی کہ حضرات میں کافی دنوں سے آپ کی آنیاں جانیاں دیکھ رہا تھا، لیکن کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلنے پر میں نے خود ہی گٹر کا ڈھکن لگا دیا تھا کیونکہ کھلے منھ کے گٹر سے مجھے اور میرے سبزی کے گاہکوں کو بھی کافی تکلیف ہوتی تھی، آخر کو اس گلی محلے کا مجھ پر بھی کوئی حق ہے۔
سبزی فروش کی یہ گفتگو سن کر ڈھکن کمیٹی کے سربراہ میر اکمل نے آگ بگولا ہو کر کہا۔ او ملاں! چپ ہو جا، تم جیسے ناہنجار نے اپنی جلدی کے باعث ہم سب زعمائے گلی کی ہفتے بھر کی محنت پر پانی پھیر دیا ہے، تم جیسے بے عقلوں کے باعث ہی تو ملک ترقی نہیں کر رہا ہے۔ چل یہاں سے دفع ہو جا۔ ”میر صاحب، میں جا رہا ہوں، لیکن ملک آپ جیسے نمود و نمائش دکھانے والے لوگوں کی وجہ سے پیچھے رہ گیا ہے، جتنے دنوں سے آپ سب یہ کچھ کر رہے تھے، اگر آپ میں سے کوئی بھی چاہتا تو چپ چاپ گٹر کا ڈھکن لا کر کھلے گٹر کا منہ بند کر سکتا تھا، لیکن اگر ایسا ہو جاتا تو نام کیسے بنتا، خلق خدا کو کیسے پتا چلتا کہ یہ خدمت خلق کس نے کی ہے، اشتہارات کیسے لگتے، تصاویر کیسے فیس بک کی زینت بنتیں۔ آپ سب نمود نمائش کے غلام ہیں اور نام ہم غریبوں کا بد نام کرتے ہیں۔ ملک کے اصل دشمن آپ ہیں جو نمود و نمائش کے لیے ہر کام کرتے ہیں۔ ”
سبزی فروش ملاں اسلم یہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا اور ڈھکن کمیٹی وہیں ڈھیر ہو گئی۔

