ایک قاری کا مکالمہ

مکرمی و محترمی ڈاکٹر خالد سہیل صاحب!
آپ کی مختلف موضوعات پر تحاریر قارئین کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ آپ کا منفرد طرزِ انداز قارئین کو اپنے خطوط کے ذریعے مکالمے پر ابھارنا ہے۔ آپ اپنے خیالات کو واضح کرتے ہوئے اپنے سے مختلف خیالات کے مالک لوگوں سے بھی مکالمے پر آمادہ رہتے ہیں۔ بطور قاری میں آج آپ سے ایک مختصر مکالمے کی جسارت کر رہا ہوں۔
عمومی طور پر کچھ مضامین اور بالخصوص استاد محترم جناب وجاہت مسعود صاحب کے ساتھ تبادلہ خیال میں آپ نے فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی خودکشی پر تفصیلاً بات کی ہے۔ موت یقیناً ایک وسیع موضوع ہے اور مختلف طبقہ جات اس حوالے سے مختلف خیالات رکھتے ہیں۔ مذہبی سوچ رکھنے والوں کے لئے موت ایک امید ہے جس میں وہ موت کے بعد ایک اور زندگی کی امید رکھتے ہیں۔ لیکن اس میں دو پہلو دلچسپ ہیں، اولاً موت کے بعد زندگی کو لافانی سمجھا جاتا ہے اور موجودہ دنیا کو فانی۔ اس نظریے میں کائنات، زندگی اور زمین بے معنی ہو جاتے ہیں اور دنیا کو سنوارنے کی بجائے آخرت پر زیادہ توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ماحولیات سے جڑے مسائل اس لیے بھی نظر انداز ہوتے ہیں کہ موت اور اس کے بعد کی زندگی کو فوقیت دی جاتی ہے اور زمینی مسائل سے درگزر کیا جاتا ہے۔ دوم موت کے دکھ سے جڑے جذبات و احساسات کو آئندہ کی زندگی کی امید میں دبایا جا تا ہے۔ آپ کے نزدیک مختلف خیالات کے حامل مالک موت کو کیسے دیکھتے ہیں۔ موت کے حوالے سے مابعد الطیبعیات نظریات پر بھی روشنی ڈالیں۔
آپ کے مضامین میں آپ کی شاعری سے بھی روشناس ہونے کا موقع ملتا ہے۔ آپ کی خدمت میں اپنی ایک نظم پیش کر نا چاہتا ہوں۔
الوداع
رات کے آخری پہر
گھڑی کی سوئی کی آواز کے ساتھ
میری ساعتیں
بستر پر پڑی ماں کی
سانسوں کی گنتی کر رہی ہیں
یہ دن یہ راتیں
مجھے تھکا رہے ہیں
اور آوازوں کا ایک شور ہے
نصیحتوں کا ایک پلندا ہے
وعظ کے بے جان لمبے خطبات ہیں
زندگی بے ثبات کے بے معنی راگ ہیں
زندگی بہرحال خوبصورت ہے
کھلی آنکھ سے دکھنے والے
مناظر دلفریب ہیں
کھلی آنکھ میں گرچہ درد کے سائے ہیں
آنسو ہیں، کراہ بھی ہیں
کھلی آنکھ میں لیکن میرا عکس بھی ہے
اس کی آنکھ سے پار جیتے لاشعور میں
ایک ننھی کھیلتی بچی کا عکس تازہ ہے
کھلی آنکھ کو بند کر نا آسان نہیں
متاعِ جان کو الوداع کہنا آسان نہیں
(سلمان سحر)

