سماجی بیماری


 

آج کی دنیا میں تکلف ایک بیماری کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جس کی وجہ سے سماجیات، اخلاقیات، سیاسیات، معاشیات جیسے انسانی زندگی کے اہم شعبے متاثر ہو رہے ہیں۔ عمومی طور پر تکلف پوری دنیا میں پایا جاتا ہے۔ مگر ترقی پذیر ممالک میں یہ بیماری کی طرح ہر سطح پر سرایت کر چکا ہے۔ پروٹوکول کے نام پر تکلف کا انسانی زندگی میں عمل دخل اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ زندگی بھی تکلف ہی لگتی ہے۔ گھر سے لے کر زندگی کا کوئی بھی شعبہ لے لیں انسان اس سے آزاد نہیں ہے۔

دیکھا جائے تو بہت سی چیزیں ہیں جن کا خیال انسان کو رکھنا پڑتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبے ہیں۔ اور ہر شعبے کا اپنا پروٹوکول ہوتا ہے جس کو لاگو کرنا یا جس پر عمل کرنا ازحد ضروری ہوتا ہے مگر ان ضروری پروٹوکولز کے ساتھ ساتھ بہت سارے ایسے نظریات کی ترویج بھی ہو گئی جن پر عمل کرتے کرتے وہ شعبہ زندگی حقیقی معنوں میں کہیں دب کر رہ جاتا ہے اور فضولیات پروان چڑھ رہی ہوتی ہیں۔ اس شعبہ کی ترقی اور ترویج اور بہتری کسی کا مطمح نظر نہیں رہتی بلکہ ملمع کاری ہو رہی ہوتی ہے۔

اگر ہم اپنی سماجیات کو دیکھیں تو یہ انتہائی اہم شعبہ زندگی ہے۔ بلکہ یہ کہنا بالکل بھی غلط نہ ہو گا کہ یہی زندگی ہے کیونکہ کہ تہذیب اور تمدن کی ابتداء ہی سماج سے ہوئی ہے۔ اگر سماج نہ ہوتا تو آج کچھ بھی نہ ہوتا۔ شاید غار اور جنگل اور پتھر بھی نہیں۔ آج کا انسان ماحول اور ماحولیات کا رونا تو بہت روتا ہے کہ انسانی اور سائنسی ترقی نے ماحول کو بہت نقصان پہنچایا ہے جو کہ ایک حد تک ٹھیک ہے مگر اس نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ اگر یہی ماحول دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے انسان آج تک جنگلوں اور غاروں ہی میں رہ رہا ہوتا تو ؟ تو کیا آج میں یا کوئی بھی اور بندہ یہ کچھ لکھنے اور پڑھنے کے قابل بھی ہوتے؟ کیا ہم ماحول اور ماحولیات کا رونا رونے کے قابل بھی ہوتے؟ میرے خیال میں ان سب سوالوں کا جواب نہ میں ہے۔ اگر کوئی ان کا جواب ہاں میں دیتا ہے تو اس سے یہ سوال بھی ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ کیا جنگل ابھی تک جنگل ہی ہوتے؟

انسان کا سماج کی شکل اختیار کرنا بہت ضروری تھا اور ہے اور سماجیات ہی میں ہر شے کی بقاء اور سلامتی ہے۔ انسان پتھر کے زمانے سے نکل کر تہذیب اور سماجی سفر اختیار نہ کرتا تو موجود ہر چیز کو ختم کر چکا ہوتا۔ جنگلات اور جنگلی حیات بھی، ماحول اور ماحولیات بھی۔ یہ تو شکر ادا کرنا چاہیے سائنس اور سائنسی علوم کا جن کی بدولت فطرت، قدرت، ماحول اور ماحولیات سب محفوظ بھی ہیں اور پھل پھول بھی رہے ہیں۔ آج بغور جائزہ لیا جائے تو بہت کچھ واضح نظر آئے گا کہ انسان کی قدرت سے علیحدگی بہت ضروری تھی۔ اسی علیحدگی میں دونوں کی بقاء تھی۔

مجھے لگتا ہے کہ انسان پھر سے پتھر کے دور کا متلاشی ہے۔ اس نے جتنے خول یا یوں کہیے کہ تکلفات بنا لیے ہیں جن پر کبھی بھی پورا نہیں اتر سکتا۔ یہ تکلفات بھی ایک وجہ ہو سکتی ہیں کہ انسان آج کئی طرح کی تقسیم کا شکار ہو چکا ہے۔ وہ ان تکلفات کی پاسداری کرتے کرتے انسانی اور سماجی اقدار بھی بھول چکا ہے۔

آج کا انسان ماحول، حیات، ذات اور صنفیت جیسے موضوعات پر بات کر کے اور ان کی اہمیت اجاگر کر کے بہت ہی اعلیٰ سماجی فریضہ سر انجام دے رہا ہے مگر ساتھ ہی اپنی حدود بھی مقرر کرتا جا رہا ہے۔ اپنی شناختیں بھی محدود کرتا جا رہا ہے۔ وہ اپنے اردگرد دائرے لگاتا جا رہا ہے۔ وہ روز ایک نیا خول چڑھا کر خود معاشرے میں پیش کرتا ہے۔ دیکھیں منہ پر جھوٹی مسکراہٹ اور آنکھوں میں عیاری کی چمک انسان کو اس کے مقام اور مرتبے سے گرا رہے ہیں۔ یا انسان خود ہی اپنے آپ کو گرا رہا ہے۔

اس ضمن میں اگر پچھلے دو سالوں کا جائزہ لیا جائے تو پوری دنیا میں جو کچھ دیکھنے کو ملا ہے وہ کسی بھی صورت سماجی اور ثقافتی اور تہذیبی نہیں ہے۔ کشت و خون دیکھا ہے۔ جنگ و جدل دیکھا ہے۔ جھوٹ و فریب دیکھا ہے۔ مکرو فریب دیکھا ہے۔ انسانیت کی تذلیل دیکھی ہے۔ گھٹیا دلیل دیکھی ہے۔ صنفی امتیاز اور تشدد دیکھا ہے۔ اور یہ سب تکلفات کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ تکلفات میں ہر کام برابری کی سطح پر ہو رہا ہوتا ہے یا کرنا ہوتا ہے جس پر ہر بندہ یا ملک پورا اترنے سے قاصر ہے۔

دیکھا جائے تو لوگ تحائف بھی یہی سوچ کر دیتے ہیں کہ مجھے اس سے اچھا یا کم از کم اس جیسا تحفہ ضرور ملے گا۔ اس طرح کے تکلف کو میں بیماری کہتا ہوں۔ انہی چیزوں اور تکلفات نے سماج میں مزید تقسیم پیدا کی ہے اور سماج کو بہت ہی نازک پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ مختصراً یہ کہ ہمیں سماجی بقاء کے لئے بہت زیادہ کوشش کی ضرورت ہے اور سماج کو تمام قسم کے تکلفات کی آلائشوں سے پاک ایک شمولیتی سماج بنانے کی ضرورت ہے جو ہمیشہ قائم و دائم رہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “سماجی بیماری”

  • 01/09/2024 at 10:12 صبح
    Permalink

    آپ نے معاشرے کی دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا ہے بس ہم سب کسی نہ کسی طرح قید ہو چکے

Comments are closed.