دل پہ دستک دیتی شاعری
خیبر پختونخواہ کے ایک سفید پوش گھرانے سے تعلق رکھنے والے جری جذبوں اور کومل احساسات کے مالک طارق ہاشمی اپنی خواہشات اور لگن کی جمع پونجی سے قریہ قریہ علم کے بیج بوتے اب جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں ادب کے ایک استاد کے طور پر اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ وہ ڈیرہ اسماعیل خان سے اپنے ذوق کی تسکین اور علم و ادب کے پودے کو تناور درخت کے روپ میں دیکھنے کے لیے اورینٹل کالج لاہور میں داخل ہوئے اور اپنے شعبہ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ وہ ایک ایسے طالب علم ہیں جن کے والدین فارمل ایجوکیشن سے نابلد ہیں لیکن اپنے بچوں کو اپنے علاقے کے روایتی ماحول سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اپنی والدہ رقیہ بیگم کے نام اپنی ڈاکٹریٹ ڈگری تفویض کر کے تقریباً 13، 14 سال تک ایڈورڈ کالج پشاور میں پڑھایا۔ آگے بڑھنے کا جذبہ اور کچھ کر دکھانے کی سوچ نے اُنھیں ہمیشہ متحرک رکھا ہے۔ اقبال کے فلسفہ بیداری اور تحرک کو نہ صرف پسند کرتے ہیں بلکہ آج تک اپنی زندگی کا حصہ بنائے ہوئے ہیں۔ تعلیمی سفر اور روزگار کے لئے محنت کرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے شعری ذوق کو بھی نکھارتے سنوارتے اور مختلف جگہوں پر اُسکی ترجمانی کرتے آگے بڑھتے رہے۔ ٹیلیویژن پر اپنے ایک انٹرویو میں اُنھیں نے بتایا کہ وہ زمانہ طالب علمی سے ہی شاعری کرتے آرہے ہیں۔
طویل عرصہ ریڈیو پر کام کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کے لئے اپنے طالب علموں کے سوالات کے جوابات دینے اور اُن کے علم میں اضافے اور تر و تازگی کے لئے اُنھوں نے اپنا ایک اکیڈیمک چینل "اُردو رس“ کے نام سے بنایا جو بہت مقبول ہوا اور علمی و ادبی حلقوں کے علاوہ جامعات میں اُسے خوب پذیرائی ملی۔
”زہر اب“ اُن کے زمانہ طالب علمی اور نو جوانی کے جذبات احساسات اور تجربات پر مشتمل ہے۔ اُسکے بعد 2002 ءمیں ان کا دوسرا مجموعہ ”دِل دسواں سیّارہ“ شائع ہوا جو اُن کی فکری پختگی کا آئینہ دار ہے۔ 2008 ءمیں اُن کا تیسرا مجموعہ کلام ”دستک دیا دل“ منظرِ عام پر آیا جس نے ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کی۔ اس کتاب کا سرورق تجریدی آرٹ کا بہترین مظہر ہے۔ مختلف رنگوں سے مزین یہ سرورق اپنے اندر کچھ معنی بھی رکھتا ہے۔
طارق ہاشمی کی غزلیات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں محبوب گل و بلبل، شمع و پروانہ، ہجر وصال وغیرہ کے فرسودہ اور بارہا ایک پیرایہ میں استعمال کی جانے والی تشبیہات استعارات اور موضوعات سے نکلتی ہوئی نظر آتی ہے۔ دِل کا لفظ اپنے اندر وسعت و گہرائی رکھتا ہے۔ یہ شعور سے لاشعور، علم سے عمل، بے بنیاد سے بنیاد تک کا ایک مسلسل سفر ہے۔ یہ چاہت اور خواہشات کا وہ گھر ہے جو مکین کو بلندی سے پستی اور پستی سے اوج ثریا تک اوج ثریا سے سدرۃ المنتہی تک لے جاتا ہے۔ ان سب کے باوجود آج تک اِس کی اصل تحریر کو کوئی نہ پڑھ سکا۔ طارق ہاشمی نے غزل کے خارجی رُوپ بہروپ اور داخلی معاملات میں اپنے منفرد طرز احساس کو شامل کیا ہے۔
مشورہ کرنے جاتے تھے کبھی مجنوں سے
دشت میں اب کوئی دانا ہی نہیں ہوتا ہے
مجنوں کے استعارے کو ایک منفرد انداز میں برتا گیا ہے۔ پاگل، دیوانے کی بجائے اُسے عقل و دانائی کا منبع قرار دیا ہے۔ جو عاشق دشت، صحرا یا بیابان کا رُخ کرتے تھے۔ شاعر کے مطابق وہ مجنوں سے صلاح لینے جاتے تھے۔ لیکن اب دشت میں کوئی دانا نہیں ہوتا۔
کاش تو دیکھتا مجنوں کا زمانہ طارقؔ
اب تو اِس عشق کے آزار میں کچھ بھی نہیں ہے
۔
یوں نہیں کھلتا ہے یہ عشق کا عقدہ اے دوست
دشت میں جا کبھی مجنوں کی زیارت کرتا
مجنوں کی زیارت کرنا عشق کرنا سکھلاتا ہے۔ کیونکہ وہی ایک سچا عاشق تھا۔ اب تو عشق کے آزار میں کچھ نہیں ہے۔ شاعر کا حساس ہونا اُسے معاشرے کے عام لوگوں سے منفرد کرتا ہے۔ مٹتی ہوئی قدریں، بڑھتی ہوئی بے حسی بے بہرہ رویوں کو شاعر نے معاشرے کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے کیا خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔
یہ عجب شہر ہے بے مہر رویّوں والا
کسی گفتار میں، کردار میں کچھ بھی نہیں ہے
اس قدر گرد ہے اس آب و ہوا میں ہر سُو
نخلِ احساس توانا ہی نہیں ہوتا ہے
دلوں پہ طاری ہے کیسی یہ باہمی ہیبت
ہر ایک دوسرے کو سہم کر بلا تا ہے
اِن سارے حالات کو دیکھتے ہوئے شاعر ایک نئے شہر ایک نئی زمین کا پتہ معلوم کرنا چاہتا تھا جہاں پر محبت کی فصل بوئی جاتی ہو۔ خوف ڈر ہمارے لیے ناسور بن گئے ہیں۔ انسان کے اندر کا خوف اُسے مرنے سے پہلے مارے ہوئے ہے۔ اس ماحول سے جڑے جانداربھی اپنے اردگرد کے حالات سے خوف زدہ ہیں۔
درخت خوف سے اپنی جڑوں کو دیکھتے ہیں
پرندے باغ سے جس طور قفس گئے ہیں
درختوں کا خوف زدہ ہونا ایک انوکھی اور منفرد علامت ہے۔ اِسی خوف و اضطراب کو کچھ اس طرح سے بھی بیان کیا گیا ہے۔
میں اب کی بار جو اخبار پھینکنے کو گیا
عجب دِکھائی دیا اضطراب ردّی میں
طارق ہاشمی کے ہاں ہمیں وطن سے محبت اور اس میں رہنے بسنے کی تمنا بھی نظر آتی ہے۔ بُرے حالات و واقعات، دہشت گردی، معاشی تنگدستی، حالات کی بے چارگی شاعر میں مایوسی نہیں شکوہ بن کر اُبھرتی ہے لیکن پھر وطن کو چھوڑنے کی خواہش بیدار نہیں ہوتی۔
سُکھ چین ہو کہ درد، یہ میری زمین ہے
میں ہوں یہیں کا فرد، یہ میری زمین ہے
وہ تیرا آسمان ہے مہ و مہر سُرخ رَو
پھولوں کے رنگ زرد، یہ میری زمین ہے
ہم خوش فہمیوں کا شکار اُس وقت ہوتے ہیں جب شعور اور فہم بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔
خوش عقیدہ ہیں بہت حبس کے مارے ہوئے لوگ
لُو کے جھونکے کو بھی تعبیر بشارت کرنا
خوش عقیدہ، حبس کے مارے ہوئے لوگ، لُو کے جھونکے اور بشارت جیسے الفاظ ہمارے معاشرے کی خوب ذہنی عکاسی کر رہے ہیں۔ وقت کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے اُردو زبان نے بہت سے انگلش کے الفاظ اپنے اندر ضم کر لئے ہیں۔ جو کہ بہت خوبصورتی کے ساتھ اُردو کے لشکر کے سپاہی بن گئے ہیں۔ ہاشمی صاحب نے بڑی مہارت کے ساتھ اُن کا استعمال کیا ہے۔ جیسے ان کا یہ مصرعہ
ہاتھ رکھ کے بیٹھا ہوں حافظے کے Mouse پر
ہر آنے والی نئی نسل پچھلی نسل سے شعور، جذبے اور کچھ نیا کر جانے کی دُھن میں زیادہ مستغرق ہوتی ہے۔ لیکن وہی وقت، زمانہ، روایتیں، رواج، نیا پرانا وغیرہ وغیرہ کی اُلجھنیں انہیں اُس حالت میں لے جاتی ہیں کہ کچھ نہ کریں تو خود اضطرابی، نئی سوچ کے مطابق کچھ کر لیں تو اُنھیں قریش جسے جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ زندگی کی آزمائشوں اور آزادی رائے کے نہ ہونے سے گھبرا کر آسمان سے قید خانہ حیات کا گلہ کرتے ہیں۔ منافقت ہمارے معاشرے کا ناسور ہے جس نے اخلاقی معیار، اچھی قدروں اور اچھی روایات کو بھسم کر دیا ہے۔ ابن الوقت ہی ہمیں سیاہ و سفید کے مالک نظر آتے ہیں۔
سدا نہ کیوں ہوں سفید و سیاہ کے مالک
ہر ایک رنگ میں جو لوگ ڈھلنے والے ہیں
دہشت گردی، بم دھماکے، فائرنگ، خود کش حملے یہ پشاور کے وہ حالات ہیں جن کو اگر لکھا جائے تو لفظ بین کرتے اور خیالات ماتم کرتے دِکھائی دیتے ہیں۔ طارق ہاشمی نے جب دوران ملازمت پشاور میں اِن حالات کو دیکھا تو اُن کا دل کُڑھتا تھا۔ پھر جنرل پرویز مشرف نے آگرہ سِمٹ کے نام سے ایک قدم اُٹھایا تو ان کے قلم نے جُنبش خوشنما کی۔
دُعا بدست خیر مقدمی کو سب چراغ ہیں
دراز دوستی کے سلسلے، پخیر راغلے
خوشا بصارتوں کے نام تازہ دم سفارتیں
یہ نورِ صبح نور کے قافلے پخیر راغلے
اُردو کے ساتھ پشتو کی ردیف کا سنگم ایک خوشگوار اور خوبصورت اضافہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انگلش کے سِوا علاقائی زبانوں کو بھی خوبصورتی سے برتا جاسکتا ہے، جس سے شعر اور معنی میں استحکام کے ساتھ ساتھ حُسن میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور ردیف زما یارا راشہ (میرے یار واپس آ جا) کو بھی احسن طریقے سے استعمال کیا گیا ہے۔
جو تو تُرکی نَسب یار ہے، حُسن کا سردار ہے
تو میں بھی ہوں دِل کی ریاست کا پاشا، زما یارا راشہ
ترکی نَسب فارسی روایت ہے غالب نے بھی اسے استعمال کیا ہے تو ترک نَسَب سے ہے حُسن کا سردار ہے۔ تو میں بھی اپنے دِل کی ریاست کا بادشاہ ہوں میرے یار واپس آ جا۔ یہ منفرد تجربہ کی دوسری غزل ہے، جو کہ پشتو ردیف کو بہت اچھے طریقے سے خود میں سمائے ہوئے ہے۔ تنہائی ترقی یافتہ مشینی دور کا روگ ہے۔ جسے ہر حساس دِل نے ہر آن شدت سے محسوس کیا ہے۔ تنہائی کو ختم کرنے کے لئے انسان، انسانوں سے نا اُمید ہو کر پرندوں سے باتیں کرتا نظر آتا ہے۔ شاعر کہتا ہے۔
تم ہو خوش قسمت کے تمہارے بال و پر سلامت
دیکھو! میرے کٹے ہوئے ہیں دونوں ہاتھ پرندو!
جہد مسلسل کے بعد جب قابل رشک مقام حاصل کرنے اور اُن پر رشک کرنے والوں کو ایک پیغام شاعر نے اس طرح سے دیا ہے۔
کوئی ایسا بھی اِسے سہل نہ سمجھے طارِق
بڑی مشکل سے مِلا راستہ آسانی کا
وہ استعماری نظام اور ظلم و زیادتی کو ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن ہر طریقہ ناکام اور ہر خواہش حسرت بنتی نظر آ رہی ہے۔ حسرتیں خواب بن جاتی ہیں تو کچھ اس طرح سے ہوتا ہے۔
ٹوٹی فیصلِ ظلم تو پھیلی ہوئی تھی چار سُو
سبز و سفید روشنی پھر مری آنکھ کھُل گئی
شام کی سمت روانہ ہوئے طارقؔ جس آن
یاد آیا تھا بہت ہم کو مدینہ اپنا
شام کو شہر ظلمات شہر جبر و ستم کہا جاتا ہے۔ بے وفاؤں کا شہر، جب اُس کی طرف روانگی ہوئی تو ہمیں اپنا مدینہ وفاؤں کا عقیدتوں کا شہر بہت یاد آیا۔ تکلیف و اذیت کی زندگی کا انتخاب کرتے ہوئے ہمیں اپنی راحت و سکون بہت یاد آئے یا بے وفا کو جانتے ہوئے بھی اُسکے کوچے کی طرف گئے۔ شام و مدینہ کی تلمیحات کو خوبصورتی کے ساتھ ایک الگ معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔
شہر شب میں کہیں رستہ نہیں بھٹکے اے دِل!
دائم آباد ترے قریہ ویران کی لو
شہر شب سے مراد ظلمات کا شہر اندھا دھند خواہشات اور تمناؤں کا اندھیرا اس شہر میں ہم پھر بھی اپنے مقصد کی طرف گامزن رہے ہم نے اپنے مقصد کو تبدیل نہیں کیا اور نہ ہی اِن اندھیروں میں گم ہونے دیا، اے دِل تیرے قریہ ویران کی لو ہمیشہ آباد رہے۔ لو سے مراد روشنی اور محبت دونوں ہی لیے جا سکتے ہیں۔ بھلے سے دِل کی گلی ویران ہے لیکن اس کی اپنے مقصد کے ساتھ محبت اور مقصد کو پانے کی روشنی تا ابد قائم رہے۔
تحیّر کو حِرا میں بند رکھتا ہے مجھے چالیس سالوں تک
مگر پھر آخرش رازِ دروں میرا وہ مجھ پر کھول دیتا ہے۔
تحیّر کے حِرا ’حیرت کا غارِ حِرا ایک منفرد انداز میں اس تلمیح کو استعمال کیا گیا ہے۔ چالیس سال تک بند رکھتا ہے اس حیرت کدے میں پھر جو میرے حصے کے راز ہیں ان سے پردے ہٹا دیے جاتے ہیں۔
دہانے پر مکڑی نے اِک جالا بنا تھا
وگرنہ غار تک دُشمن مرا پہنچا ہوا تھا
غار ثور کی تلمیح کو استعمال کرتے ہوئے کہا گیا ہے۔ کہ اگر مکڑی اللہ کا حکم بجا نہ لاتی تو دشمن تو سر پہ کھڑا تھا۔ شاعر نے روایتی طرز تحریر اختیار کرتے ہوئے آسمان سے شکوہ کیا ہے کہ گزرے وقتوں میں ہمارا بھی ایک خدا تھا۔ جو دہانے پر مکڑی کا جال بنوا کر ہمیں دشمن سے بچا لیتا تھا لیکن اب آسمان نے پہ در پہ پڑنے والی مصیبتوں میں ہمیں اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے یہ حالات کی خرابی اور آسمان سے شکوہ انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی اور معاشرتی سطح پر ہے۔ طارق ہاشمی کے تلمیحات کا نظام لائقِ مطالعہ و توجہ ہے۔ ان کی ایک غزل اس اعتبار سے بہت منفرد ہے کہ اس میں آدم سے لے معاصر انسان تک کی تاریخ کو ایک خاص ترتیب سے پیش کیا گیا ہے۔ اس غزل میں تلمیحات کو اس انداز سے پیش کیا گیا ہے کہ جی عش عش کر اُٹھتا ہے :
فراز آسماں سے میں اگر اُتر نہ ہوتا
زمیں پر چار سُو ویرانہ ہی ویرانہ ہوتا
کہ میں نے آنکھ ہی کھولی تھی اِک آذر کے گھر میں
بتوں کو توڑنا ورنہ مرا شیوہ نہ ہوتا
مجھے ماں نے کیا ہوتا نہ پانی کے حوالے
تو میں معصومیت میں آگ سے کھیلا نہ ہوتا
جہنم واصل کر دیتی مری شمشیر اس کو
عدو نے میرے چہرے پر اگر تھوکا نہ ہوتا
عبادت پانیوں پر نقش ہوتی پھر ابد تک
لبِ دریا اگر اِک آخری سجدہ نہ ہوتا
ہوا و کوہ و دریا سامنے تھے اس کے طارقؔ
مگر ربِ محبت نے مجھے اپنا چُنا تھا
اس غزل کے مقطع میں شاعر نے اپنے اشراف المخلوقات اور نائب منتخب ہونے پر فخر کا اظہار کیا ہے۔ ہوا، پہاڑ اور دریا زیادہ طاقتور تھے۔ لیکن اس منصب خاص کے لیے خدا باری تعالیٰ نے مجھے یعنی انسان کو پسند کیا جو میرے لیے باعث فخر و اعجاز ہے۔
تلمیحات کے علاوہ ان کے ہاں استعاروں کی ندرت بھی عمدہ ہے۔
آنکھ میں خواہش کا دہقان
خواب کوئی بو جائے تو
دل دسواں سیارہ ہے
کوئی وہاں کو جائے تو
آنکھ میں خواہش کا دہقان اور دل کے لیے دسواں سیارہ ایک منفرد استعارہ ہے۔ طارق ہاشمی کا کہنا ہے کہ نو کے بعد ہندسے دوبارہ شروع ہو جاتے ہیں۔ یہاں ہم پھر واپسی کا سفر کرتے ہیں۔ اسی طرح مادی دُنیا سے واپس روحانیت کا سفر کرنا ہو گا۔ جب تک اس سیّارے کی سیاحت کی خواہش بیدار نہیں ہوگی تب تک ہم روحانی زندگی کی طرف نہیں پلٹ سکتے۔
تمھارے درد نے دِل کی زبوں حالی سنبھالی تو
ہوئی ہے زندگی سے کچھ تعلق کی بحالی تو
شاعر نے درد کو دل کے ویرانے کو آباد کرنے اور زندگی سے تعلق کی بحالی قرار دیا ہے۔ محبوب کے درد نے اُس کے ہجر و فراق کی تکلیف نے دِل کی خستہ حالی کو خوشحالی اور گمان کی طرف پلٹا دیا ہے زندگی کے ساتھ تعلق دِل گیر کا ہی بحال ہو سکتا ہے درد کو ہمیشہ منفی معنوں میں استعمال کیا گیا ہے کہ اس سے زندگی کی رعنائیاں، خوبصورتیاں اور گُل فشانیاں ماند پڑ جاتی ہیں۔ لیکن شاعر نے درد کا ایک دوسرا خوبصورت رُخ دِکھایا ہے جو کہ زندگی کے ساتھ تعلق دِل کو زبوں حالت کو سنبھالنے کے کام آتا ہے۔ اصل میں زندگی کا تحرک درد میں ہے خوشی وقتی ہوتی ہے درد آگے سے آگے بڑھنے کی تحریک دیتا ہے۔
وقت کے چاک پہ آمیزہ رکھا ہے طارقؔ
کوزہ گر دیکھیے کیا چیز بناتا ہے مجھے
اردو غزل میں پیرایہ اظہار کے مختلف تجربے ہوئے ہیں لیکن طارق ہاشمی نے ایک بالکل نرالا تجربہ کیا ہے کہ دو لفظوں کا ایک مصرعہ اور چار لفظوں کا ایک مکمل شعر تخلیق کیا اور حسن یہ کہ بات مکمل ہے۔ اس اجمالی پیرائے سے گندھی یہ غزل ملاحظہ ہو، بلکہ حظ اٹھائیں
سوال ایک
وصال ایک
تمام عمر
ملال ایک
یہ دردِ دل
کُدال ایک
متاع جاں
خیال ایک
سرِ نگاہ
جمال ایک
ہوا میں پیڑ
دھمال ایک
عروج تھا
زوال ایک
”دستک دیا دل“ کو اگر ہم جدید شاعری کا نیا رُخ کہیں تو بے جا نہ ہو گا۔ تشبیہات، استعارات اور تلمیحات کے علاوہ غزل کہنے کا انداز منفرد ہے۔ مختصر الفاظ میں اپنے خیال کو جامعیت کے ساتھ پیش کرنا ان کا کمالِ ہنر ہے۔ ان کا یہی ہنر اِن کو دوسرے شعراء سے ممتاز کرتا ہے۔


