ایڈورڈ سعید کی کتاب اورئینٹلزم: ایک توضیحی مطالعہ
ایڈورڈ سعید کی جائے پیدائش سرزمین فلسطین تھی، وہ نومبر 1935 میں یروشلم میں پیدا ہوئے۔ ان کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو ان کی تمام تر زندگی مشرق اور مغرب کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ ابتدائی تعلیم یروشلم اور قاہرہ میں حاصل کی۔ 1957 میں پرنسٹن یونیورسٹی سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں مزید تعلیم کے حصول کے لیے ہارورڈ یونیورسٹی سے وابستہ ہوئے۔ 1960 میں ایم اے اور 1964 میں فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ 1963 میں انہوں نے اپنی پروفیشنل زندگی کا آغاز کولمبیا یونیورسٹی سے کیا اور درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہو گئے اور تمام عمر اسی شعبے اور ادارے سے وابستہ رہے۔ عمر کا آخری حصہ موذی مرض کینسر سے نبرد آزما ر ہے اور بالآخر اس بیماری سے 12 سال لڑنے کے بعد 25 ستمبر 2003 کو 67 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
ایڈورڈ سعید نے مختلف موضوعات پر کتا بیں لکھیں۔ تقریباً 20 کے قریب کتابیں آپ کے نام سے منسلک ہیں۔ ان کتابوں میں جس کتاب کو سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی وہ ”Orientalism“ ہے۔ اس کتاب کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے، اردو میں محمد عباس نے اس کا ترجمہ ”شرق شناسی“ کے نام سے کیا ہے۔ پروفیسر فتح محمد ملک کے مطابق ایڈورڈ سعید کی سب سے زیادہ ہنگامہ خیز کتاب شرق شناسی۔ اوریئنٹلزم ہے۔
اس عہد آفرین کتاب میں مغربی سامراج کے سائے میں پنپنے والے اوریئنٹلزم کا حقیقت افروز تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ ایڈورڈ کے خیال میں مغرب نے مشرق پر غلبہ حاصل کرنے اور اپنے اس غلبے کو دوام بخشنے کی خاطر یہ علم ایجاد کیا تھا۔
ایڈورڈ سعید کی اس کتاب کا موضوع ”نو آبادیاتی نظام اور ما بعد نو آبادیاتی نظام ہے۔ سعید کی کتاب یورپی مغربی مرکزیت کی نفی کرتی ہے کیوں کہ مغرب والوں کے تصور میں مغرب اعلیٰ اور مشرق ادنیٰ ہے۔ شرق شناسی“ سے مراد نو آبادیوں کی نمائندگی ثقافتی اور نظریاتی طور پر کرنے کے لیے ایک خاص بیانیے کا استعمال ہے جس کے لیے اداروں، لغت، عالمانہ انداز، تمثال کاری، اقوال اور یہاں تک کہ نو آبادیاتی انداز حکومت وغیرہ تک کی مدد لی جاتی ہے۔
ایڈورڈ سعید نے اپنی کتاب کے آغاز میں ”تعارف“ کے عنوان کے تحت ”شرق شناسی پر تفصیلی بحث کی ہے اور اس کا آغاز مشرق اور مغرب کے تعلقات کی وضاحت سے کیا ہے۔ ایڈورڈ سعید کے مطابق جو کوئی مشرق کے بارے میں لکھتا، پڑھتا یا اس پر تحقیق کرتا ہے خواہ اس کا دائرہ کوئی بھی ہو وہ شرق شناس ہی کہلائے گا اور اسی مناسبت سے اس کا کام شرق شناسی کہلائے گا۔ ایڈورڈ سعید نے شرق شناسی کی جامع تعریف ان الفاظ میں کی ہے :
”شرق شناسی ایک ایسا مربوط اور مقبول نظام ہے جس سے مشرق کے بارے میں علم اور معلومات کو چھان پھٹک کر مغرب کے شعور میں پہنچایا جاتا ہے۔“
ایڈورڈ سعید نے شرق شناسی کو درج ذیل تین ابواب میں منقسم کیا ہے :۔
1۔ شرق شناسی کی وسعت
2۔ شرق شناسی تشکیلات اور تشکیلات جدید
3۔ عصر حاضر میں شرق شناسی
شرق شناسی کی وسعت کی مزید وضاحت کے لیے اس باب کو چار ذیلی ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے جو کہ ادراک، تصوراتی جغرافیہ اور اس کی نمائندگی : مشرقیت کی تجسیم منصوبے اور بحران ہیں۔ شرق شناسی ”کے پہلے باب میں مصر کی پارلیمنٹ سے خطاب میں آرتھر جیمز بالفور کے 13 جون 1910 ء کے خطاب میں کیے گئے طاقت کے علم اور تجزیے کے بارے میں مستشرقین کے کردار پر بات کرتا ہے۔
مشرق کے ادر اک کے ضمن میں ایڈورڈ سعید نے بیان کیا ہے کہ سترویں صدی تک اسلام کی نمائندگی بنیادی طور پر مغرب کی بے خبری اور جہالت کا نمونہ ہے۔ مشرق کے بارے میں علم چونکہ طاقت کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوا، اس لیے مغرب ایک معنی میں مشرقی انسان اور اس کی دنیا کی تخلیق کرتا ہے۔ مشرق کے ادراک کا یہ طریقہ کار صدیوں پہلے بھی رائج تھا اور آج بھی رائج ہے۔
منصوبے ’میں ایڈورڈ سعید یورپ کی مشرق کی طرف پیش قدمی کی ٹھوس شہادت کی تلاش کے لیے سرگرداں ہوتے ہیں۔ دراصل مغرب کے کچھ منصوبے ہیں جو مشرق کی فتح اور اس پر قبضے کے سلسلے میں کارروائیاں ہیں۔ اس باب میں ان کی فکر کا مرکز اسلام اور ہندوستان ہیں۔ اسلام بلاشبہ یورپ کے لیے کئی لحاظ سے اشتعال کا سبب تھا۔ اور ہندوستان کی دولت کے خزانوں تک پہنچنے کے لیے ہمیشہ اسلامی ممالک سے گزرنا پڑتا تھا اور اسلام کے خطرناک اثرات کا مقابلہ کرنا پڑتا تھا۔ اسی لیے یہاں تک رسائی کے لیے منصوبہ بندی کی گئی۔ دیگر منصوبوں میں ولیم جونز کا انڈیا جانا اور 1798 ء میں نپولین کی مہم جوئی انھی منصوبوں کی توسیع پسندانہ شکل ہے۔
مغرب نے مشرق کا یہ نقشہ جس ذریعہ سے اپنی ہر آنے والی نسل تک منتقل کیا وہ کتا بیں تھیں۔ ایڈورڈ سعید نے ایسی کئی کتب کی نشاندہی کی ہے جن میں اسلام اور حضرت محمد ﷺ کو متنازع بنا کر پیش کیا گیا تھا۔ ایڈورڈ سعید اپنی تحقیق کا مقصد ہی ان خیالات کے منابع کو منظر عام پر لانا قرار دیتے ہیں جو حقیقت حال تک رسائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
باب دوم شرق شناسی تشکیلات اور تشکیلات جدید کے ذیلی ابواب سرحدات اور مسائل کا از سیر نوتعین: لادینیت کا دین، اساسی اور رینان منطقی علم الانسان اور لسانی تجربہ گاہ، مشرق میں قیام اور علمیت اور زائرین اور زیارتیں ہیں۔ شرق شناسی سے متعلق ایم ایچ ابرام کے تصور کے مطابق جدید شرق شناسی کے نظریے اور اطلاق کے لازمی پہلوؤں کو سمجھا جا سکتا ہے۔ ایڈورڈ سعید نے چار ایسے عناصر نشاندہی کی ہے جنہوں نے شرق شناسی کی تشکیلات میں اہم کردار ادا کیا۔ اس ضمن میں ایڈورڈ سعید لکھتے ہیں کہ:
چاروں عناصر جو میں نے بیان کیے ہیں یعنی توسیع، تاریخ تصادم، ہمدردی اور درجہ بندی، یہ اٹھارہویں صدی کی سوچ کے دھارے ہیں جن پر جدید شرق شناسی کی علمی اور اداراتی تشکیلات انحصار کرتی ہیں۔ ان کے بغیر، جیسا کہ ہم ابھی معلوم کریں گے، شرق شناسی کا وجود نہ ہوتا۔ اس کے علاوہ ان عناصر نے شرق شناسی کو عام طور پر اور اسلام کو خاص طور پر تنگ نظری، مذہبی نوعیت کی تحقیق اور تفتیش سے بچایا اور اس بنیاد ہی پر اس کو عیسائی مغرب میں پرکھا اور کھنگالا جاتا ہے۔
رینان کا کارنامہ تھا کہ اس نے مشرق کو جدید ترین شعبہ ہائے علوم سے مربوط کر دیا جن میں سے لسانیات، اہم شعبوں میں سے ایک شعبہ تھا۔ لسانیات کے شعبہ نے شرق شناسی میں کلیدی کردار ادا کیا اور اسے اہم تکنیکی مہارتیں فراہم کیں۔ مشرق میں قیام اور علمیت کے حوالے سے اس کے مقابلے پر بھی مشرق سے روا رکھے گئے نسلی تعصب کو فروغ دیتے ہیں۔ مشرق میں عالموں کے دوروں کے مختلف مقاصد ہیں مثلاً اپنی تحقیق کے لیے مواد جمع کرنا اور مکہ اور مدینہ کی ریاستیں، کسی ذاتی منصوبے کے سلسلے میں مشرق کا دورہ وغیرہ شامل ہیں۔
زائرین اور زیارتیں اس حوالہ سے خاص اہمیت کا حامل باب ہے کہ اس میں مشرق کی طرف سفر کرنے والے یورپین زائرین کی ذہنیت اور مقاصد کو اجاگر کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ ہر زائر چیزوں کو اپنے طریقے سے دیکھتا ہے اور دنیا کو بھی وہ سب کچھ اپنی نظر سے ہی دکھانے کی سعی کرتا ہے۔ مثلاً کوئی فرانسیسی مشرق کا دورہ کرتا ہے تو اسے ایک مکمل نقصان کا احساس ہوتا ہے کیوں کہ مشرق میں اسے فرانس کے نقوش اور اثرات نظر نہیں آتے۔ برٹن نے حقیقت میں مشرق کے متعلق کچھ لکھا اور تعریف کا مستحق ٹھہرا۔
خوابیدہ اور بیدار میں ایڈورڈ شرق شناسی جامع تعریف کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شرق شناسی بنیادی طور پر ایک سیاسی تصور ہے جس کا مقصد یہ تھا کہ مشرق قدرے کمزور تھا اور مغرب نے اس کمزوری کا فائدہ اٹھا کر اپنی مرضی کی تصویر بنائی۔ ان کے نزدیک شرق شناسی کوئی مثبت نظریہ نہیں بلکہ ایک موثر علمی روایت ہے۔ یہ ایک شعبہ ہے جو خاص مقاصد کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
آگے چل کر ایڈورڈ سعید انداز کار، مہارت، فراست پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جو کہ شرق شناسی کی دین ہے۔ اس بحث کا آغاز وہ کپلنگ کے سفید فام آدمی اس کے تصور اور انداز حیات سے کرتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں سفید اور غیر سفید دنیاؤں کے درمیان منطقی رویوں نے جنم لیا۔ شرق شناسی یا مستشرقین بنیادی طور پر مغرب کے ایجنٹ ہوتے ہیں۔ لوگ ایشیا کو بطور ایک خطرہ سمجھتے ہیں۔ اسی تناظر میں ایڈورڈ نے نسلوں، تہذیبوں اور زبانوں کے امتیازات کے مباحث کو سمیٹنے کی سعی کی ہے۔ وہ ان سب کے مابین امتیازات کو ایک بنیادی اور انمٹ صداقت قرار دیتے ہیں۔
شرق شناسی ”مغربی فکر کے حوالے سے لکھی گئی ایک کتاب ہے۔ یہ نظریاتی اور ثقافتی جنگوں کے انتہاؤں کے زمانے سے پہلے لکھی گئی تھی۔ آپ نے مشرق کے اپنے وجود اور تشخص کو ابھارنے کی کوشش کی ہے۔ اس کتاب کی مخالفت اور حمایت میں گویا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ ایڈورڈ سعید خود اس صورتحال کے لیے تیار نہ تھے۔ ان کے لیے اس کتاب کی اس قدر پذیرائی اور توجہ کا مرکز بننا باعث حیرت تھا۔ اشاعت کے کچھ عرصہ بعد ہی اس کتاب کے دنیا بھر کی مختلف زبانوں میں تراجم کے ایک سلسلے کا آغاز ہو گیا۔ شرق شناسی، جاپانی، جرمن، پرتگالی، اطالوی، پولستانی، چینی، کاتلان، ترکی ہر بوگروشیائی اور سویڈن کی زبان میں شائع ہوئی۔ دنیا بھر میں اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے۔ اس کو اس موضوع پر ایک امدادی کتاب کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ شرق شناسی“ کے رائج تصور میں واضح تبدیلی واقع ہوئی۔ اس ضمن میں ایڈورڈ سعید لکھتے ہیں کہ: شرق شناسی کا لفظ بذات خود بہت لمبے عرصے تک ایک پیشہ ورانہ اختصاص کے نام تک محدود رہا ہے۔ میں نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اس کا اطلاق اور اس کا وجود عام ثقافت، ادب، نظریہ حیات اور سماجی اور سیاسی رویوں میں بھی ہے۔ کسی کے بارے میں کہ وہ اہل شرق یا مشرق کا باسی ہے، جیسا کہ شرق شناس کہتے تھے، محض اس لیے نہیں تھا کہ یہ نام اس آدمی کو دیا جائے، جس کی زبان، جغرافیہ اور تاریخ میں وہ مواد ہے، جس پر علمی اور عالمانہ مقالات سپرد قلم کیے جائیں۔
اس تمام تناظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ”شرق شناسی“ دنیا کے لیے ایک چیلنج ثابت ہوئی۔ اس کے دنیا سیاست، ادب، سماج، تمدن پر دور رس اثرات مرتب ہوئے اس نے مشرق کو خود اپنی نظر سے دیکھنے اور سمجھنے کا وسیع شعور بخشا۔ ایڈورڈ سعید نے فرانز فینن ہی کی سوچ کو آگے بڑھایا اور استعمار کے حربوں کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ مشرق کا مقدمہ بھی لڑا ہے۔


