رینٹ اے واٹس ایپ کا فراڈ


Faysal Pakistani

والد کے اچانک انتقال کے بعد شہریار پر کنبے کی کفالت کا بوجھ آ پڑا۔ ابھی وہ بی ایس سی ایس کا امتحان دے رہا تھا کہ خبر آئی، اس کے والد کے ٹرک کا موٹروے پر ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور حالت نازک ہے۔ شہریار ہسپتال پہنچا، لیکن افسوس کہ اس کے والد سفرِ آخرت پر روانہ ہو چکے تھے۔ مرحوم نے ترکے میں ایک بیوہ، شہریار، دو بہنیں، تین مرلے کا بوسیدہ مکان اور ایک تباہ حال مزدا ٹرک چھوڑا تھا۔

شہریار ایک ہونہار اور محنتی نوجوان تھا، جو اسکالرشپ پر پڑھتا آیا تھا۔ اس کا خواب ایم ایس کرنے کا تھا، لیکن والد کی وفات کے بعد اسے تعلیم چھوڑنی پڑی اور نوکری کرنی پڑی۔ تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے اسے اچھی جاب نہ مل سکے آخر کار اس کے والد کے دوست کے توسط سے اسے ایک نجی کمپنی میں کورئیر کی نوکری مل گئی، تنخواہ تھی بیس ہزار اور روزانہ دس گھنٹے کی محنت۔

گھر آ کر بھی شہریار کمپیوٹر پر بیٹھا رہتا، فیس بک، انسٹا گرام اور گوگل پر پارٹ ٹائم کام ڈھونڈتا تاکہ آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔ ایک دن اسے فیس بک پر ایک ایڈ نظر آئی، ”رینٹ اے ؤاٹس ایپ“

اپنے اور اپنے عزیز و اقارب کے 10 واٹس ایپ اکاؤنٹس کرائے پر دیں، فی اکاؤنٹ 2000 روپے یومیہ معاوضہ پائیں۔ ندیم کے لیے یہ ایک خواب کی مانند تھا۔ محنت کیے بغیر ایک ہی دن میں بیس ہزار روپے؟ عقل نہیں مان رہی تھی، وہ حیران بھی تھا لیکن پھر بھی اس لالچ میں آ گیا۔

اس نے دیے گئے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کیا اور ان سے مزید تفصیلات معلوم کیں، اور ان سے ایڈوانس رقم کا مطالبہ کیا جو فوراً مان لی گئی۔ ندیم نے اپنے دوستوں اور عزیزوں سے بات کی اور انہیں 500 روپے یومیہ کے عوض واٹس ایپ اکاؤنٹ دینے کے لیے منا لیا۔ جلد ہی اس نے وہ اکاؤنٹس حاصل کر کے پیغام بھیجنے والوں کو دے دیے۔ بیس ہزار روپے ایڈوانس ملے، ندیم کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔

حقیقت میں یہ ایک آن لائن فراڈ کرنے والا گروہ تھا جو واٹس ایپ اکاؤنٹس استعمال کر کے لوگوں کو دھوکہ دیتا تھا۔ وہ جعلی ٹائپنگ جابز کا لالچ دے کر لوگوں سے رجسٹریشن فیس وصول کرتے، اور بعد میں انہیں گروپ سے نکال کر غائب ہو جاتے۔

شہریار اور اس کے عزیز خوش تھے کہ روزانہ پیسے مل رہے تھے، لیکن ایک دن اچانک ایف آئی اے اور پولیس شہریار کے گھر آ پہنچی اور اسے گرفتار کر لیا۔ شہریار کی والدہ پریشان ہو کر تھانے پہنچیں، وہاں معلوم ہوا کہ اس کا نمبر ایک فراڈ میں استعمال ہو رہا تھا۔ جب اس نے بتایا کہ اس نے اکاؤنٹس کرائے پر دیے تھے، تو پولیس نے کہا کہ اگر وہ دھوکہ بازوں کو پکڑوا دے تو وہ بری ہو جائے گا، لیکن ندیم کے پاس ان کا کوئی سراغ نہیں تھا۔

آخر کار، شہریار اور اس کے ایک دوست کو تین سال کی سزا ہو گئی۔ باقی دوستوں کو شک کی بنیاد پر رہا کر دیا گیا۔ اس افسوسناک انجام کے بعد شہر یار کا خواب بھی چکنا چور ہو چکا تھا۔

اس کہانی کا مقصد آپ کو خبردار کرنا ہے کہ آن لائن فراڈ آج کل بہت عام ہو چکا ہے، اور ایسے لوگ جو آسان کام کے بدلے غیرمعمولی معاوضے کا لالچ دیتے ہیں، دراصل دھوکے باز ہوتے ہیں۔ ہمیشہ محتاط رہیں اور کبھی بھی اپنا موبائل نمبر، سوشل میڈیا اکاؤنٹس جیسے واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام، یا ٹک ٹاک نہ تو کرائے پر دیں اور نہ ہی ان کے پاسورڈز کسی سے شیئر کریں۔ یاد رکھیں کہ کامیابی صرف محنت اور مہارت سے حاصل ہوتی ہے۔ لالچ کے بجائے اپنے اندر صلاحیتیں پیدا کریں اور جائز طریقوں سے اپنی روزی کمائیں تاکہ آپ خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی فراڈ کا شکار ہونے سے بچا سکیں۔

Facebook Comments HS

فیصل پاکستانی

فیصل پاکستانی بزنس مینجمنٹ کی تعلیم اور ڈیڑھ دہائی پر محیط انتظامی تجربہ رکھتے ہیں۔ ایک معروف ادارے میں کلیدی ذمہ داریاں سنبھالنے کے ساتھ ساتھ ایک سرگرم سوشل ایکٹوسٹ بھی ہیں۔ ’ہم سب‘ جیسے معتبر فورمز پر کرنٹ افیئرز، کھیل، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، آن لائن فراڈ اور سماجی موضوعات پر مستقل لکھتے ہیں۔

faysal-pakistani has 26 posts and counting.See all posts by faysal-pakistani