سارک: جنوبی ایشیائی تعاون کی تنظیم اور پاکستان کا کردار
تعارف: سارک (SAARC) یعنی جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم، جنوبی ایشیا کی آٹھ ریاستوں پر مشتمل ایک علاقائی تنظیم ہے جس کا مقصد اقتصادی، سماجی، اور ثقافتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ 8 دسمبر 1985 کو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں اس کی بنیاد رکھی گئی۔ اس تنظیم میں شامل ممالک بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت، مالدیپ، نیپال، پاکستان، سری لنکا، اور افغانستان ہیں۔
سارک کا مقصد ممبر ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور ترقی کو بڑھاوا دینا ہے تاکہ خطے کے عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ بنگلہ دیش کے مرحوم صدر ضیاء الرحمن نے مئی 1980 میں یہ تجویز پیش کی کہ جنوبی ایشیا میں شامل ممالک کی ایک ایسی تنظیم کا قیام عمل میں لایا جائے جو خطے کے لوگوں کی فلاح بہبود اور ان کی ترقی کے لیے مثبت ثابت ہو سکے چنانچہ ان ممالک کے وزراء خارجہ نے سیکرٹریوں کی سطح پر اپریل 1981 میں سری لنکا کے شہر کولمبو میں ایک اجلاس منعقد کیا اور اس اجلاس میں شرکت ممالک میں باہمی تعاون پر زور دیا گیا۔
سارک کے ایک اجلاس میں صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے اپنی تقریر میں کہا بڑی طاقتوں کی کشمکش سے علاقہ کو محفوظ رکھنے کی مشترکہ کوششیں کرنی چاہیں۔ نیز جنوبی ایشیا کے ملکوں کو ایک دوسرے کے خلاف طاقت استعمال نہ کرنے کا عہد کرنا چاہیے۔ سارک کا منشور تعاون کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا ہے جس کا مقصد علاقائی ترقی کے لیے مشترکہ اقدامات کو فروغ دینا ہے۔ سارک ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ معاشی ترقی، سماجی انصاف، اور امن و امان کے فروغ کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔
منشور کے اہم نکات میں شامل ہیں :خطے کی مجموعی اقتصادی ترقی کو فروغ دینا۔ سماجی اور ثقافتی ترقی کے لیے اقدامات کرنا۔ غربت میں کمی اور تعلیم کو فروغ دینا۔ بین الاقوامی فورمز پر مشترکہ مفادات کی نمائندگی کرنا۔ امن و امان کے قیام کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو بڑھانا۔ پاکستان کا کردار پاکستان سارک کے بانی اراکین میں سے ایک ہے اور اس کا کردار تنظیم میں نمایاں ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت سارک کے رکن ممالک کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ ہے، کیونکہ یہ مغرب اور جنوب ایشیا کے درمیان رابطے کا پل بنتا ہے۔
پاکستان نے تنظیم کے اقتصادی ایجنڈا کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر تجارت اور توانائی کے شعبے میں۔ پاکستان نے مختلف سارک اجلاسوں کی میزبانی بھی کی ہے اور تنظیم کے فریم ورک کے تحت مختلف معاہدے کیے ہیں جو علاقائی امن اور اقتصادی ترقی کو فروغ دیتے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے سارک کو ایک پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتا ہے جس سے خطے کی عوام کے لیے خوشحالی اور ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔ سارک کے فوائد سارک کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ تنظیم اپنے رکن ممالک کو باہمی تعاون کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ سارک کے ذریعے رکن ممالک مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تجربات کا تبادلہ کر سکتے ہیں، جیسے کہ تعلیم، صحت، تجارت، اور زراعت وغیرہ۔ اس سے خطے کے تمام ممالک کی ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔ سارک کے فائدے درج ذیل ہیں۔
اقتصادی تعاون: سارک کے تحت ہونے والے معاہدے اور اقدامات رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔ اس کے ذریعے تجارتی رکاوٹوں کو کم کیا جا سکتا ہے، اور مشترکہ منصوبوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے، جس سے خطے کی معیشت مضبوط ہوتی ہے۔
سماجی ترقی: سارک کے ذریعے مختلف سماجی مسائل جیسے غربت، ناخواندگی، اور صحت کے مسائل کے حل کے لیے رکن ممالک مشترکہ اقدامات کرتے ہیں۔ اس سے خطے کی عوام کی فلاح و بہبود میں بہتری آتی ہے۔
ثقافتی تبادلے : سارک کے تحت رکن ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلے اور تعلقات کو فروغ دیا جاتا ہے جس سے خطے میں ہم آہنگی پیدا ہوگی۔
امن و امان: سارک کا ایک اہم مقصد رکن ممالک کے درمیان امن و امان کو فروغ دینا ہے۔ اس کے ذریعے خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے اور رکن ممالک کے درمیان مسائل کا پرامن حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ چیلنجز اور مسائل سارک کو اپنے مقاصد کے حصول میں کئی چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔ سب سے بڑا چیلنج بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری تنازعات ہیں، جس میں سب سے بڑا چیلنج پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر ہے کیونکہ بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتا کوئی نہ کوئی خود ساختہ الزام اور بہانہ بنا کر پاکستان پر حملے کرتا ہے جو سارک کی فعالیت پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔
خطے کی جغرافیائی سیاست اور مختلف رکن ممالک کے درمیان اختلافات بھی سارک کے موثر کام کو محدود کرتے ہیں۔ اگرچہ سارک کے تحت کئی اہم معاہدے ہوئے ہیں، لیکن عملی سطح پر ان معاہدوں کا نفاذ ایک چیلنج بن گیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سارک میں علاقائی ترقی، تجارت، تعاون اور اشتراک کے بے پناہ امکانات ہیں، وزیراعظم نے سارک کو خطے میں ترقی اور خوشحالی پر کام کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا جب سارک کے 15 ویں سیکرٹری جنرل محمد غلام سرور پاکستان کے پہلے دورہ پر آئے تھے۔ وزیراعظم پاکستان نے محمد غلام سرور کو سارک کے 15 ویں سیکرٹری جنرل کے طور پر تقرری کی مبارکباد بھی دی اور کہا کہ سیکرٹری جنرل تنظیم کی بحالی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
شہباز شریف نے سارک چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا بھی اعادہ کیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان سارک عمل کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
سارک
سارک ایک اہم علاقائی تنظیم ہے جو جنوبی ایشیا کے ممالک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان کا اس تنظیم میں ایک اہم کردار ہے اور وہ ہمیشہ سے سارک کو ایک مضبوط اور موثر پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتا آیا ہے۔ اگرچہ سارک کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن باہمی تعاون اور علاقائی مسائل کے حل کے لیے اس تنظیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر سارک ممالک اپنی سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر تعاون کو فروغ دیں تو یہ تنظیم خطے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ جس سارک ممالک کہ لوگ ترقی اور خوشحال زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ اس لیے سارک ممالک کو اپنے اپنے مفادات سے ہٹ کر اس تنظیم کی ترقی اور بحالی کے لیے خطے میں کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔


