اینگزائٹی ڈس آرڈر


ماجد صاحب کو ایک عجیب سی پریشانی کا سامنا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ان کو اپنے دل کی دھڑکن بہت زیادہ شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ کسی کے ساتھ چھوٹی سی بحث ہو جاتی تو ان کو یہ صورتحال بہت دیر تک پریشان کرتی تھی۔ ان پر ایک عجیب سی گھبراہٹ طاری ہو جاتی۔ بعض اوقات ان کو پسینہ آنے لگتا، ان کی نیند خراب ہو جاتی۔ ایک عجیب سی بے چینی اور فکر لاحق ہو جاتی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر وہ صرف یہ سوچتے اگر ایسا ہو گیا تو کیا ہو گا اور اگر ویسا ہو گیا تو کیا ہو گا۔ یہ تمام علامات ماجد صاحب کی اینگزائٹی کی طرف اشارہ کر رہی تھیں۔

آج کل ہم لوگ اینگزائٹی اور ڈپریشن کا بہت زیادہ تذکرہ سنتے ہیں اور اس کے نام سے بخوبی واقف ہیں۔ ماڈرن دور کا یہ بھی ایک تحفہ ہے۔ اس میں مریض کو پینک اٹیک اور فوبیا ہو سکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ 4 کروڑ لوگ اس کا شکار ہیں۔ اینگزائٹی کا لغوی معنی ہے بے حد فکر مند رہنا یا ضرورت سے زیادہ بے چینی محسوس کرنا۔

کبھی کبھار فکر مند ہونا جیسے کہ رزلٹ ڈے پر طالب علم بے چینی محسوس کرتے ہیں یا دل کا دھڑکنا محسوس کرتے ہیں تو یہ ایک نارمل بات ہے اس میں کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ ایسا عام لوگوں کے ساتھ اکثر ہو جاتا ہے۔

لیکن بعض اوقات لوگ اپنے روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں بہت زیادہ پریشان ہو جاتے ہیں، گھبرا جاتے ہیں، بہت خوفزدہ ہو جاتے ہیں، بہت زیادہ پسینہ بہنے لگتا ہے، دل کی دھڑکن بہت تیز ہو جاتی ہے اور ان کو panic attacks ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کے خیالات بدلنے لگتے ہیں اس کے علاوہ ان کے رویے میں بدلاؤ نظر آنا شروع ہوتا ہے۔ ان کے احساسات خوشی کی بجائے اداسی کی طرف ہوتے ہیں اور وہ روزمرہ کی لطف اندوز ہونے والی سرگرمیوں میں اپنی دلچسپی کھو دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس شخص کو اینگزائٹی کا مرض لاحق ہو چکا ہے۔ بعض اوقات بچپن کے خوف بڑھ کر اینگزائٹی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

علامات/Symptoms
اینگزائٹی کی بنیادی علامات بے چینی، فکر کرنا اور پینک اٹیکس ہیں۔ کچھ مزید علامات مندرجہ ذیل ہیں :
1۔ زیادہ تشویش اور خوف کی وجہ سے رویے میں بے ربطگی آنا
2۔ بے چینی
3۔ چکر آنا
4۔ دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونا
5۔ منہ خشک ہونا
6۔ متلی یا قے کی کیفیت ہونا
7۔ بہت زیادہ پسینہ آنا

بیماری کا پھیلاؤ/Prevalence Rate

پوری دنیا کی تمام آبادی کے 4 فیصد حصے کو اینگزائٹی کا مسئلہ درپیش ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 301 ملین لوگوں کو اس تکلیف کا سامنا ہے۔ اینگزائیٹی ڈس آرڈر کی شرح خواتین میں مردوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔

اینگزائٹی کی اقسام/Types of Anxiety

اینگزائٹی ڈس آرڈر کی بہت سی اقسام ہیں جن کا یہاں مختصراً ذکر کیا جائے گا۔

1۔ Separation Anxiety Disorder

اس پرابلم کے شکار لوگوں کو ایک ہی خوف ہوتا ہے کہ کہیں میں اکیلا نہ رہ جاؤں۔ ان کو جب بھی اپنے گھر سے دور جانا پڑے یا ان کے قریبی لوگ ان سے دور جائیں تو یہ اینگزائٹی کا شکار ہونے لگتے ہیں۔

ہم اکثر ایسے بچوں کو دیکھتے ہیں جن کو گھر سے دور ہونے میں، سکول جانے میں، ماں باپ کے بغیر کہیں رہنے میں بہت مشکل پیش آتی ہے، ایسے بچے رونا شروع کر دیتے ہیں یا کھو جانے کے ڈر سے پریشان ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

یہ ڈس آرڈر وقت کے ساتھ ساتھ بہتر ہو جاتا ہے لیکن کچھ بڑوں میں بھی پایا جا سکتا ہے۔ اس کی علامات میں ڈراؤنے خواب آنا، بار بار نیند کا ٹوٹنا، اپنے گھر سے باہر بے چین رہنا، سر درد کا ہونا، معدے میں درد محسوس کرنا، پیٹ میں مروڑ اٹھنا، متلی آنا اور قے ہونا وغیرہ شامل ہیں۔

2۔ Selective Mutism

اس پرابلم میں انسان کسی بھی معاشرتی گروہ میں بات نہیں کر سکتا جب کہ وہ گھر میں اپنے گھر کے لوگوں کے ساتھ گھل مل کر رہتا ہے اور خوب چہکتا ہے۔

دیکھا گیا ہے کہ selective mutism کے شکار بچے سکول میں پورا پورا سال خاموش رہتے ہیں، اور اگر بات کرتے ہیں تو صرف اپنے مخصوص دوست کے ساتھ سرگوشی کی صورت میں ہی کرتے ہیں۔

ایسے بچوں کو دیکھ کر کوئی دیکھ کر یقین نہیں کر سکتا کہ یہ گھر میں ایک مکمل ٹی وی شو کی طرح ہیں۔

ماہرین کی رائے میں اگر سلیکٹو میوٹزم کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو اگے چل کر یہ social anxiety disorder کا روپ دھار سکتا ہے۔

3۔ Specific Phobia

سپیسفک فوبیا ایک عجیب و غریب قسم کا خوف ہوتا ہے جو کہ انسان کسی بھی چیز یا حالت کے لیے محسوس کرتا ہے۔ انسان خود بھی اس خوف کے بے سبب ہونے کے بارے میں جانتا ہے مگر پھر بھی ان سے پیچھا نہیں چھڑا سکتا۔

اس کی علامات میں بہت زیادہ رونا، برف کی طرح جم جانا، کسی کے ساتھ چمٹ جانا، دورے کی کیفیت ہونا وغیرہ شامل ہیں۔

کچھ جانے پہچانے اور specific فوبیا کی اقسام مندرجہ ذیل ہیں :
•Animal Type:
اس میں جانوروں کا خوف شامل ہے مثلاً مکڑی، سانپ، چھپکلی وغیرہ
•Natural Environment:
اس میں فطری ماحول کا خوف شامل ہے مثلاً طوفان، زلزلہ، بلندی، وغیرہ
•Blood-Injection-Injury Type:
اس میں میڈیکل سے متعلقہ چیزوں کا خوف شامل ہے مثلاً انجیکشن، خون کا ٹیسٹ، ویکسین آپریشن وغیرہ
•Situational Type:
اس میں مختلف حالات اور جگہوں کا خوف شامل ہے مثلاً جہاز کے سفر کا خوف، پبلک میں تقریر کرنے کا خوف،
لفٹ میں بند ہو جانے کا خوف، گاڑی چلانے کا خوف، بند جگہوں کا خوف وغیرہ
•Other Type:

اس میں دیگر قسم کے خوف شامل ہیں مثلاً گلا بند ہونے کا خوف، سانس نہ آنے کا خوف، بیمار ہونے کا خوف، اونچی آواز کا خوف، کسی جوکر کو دیکھ کر خوف محسوس کرنا وغیرہ

4۔ Social Anxiety Disorder
یہ ایک مستقل اور غیر حقیقی سا خوف ہوتا ہے جو کہ کسی بھی فرد کو لوگوں میں جاتے ہوئے محسوس ہوتا ہے۔

جس انسان کو یہ خوف ہوتا ہے کہ کہیں وہ انجان لوگوں میں ایکسپوز نہ ہو جائے، اس کو لوگوں کے سامنے جج نہ کیا جائے یا اس سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو جائے جس سے کہ اس کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے، اس کو سوشل فوبیا بھی کہا جاتا تھا مگر اب اس کا نام سوشل اینگزائٹی ڈس آرڈر ہے۔

اس میں زیادہ تر جو عناصر شامل ہیں وہ لوگوں میں تقریر کرنے کا خوف، کسی میٹنگ میں لوگوں کو فیس کرنے کا خوف، نئے لوگوں کو ملنے کا خوف، کسی نئے کورس کو یا نئی کلاس کو جوائن کرنے کا خوف، کسی حکومتی ارکان کے ساتھ مل کر ان سے بات کرنے کا خوف وغیرہ۔

یہ لوگ کچھ حد تک شرمیلے ہوتے ہیں۔ جو ہی یہ کسی فنکشن میں یا کسی کنسرٹ میں جانے کا سوچتے ہیں ان کو پریشانی شروع ہو جاتی ہے یا سٹریس ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

ان کے چہرے پر ایک سرخی سی آ جاتی ہے، یہ شرمانا شروع کر دیتے ہیں، ان کو بہت زیادہ پسینہ آنا شروع ہوجاتا ہے، ان کو ایسے لگتا ہے جیسے چکر آ رہے ہوں۔

لوگوں کے درمیان میں ان کو کھانا کھانے میں پریشانی ہوتی ہے۔ فنکشنز میں کھانا لینے میں، کسی وائیوا/viva میں، جاب انٹرویو، پبلک پلیس پہ جانے میں یا کسی پبلک ریسٹ روم میں جانے میں بھی یہ گھبراتے ہیں۔

اس کا جو سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے کہ یہ کسی بھی چھوٹی موٹی نوکری پر راضی رہتے ہیں اور جو ان کے اندر خاص ٹیلنٹ یا خوبی موجود ہوتی ہے وہ اسی طرح چھپی رہ جاتی ہے، کیونکہ اس خوبی کو سامنے لانے کے لیے لوگوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جو کہ یہ کرنے سے گھبراتے ہیں۔

اپنی گھبراہٹ کی وجہ سے ان کو لگتا ہے کہ ان کو ہر جگہ سے رد کر دیا جائے گا یا ان کو شرمندہ کر کے نکال دیا جائے گا۔ ان احساسات کی وجہ سے ان میں ہمیشہ اعتماد کی کمی رہ جاتی ہے۔

5۔ Agoraphobia

یہ اینگزائٹی کی وہ خاص قسم ہے جس میں انسان کو خاص جگہوں کا خوف رہتا ہے۔ جیسے کسی رش والی جگہ پر جانا، کسی گروسری سٹور پہ جانا، مسجد، مندر یا چرچ جانا، پکنک کی جگہوں پر جانا وغیرہ۔

ان کو کسی بھی ٹرین کے سفر، لمبے پہاڑی سفر یا پل پر سے گزرنے میں دشواری پیش اتی ہے۔ آسان الفاظ میں اگر کہا جائے تو ان کو اپنا گھر یا اپنا کمفرٹ زون چھوڑنے میں بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بعض اوقات ایسی صورت میں ان کو panic attacks آ سکتے ہیں۔

اگورا فوبیا کے مریض ہمیشہ اینگزائٹی اور پینک اٹیکس کے لیے دستیاب اور قابل زک ہوتے ہیں۔
6۔ Panic Disorder
اس میں مریض کو بار بار پریشانی کے جھٹکے لگتے ہیں۔

اس کی کچھ خاص علامات ہیں جیسے کہ سانس کی تکلیف ہوجانا، بہت زیادہ سردی لگ جانا، کپکپی طاری ہو جانا، پسینہ آنا، سینے میں تکلیف ہونا، متلی یا قے کی کیفیت محسوس ہونا، چکر آنا، چہرے کا اور ہونٹوں کا سفید پڑ جانا، جسم کا مفلوج ہونا یا سن ہونا، اڑنے کی کیفیت محسوس ہونا (جس کو depersonalization بھی کہتے ہیں ) خود پر کنٹرول کھو دینا، موت کا خوف طاری ہونا یا جیسے گلے میں کچھ پھنس گیا ہو۔

مریض جب بھی پریشان ہو گا اس کو مختلف نوعیت کی علامات ہو سکتی ہیں۔ جیسے اگر سانپ دیکھنے پر دل کی دھڑکن بڑھ جائے تو اس کو ممکنہ یا cued panic attack کہیں گے، اسی طرح کچھ غیر متوقع اٹیک ہو تو ان کو uncued panic attacks کہیں گے۔

7۔ Generalized Anxiety Disorder

اس ڈس آرڈر کا سب سے خاص فیچر ہے ہمیشہ ایک ”انجانا خوف لاحق رہنا“ اور پریشان رہنا۔ ایسے مریض کو انتہائی معمولی باتوں پر پریشان ہوتے اور فکر مند رہتے دیکھا جا سکتا ہے۔

عام لوگ عمومی طور پر کچھ مسائل میں پریشان ہوتے ہیں اور یہ ایک فطری بات ہے لیکن GAD والے لوگ ضرورت سے زیادہ، غیر معمولی اور ابدی پریشانی کا شکار رہتے ہیں۔ یہ بہت زیادہ سوچتے ہیں جس کو اوور تھنکنگ کہا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ یہ چیزوں کو جانے نہیں دے سکتے اور ایک ہی چیز پر جم ہو جاتے ہیں۔

یہ بہت جلدی تھک جاتے ہیں بلکہ ہر وقت تھکاوٹ کی شکایت کرتے ہیں۔ ان کو ارتکاز توجہ میں مشکل پیش اتی ہے۔ یہ نہایت چڑچڑے ہوتے ہیں۔ ان کے اعصاب ہر وقت کھچاؤ کی حالت میں رہتے ہیں، مزید یہ کہ ان کو نیند کے بہت زیادہ مسائل ہوتے ہیں۔ ہر وقت بے چینی کی کیفیت کی وجہ سے ان کو صحت کے ان گنت مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

8۔ Substance/Medication۔ Induced Anxiety Disorder

یہ مسائل تب شروع ہوتے ہیں جب مریض کوئی دوا لینی شروع کرے یا کوئی دوا لینا بند کر دیے۔ اس میں دوا کے علاوہ نشہ آور اشیاء بھی شامل ہیں مثلاً شراب، چرس، کوکین وغیرہ۔

پرہیز اور علاج/Management
کونسلنگ کے لیے ماہر نفسیات سے رابطہ کریں۔
مریض کو پرسکون کرنے کی کوشش کی جائے، چاہے اس کے لیے کوئی دوا استعمال کرنی پڑے۔
سانس کی مشق کریں، لمبے اور گہرے سانسوں سے انسان پرسکون ہو جاتا ہے۔
سونے کی کوشش کریں، اگر سو نہ بھی پائیں تو بھی آنکھیں بند کر کے کچھ دیر لیٹے رہیں۔
مراقبہ کریں مگر مراقبے کا دورانیہ پانچ منٹ سے زیادہ نہ ہو۔
اس کے علاوہ تیزابیت دور کرنے کے لیے کوئی دوا لیں یا دیسی ٹوٹکے آزمائیں۔
جسمانی ورزش ضرور کریں، واک کریں یا جم جائیں۔

اینگزائٹی ہمیشہ حساس لوگوں کو زیادہ ہوتی ہے، ایسے حساس طبیعت لوگوں کو چاہیے کہ وہ مخلص، مثبت اور دوستانہ مزاج لوگوں سے میل جول رکھیں۔

(تمام نام فرضی ہیں، کسی قسم کی مماثلت اتفاقی ہو سکتی ہے )

Facebook Comments HS

One thought on “اینگزائٹی ڈس آرڈر

  • 03/09/2024 at 9:35 شام
    Permalink

    Very nice and well explained article

Comments are closed.